تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور:13 دسمبر/ نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے بین الاقوامی امور اور قوانین نے تہران میں مغربی ایشیا کی علاقائی سیکورٹی پر منعقدہ قومی سمینار کے موقع پر صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ملکی دفاعی اور میزائل پروگرام پر مذاکرات کی ہرگز گنجائش نہیں ہے ۔

 نیوزنور:13 دسمبر/ اقوام متحدہ کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ اس وقت یمن میں 8 ملین انسان سنگین قحط کا شکار ہیں

نیوزنور:13 دسمبر/عراقی حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ فلسطینی علاقوں کوصیہونی قبضے سے آزاد کرانے کیلئے وہ غاصب  اسرائیل کےساتھ جنگ کو مکمل طورپر آمادہ ہے۔

نیوز نور:13 دسمبر/ مصر ی دارالفتویٰ نے اپنے ایک بیان میں خبردار کیا ہے  کہ قدس کے نام پر داعش جوانوں کو بھرتی کے لیے گمراہ کرسکتی ہے۔

نیوز نور:13 دسمبر/ فلسطین میں انسانی حقوق کے لئے سرگرم ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے پانچ دنوں کے دوران حراست میں لئے جانے والے بیت المقدس کے باسیوں میں سے ایک تہائی حصہ کم عمر بچوں کا ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
الاخبار کی رپورٹ ؛
کیوں ایک ساتھ امریکہ ،اسرائیل اور سعودی عرب نے حزب اللہ کے خلاف ہلہ بولا ہے

نیوزنور:ایک لبنانی روزنامے الاخبار نے امریکہ ،صہیونی حکومت اور سعودی عرب کے حزب اللہ کے خلاف مشترکہ اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس مسئلے کا جائزہ لیا ہے ۔

استکباری دنیا صارفین۱۰۷۸ : // تفصیل

الاخبار کی رپورٹ ؛

کیوں ایک ساتھ امریکہ ،اسرائیل اور سعودی عرب نے حزب اللہ کے خلاف ہلہ بولا ہے

نیوزنور:ایک لبنانی روزنامے الاخبار نے امریکہ ،صہیونی حکومت اور سعودی عرب کے حزب اللہ کے خلاف مشترکہ اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس مسئلے کا جائزہ لیا ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق لبنانی روزنامے الاخبار نے  ایک رپورٹ میں اس عنوان کے تحت کہ امریکہ ،اسرائیل اور سعودی عرب ،مقاومت کے خلاف رضاکارانہ طور پر یکجا ہو چکے ہیں ، لکھا ہے : مقاومت کے خلاف امریکہ کی حرکتیں رکھنے کا نام نہیں لیتیں ، اور ہر روز امریکہ ،اسرائیل اور سعودی عرب کی شام میں مقاومت کے خلاف سازشوں اور ان کے اندازوں کا تانا بانا بکھر رہا ہے ،جس سے واشنگٹن ، ریاض اور تل ابیب کا مقاومت کے خلاف اتحاد زیادہ نمایاں ہو رہا ہے ۔

اس رپورٹ میں آگے آیا ہے : سعودی حکام نے لبنانیوں کو دھمکی دی ہے کہ یا وہ حزب اللہ کا مقابلہ کرے یا اس کی حمایت کے نتائج کو بھگتنے کے لیے تیار ہو جائے ، ساتھ ہی اسرائیلی حکام نے بھی اسی سے ملتی جلتی دھمکی دی ہے ، کل اس حکومت کے وزیر جنگ آویگڈور لیبر مین نے لبنان کی فوج اور تمام حکومتی تنظیموں کو اسرائیل کے نشانوں کے دائرے میں قرار دیا ہے اور کل ہی امریکہ نے کہ جو مقاومت پر حملہ کرنے میں سب سے آگے ہے ان ملکوں سے کہ جو حزب اللہ پر پابندیوں میں شریک نہیں ہیں کہا ہے کہ وہ اس حزب کو شکنجے میں کسنے کی سیاست اختیار کریں ۔

نیٹین سیلز ،نے کہ جو امریکہ کی وزارت خارجہ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے امور کومنظم کرتا ہے پہلے مرحلے میں یورپی ملکوں کو مخاطب قرار دیا  لیکن ان کا نام نہیں لیا ۔ اس نے تاکید کی ہے کہ حزب اللہ کی فوجی اور سیاسی شاخوں میں کوئی فرق نہیں ہے ، حالانکہ بطور مشخص یورپی ملک ان دونوںکے درمیان فرق کے قائل ہیں اور وہ اس بات کے خلاف ہیں کہ حزب اللہ کی سیاسی شاخ کو دہشت گردوں کی فہرست میں لکھا جائے ۔

اس امریکی عہدیدار نے کہا : ہم ان سے یہ چاہتے ہیں کہ اپنی کوششوں کو مضبوط کریں اور اس خطرے کا مقابلہ کرنے میں ہماری مدد کریں ، اور مشخص طور پر امریکہ اور یورپ کی امنیتی طاقتوں کو ہمآہنگ کرنے والے گروہ کے ساتھ مل جائیں ، کہ جو ۲۵ ملکوں پر مشتمل ہے کہ جو اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک دوسرے کے حلیف بن گئے ہیں۔

اسی سلسلے میں یورپی سیاستمداروں نے لبنان کے کچھ حکام سے زور دے کر کہا ہے کہ واشنگٹن یورپی ملکوں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ سیاسی اور اقتصادی سطح پر حزب اللہ پر پابندیاں لگانے میں شرک ہو جائیں ۔

امریکہ کی وزارت خارجہ کے ہمآہنگ کنندہ نے کل یہ باتیں اس وزارت خانے میں ایک میڈیا کے اجلاس کے دوران کہیں اور اسی اعلان میں اس نے حزب اللہ کے دو اعلی کمانڈروں کے بارے میں خبر دینے والے کے لیے ۱۲ ملین ڈالر کے انعام کا اعلان کیا ۔

امریکی حکام کا دعوی ہے کہ پہلا کمانڈر طلال حمیہ ہے  کہ جس کا نام لیا گیا جس پر کئی دہشت گردانہ حملوں اور آدم ربائی کا الزام ہے کہ جن میں اس نے امریکی شہریوں کو نشانہ بنایا ہے ۔ لیکن دوسرے شخص فواد شکر کے بارے میں کہ جو  امریکہ کے زیر نظر ہے ، اس ملک کے کہنےکے مطابق ایک فوجی کمانڈر حزب اللہ کاجنوب لبنان میں ہے اور حزب اللہ کی جہادی کمیٹی کا رکن ہے ۔

الاخبار نے لکھا ہے کہ امریکہ ،اسرائیل اور سعودی عرب کی طرف سے حزب اللہ پر حملوں کی شدت سے  بہت سارے احتمال سامنے آتے ہیں کہ جن میں سے دو احتمال زیادہ نمایاں ہیں ۔ پہلا یہ کہ مقاومت کے خلاف جو محاذ ہے وہ اب شام اور عراق میں شکست کے نتائج کو تحمل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا اور اس کے پاس کوئی چارہ نہیں سوائے اس کے کہ مقاومت کی طاقت زیادہ ہونے سے پہلے اس کے خلاف ایک نیا فوجی محاذ کھول دے ۔

اس روزنامے نے مزید لکھا ہے : یہی وجہ ہے کہ امریکی محور نے مقاومت پر حملے سے پہلے اپنی پوری خباثت ، چالبازی اور مقاومت کے چہرے کو مخدوش کرنے کے لیے حملے شروع کر دیے ہیں ، جب کہ اس کو اچھی طرح معلوم ہے کہ لبنان پر حملے کی صہیونی حکومت کی کسی بھی طرح کی حماقت سے صہیونی حکومت کو کتنا نقصان ہو گا اور وہ نابودی کے کس قدر نزدیک ہو جائے گی ۔ اس بات کا علم صہیونی حکومت کے امنیتی ،سیاسی ،اور فوجی سربراہوں کے بیانات سے بالکل آشکار ہے اور مقاومت نے دشمن کو روکنے کی دیوار کو بہت مضبوط بنا رکھا ہے۔

دوسرا احتمال یہ ہے کہ امریکہ ، اسرائیل اور سعودی عرب کا جو محور ہے یہ مقاومت کا مقابلہ کرنے کے لیے دوسرے راستے اختیار کرے گا جن میں سب سے نمایاں اقتصادی پابندیاں عاید کرنا اور اطلاعات کی جنگ چھیڑنا ہے ۔ چنانچہ مقاومت کے رہنماوں کے بارے میں اطلاع دینے والوں کےلیےانعام کا اعلان کرنا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ یا وہ مقاومت کے معاشرے میں خلل ایجاد کرنے کی کوشش کرے گا ، جس کے لیے وہ داخلی فتنے ایجاد کر کے اجتماعی مشکلات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش  کرے گا ۔ بہر درپیش مرحلے میں امن کی کوئی امید نہیں ہے ۔   


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر