تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور:1932 ء میں سعودی عرب کے قیام کے بعد سے آل سعود نے بادشاہت کے متضاد سیاسی ،سماجی اورمذہبی ڈھانچے کے چلینجز سے نمٹنے کیلئے وہابیت کا استعمال کیا ہے اوروہابیت کے نظرئے نے مذہبی طورپر آل سعود خاندان کی طاقت تاج اورحکومت کو جائز ٹھہرایا ہے۔

نیوز نور : بولویا کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کو وینزوئلا میں مداخلت کا خیال ترک کرنا چاہئے کیونکہ دنیا بھر میں امریکی سامراجیت دم توڑ چکی ہے۔

نیوز نور:ایران کے ایک سینئر قانون ساز نے کہاہےکہ امریکہ کی طرف سے روس اورایران پر  بیک وقت پابندیوں کو عائد کئے جانے کا مقصد دوعلاقائی اتحادیوں کے درمیان تعلقات میں شگاف پیدا کرنا تھا۔

نیوز نور:لبنان کی اسلامی تحریک مقاومت حزب اللہ کی سیکورٹی کونسل کےچیئرمین نے کہاہے کہ شام میں سرگرم تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے خلاف جنگ آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

نیوز نور : لبنان کے پارلیمانی نمائندے نے کہا ہے کہ  شام فلسطین اور بیت المقدس کی حمایت کا علمبردار ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
موصل کو آزاد کروانے کی کاروائی کی تفصیلات ؛
عراق اور شام کی سرحدوں پر امریکہ کی طرف سے حائل علاقہ قائم کرنے پر بغدادکا شدید اعتراض

نیوزنور:موصل میں عراق اور داعش کے درمیان جنگ جاری ہے ، عراقی فوجیں خاص کر مسجد النوری کے اطراف میں داعش کے ٹھکانوں کی طرف پیشقدمی کر رہی ہیں ۔ عراق میں کاروائی کی مشترکہ کمان نے یہ بھی بتایا ہے کہ موصل میں کاروائی کے آغاز سے ابتک ۱۶۴۶۷ دہشت گرد مارے جا چکے ہیں ۔

اسلامی بیداری صارفین۱۳۰۸ : // تفصیل

موصل کو آزاد کروانے کی کاروائی کی تفصیلات ؛

عراق اور شام کی سرحدوں پر امریکہ کی طرف سے حائل علاقہ قائم کرنے پر بغدادکا  شدید اعتراض

نیوزنور:موصل میں عراق اور داعش کے درمیان جنگ جاری ہے ، عراقی فوجیں خاص کر مسجد النوری کے اطراف میں داعش کے ٹھکانوں کی طرف پیشقدمی کر رہی ہیں ۔ عراق میں کاروائی کی مشترکہ کمان نے یہ بھی بتایا ہے کہ موصل میں کاروائی کے آغاز سے ابتک ۱۶۴۶۷ دہشت گرد مارے جا چکے ہیں ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ایسی حالت میں کہ جب عراقی فوجیں موصل کے داہنے ساحل پر اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں مسجد النوری کے اطراف میں دہشت گردوں اور فوجوں کے درمیان جنگ شدت کے ساتھ جاری ہے ۔

عراق کی فیڈرل پولیس کے ایک منبع نے بتایا : ہماری فوجوں نے موصل کے ساحل راست پر الرفاعی اور ۱۷ جولائی کے ۵۰ فیصدی محلوں کو آزاد کروا لیا ہے ۔

اس منبع کے بقول صحرائی جنگجووں کے گروہ کے سرکردہ ، سجاد الحدیدی کی عراق اور شام کی سرحد پر بو کمال کے علاقے میں اتحاد کے طیاروں کے حملوں میں ہلاکت ہو گئی ہے ۔

اسی طرح عراق کی وزارت دفاع نے شہر موصل کے ۹۰ فیصد رقبے کے آزاد کروا لیے جانے  کی خبر دی ہے اور تاکید کی ہے مکمل آزادی بہت قریب ہے ۔ عراق کے وزیر اعظم نے بھی کربلا اور الانبار کے صوبوں میں داعش کے خلاف فوجی کاروائی کے آغاز کی خبر دی ہے ۔

مصری روزنامے الیوم السابع نے لکھا ہے کہ عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے جو اس ملک کی  مسلح افواج کا چیف کمانڈر ہے ، ایک پریس کانفرنس میں دو صوبوں شیعہ صوبہ کربلا اور الانبار کی حد فاصل پر  داعش کو نابود کرنے کی خاطر کاروائی کے آغاز کی خبر دی ہے ۔

العبادی نے تاکید کی کہ : عراق کی مسلح افواج نے  دو علاقوں الرحالیہ اور النخیب کی حد فاصل پر کاروائی کا آغاز کر دیا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا : داعش کے کنٹرول سے صوبہء نینوا کی آزادی سے صوبہء کرکوک کے جنوب میں شہر الحویجہ کی آزادی کا راستہ ہموار ہو جائے گا ۔

عراق کے وزیر اعظم نے آگے نینوا کے مغرب میں  حالیہ کاروائی کے سلسلے میں اقلیم کردستان کے ساتھ سمجھوتہ طے پا جانے کی خبر دی ہے اور کہا ہے : حال ہی میں ہم نے الرحالیہ اور النخیب سے دہشت گردوں کو نکال باہر کرنے کے لیے کاروائی شروع کر دی ہے ۔

عراق کی متحدہ افواج کے کمانڈر نے موصل کی کاروائی کے آغاز سے اب تک ۱۶۴۶۷ دہشت گردوں کے مارے جانے کی خبر دی ہے ۔

اس کمان نے یہ بھی بتایا ہے کہ ۸۹۔۵ فیصد موصل کو آزاد کروا لیا گیا ہے ۔

العبادی نے آگے داعش والوں کو دعوت دی کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور ہتھیارڈالنے والے داعشیوں سے وعدہ کیا کہ ان کے خلاف عادلانہ مقدمہ چلایا جائے گا ۔

عراق کی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف نے آگے بتایا : موصل میں حساب شدہ تیزی کے ساتھ کاروائی کو آگے بڑھنا چاہیے ، ہماری اطلاعاتی توانائی میں اضافہ ہوا ہے اور ہم اس وقت دشمنوں سے آگے ہیں اور یہ چیز ہمارے لیے روشن ہے ۔

انہوں نے تاکید کی : موصل کی آزادی کی کاروائی آیندہ چند دنوں میں مکمل ہو جائے گی ۔

عراقی فوج کے ترجمان یحی رسول نے اعلان کیا : عراقی فوجیں موصل میں داعش کے کنٹرول سے موصل کو آزاد کروا کے صرف ۱۲ کیلو میٹر تک پہنچانے میں کامیاب ہو گئی ہیں ۔ بمباری کرنے والے طیاروں نے بھی غیر فوجیوں کو بروچرز کے ذریعے اطمئنان دلایا ہے کہ کاروائی ختم ہونے والی ہے ۔

داعش کے خلاف اتحاد کے ترجمان جان دوریان نے بھی اظہار کیا : موصل میں داعش کا مکمل طور پر محاصرہ کر لیا گیا ہے اور اس کے وسایل نابود ہو رہے ہیں موصل میں دشمن مکمل شکست کے دہانے پر ہے ۔

عراق کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ : عراقی فوجیں اب تک موصل کے ۹۰ فیصد رقبے کو آزاد کروانے میں کامیاب ہو چکی ہیں اور داعش کے کنٹرول سے شہر کی مکمل طور پر آزادی بالکل قریب ہے ۔

عراقی فوجی کمانڈروں نے اعلان کیا ہے کہ موصل کے شمال مغرب میں واقع الرفاعی اور العریبی کے محلوں میں عراقی فوجوں کا داخلہ داعشیوں پر کہ جنہوں نے موصل کے قدیمی حصے میں پناہ لیے ہوئے ہیں عرصہء حیات کو تنگ کر دے گا ۔

عراق کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی فوج کے ایک کمانڈر سامر علی نے بتایا : عراق کی مشترکہ سیکیوریٹی افواج الرفاعی کے محلے میں داعش کے خلاف  موصل کے مغرب میں سڑکوں پر شدید جنگ لڑ رہی ہیں اور انہوں نے پیش قدمی کر کے دو مدرسوں اور ایک پولیس کی چوکی کو آزاد کروا لیا ہے ۔

سامر علی نے مزید کہا : الرفاعی کے محلے میں ۸۰۰ گھرانوں کو داعش کے محاصرے سے آزاد کرا لیا ہے ۔

انہوں نے آگے کہا ؛ پولیس اور فوج کی مشترکہ کاروائی موصل کے  مغرب میں محلہ ۱۷  تمور کی طرف پیشقدمی کی صورت میں جاری رہی اور تقریبا آدھے محلے کی مساحت پر انہوں نے قبضہ کر لیا  ۱۷ تمور داعش کے لیے ایک اہم ترین محلہ ہے ، یہ محلہ سب سے پہلا علاقہ ہے جس پر ۲۰۱۴ کے اواسط  میں داعش نے قبضہ کیا تھا ۔

شام اور عراق کی سرحد پر خالی علاقہ ایجاد کرنے پر بغداد کا اعتراض ،

عراقی حکام نے چوطرفہ تعاون والے کنٹرول روم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام اور عراق کی سر حد پر خالی علاقہ ایجاد نہ ہونے دیں ۔

عربی ٹی وی "المیادین " نے اس خبر کے اعلان کے بعد مزید بتایا : چو طرفہ کاروائی کے کنٹرول روم کے مسئولین جلدی ہی شام اور عراق کی سرحد کی امنیت کی حفاظت اور عراق اور شام کے درمیان خالی علاقہ ایجاد کرنے سے روکنے کے لیے اقدامات کریں گے۔

ایک باخبر ذریعے نے اس سلسلے میں المیادین کو بتایا ہے : امریکہ والے واشنگٹن جو خالی علاقہ ایجاد کرنا چاہتا ہے اس میں عراقیوں کے کسی کردادر کے قایل نہیں ہیں ۔ جب کہ بغداد اور واشنگٹن جانتے ہیں کہ خالی علاقے کی ایجاد امریکیوں کا مقصد ہونے سے زیادہ ترکیوں کا مقصد ہے ۔

انہوں نے مزید کہا : عراق کے کردستان کا موضوع ترکی اور خالی علاقے کی ایجاد کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور دشوار ہے چونکہ امریکہ والے سیمالکا کی گذرگاہ کے راستے سے شام کی ڈیموکریٹیک فوجوں کی مدد کرتے ہیں اور اب تک شام اور عراق کی سرحد کے مسئلے پر عراق کے میدانی کمانڈروں کے درمیان متعدد  ملاقاتیں ہو چکی ہیں ۔

المیادین  آخر میں لکھتا ہے کہ بغداد نے بین الاقوامی فریقوں سے کہا ہے کہ شام کے خالی علاقے کی ذمہ داری عراق کی ہونا چاہیے اور عراق کی فوج اور الحشد الشعبی نے ان فوجوں کے شام کی سرحد پر پہنچنے سے پہلے عراق اور شام کی سرحد پر کسی بھی طرح کی بحران آفرینی کے بارے میں خبردار کیا ہے ۔

اسلامی مقاومت  نجباء کے جنگجووں کا القیروان میں داعش کے خلاف حملہ،

نجباء کے جنگجووں نے جنوبی محور سے شہر القیروان پر جمعے کے دن حملوں کا آغاز کیا ہے تو اس میں انہوں نے بہت سارے علاقوں کو آزاد کروا لیا ہے ۔

اسلامی مقاومت نجباء کے جنگ جووں نے حالیہ دنوں میں شہر القیروان کے جنوبی علاقوں کو داعش کے تکفیری دہشت گردوں کے وجود سے پاک کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

ان کاروائیوں میں کہ جو محمد رسول اللہ ۲ کے نام سے12مئی جمعے کے دن سے مقاومت کے گروہوں کے تعاون سے چار محوروں پر شروع ہوئی ہیں ، کرکش ، السلطان اور ثری الکراح نام کے اہم دیہات جھڑپوں کے آغاز میں ہی آزاد ہو گئے اور ان میں گھر گھر تلاشی کی کاروائی انجام دی گئی ۔

اسی طرح اسلامی مقاومت نجباء کے میزائل کے دستے نے داعش کی ایک ٹیوٹا گاڑی کو جو خود کش حملہ کرنا چاہتی تھی تباہ کر دیا جس پر بیٹھے دونوں آدمی ہلاک ہو گئے ۔

ہونے والی پیش قدمی کے پیش نظر پیشین گوئی کی جاتی ہے کہ عراق کی حشد الشعبی کے رضا کار آیندہ دنوں میں القیروان شہر تک پہنچ جائیں گے اور اس شہر کی آزادی کی کاروائی شروع کر دیں گے ۔

قابل ذکر ہے کہ موصل اور تلعفر کے بعد اب القیروان داعش کی سب سے بڑی کاروائی کے کنٹرول روم میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ اسی طرح یہ حساس شہر موصل اور تلعفر کو شام کی سرحد سے ملاتا ہے کہ اس شہر کو پاک کرلینے کے بعد تلعفر میں محاصرہ شدہ دہشت گردوں پر زیادہ دباو پڑے گا ۔    

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر