تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور:اسلامی جمہوریہ ایران کے ایک ممتاز شیعہ عالم دین نے سعودی عرب کے مشرقی صوبوں میں آل سعود کے وحشیانہ مظالم کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہےکہ اسطرح کے حملوں سے بے گناہ شیعہ مسلمانوں کے تئیں آل سعود حکام میں بڑھتی نفرت کا مشاہدہ کیاجاسکتا ہے۔

نیوز نور:امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کےسابق عہدیدار نےٹرمپ کے ایران مخالف بیانات پر ان کی مذمت کرتے ہوئے کہاہےکہ سعودی عرب دہشتگردی کا اصلی منبہ ہےجبکہ اسلامی جمہوریہ ایران حقیقی معنوں میں دہشتگردی کے خلاف برسرپیکار ہے۔

نیوز نور : عراق کے ایک صحافی نے  کہا ہے کہ عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب، قطر اور امارات کو اسلامی جمہوریہ ایران کی جمہوریت سے سبق سیکھانا چاہئے۔

نیوز نور : الجیریا کے وزیر خارجہ نے کہا ہے  کہ فوجی آپشن کے استعمال کے باعث آج یمن، لیبیا اور شام میں انسانی بحرانوں کا المیہ سامنے آیا ہے جبکہ صرف مذاکرات اور سیاسی طریقوں سے ایسے بحرانوں کا حل نکالا جاسکتا ہے۔

نیوز نور : یمن کی اعلی سیاسی کونسل کے سربراہ نے کہا ہے کہ یمن  کی قومی حکومت ملک کے اقتدار اعلیٰ کے احترام کی بنیاد پر صلح کے لئے تیار ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
اقوام متحدہ کے رکن :
الحدیدہ بندرگاہ پر حملہ تمام یمن کو قحط کی دہلیز پر کھڑا کرسکتا ہے

نیوز نور : اقوام متحدہ کے ایک رکن نے کہا ہے کہ یمن کے الحدیدہ بندرگاہ پر حملہ اس ملک کو قحط کی دہلیز پر کھڑا کرسکتا ہے۔

استکباری دنیا صارفین۲۱۷ : // تفصیل

اقوام متحدہ کے رکن :

الحدیدہ بندرگاہ پر حملہ تمام یمن کو قحط کی دہلیز پر کھڑا کرسکتا ہے

نیوز نور : اقوام متحدہ کے ایک رکن نے کہا ہے کہ یمن کے الحدیدہ بندرگاہ پر حملہ اس ملک کو قحط کی دہلیز پر کھڑا کرسکتا ہے۔

عالمی اردو خبر رساں ادارے ’’نیوز نور‘‘ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے رکن ’’ڈینس براؤن‘‘ نے کہا کہ یمن کی الحدیدہ بندرگاہ پر حملے کی صورت میں امدادی اداروں کو خوراک اور طبی امداد پہنچانے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ آل سعود اتحاد کلزم بندرگاہ جو کہ یمن کی تقریباً اسی فیصد غذائی درآمدات کیلئے اندراج کا نقطہ ہے پر حملے کا منصوبہ کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ورلڈ فورم پروگرام کو ہنگامی حالات میں ملک کی تمام امدادی ضروریات کا احاطہ کرنے کیلئے کوئی متبادل راستہ نہیں ملا ہے۔

موصوف رکن نے کہا کہ میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ الحدیدہ بندرگاہ کا کوئی متبادل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدن سمیت یمن کی دوسری بندرگاہیں امدادی ساز و سامان پہنچانے کے مقاصد کے قابل نہیں ہیں کیونکہ ان بندرگاہوں پر زیادہ بڑے بحری جہازوں کو خالی کرنے کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے اور ہوائی جہاز سے ترسیل پر سمندر کی ترسیل سے دس گنا زیادہ لاگت آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ الحدیدہ بندرگاہ کی بندش تین لاکھ سے زائد افراد کو خوراک تک رسائی سے روک سکتی ہے اور ان میں سے کچھ افراد کو کھانے کیلئے کچھ بھی میسر نہیں رہے گا اور ہماری مدد کے بغیر یہ لوگ قحط کی بھینٹ چڑھ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یمن کی 28 ملین آبادی میں سے تقریباً 19 ملین کو امداد کی اشد ضرورت ہے کیونکہ قحط اور صحت کے نظام کی تباہی سے ملک میں ہیضے کی وبا پھوٹ پڑی ہے جسے تین ہفتوں میں تقریباً دو سو سے زائد افراد جانبحق ہوئے ہیں۔

ڈینس براؤن نے مزید اقوام عالم کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کب تک دنیا یمن جیسے مفلوک الحال ملک کی تباہی کا تماشا دیکھے گی۔


نظرات داده شده
Noor Syed
یمن کے عوام کی مدد کے لئے اب روس کے پاس اخری موقع ہے۔ کہ وہ اگے ائے اور اقوام متحدہ کے ذریعے اس جنگ کو روکے اور ستم رسیدہ عوام کی مدد کرے۔ ورنہ انسانیت اقوام متحدہ کےہوتے ہوئے اور اقوام متحدہ کے ذریعے ہی تباہی کا شکار ہوجائے گی۔ کیونکہ دشمن ہی نے اقوام متحدہ کو اب تک یمنی قوم کے خلاف استعمال کیا ہے!
آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر