تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور:1932 ء میں سعودی عرب کے قیام کے بعد سے آل سعود نے بادشاہت کے متضاد سیاسی ،سماجی اورمذہبی ڈھانچے کے چلینجز سے نمٹنے کیلئے وہابیت کا استعمال کیا ہے اوروہابیت کے نظرئے نے مذہبی طورپر آل سعود خاندان کی طاقت تاج اورحکومت کو جائز ٹھہرایا ہے۔

نیوز نور : بولویا کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کو وینزوئلا میں مداخلت کا خیال ترک کرنا چاہئے کیونکہ دنیا بھر میں امریکی سامراجیت دم توڑ چکی ہے۔

نیوز نور:ایران کے ایک سینئر قانون ساز نے کہاہےکہ امریکہ کی طرف سے روس اورایران پر  بیک وقت پابندیوں کو عائد کئے جانے کا مقصد دوعلاقائی اتحادیوں کے درمیان تعلقات میں شگاف پیدا کرنا تھا۔

نیوز نور:لبنان کی اسلامی تحریک مقاومت حزب اللہ کی سیکورٹی کونسل کےچیئرمین نے کہاہے کہ شام میں سرگرم تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے خلاف جنگ آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

نیوز نور : لبنان کے پارلیمانی نمائندے نے کہا ہے کہ  شام فلسطین اور بیت المقدس کی حمایت کا علمبردار ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
امریکی تجزیہ نگار جیفری ساکس؛
کیوں ٹرامپ کو ایران سے دشمنی ہے ؟

نیوزنور:ایک امریکی تجزیہ نگار کا عقیدہ ہے ایران کے بارے میں یہ کارٹونی اور غلط تصور کہ وہ  عالمی دہشت گردی کا مرکز ہے نہ صرف اشتباہ آمیز بلکہ خطرناک ہے ، اس لیے کہ اس سے مشرق وسطی میں ایک نئی جنگ چھڑ سکتی ہے ۔

اسلامی بیداری صارفین۹۵۳ : // تفصیل

امریکی تجزیہ نگار جیفری ساکس؛

کیوں ٹرامپ کو ایران سے دشمنی ہے ؟

نیوزنور:ایک امریکی تجزیہ نگار کا عقیدہ ہے ایران کے بارے میں یہ کارٹونی اور غلط تصور کہ وہ  عالمی دہشت گردی کا مرکز ہے نہ صرف اشتباہ آمیز بلکہ خطرناک ہے ، اس لیے کہ اس سے مشرق وسطی میں ایک نئی جنگ چھڑ سکتی ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی اسپوٹنیک  کی امریکی نشریے پروجیکٹ سینڈیکیٹ کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق امریکہ کا صدر ڈونالڈ ٹرامپ اور اس کے مشاور سعودی عرب کے ایران پر لگائے گئے اس الزام کے حامی ہو گئے ہیں کہ وہ مشرق وسطی میں دہشت گردانہ کاروائیاں کرتا ہے ۔ ساتھ ہی امریکہ کی کانگریس نے  ایران پر نئی پابندیوں عاید کر دی ہیں ۔

ایک امریکی تجزیہ نگار جیفری ساکس کے عقیدے کے مطابق ،ایران کے بارے میں یہ کارٹونی سوچ کہ وہ عالمی دہشت گردی کا مرکز ہے ، نہ صرف اشتباہ آمیز بلکہ خطر ناک ہے ، اس لیے کیہ اس سے مشرق وسطی میں  ایک نئی جنگ شروع ہو سکتی ہے ۔ اس کارشناس نے مزید لکھا ہے کہ امریکہ میں کچھ سر پھرے اس کے باوجود کہ ایران امریکہ کے ساتھ داعش کے خلاف لڑ رہا ہے ، اسی مقصد کے پیچھے ہیں ۔ ایک اور حقیقت بھی ہے ۔

ایران اپنے بہت سارے حریفوں کے بر خلاف علاقے میں واحد ملک ہے جس میں واقعی جمہوریت کا راج ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران کے خلاف پروپیگنڈا امریکہ اور سعودی عرب میں وہاں کے صدارتی الیکشن کے دو دن بعد شروع ہوا ۔ اس الیکشن میں اعتدال پسندوں نے موجودہ صدر حسن روحانی کو ووٹ دے کر کامیاب کیا ۔

ساکس کے عقیدے کے مطابق بالکل بعید نہیں ہے کہ ایران پر سعودی عرب کے حملوں میں ٹرامپ کی سیاست ، اس کا صرف ایک تجارتی پروجیکٹ ہے ۔جب سعودی عرب نے ۱۱۰ ڈالر مالیت کے امریکی ہتھیار خریدنے پر آمادگی ظاہر کی تو وہ وجد میں آ گیا اور اس معاملے کو اس نے امریکیوں کے روزگار فراہم کرنے کا ایک اور موقعہ قرار دیا ۔گویا امریکیوں کا نفع بخش کاروبار جنگ بحرکانے سے چلتا ہے ۔

قابل ذکر ہے کہ ٹرامپ کی حکومت کا ایران پر الزام لگانا امریکہ کی کلی سیاست کے خطوط کو آگے بڑھانے کا سلسلہ ہے ۔ واشنگٹن کی سیاست ملک سے باہر بے مقصد اور حوادث آفرن جنگیں بھڑکانا ہے ان جنگوں کا کوئی واقعی مقصد نہیں ہوتا ، بلکہ سرکاری تبلیغات کے اشتباہی تصورات کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر ہوتی ہیں ۔ ویٹنام ،افغانستان ، عراق ، لیبیا اور یمن میں امریکیوں کی مداخلت کی کوئی منطقی وجہ نہیں ہے ۔

ایران کے ساتھ امریکہ کی دشمنی ۱۹۷۹ میں انقلاب اسلامی ایران کے بعد شروع ہوئی اور تہران میں امریکی سفارتخانے پر قبضے اور یونیورسٹی کے طلاب کے ذریعے ۴۴۴ امریکیوں کو یرغمال بنانے سے اپنے اوج پر پہنچ گئی ۔ اس جھٹکے سے امریکہ آج تک نہیں نکل پایا ہے ۔

اس منبع نے لکھا ہے کہ اکثر امریکیوں کے لیے اسلامی انقلاب ،اور یرغمال بنائے جانے کا بحران بالکل غیر متوقع تھے ۔ بہت کم لوگ یہ جانتے تھے کہ انقلاب اسلامی ۱۹۵۳ میں  امریکہ کی سی آئی اے  اور برطانیہ کی ایم آئی ۶ کی سازش کے ۲۵ سال بعد کامیاب ہوا ۔ اس کودتا کا مقصد  برطانیہ اور امریکہ کی ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کی کوشش تھی ، کہ جس کو ایران کی منتخب حکومت قومی  تحویل میں لینا چاہتی تھی ۔ امریکہ نے ایران کی قانونی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور شاہ کی نگرانی میں پولیس کی حکومت قائم کر دی ۔ ساکس لکھتا ہے کہ امریکہ نے ایران عراق جنگ میں بغداد کی حمایت کی ، اور ۱۹۸۸ میں جنگ ختم ہونے کے بعد بھی اس نے ایران پر سے پابندیاں نہیں ہٹائیں ،جو اب تک بدستور لاگو ہیں ۔ امریکہ نے ۱۹۵۳سے ایران کی حکومت اور اس کی اقتصادی ترقی کے خلاف اقدامات کا آغاز کر دیا تھا اور مخفیانہ انداز میں اس نے ایران کی خود غرض حکومت کی ، ۱۹۵۳ تا ۱۹۷۹ حمایت کی اور ایران کے دشمنوں کو فوجی امداد دی اور اسلامی نظام کے خلاف پابندیاں لگا دیں اور کئی دہائیوں سے اس سلسلے کو جاری رکھے ہوئے ہے ۔ حالیہ ادوار میں ایران کی طرف سے حزب اللہ کی حمایت اور اس کے جوہری پروگرام کی وجہ سے اس پر الزامات لگائے گئے ، اور ٹرامپ ایران کے جوہری پروگرام سےناراض ہو کر برجام کو لغو کرنے کے درپے ہے ۔ تاکہ دونوں ملکوں کے روابط میں بہتری آنے کا جو تازہ امکان پیدا ہوا تھا اس کو بھی ختم کر دے ۔

ساکس نے آخر میں لکھا ہے کہ برطانیہ ،فرانس امریکہ اور روس گذشتہ پوری صدی میں بڑی مشکل سے طاقت کا استعمال کر کے مشرق وسطی میں اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہو پائے تھے ،لیکن وہ جانی مالی اور معنوی نقصان برداشت کرنے کے باوجود میں ایران کا کچھ نہیں بگاڑ سکے ۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سابقہ سوویت یونین کو اس علاقے میں کاری ضرب لگی تھی ۔ کہ اب تک جس کا علاج نہیں ہو پایا ہے ۔ ہمیں اس وقت اسی طرح کی لمبی مدت کی سیاست کھیلنے کی ضرورت ہے کہ جس کی بنیاد الزام تراشی نہ ہو بلکہ مصالحت ہو اور ہتھیاروں کی دوڑ ، اس لیے کہ اس کے علاوہ کسی بھی صورت میں واقعات آسانی کے ساتھ دردناک حوادث میں تبدیل ہو سکتے ہیں ۔      



آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر