تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور:13 دسمبر/ نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے بین الاقوامی امور اور قوانین نے تہران میں مغربی ایشیا کی علاقائی سیکورٹی پر منعقدہ قومی سمینار کے موقع پر صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ملکی دفاعی اور میزائل پروگرام پر مذاکرات کی ہرگز گنجائش نہیں ہے ۔

 نیوزنور:13 دسمبر/ اقوام متحدہ کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ اس وقت یمن میں 8 ملین انسان سنگین قحط کا شکار ہیں

نیوزنور:13 دسمبر/عراقی حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ فلسطینی علاقوں کوصیہونی قبضے سے آزاد کرانے کیلئے وہ غاصب  اسرائیل کےساتھ جنگ کو مکمل طورپر آمادہ ہے۔

نیوز نور:13 دسمبر/ مصر ی دارالفتویٰ نے اپنے ایک بیان میں خبردار کیا ہے  کہ قدس کے نام پر داعش جوانوں کو بھرتی کے لیے گمراہ کرسکتی ہے۔

نیوز نور:13 دسمبر/ فلسطین میں انسانی حقوق کے لئے سرگرم ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے پانچ دنوں کے دوران حراست میں لئے جانے والے بیت المقدس کے باسیوں میں سے ایک تہائی حصہ کم عمر بچوں کا ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
سی این این کی رپورٹ ؛
ٹرامپ نے کیوں اپنے سفارتخانے کو بیت المقدس منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ؟ اس کے بارے میں ضروری جانکاری

نیوزنور:امریکہ کا پہلے سے ہی بیت المقدس میں ایک کونسلخانہ تھا ۔ اب صرف ان دو  کا نام ہی بدل دینا کافی ہے ، یعنی کونسلگری کا نام سفارتخانہ اور سفارتخانے کا نام کونسلگری رکھ دیا جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہی کافی ہے کہ امریکہ کا سفیر جو تل ابیب میں ہے وہ وہاں سے قدس منتقل ہو جائے ۔ لیکن یہ اس ماجرا کا ایک سادہ ساحصہ ہے ۔ سفارتخانے کا منتقل کیا جانا امریکہ کے عرب ملکوں کے ساتھ روابط میں بحران کا باعث بن سکتا ہے اور ان ملکوں میں امریکہ کے خلاف بڑے بڑے تظاہرات ہو سکتے  ہیں ۔

استکباری دنیا صارفین۷۸۷ : // تفصیل

سی این این کی رپورٹ ؛

ٹرامپ نے کیوں اپنے سفارتخانے کو بیت المقدس منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ؟ اس کے بارے میں ضروری جانکاری

نیوزنور:امریکہ کا پہلے سے ہی بیت المقدس میں ایک کونسلخانہ تھا ۔ اب صرف ان دو  کا نام ہی بدل دینا کافی ہے ، یعنی کونسلگری کا نام سفارتخانہ اور سفارتخانے کا نام کونسلگری رکھ دیا جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہی کافی ہے کہ امریکہ کا سفیر جو تل ابیب میں ہے وہ وہاں سے قدس منتقل ہو جائے ۔ لیکن یہ اس ماجرا کا ایک سادہ ساحصہ ہے ۔ سفارتخانے کا منتقل کیا جانا امریکہ کے عرب ملکوں کے ساتھ روابط میں بحران کا باعث بن سکتا ہے اور ان ملکوں میں امریکہ کے خلاف بڑے بڑے تظاہرات ہو سکتے  ہیں ۔

ڈونالڈ ٹرامپ کا احتمالا یہ فیصلہ کہ وہ اپنے سفارتخانے کو  تل ابیب سے بیت المقدس سے منتقل کرے گا اور بیت المقدس کو اسرائیل کے پایتخت کے طور پر سرکاری طور پر تسلیم کرے گا اس قدر تنازعے کا باعث اور ناجائز ہے کہ بہت سارے ملکوں اور بین الاقوامی تنظیموں نے اس فیصلے کے اعلان کے سلسلے میں تشویش کا اظہار کیا ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق اس بیان کی بنا پر جسے وائٹ ہاوس نے گذشتہ روز صادر کیا تھا اور اسی طرح ٹرامپ نے محمود عباس سے جو فون پر رابطہ کیا تھا  اس میں طے پایا ہے کہ آج امریکہ کا صدر ٹرامپ سفارتخانے کے قدس میں منتقل کرنے کے بارے میں اعلان کرے گا ۔

اسی سلسلے میں ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اس موضوع اور اس سے متعلق سوالات کا جائزہ لینے سے اس موضوع اور اس کی مخالفت کی وجوہات کے بارے میں ہمیں بہتر طور پر معلومات حاصل ہو ں گی ۔

اس سلسلے میں نیوز چینل سی این این نے اس ماجرا کی جزئیات کا جائزہ لیا ہے اور لکھا ہے : توقع کی جا رہی ہے کہ ٹرامپ اسی ہفتے میں بیت المقدس کو اسرائیل کے پایتخت کے طور پر سرکاری طور پر تسلیم کرے گا ۔ اس چیز کو لے کر پوری دنیا میں بڑے پیمانے پر ہنگامہ ہو گا ۔

ٹرامپ نے اپنی الیکشن مہم کے دوران بھی وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکہ کے سفارتخانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرے گا ۔ پہلے والے صدور نے بھی ایسے وعدے کیے تھے لیکن چونکہ فلسطین اور اسرائیل دونوں بیت المقدس کو اپنا پایتخت مانتے ہیں ، امریکہ کشیدگی سے بچنے کے لیے آج تک اس اقدام سے اجتناب کرتا چلا آرہا ہے ۔

سی این این نے آگے ان سوالات کا جواب دیا ہے : کیوں بیت المقدس کو اسرائیل کا پایتخت قرار دینا تنازعے کا باعث ہے ؟

اسرائیل اور فلسطین کے تنازعے میں یہ موضوع ایک پیچیدہ موضوع رہا ہے ، یہ کام باعث بنے گا کہ فریقین کے درمیان صلح کے مذاکرات شکست سے دوچار ہوں گے اور صلح کے سلسلے میں بین الاقوامی اجماع نہیں ہو پائے گا ۔

اگر امریکہ اپنے سفارتخانے کو تل ابیب سے قدس منتقل کرتا ہے تو وہ بیت المقدس کو اسرائیل کا پایتخت ماننے کے ایک قدم اور نزدیک ہو جائے گا ۔

سفارتخانے کو منتقل کرنے کے سازو کار کیا ہیں ؟

 منطقی طور پر بہت آسان ہے  امریکہ کا پہلے سے ہی بیت المقدس میں ایک کونسلخانہ تھا ۔ اب صرف ان دو  کا نام ہی بدل دینا کافی ہے ، یعنی کونسلگری کا نام سفارتخانہ اور سفارتخانے کا نام کونسلگری رکھ دیا جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہی کافی ہے کہ امریکہ کا سفیر جو تل ابیب میں ہے وہ وہاں سے قدس منتقل ہو جائے ۔

لیکن یہ اس ماجرا کا ایک سادہ ساحصہ ہے ۔ سفارتخانے کا منتقل کیا جانا امریکہ کے عرب ملکوں کے ساتھ روابط میں بحران کا باعث بن سکتا ہے اور ان ملکوں میں امریکہ کے خلاف بڑے بڑے تظاہرات ہو سکتے  ہیں

اقوام متحدہ نے ۱۹۴۷ میں بیت المقدس کو ایک بین الاقوامی شہر قرار دیا ۔ لیکن اس کے بعد جو جنگ ہوئی اس کی وجہ سے یہ شہر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ۔ اس طرح اس کا مغربی حصہ اسرائیل کے قبضے میں اور اس کا مشرقی حصہ  اردن کے قبضے میں چلا گیا ۔ پرانا مشہور شہر بھی اسی مشرقی حصے میں واقع ہے ۔

کس زمانے میں تبدیلی ہوئی ؟

۱۹۶۷ میں ۶ دن کی جنگ میں اسرائیل نے اس کے مشرقی حصے  پر بھی قبضہ کر لیا اس کے بعد پورا شہر اسرائیل کے قبضے میں آ گیا ۔ لیکن ابھی تک فلسطینی اور پوری عالمی برادری اس کو فلسطین کا پایتخت تسلیم کرتی ہے ۔

دونوں فریقوں کے درمیان ۱۹۹۳ کے پیمان صلح کے مطابق شہر کی آخری موقعیت کے بارے میں صلح کے مذاکرات کے آخری مراحل میں فیصلہ کیا جائے گا ۔

بیت المقدس کی آبادی کی ترکیب کس نوعیت کی   ہے ؟

بیت المقدس کی کل آبادی تقریبا ساڑھے آٹھ لاکھ افراد پر مشتمل  ہے جس میں ۳۷ فیصد عرب اور ۶۱ فیصد یہودی ہیں ۔ یہودیوں کی آبادی میں ۲ لاکھ آرتھو ڈیکس یہودی ہیں ، باقی یہودی یا صہیونی ہیں یا سیکولر ہیں اور ایک فیصد باقیماندہ عیسائی عرب ہیں ۔

زیادہ تر فلسطینی بیت المقدس کے مشرق میں رہتے ہیں ۔ اگر چہ کچھ محلے ایسے ہیں کہ جن میں اسرائیلی بھی رہتے ہیں اور فلسطینی بھی لیکن اکثر محلے ان دونوں کے درمیان تقسیم شدہ ہیں ۔

آیا اب تک بیت المقدس میں کسی ملک کا سفارتخانہ تھا ؟

جی ہاں ! ۱۹۸۰ سے پہلے بعض ملکوں جیسے ہالینڈ اور کاستکاریکا کے سفارتخانے وہاں تھے ۔ اسی سال جولائی میں اسرائیل نے ایک قانون پاس کیا اور بیت المقدس کو اپنا پایتخت قرار دیا ۔ اقوام متحدہ نے اس اقدام کی مذمت کی اور اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگایا ۔

کیا کسی ملک نے سفارتخانے کو وہاں سے منقل کیا ہے ؟

جی ہاں ! ۲۰۰۶ میں کاستکاریکا اور ایلسلواڈور دو آخری ملک تھے کہ جن کا بیت المقدس میں سفارتخانہ تھا۔ اس کے بعد انہوں نے سفارتخانے کو تل ابیب میں منتقل کر دیا ۔

کیا کچھ کونسلگریاں بھی تھیں ؟

بیت المقدس کے مغربی حصے میں امریکہ کا کونسل خانہ  موجود ہے۔ اور برطانیہ اور فرانس کا اس کے مشرقی حصے میں کونسخانہ ہے جو فلسطینیوں کے قلمرو میں ہے ۔

بطور شفاف امریکہ کا موقف کیا ہے ؟

امریکہ کا بیت المقدس میں کبھی سفارتخانہ نہیں تھا بلکہ اس کا سفارتخانہ ہمیشہ تل ابیب میں تھا ۔ صاف صاف بتادیں کہ ۱۹۸۹ میں اسرائیل نے کچھ زمین امریکہ کو سالانہ ایس ۱ قیمت کے بدلے میں ۹۹ سال کے لیے کرائے پر دی تا کہ وہ اس میں اپنا سفارتخانہ بنائے لیکن وہ زمینیں ابھی تک خالی پڑی ہیں ۔

سال ۱۹۹۵ میں کانگریس نے ایک قانون پاس کیا اور امریکہ سے کہا کہ بیت المقدس کو اسرائیل کے پایتخت کے طور پر  سرکاری طور پر تسلیم کرے ۔

کیوں اب تک کے امریکہ کے صدور نے یہ اقدام نہیں کیا ؟

۱۹۹۵ سے ،کلینٹن ، بش اور اوباما نے ایسا کرنے سے انکار کیا اور ہر ۶ ماہ میں ایک بار اس قانون کو تاخیر میں ڈالتے رہے ۔

اس موضوع پر اسرائیل کا رد عمل کیا ہے ؟

اسرائیل کی حکومت نے ٹرامپ کے اس وعدے کی تمجید کی ہے اور ٹرامپ کے معارفہ سے پہلے انہوں نے ایک پروپیگنڈا مہم چلائی   اور اس کو ترغیب دلائی کہ وہ اپنے وعدے کو پورا کرے۔

آخر کار فلسطینی کیا کریں گے ؟

فلسطینیوں نے اس چیز کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی بتایا ہے ، اور ان کا یہ ماننا ہے کہ یہ اقدام صلح کے مذاکرات کو نقش بر آب بنا دے گا ۔ فلسطین کی خود مختار حکومت کے سربراہ محمود عباس نے دنیا کے رہنماوں منجملہ پوتین اور اردن کے شاہ سے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے فیصلے کو بدلوائیں ۔

اس اقدام سے بے چینی کا ایک طوفان اٹھے گا سڑکوں پر مظاہرے ہوں گے اور پورے فلسطین اور عرب ملکوں میں تشدد کی ایک لہر اٹھ کھڑی ہو گی ۔         

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر