تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور:13 دسمبر/ نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے بین الاقوامی امور اور قوانین نے تہران میں مغربی ایشیا کی علاقائی سیکورٹی پر منعقدہ قومی سمینار کے موقع پر صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ملکی دفاعی اور میزائل پروگرام پر مذاکرات کی ہرگز گنجائش نہیں ہے ۔

 نیوزنور:13 دسمبر/ اقوام متحدہ کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ اس وقت یمن میں 8 ملین انسان سنگین قحط کا شکار ہیں

نیوزنور:13 دسمبر/عراقی حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ فلسطینی علاقوں کوصیہونی قبضے سے آزاد کرانے کیلئے وہ غاصب  اسرائیل کےساتھ جنگ کو مکمل طورپر آمادہ ہے۔

نیوز نور:13 دسمبر/ مصر ی دارالفتویٰ نے اپنے ایک بیان میں خبردار کیا ہے  کہ قدس کے نام پر داعش جوانوں کو بھرتی کے لیے گمراہ کرسکتی ہے۔

نیوز نور:13 دسمبر/ فلسطین میں انسانی حقوق کے لئے سرگرم ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے پانچ دنوں کے دوران حراست میں لئے جانے والے بیت المقدس کے باسیوں میں سے ایک تہائی حصہ کم عمر بچوں کا ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
کیا بن سلمان نے قطر کے خلاف اپنی ہار تسلیم کر دی؟

نیوز نور :07دسمبر/سعودیہ کی جانب سے خلیجی تعاون کونسل میں قطر کے امیر کی شرکت کے لیے رضامندی، ریاض کی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کی علامت ہے۔عرب ممالک کے قطر سے تعلقات میں بحران کے 6 ماہ ہو گئے ہیں، اور ان ممالک کے درمیان صلح کی تمام کوششیں بھی ناکام ہو گئیں، پر اب خلیجی تعاون کونسل کے 38ویں اجلاس میں قطری امیر کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

استکباری دنیا صارفین۵۴ : // تفصیل

کیا بن سلمان نے قطر کے خلاف اپنی ہار تسلیم کر دی؟

نیوز نور :07دسمبر/سعودیہ کی جانب سے خلیجی تعاون کونسل میں قطر کے امیر کی شرکت کے لیے رضامندی، ریاض کی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کی علامت ہے۔عرب ممالک کے قطر سے تعلقات میں بحران کے 6 ماہ ہو گئے ہیں، اور ان ممالک کے درمیان صلح کی تمام کوششیں بھی ناکام ہو گئیں، پر اب خلیجی تعاون کونسل کے 38ویں اجلاس میں قطری امیر کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

عالمی اردوخبررساں ادارے‘‘نیوزنور’’نےابلاغ نیوز کے حوالے سے نقل کیاہے کہ کویت کے امیر نے قطر کے امیر کو اس اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے، یہ دعوت کویت کے وزیر خارجہ کی سعودیہ میں شاہ سلمان سے ملاقات کے بعد دی گئی ہے۔

قطر کے وزیر خارجہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ قطر کے امیر اس اجلاس میں شرکت کرینگے، اور انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس میں ہمارے ممالک کی عوام کے مسائل کی بات کی جائے گی۔اب سوال یہ ہے کہ کیا کویت نے دونوں طرفین میں صلح کرا دی ہے؟ یا دونوں طرف سے کوئی ایک دوسرے کے سامنے جھک گیا ہے؟

2016 کے اجلاس میں خلیجی تعاون کونسل نے اس بات پر زور دیا تھا کہ تمام ممالک کی معیشت اور پالیسیاں ایک ہو جائے۔ پر اب ایک سال بعد وہ اس مقصد سے نہ صرف قریب نہیں ہوئے بلکہ مزید دور ہو گئے ہیں، اور اب سب سربراہان کی شرکت اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ان کے اختلافات ختم ہو گئے ہیں۔ دوحہ اب بھی اخوان المسلمین کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ سعودیہ اس کو اپنی مخالفت سمجھتا ہے۔

قطر کے امیر کی موجودگی میں یہ اجلاس اس بات کی علامت ہے کہ سعودیہ نے پسپائی اختیار کی ہے، کیونکہ دوحہ کی جانب سے اب تک سعودیہ کی کوئی شرط مانی نہیں گئی ہے، شاید اس اجلاس سے لڑائی کی خبریں موصول ہو، شاید سعودیہ اس لیے پیچھے ہٹا ہے کہ قطر پر پابندی لگانے کو عالمی حمایت حاصل نہیں ہوئی، اور دوحہ بھی سعودی دباؤ میں نہیں آیا ہے۔

نتیجہ یہ کہ سعودیہ کی جانب سے قطر کے امیر کی اس اجلاس میں شرکت کے لیے ہاں کہنا، سعودیہ کی شکست ہے، اور یہ سعودیہ کے لیے بہت مہنگا ہوسکتا ہے کیونکہ وہ عالم اسلام کی رہبری کرنے کے دعویدار ہے۔


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر