تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور 23 اپریل/ بحرین کے ایک ممتاز شیعہ عالم دین نے اس بات کےساتھ کہ آل خلیفہ  رژیم کےسامنے فلسطینی کاز کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہا ہے کہ بحرینی عوام  اپنے تمام جائز مطالبات پورے ہونے تک اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔

نیوزنور23اپریل/روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ مغربی ممالک شام کے شہر دوما میں کیمیائی حملے سے متعلق حقائق میں تحریف کر رہے ہیں۔

نیوزنور23اپریل/ٹوئٹر پرسعودی عرب کے  سرگرم  اور شاہی خاندان کے قریبی کارکن نےسعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شاہی محل میں کل رات ہونے والی فائرنگ کی اصل حقیقت سامنے لاتے ہوئے کہا ہے کہ فائرنگ کے واقعہ میں آل سعود کے بعض اعلٰی شہزادے ملوث ہیں ڈرون کو گرانے کا واقعہ سعودی حکومت کا ڈرامہ ہے فائرنگ کے واقعہ کے بعد سعودی بادشاہ اور ولیعہد شاہی محل سے فرار ہوگئے تھے۔

نیوزنور23اپریل/اسلامی مقاومتی محورحزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا ہےکہ اسرائيل کو لبنانیوں کے خلاف جارحیت سے روکنا ہمارا سب سے بڑا ہدف ہے ۔

نیوزنور23اپریل/مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے سیکرٹری جنرل نے کہا  ہے کہ امام حسینؑ نے ۱۴ سو سال قبل ان دہشتگردوں کو شکست دی جو دین اسلام کا لبادہ اوڑھ کر دین کو اپنی پسند نا پسند میں ڈھال رہے تھے۔

  فهرست  
   
     
 
    
امام حسین (ع) کے چہلم کے موقعے پر سب سے بڑے انسانی اجتماع کو دیکھ کر دنیا غرق حیرت

نیوزنور:کربلائے معلی میں پر امن طور پر امام حسین (علیہ السلام) کے چہلم کے عزاداروں کے کامیاب پروگرام کے بعد عراق کے وزیر اعظم نے زائرین کی واپسی کے کام میں آسانی پیدا کرنے کا مطالبہ کیا ،امن منصوبہ اگلے ۶ دن تک لاگو رہے گا ۔

اسلامی بیداری صارفین۳۸۱۰ : // تفصیل
کربلا میں ۶۰ ملکوں کے دو کروڑ افراد کا جم غفیر ، / مرجعیت عراق کی جانب سے اظہار قدر دانی :
امام حسین (ع) کے چہلم کے موقعے پر سب سے بڑے انسانی اجتماع کو دیکھ کر دنیا غرق حیرت
نیوزنور:کربلائے معلی میں پر امن طور پر امام حسین (علیہ السلام) کے چہلم کے عزاداروں کے کامیاب پروگرام کے بعد عراق کے وزیر اعظم نے زائرین کی واپسی کے کام میں آسانی پیدا کرنے کا مطالبہ کیا ،امن منصوبہ اگلے ۶ دن تک لاگو رہے گا ۔
عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ،اس سال امام حسین علیہ السلام کے چہلم کا پروگرام ،عراق کے اندر اور باہر سے آئے ہوئے ،دو کروڑ  سے زائدزائرین کی شرکت کے ساتھ کربلائے معلی میں امن و امان کے ساتھ منعقدہوا،کربلا میں چہلم کی عزاداری کا  اجتماع سب سے بڑا انسانی اجتماع ہے کہ عراق کی سابقہ حکومت کے گر جانے کے بعد  ہر سال جس کی عظمت اور شان و شوکت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔
 سر زمین عراق اور اس کے باہر کے لوگوں نے چہلم کے ۱۰ ،۱۲ دن پہلے سے مختلف علاقوں سے کربلا کی جانب پیادہ روی کا آغاز کر دیا تھا ۔جب کربلا کے ۷۰۰ ہوٹلوں اور مسافر خانوں میں لاکھوں زائرین کے ٹھہرنے کی جگہ نہ رہی تو لوگوں نے سڑکوں کے کنارے خیموں سے پورے علاقے کو چادر پوش کر دیا ،اور بہت سارے لوگوں کو عراق کے لوگوں نے اپنے گھروں میں ٹھہرایا ۔مختلف عزاداری کے دستوں کی موجودگی میں چہلم کا پروگرام بین الحرمین میں اور امام حسین  اور حضرت عباس علیہما السلام کے حرم میں منعقد ہوا عزاداروں نے ہرولہ کرتے ہوئے لبیک یا حسین کے نعرے بلند کیے اور ہاتھوں سے سر و سینہ پیٹا ۔
عزاداری کا پروگرام ختم ہوتے ہی زائرین کو وسایل نقلیہ فراہم کیے گئے تا کہ وہ کربلا سے نکل کر واپس اپنے اپنے شہروں اور ملکوں کی جانب روانہ ہوں ۔
حیدر العبادی نے چہلم کے دن ظہر سے پہلے ایک بیان منتشر کر کے ،لو گوں کا اور حفاظتی فوجوں کا امن و امان برقرار رکھنے پر شکریہ ادا کیا ،اور حکام سے مطالبہ کیا کہ وسایل نقلیہ اور دیگر سہولتیں فراہم کر کے لوگوں کی واپسی میں آسانی پیدا کریں ۔
امن منصوبہ ۶ دن تک باقی رہے گا ،
اگر چہ چہلم کے پروگرام کے خاتمے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عراق کی امنیت کا منصوبہ بھی اختتام پذیر ہو جائے گا ،اور زائرین پر د ہشت گردوں کے حملوں کا خطرہ اب بھی باقی ہے ،لہذا اس کے بعد بھی ایک ہفتے تک خاص امنیتی تدابیر پر عمل ہو تا رہے گا تا کہ پورے ملک میں کہیں بھی امن و امان میں خلل واقع نہ ہو ،اسی طرح عزاداروں کے خیل عظیم کا ایک دن میں کربلا سے نکلنا ممکن نہیں ہے ،لہذا زائرین رفتہ رفتہ اس شہر سے نکلیں گے ۔حکام کے بقول کہا جارہا ہے کہ کربلا سے زائرین کی واپسی کا سلسلہ ایک ہفتے تک چلتا رہے گا ۔
گذشتہ سال کے مقابلے میں زائرین کی تعداد میں اضافہ ،
 اس کے باوجود کہ اس سال کا چہلم کا پروگرام ایسی حالت میں منعقد ہوا ہے کہ جب دہشت گردتکفیریوں جیسے داعش نے سخت دھمکیا  دی تھیں ،لیکن گذشتہ سال کے مقابلے میں اس سال زائرین کی تعدادبڑھ کر دو کروڑ تک پہنچ گئی تھی کہ جو گذشتہ سال ایک کروڑ اسی لاکھ بتائی گئی تھی ۔
۶۰ ممالک کے زائرین کی شاندار شرکت ،
عراق کے وزیر دفاع خالد العبیدی نے کربلا کے مختلف علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد اعلان کیا :عراق سے باہر کے زائرین کی تعداد  چہلم کے دو دن پہلے تک کہ جو ۶۰ ملکوں سے آئے ہیں ۴۵ لاکھ تک پہنچ گئی تھی کہ جن میں زیادہ تر ایرانی ہیں ۔
کربلا میں ۶۰ ہزار بحرینیوں کا آل خلیفہ کو پیغام ،
عراق میں بیرونی زائرین کے درمیان دس لاکھ کی تعداد کے ساتھ ایرانی پہلے نمبر پر ہیں ،لیکن اس سال  ۶۰ ہزار بحرینی بھی کربلا کے زائرین کے ساتھ ملحق ہو گئے ہیں ۔۶۰ ہزار بحرینی بحرین کی کل تعداد میں سے کہ جو تقریبا دس لاکھ ہے  کہ جن میں ۳ لاکھ باہر کے ہیں کہ جو بحرینی شہریت رکھتے ہیں ،ایک بڑی تعداد شمار ہوتی ہے ۔ماہرین کے بقول چہلم کے پروگرام میں اتنی بڑی تعداد میں بحرینیوں کی موجودگی ،بحرین میں آل خلیفہ کی روز افزوں تشویش کا باعث بنے گی ۔
کربلائے معلی میں چہلم کا کامیاب امن منصوبہ ،
تکفیری گروہوں کے امن کے خلاف منصوبوں کی شکست اس سال کی چہلم کی زیارت  کا نمایاں پہلو تھا ۔ صوبہء کربلاء کے سیکیوریٹی کے حکام کے بقول دہشت گرد ،امام حسین ع اور ابو الفضل العباس کے حرم کے جوار میں لاکھوں عزادار زائرین کی صفوں کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہو پائے ۔
لشکر کے سردار ،قیس المحمداوی ،کہ جو فرات الاوسط کاروائیوں کے کمانڈر ہیں ،نے بغداد میں فارس نیوز ایجینسی کے نامہ نگار کے ساتھ ایک گفتگو میں کہا کہ اس سال کا چہلم کا پروگرام نہایت پر امن طور پر منعقد ہوا ۔ اس نے چہلم سے دو شب پہلے یعنی جمعرات کی رات کو دو ماٹر گولے داغے جانے کی جانب اشارہ کیا اور اس کو ایک معمولی حادثہ قرار دیا ۔
المحمداوی نے کہا : گذشتہ جمعرات کی رات کو میزایل داغے جانے کا حادثہ امن میں خلل اندازی شمار نہیں ہو تا  اس لیے کہ دشمن نے کربلا سے چالیس کیلو میٹر کے فاصلے سے صحرائی علاقوں میں وہ راکٹ داغا تھا اور گولیاں بھی شہر کربلا کے باہر لگی تھیں ۔
کار بمب دھماکہ کرنے میں دہشت گردوں کی ناکامی ،
اس نے مزید کہا :ہمارا دشمن انسانی اقدار کو معتبر نہیں مانتا اور اگر اس کو ایک اور موقعہ مل جاتا تو وہ مزید حملے بھی کرتا ،مثال کے طور پر وہ کربلا میں کار بمب دھماکے یا خود خش حملے کرواتا تاکہ زائروں کو نشانہ بنا سکے لیکن وہ اپنی ان سازشوں میں ناکام ہوا ہے ۔
قیس المحمداوی نے تاکید کی کہ دشمنوں نے کربلا کے مغرب میں صوبہء الانبار کی سرحد پر دور افتادہ صحرائی علاقے سے کہ جو حملے کی لائن سے باہر کا علاقہ شمار ہوتا ہے راکٹ چھوڑا تھا ۔ اس نے مزید کہا : ان واقعات کے بعد امن منصوبے میں اصلاحات کی گئیں ،اور ہم نے امن کے خلاء کو پر کرنے کے لیے ان علاقوں میں کہ جہاں سے  دہشت گردوں کے حملوں کا خطرہ تھا اضافی فوج لگا دی ۔
اسی حال میں لشکر کے سردار غانم الحسینی نے کہ جو کربلاء کی پولیس کا کمانڈر ہے فارس کے نامہ نگار کو بتایا ؛ امن منصوبہ پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت اچھی طرح آگے بڑھ رہا ہے ،اور دشمن اس امن کے حصار کو کہ جو شہر کربلا ،اور زائرین کی حفاظت کے لیے قائم کیا گیا ہے توڑنے میں کامیاب نہیں ہوا ہے ۔
اس نے مزید کہا : بزدل دشمن چہلم کے زائرین کی لاکھوں کی صفوں کو منتشر کرنے میں ناکام رہا ہے ،اور دہشت گردوں کی جمعرات کی رات کی میزایل داغنے کی کوشش کربلا کی سر حد کے باہر سے کی گئی اور یہ صرف ذرائع ابلاغ کی دکھاوے کی خاطر تھی جس سے پتہ چلتا ہے کہ چہلم کا خاص امن منصوبہ کامیاب ہوا ہے ۔
کربلائے معلی کے فرماندار ،عقیل الطریحی نے بھی اعلان کیا ہے کہ کربلا کے مغربی علاقوں کا امن برقرار رکھنے کے لیے مزید فوجیں بھیج دی گئی ہیں ۔
عراق میں امن کی تدبیریں چہلم کے چھ دن بعد تک جاری رہیں گی ،
کربلا کی پولیس کے سربراہ ، غانم الحسینی نے اعلان کیا ہے کہ چہلم کے دن زائرین کے لیے امن کی تدبیریں آیندہ ایک ہفتے تک جاری رہیں گی ۔
کربلا کی پولیس کے سر براہ کے بقول ،جب تک چہلم کے زائرین شہر کربلاء سے نکل نہیں جاتے امن کی تدبیریں جاری رہیں گی اور احتمالا یہ سلسلہ چہلم کے پانچ چھ دن بعد تک چلتا رہے گا ۔
تہران بلدیہ کے ۲ہزار کاریگروں کی کربلاےء معلی  میں زائرین کی خدمات کی انجام دہی ،
عراق کی بلدیہ کے امور کے وزیر نے اس امر کی جانب اشارہ  کرتے ہوئے کہ ہر روز ۵۰۰ میٹر مکعب  پینے کا پانی کربلا کے زائرین کو دیا گیا ،کہا ؛ بلدیہ کے ۱۲ ہزار  کاریگر کہ جن میں ایرانی بھی ہیں ،ان کے ذمے زائرین کی خدمت اور نظافت کا کام ہے ۔
اس نے مزید کہا ؛ کربلاء میں زائرین کی حیرت انگیز تعداد کے پیش نظر کربلائے معلی میں ایک کنٹرول روم بنایا گیا کہ جس کی سربراہی بلدیہ کے امور کی وزارت کے دفتر کے اعلی افسر کو سونپی گئی کہ جس کے تحت صوبہء کربلا اور دیگر صوبوں کے ۱۰ ہزار کاریگر اور تہران بلدیہ کے ۲ ہزار کاریگر زائرین کی خدمت میں مشغول ہیں ۔
عراق کی بلدیہ کے امور کے وزیر نے تاکید کی کہ کربلا کے پانی اور فاضل پانی  اور امور نظافت کے ادارے نے بھی شہر کربلاء میں جگہ جگہ زائرین کے لیے  سینیٹری کی سہولت فراہم کرنے کا انتظام کیا تھا ۔
عراق کے وزیر اعظم کی زائرین کے لیے امن کی فراہمی اور مناسب خدمات رسانی کی تاکید ،
حیدر العبادی نے آج ایک بیان نشر کر کے ،چہلم کی مناسبت سے امام حسین ع کے زائرین کو تعزیت پیش کرتے ہوئے ،پولیس کے ساتھ ان کے تعاون اور امن برقرار رکھنے والی فوجوں اور عراق کی پولیس کے ساتھ  چہلم کا مناسب امن قائم کرنے کے سلسلے میں تعاون کا  شکریہ ادا کیا ۔
عراق کے وزیر اعظم نے اس ملک کی مسلح  افواج اور سیکیورٹی کے افراد سے خطاب کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا کہ انتہائی احتیاط اور ہوشیاری سے کام لیں ،تاکہ دہشت گردوں کے منصوبے ناکام رہنے کے علاوہ زائرین کی جان کی بھی حفاظت ہو ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کربلاء سے زائرین کو دوسرے علاقوں کی جانب واپس بھیجنے کے لیے وسایل نقلیہ اور حکام کو تیار رہنے کا حکم دیا ۔
انہوں نے گذشتہ سوموار کے دن کربلا ء کے سفر میں نزدیک سے امام حسین ع کے چہلم کے زائرین کی میزبانی کا اس شہر کی تیاری کا مشاہدہ کیا ،ان کی آمد سے چند گھنٹے پہلے عراق  کے وزیر داخلہ نے بھی کربلا کا دورہ کیا تھا ۔
وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کی کربلا کے امن منصوبے پر مستقیم نظارت ،
وزیر دفاع اور وزیر داخلہ نے ایک امن بیٹھک میں  کہ جو جمعرات کے دن کربلا میں ہوئی امام حسین ع کے چہلم کے موقعے پر امن کے انتظامات کا جائزہ لیا ۔
عراق کے وزیر دفاع خالد العبیدی اور وزیر داخلہ محمد الغبان نے کربلاء میں امن کا انتظام کرنے والے کمانڈروں کی موجودگی میں ایک میٹینگ میں شرکت کی تا کہ امام حسین ع کے چہلم کے لیے کیے گئے خاص انتظامات کا نزدیک سے جائزہ لے سکیں عراق کا وزیر دفاع بدھوار کے دن سے کربلاء میں ہے ،اور وزیر داخلہ بھی سوموار کے دن سے اسی شہر میں ہے ۔
زائرین پر دہشت گردوں کے ناکام حملے ،
تکفیری دہشت گردوں کے تصور کے بر خلاف کربلائے معلی کے زائرین سے انتقام لینے کی ان کی کوششیں ناکام ہو گئیں اور عراق میں خاص امن انتظام کے چلتے وہ زائرین کے خیل عظیم کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے ،اور بغداد میں زائرین کربلاء کے راستے میں چند چھوٹے چھوٹے دھماکے کرنے کے علاوہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکے یہاں تک کہ کچھ دہشت گردانہ حملے وقت سے پہلے شناسائی کر کے ناکام بنا دیے گئے ۔
مثال کے طور پر جمعرات کے دن ،ایک کار بمب کے ذریعے کربلائے معلی کے زائرین کو نشانہ بنانے کی کوشش بغداد کے جنوب میں اللطیفیہ میں ناکام بنا دی گئی ، عراق کے سترہویں لشکر کے سیکیوریٹی کے افراد نے لطیفیہ میں ایک کاربمب دھاکے کو شناسائی کرکے ناکام کرنے میں کامیابی حاصل کی ۔لیکن چونکہ اس کو فورا ناکارہ کرنے کا امکان نہیں تھا لہذا اسے آبادی سے دور لے جا کر دھماکے سے اڑا دیا گیا ۔خبری ذرائع نے کربلاء کے علاقوں میں سات گراڈ میزایل داغے جانے کی بھی خبر دی تھی لیکن ان گرنیڈ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ،اور جیسا کہ  عراق کے سیکیوریٹی کے حکام نے اعلان کیا ؛ وہ میزایل جو کربلا کی جانب داغے گئے وہ صوبہء الانبار کی سر حد کے صحرائی علاقے سے چھوڑے گئے تھے اور ان میزایلوں کے لانچروں کو بھی پکڑ لیا گیا ۔
چہلم کا پروگرام منعقد کرنے والوں کی مرجعیت عراق کی جانب سے قدر دانی ،
مرجعیت عراق نے امام حسین علیہ السلام  کے چہلم کا پروگرام منعقد کرنے والے تمام افراد کی قدر دانی کی اور ان معنوی  رسموں سے پورا فائدہ  اٹھانے پر زور دیا۔
شیخ مھدی الکربلائی نے کربلائے معلی کی نماز جمعہ کے خطبوں میں زائروں کی بھاری تعداد کا استقبال کرنے کی مناسب توان نہ ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے امام حسین ع کے زائروں کی میزبانی میں پیش آنے والے ہرج و مرج کا مقابلہ کرنے کے لیے علمی منصوبہ بندی کرنے کا مطالبہ کیا ۔
انہوں نے اس پر بھی زور دیا کہ مسلح دہشت گردوں سے مقبوضہ علاقوں کو آزاد کرانے کے لیے  دقیق منصوبہ سازی کی جائے اور بیکار والی خوش
 



آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر