تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور:عراقی وزیراعظم نے کہا ہے کہ نام نہادداعشی خلافت کی مذہبی علامت سمجھی جانے والی جامع مسجد النوری کی دھماکے میں شہادت دہشت گرد گروپ داعش کا اعتراف شکست ہے۔

نیوزنور:ایک صیہونی روزنامےنے اپنے ایک  مقالے میں لکھا ہے کہ سعودی شہزادے محمد بن سلمان جو اپنے والد کے خصوصی حکم پر سعودی عرب کے نئے ولیعہد منتخب ہوئے ہیں نے اپنا نیا عہدہ سنبھالنے سے قبل اعلی صیہونی حکام سے ملاقات کی ۔

نیوزنور:یمن کی تحریک انصاراللہ کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ صیہونی حکومت کے ساتھ مل کر علاقے پر تسلط جمانے کی کوشش کر رہا ہے-

نیوزنور:ایران کے ایک بزرگ شیعہ عالم دین نے ایک بیان میں داعش پر سپاہ کے جوابی حملے کو بہترین اور مضبوط دفاع قرار دیتے ہوئے کہا ہےکہ یوم القدس کی ریلی میں شرکت کرنا ملک اور عالم اسلام کی سلامتی کی ضامن ہے۔

نیوز نور: یمن کےسابق صدر  نے اپنے ایک بیان میں  تحریک انصاراللہ کےساتھ اتحاد جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہےکہ سعودی جنگی اتحاد کے خلاف یمنی عوام کی حتمی فتح یقینی ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
ماہ رمضان میں امام خامنہ ای کا طرز زندگی/ معظم لہ کی نگاہ میں حقیقی بہار کیا ہے؟
نیوزنور:اگرحال ہی میں ایران میں شائع ہونے والی کتاب’’روزہ  رکھنے کے آداب اور روزہ داروں کا احوال ولی امر مسلمین حضرت امام خامنہ ای کی بیانات کی روشنی میں‘‘ آپ کے بیانات کی تاریخ  نیز آپ کے مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے سامعین کو مد نظر رکھ کر مطالعہ کیا جائے تو  ماہ مبارک رمضان میں آپ کے طرز عمل سے متعلق کئی  اہم باتیں سامنے آتی ہیں۔
اسلامی بیداری صارفین۱۹۴۶ : // تفصیل

ماہ رمضان میں امام خامنہ ای کا طرز زندگی/ معظم لہ کی نگاہ میں حقیقی بہار  کیا ہے؟

نیوزنور:اگرحال ہی میں ایران میں شائع ہونے والی کتاب’’روزہ  رکھنے کے آداب اور روزہ داروں کا احوال ولی امر مسلمین حضرت امام خامنہ ای کی بیانات کی روشنی میں‘‘ آپ کے بیانات کی تاریخ  نیز آپ کے مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے سامعین کو مد نظر رکھ کر مطالعہ کیا جائے تو  ماہ مبارک رمضان میں آپ کے طرز عمل سے متعلق کئی  اہم باتیں سامنے آتی ہیں۔

عالمی اردو خبررساں ادارے"نیوزنور"کے شعبہ ترجمہ کے مطابق حضرت امام خامنہ ای مختلف موضوعات  کے ماہر   ہیں۔ جس طرح آپ پورے تدبر اوردرایت سے سیاسی  مسائل پر تبصرہ فرماتے اور اپنی رہنمائی سے بڑی بڑی مشکلیں حل کر دیتے ہیں،  جس طرح سماجی مسائل پر آپ کی گفتگو عوام کے لئے برکتیں لاتی اور انہیں ایک دوسرے سے قریب کر دیتی ہے،  جس طرح آپ  ملک کے اہل ہنر سے ملاقات کے دوران ان میں امیدیں جگاتے اور انہیں مستقبل کی سمت دکھاتے ہیں اسی طرح آپ ایک بے مثل ماہر اسلامیات اور لاثانی مفسر بھی ہیں۔اورشاید دیگر موضوعات سے متعلق آپ کے حکیمانہ بیانات کی بنیاد بھی آپ کا  دین اسلام کا ماہر ہونا ہو۔ آپ برسوں سے مختلف مسائل پر گفتگو اور اپنے نظریات بیان فرماتے آ رہے ہیں تاہم  ماہ مبارک رمضان اور روزہ رکھنے کے آداب سے متعلق آپ کی گفتگو دیگر موضوعات کے مقابلہ میں زیادہ ہے۔ اس کی وجہ ماہ مبارک میں عوامی وفود سے آپ کی ملاقاتوں کا زیادہ ہونا نیز اس دوران  دلوں کا (قبولیت نصیحت کے لئے) تیار اور معاشرہ کا اللہ تعالیٰ سے زیادہ قریب ہونا ہے۔آپ جہاں رہبر انقلاب ہیں وہیں عظیم مرجع تقلید بھی ہیں لہٰذا  روزہ سے متعلق آپ کے بیانات  حقیقی معنی میں رہنما ہیں۔چنانچہ اسی کے پیش نظر  اسلامی انقلاب پبلیکیشنز (انتشارات انقلاب اسلامی) نے ’’روزہ رکھنے کے آداب اور روزہ داروں کا احوال‘‘ (آداب روزہ داری و احوال روزہ  داران) نامی کتاب شائع کرکے  معظم لہ کی بیانات کی روشنی میں روزہ رکھنے کے آداب بیان کئے ہیں۔

یہ کتاب   اُن علماء، مفکرین اور عابدان شب زندہ دار کی نصیحتوں ہی کی ایک کڑی ہے جو کہ صدیوں سے  لوگوں کو ماہ مبارک رمضان کی  ذمہ داریوں کی جانب متوجہ کرتے اور انہیں  اِس  سنہرے موقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتے آرہے ہیں۔ ماہ  رمضان کی فضیلت سے متعلق علمائے دین،  مربیان اخلاق یہاں تک ادباء و شعراء کی بہت سی کتب موجود ہیں۔یہ کتاب بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جو کہ ماہ رمضان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے پر ابھارتی ہے۔تاہم اس  کی کچھ منفرد خصوصیات بھی ہیں جو اسے دیگر کتابوں سے ممتاز بنادیتی ہیں۔ذیل میں ان میں سے بعض کا تذکرہ کیا جا رہا ہے:

غور سے پڑھئے تاکہ کتاب کے روحانی ماحول کا احساس ہوزیر نظر کتاب ۱۹۹۰ سے لے کر ۲۰۱۱ تک یعنی گذشتہ بائیس برس کے دوران  رہبر معظم انقلاب حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی امام خامنہ ای کی رمضان کے مہینوں میں کی گئی تقاریر اور نصیحتوں کے اقتباسات پر مشتمل ہے۔ سامعین عام لوگ ہی رہے ہیں تاہم کبھی کبھی  آپ کے مخاطبین قاری حضرات،  اسلامی جمہوریہ کی حکومتی اہلکار، نماز جمعہ کے مصلین، یونیورسٹی اساتذہ،  طلبہ اور شعراء وغیرہ بھی رہے ہیں۔بنابریں کتاب کے مندرجات کے انتخاب کے لئے مندرجہ ذیل دو  خصوصیات مدنظر رکھی گئی ہیں:

اول یہ کہ معظم لہ کے بیانات روزہ، دعا اور ماہ مبارک میں مومنین کی انفرادی، اجتماعی اور سیاسی ذمہ داریوں سے متعلق ہوں۔
دوسرے یہ کہ  ایک ہی  سال کے ماہ رمضان میں   یعنی چاند نظر آنے سے لے کر عیدفطر کے اختتام تک  کے عرصہ میں صادر ہوئے ہوں۔ بنابریں جو قاری اس کتاب کا غور سے مطالعہ کرے گا وہ  اُس روحانی ماحول میں شریک ہو جائے گا جو  متکلم کا مطمع نظر ہے۔ایسے میں کائنات بالخصوص اسلامی معاشرہ اور عابد و زاہد مومنین پر پہلے سےحاکم ماہ رمضان کے روحانی اور ملکوتی ماحول کو چارچاند لگ جائیں گے۔

ایک طرح کے موضوعات  مختلف زاویوں سےامام خامنہ ای کے گذشتہ بائیس برسوں کے بیانات کی ایک نمایاں خصوصیت مختلف باتوں کا ایک دوسری سے مربوط ہونا ہے۔لیکن ساتھ ہی یہ خصوصیت بھی پائی جاتی ہے کہ اگر ایک ہی موضوع مختلف برسوں میں  زیر بحث آیا ہو تو ہر بار یا تو آپ نے  ایک نئے زاویہ سے اس پر روشنی ڈالی ہے یا پھر اپنے تجزیہ میں ایک نیا نکتہ شامل کیا ہے۔

اس کی واضح مثال  تقویٰ و استغفار سے متعلق آپ کی گفتگو میں دیکھی جا سکتی ہے جو کہ زیر نظر کتاب کا اہم ترین باب ہے۔

حقیقی بہار رہبر انقلاب کی نگاہ میں آپ نے ماہ مبارک رمضان کے مختلف اوصاف بیان کئے ہیں اور ہر صفت اسلامی تعلیمات خصوصاً اہل بیت اطہار علیہم السلام کی احادیث میں بیان شدہ اس ماہ   کی کسی خصوصیت کی غماز ہے۔جیسے؛ رمضان، ماہ رحمت و مغفرت الٰہی، ماہ ضیافت الٰہی،  خودسازی اور تقویٰ کا مہینہ،  استغفار، توبہ اور خدا کی جانب بازگشت کا مہینہ،  تقویٰ ذخیرہ کرنے کا مہینہ، عبادت، دعا اور مناجات کا مہینہ وغیرہ۔

اسی طرح جب ماہ رمضان اور موسم بہار کی ایک ساتھ آمد ہوئی تو آپ نے  ماہ رمضان کو بھی بہار قرار دیا۔جیسے بہار دعا وقرآن،  بہار خودسازی و عبادت، بہار انس باخدا،  بہار ذکر واستغفار، بہار استغاثہ وغیرہ۔تاہم اس کے بعد  آپ نے واضح کیا کہ ماہ رمضان  صرف موسم بہار میں واقع ہونے کے باعث بہار نہیں ہے بلکہ موسم بہار ہو یا نہ ہو ماہ رمضان مؤمنین کے سال کی شروعات اور حقیقی معنی میں بہار ہے، مسلمانوں کا  ایمانی سال رمضان سے شروع ہوتا ہے۔اس ماہ کی عبادتیں آنے والے گیارہ ماہ  اور اگلے ماہ رمضان تک کے لئے سرمایہ سمجھی جاتی ہیں۔بنابریں مسلمانوں کی یہی حقیقی بہار ہے جس میں  باطنی طہارت اور تعمیرنو کی جاتی ہے۔

ماہ رمضان کی اجتماعی نصیحتیں
ماہ رمضان اور روزہ رکھنے کے آداب سے متعلق رہبر معظم انقلاب کے بیانات کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ آپ نے  اس باب میں اسلام کے اجتماعی احکام پر خصوصی توجہ دی ہے ۔ جیسے  غرباء کی احوال پرسی،  فقراء کی امداد، یتیموں سے محبت، ضعفاء کی دستگیری کی نصیحتیں اور اسراف، تبذیر، تفرقہ وغیرہ جیسی برائیوں سے پرہیز کا حکم۔اس طرح  فضائل و کمالات کے حصول اور اخلاقی برائیوں سے پرہیز کا دائرہ نجی زندگی سے آگے بڑھ کر پورے اسلامی سماج کی شناخت بن جاتا ہے۔ساتھ ہی فرد یا زیادہ سے زیادہ خاندان کی اصلاح تک محدود وعظ و نصیحت اور ایسے بیان میں فرق بھی بخوبی واضح ہوجاتا ہے جس میں فرد اور گھر کی اصلاح کے ساتھ ساتھ سماج کی اصلاح اوراسے مطلوبہ اسلامی شکل دینے کی بھی تاکید ہو۔سماجیات پر گفتگو کے دوران یقینی طور پر  اسلامی سماج کو لاحق سیاسی خطرات بھی زیر بحث آئیں گے اور ان پر تبصرہ کیا جائے گا۔چنانچہ اس ذیل میں رہبر معظم انقلاب نے اسلامی تعلیمات نیز اسلامی  تاریخ کے نشیب و فراز کے مد نظر مسلمانوں کے زوال کے اسباب پر روشنی ڈالی اور بصیرت اور صبر کو  ہر قسم کی غفلت، دنیا پرستی، ہوس اقتدار،  انا، تکبر، مالی بدعنوانی اور اخلاقی گراوٹ کے سدباب کا ذریعہ قرار دیا ہے۔یہی چیزیں بہت سی اہم اور بااثر اسلامی شخصیات کے زوال کا باعث بنتی رہی ہیں۔

ماہ رمضان میں مسلم اقوام کی جانب توجہ/ برسوں پہلے اسلامی بیداری کا ذکر
رہبرمعظم انقلاب اپنے ماہ رمضان کے بیانات میں دنیا بھر کے اہل اسلام، مظلوم اقوام  خصوصاً مظلوم فلسطینی قوم کی صورتحال پر گفتگو کرتے رہے ہیں۔امام خمینیؒ  نے ماہ رمضان کے آخری جمعہ (جمعۃ الوداع) کو یوم قدس قرار دیا تھا۔رہبرمعظم انقلاب کی جانب سے یوم قدس کے جلوس میں شرکت کی تاکید سے آپ کی آداب ماہ رمضان سے متعلق نصیحتوں کا دائرہ  وقت اور حالات کے تقاضوں کے مدنظر سماج اور ملک سے بڑھ کر پورے عالم اسلام تک پھیل جاتا ہے۔زیر نظرکتاب کے قاری کو اندازہ ہو جائے گا کہ اسلامی بیداری کی لفظ آج رائج ہوئی ہے لیکن رہبرمعظم انقلاب اس کا برسوں پہلے سے ایک مسلمہ اور متوقع حقیقت کے بطور تذکرہ کرتے آ رہے ہیں۔چنانچہ آج یہ ایک ناقابل انکار حقیقت بن چکی ہے۔

اہم ترین بیانات
ماہ رمضان میں رہبر معظم انقلا ب کے اہم ترین بیانات  مسلمانوں کے دو کبھی نہ ختم ہونے والے آسمانی ذخائر یعنی  اللہ کی کتاب اور  اہل بیت اطہار کی احادیث سے مأخوذ اصل محمدی اسلام کی تعلیمات پر مشتمل ہیں جنہیں آپ نے انتہائی شیریں انداز  اور بتدریج گذشتہ بائیس برس میں بیان فرمایا ہے۔اس کے اہم ترین حصے مندرجہ ذیل ہیں:
الف:  قرآن کریم کی تلاوت کے ساتھ اسے سمجھنے اور اس سے مأنوس ہونے کی تاکید۔ اس لئے کہ یہ تمام انفرادی اور اجتماعی تکالیف سے نجات کا نسخہ ہے۔
ب: تقویٰ، دعا، مناجات، استغفار اور توبہ وغیرہ کی  قرآن اور احادیث خصوصاً نہج البلاغہ کی روشنی میں مکمل اور جامع تشریح۔
ج: مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کی زندگی کا تجزیہ و تحلیل۔ اس لئے کہ آپ شجاعت، تقویٰ، عدل وانصاف اور الٰہی حکمرانی کی مثال ہیں۔
ماہ رمضان میں رہبر انقلاب کا طرز زندگی
زیر نظرکتاب  کا اگر یہ مد نظر رکھ کر مطالعہ کیا جائے کہ آپ نے کون سی بات کب اور کن افرادسے کہی ہے تو اس سے  ماہ رمضان میں معظم لہ کے طرز زندگی کی کئی اہم باتیں سامنے آئیں گی جن میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ تلاوت قرآن کی نشستوں کا اہتمام
۲۔ ایمانی اور اخلاقی خودسازی پر زور
۳۔ مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے افراد؛ اساتذہ، طلبہ وغیرہ کی میزبانی، ان کی باتیں سننا اور ان سے گفتگو کرنا۔
۴۔ نماز جمعہ  کی امامت
۵۔ شب ہائے قدر اور امیرالمؤمنین ؑکی شہادت کےا یام کی جانب توجہ
۶۔عالم اسلام کے موجودہ حالات پر تبصرہ اور عالمی یوم قدس  کے جلوس میں شرکت کی تاکید
سب کچھ یہی نہیں
قرآن کریم، نہج البلاغہ، تاریخ اسلام، فلسطین، قدس نیز دعا وغیرہ سے متعلق رہبر معظم انقلاب کے جملہ بیانات کتاب ہذا میں  شامل نہیں کئے گئے ہیں۔کتاب کے ترتیب کار علی رضا مختارپور قہرودی کے بقول انہوں نے رہبر معظم کے فقط ماہ رمضان ہی کے بیانات میں سے کچھ بیانات  یا ان کے اقتباسات کا انتخاب کیا ہے۔تاہم اِنہی سارے موضوعات پر معظم لہ کی لاتعداد تقریریں موجود ہیں جنہیں یکجا کرنے کے لئے مستقل کئی کتابیں ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔

آخری بات یہ کہ کتاب ہذا  میں شامل کردہ بیانات میں تاریخی ترتیب کا خیال رکھا گیا ہے تاہم کسی خاص موضوع تک رسائی کے لئے فہرست موضوعات کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر