تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور21مئی/عراق میں الصادقون سیاسی تحریک کے ایک سرگرم کارکن نے اس بات پر انتباہ کیا ہے کہ ہمارے ملک میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مداخلت کا دعوی امریکہ کی ایک سازش ہے۔

نیوزنور21مئی/روس سے تعلق رکھنے والے ایک عیسائی راہب نے کہا ہے کہ  دنیا کے تمام مذہبی رہنماؤں من جملہ ویٹیکن کے پاپ کو چاہئے کہ مقبوضہ فلسطین میں ہونے والے قتل عام پر آواز بلند کریں۔

نیوزنور21مئی/تحریک انصاف پاکستان کے مرکزی رہنما نے کہا ہے کہ فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی اندھادھند فائرنگ سے ہزاروں افراد کی شہات عالمی برادری کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت اور امن کے علمبردار ممالک، این جی اوز کے منہ پرزوردار تھپڑ ہے۔

نیوزنور21مئی/حزب اللہ لبنان کی مرکزی کونسل کے رکن نے سعودی عرب کی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ملکر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف آشکارا اور پنہاں سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب میں حزب اللہ لبنان کو لبنانی حکومت میں شامل ہونے سے روکنے کی ہمت نہیں ہے۔

نیوزنور21مئی/ملائیشیائی اسلامی تنظیم کی مشاورتی کونسل کے صدر نے کہا ہے کہ فلسطین میں نہتے شہریوں پر صہیونی حکومت کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کو روکنا ہو گا۔

  فهرست  
   
     
 
    
کیا ممکن ہے کہ حضرت علی ع کا شیعہ وحدت کا قائل نہ ہو ؟!
ابولولو کے مقبرے کی داستان ایک اہلسنت محقق کی زبانی

نیوزنور: جب میں ایران واپس لوٹا تو میں نے اس واقعے کو ایک خط میں حضرت آقا[ولی فقیہ حضرت امام خامنہ ای] کی خدمت میں لکھ بھیجا ۔ آ پ نے حکم دیا کہ ابو لو لو کے مقبرے کو بند کر دیا جائے ۔الحمد للہ اس مقبرے کے بند ہو جانے کے بعد  ماحول بہتر ہو گیا۔

مسلکی رواداری صارفین۳۱۴۴ : // تفصیل

کیا ممکن  ہے کہ حضرت علی ع کا شیعہ وحدت کا قائل نہ ہو ؟!

ابولولو کے مقبرے کی داستان ایک اہلسنت محقق کی زبانی

محقق : سعید حسینی

نیوزنور: جب میں ایران واپس لوٹا تو میں نے اس واقعے کو ایک خط میں حضرت آقا[ولی فقیہ حضرت امام خامنہ ای] کی خدمت میں لکھ بھیجا ۔ آ پ نے حکم دیا کہ ابو لو لو کے مقبرے کو بند کر دیا جائے ۔الحمد للہ اس مقبرے کے بند ہو جانے کے بعد  ماحول بہتر ہو گیا۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق  ایران میں دائر  دانشگاہ ادیان و مذاہب [University of Religions and Denominations] سے وابستہ ادارہ دفترتقریب مذاہب(مسالک)اسلامی کی ویب سائيٹ پر سعید حسینی نے اپنا ایک مراسلہ شائع کیا ہے  ۔ اگرچہ مضمون مختصر ہے لیکن نکات عمدہ اور مفید  ہیں۔

سعید حسینی  لکھتے ہیں کہ:ہم مذاہب اسلامی یونیورسٹی[University of Religions and Denominations] میں درس پڑھتے تھے شیعہ اور سنی دونوں اس یونیورسٹی میں موجود تھے ۔چاہے وہ  استاد ہوں یا شاگرد ہوں میں فقہ حنفی، شافعی اور حنبلی کے سبجیکٹ میں قبول ہوا تھا  اور حقیقت میں تدریس صرف فقہ حنفی اور شافعی کی ہوتی تھی یہ مسئلہ باعث بنا کہ میرے اندر یہ سوچ جنم لے کہ میں دیکھوں کہ سنی کون لوگ ہیں اور وہ کیا کہتے ہیں وغیرہ ۔۔۔ حالانکہ اس سے پہلے اہل سنت کے بارے میں میرے ذہن میں ایک خاص تصویر تھی  کہ بعد میں جب میں نے ان سے رابطہ کیا تو میری سمجھ میں آیا کہ وہ  ابتدائی ذہنی تصویر اشتباہ تھی۔

ایک درس  میں ہم  مولوی اسحاق مدنی(ایران کے معروف اہلسنت عالم دین) کے شریک تھے اس کی یہ حالت تھی کہ جب اہل بیت علیہم السلام اور خاص کر امام حسین علیہ السلام کا نام آتا تھا تو ایک خاص خلوص اور پاکی کے ساتھ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے تھے ۔ یہ چیز باعث بنی کہ اہل سنت کا جو اہل بیت علیھم السلام کے تئیں نظریہ ہے کہ جس سے عام لوگ بے خبر ہیں ،وہ میری زندگی کا مشن بن گیا اور میں نے طے کر لیا کہ میں لوگوں کو اہل سنت کی جو اہل بیت علیھم السلام کے ساتھ محبت ہے اس سے  آگاہ کروں ۔

ایسا ہو نہیں سکتا کہ حضرت علی ع کا شیعہ اتحاد کا قایل نہ ہو !

 ہماری یونیورسٹی(دانشگاہ ادیان و مذاہب) میں بھی ایسے لوگ تھے کہ جو شدت پسند تھے ان میں سے بعض ایسی حالت میں کہ اہل سنت بھی یونیورسٹی میں موجود تھے ان کا اصرار تھا کہ ایام فاطمیہ میں ،حضرت فاطمہ زہراء علیھا السلام کی شہادت کا ذکر پلے کارڈوں میں کریں اور انہوں نے کیا بھی اہل سنت کے ایک اسٹو ڈنٹ نے پلے کارڈ کو پھاڑ دیا  اور حالات خراب ہو گئے ایک اسٹوڈنٹ نے ہم سب کو بسیج دانشجوئی میں اکٹھا کیا اور کہا : ہم ایسی یونیورسٹی میں پڑھ رہے ہیں کہ جو حضرت آقا [ولی امر مسلمین حضرت امام خامنہ ای]کے مشن کے لیے قائم ہوئی ہے اور ہمیں تقریب کی خاطر  چاہیے کہ اہل سنت کے عقاید اور مقدسات کا احترام کریں ۔آقا[امام خامنہ ای] کی نظر میں اتفاق سے امیر المومنین علیہ السلام کی ولایت تقریبی ہوئے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی حضرت علی علیہ السلام کی پیروی کا  دعوی رکھتا ہو اور اتحاد کا قایل نہ ہو ۔

جب سے ہم نے اہل سنت کے مقدسات کی رعایت کرنا شروع کی حالات الحمد للہ بہتر ہو گئے ۔

پھر اس کا دل شیعوں کے لیے نہیں پگھلتا !

آیت اللہ  شیخ محمد علی تسخیری ہماری یونیورسٹی[دانشگاہ ادیان و مذاہب] میں آئے تھے ۔وہ بتا رہے تھے کہ چند سال پہلے وہ وحدت اسلامی کانفرنس میں ملیشیاء گئے تھے مختلف ملکوں کے علمائے اسلام نے تقریریں کیں اور اس کے بعد شیعوں کے نمایندے کے طور پر مجھے تقریر کی دعوت دی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے  کہ میں تقریر کروں وہ ایک کلیپ دکھانا چاہتے ہیں ۔ کلیپ میں کاشان میں ابو لولو کا مقبرہ تھا اور ایک صاحب عمامہ طالب علم خلیفہء دوم کی توہین کر رہا ہے  ،دکھایا گیا تھا ۔یہ کلیپ انہوں نے دکھائی اور مجھ سے کہا کہ تسخیری صاحب بسم اللہ آپ منبر پر تشریف لے جائیں ! ماحول بہت بوجھل ہو گیا تھا ۔ میں منبر پر گیا اور میں نے کہا کہ انتہا پسندی دونوں طرف موجود ہے میں بھی آپ کو ایسی کلیپ  دکھا سکتا ہوں کہ جس میں شیعہ مسلمانوں سر قلم کیا جا رہا ہے ۔۔

اس واقعے کے بعد میرا یہ مشن بن گیا کہ کیوں جمہوری اسلامی ایران میں ایسے واقعات رونما ہوں ؟ جب میں ایران واپس لوٹا تو میں نے اس واقعے کو ایک خط میں حضرت آقا[ولی فقیہ حضرت امام خامنہ ای] کی خدمت میں لکھ بھیجا ۔ آ پ نے حکم دیا کہ ابو لو لو کے مقبرے کو بند کر دیا جائے ۔الحمدللہ اس مقبرے کے بند ہو جانے کے بعد  ماحول بہتر ہو گیا۔ لیکن جس نے بھی یہ کلیپ دیکھی ہو گی میری اور مجھ جیسوں کی باتوں سے اس کا دل شیعوں کے لیے نہیں پسیجے گا !بد قسمتی  سےیہ وہ نقصان ہے کہ جو ہم اپنے مسلک والوں کے تقریبی نہ ہونے کی وجہ سے بر داشت کر رہے ہیں ۔

 مگر می شود شیعه علی«ع» قائل به وحدت نباشد؟!




سرویس عکس:


ابولولو کے مقبرے کی داستان ایک اہلسنت محقق کی زبانی  1
نظرات داده شده
S. Farrukh Raza
We need to preach true picture of Maktab e AHLUL BAIT (AS) so that the ignorant world could learn what is true ISLAM.For this purpose we need to remove all hurdles in way.
Arshad hussain
too good
آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر