تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور23فروری/ایک صیہونی روز نامے نےا پنی ایک رپورٹ میں نجباء مقاومتی تنظیم کے سیکریٹری جنرل شیخ اکرم الکعبی کےدورہ لبنان اورحزب‌الله رہنماوں سے ملاقات پرتبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسرائیل کے خلاف جنگ میں وہ حزب اللہ کے ہمراہ ہوگی۔

نیوزنور23فروری/بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر نےجوہری معاہدے کے حوالےسےایک بار پھر ایران کی شفاف کارکردگی کی تصدیق کی ہے۔

نیوزنور23فروری/ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب کے ولیعہد اپنے ملک کے شہریوں پر دباؤ بڑھانے اور مخالفین کو کچلنے کے لئے اصلاحات کا پرچم بلند کئے ہوئے ہیں۔

نیوزنور22فروری/اسلامی تحریک مقاومت حماس کے ترجمان نےکہا ہے کہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں نیکی ہیلی کے خطاب سے فلسطینی قوم کے تئیں ان کی دشمنی جھلک رہی تھی۔

نیوزنور22فروری/ایک صیہونی عہدے دار نے کہا ہے کہ امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد فلسطین میں اسرائیلی ریاست کے مظالم اور توسیع پسندانہ اقدامات کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے یہودیوں کی آمد میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
کیا بن سلمان نے قطر کے خلاف اپنی ہار تسلیم کر دی؟

نیوز نور :07دسمبر/سعودیہ کی جانب سے خلیجی تعاون کونسل میں قطر کے امیر کی شرکت کے لیے رضامندی، ریاض کی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کی علامت ہے۔عرب ممالک کے قطر سے تعلقات میں بحران کے 6 ماہ ہو گئے ہیں، اور ان ممالک کے درمیان صلح کی تمام کوششیں بھی ناکام ہو گئیں، پر اب خلیجی تعاون کونسل کے 38ویں اجلاس میں قطری امیر کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

استکباری دنیا صارفین۹۰ : // تفصیل

کیا بن سلمان نے قطر کے خلاف اپنی ہار تسلیم کر دی؟

نیوز نور :07دسمبر/سعودیہ کی جانب سے خلیجی تعاون کونسل میں قطر کے امیر کی شرکت کے لیے رضامندی، ریاض کی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کی علامت ہے۔عرب ممالک کے قطر سے تعلقات میں بحران کے 6 ماہ ہو گئے ہیں، اور ان ممالک کے درمیان صلح کی تمام کوششیں بھی ناکام ہو گئیں، پر اب خلیجی تعاون کونسل کے 38ویں اجلاس میں قطری امیر کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

عالمی اردوخبررساں ادارے‘‘نیوزنور’’نےابلاغ نیوز کے حوالے سے نقل کیاہے کہ کویت کے امیر نے قطر کے امیر کو اس اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے، یہ دعوت کویت کے وزیر خارجہ کی سعودیہ میں شاہ سلمان سے ملاقات کے بعد دی گئی ہے۔

قطر کے وزیر خارجہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ قطر کے امیر اس اجلاس میں شرکت کرینگے، اور انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس میں ہمارے ممالک کی عوام کے مسائل کی بات کی جائے گی۔اب سوال یہ ہے کہ کیا کویت نے دونوں طرفین میں صلح کرا دی ہے؟ یا دونوں طرف سے کوئی ایک دوسرے کے سامنے جھک گیا ہے؟

2016 کے اجلاس میں خلیجی تعاون کونسل نے اس بات پر زور دیا تھا کہ تمام ممالک کی معیشت اور پالیسیاں ایک ہو جائے۔ پر اب ایک سال بعد وہ اس مقصد سے نہ صرف قریب نہیں ہوئے بلکہ مزید دور ہو گئے ہیں، اور اب سب سربراہان کی شرکت اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ان کے اختلافات ختم ہو گئے ہیں۔ دوحہ اب بھی اخوان المسلمین کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ سعودیہ اس کو اپنی مخالفت سمجھتا ہے۔

قطر کے امیر کی موجودگی میں یہ اجلاس اس بات کی علامت ہے کہ سعودیہ نے پسپائی اختیار کی ہے، کیونکہ دوحہ کی جانب سے اب تک سعودیہ کی کوئی شرط مانی نہیں گئی ہے، شاید اس اجلاس سے لڑائی کی خبریں موصول ہو، شاید سعودیہ اس لیے پیچھے ہٹا ہے کہ قطر پر پابندی لگانے کو عالمی حمایت حاصل نہیں ہوئی، اور دوحہ بھی سعودی دباؤ میں نہیں آیا ہے۔

نتیجہ یہ کہ سعودیہ کی جانب سے قطر کے امیر کی اس اجلاس میں شرکت کے لیے ہاں کہنا، سعودیہ کی شکست ہے، اور یہ سعودیہ کے لیے بہت مہنگا ہوسکتا ہے کیونکہ وہ عالم اسلام کی رہبری کرنے کے دعویدار ہے۔


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر