تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور:ایرانی صدر کے معاون نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عالمی سطح پر غیر مہذبانہ رفتار امریکہ کے لئے شرم آور ہے جو دنیا میں سپر پاور ہونے کا مدعی ہے سعودی عرب ام الفساد اور دہشت گردی کے فروغ کا اصلی مرکز ہے جسے امریکی سرپرستی حاصل ہے۔

نیوزنور:روس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی سربراہی والا اتحاد دہشت گرد گروہ جبھۃ النصرہ کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

نیوزنور:بحرین کی تنظیم برائے انسانی حقوق کے صدر نے کہا ہے کہ آل خلیفہ کے ظلم وستم اور اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود بحرین میں انسانی حقوق کا کام بند نہیں کریں گے۔

نیوزنور:ایک امریکی روزنامے نے لکھا ہے کہ وائٹ ہاوس ایران پر حملہ کرنے کا بہانہ تلاش رہا ہے حالانکہ ٹرمپ کو ایرانی تاریخ سے عبرت حاصل کرنا چاہئے۔

نیوزنور:فلپائن کے صدرنے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکا کے دورے کی دعوت مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کبھی بھی امریکا نہیں جائیں گے۔

  فهرست  
   
     
 
    
امام خامنہ ای :
اسلام کی بقا پر امام حسن مجتبی علیہ السلام کا عظیم حق

نیوزنور:اگر امام حسن مجتبی علیہ السلام معاویہ کے ساتھ جنگ کو جاری رکھتے اور یہ جنگ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کی شہادت پر منتہی ہوتی ،تو امام حسین علیہ السلام اسی جنگ میں شہید ہو جاتے ۔حجر بن عدی جیسے لوگ بھی شہید ہو جاتے سب مٹ جاتے اور کوئی ایسا نہ ہوتا کہ جو رہے اور مواقع سے فائدہ اٹھائے اور اسلام کو اس کی اقداری صورت میں پھر سے محفوظ رکھے ۔پس یہ عظیم حق ہے کہ جو امام حسن مجتبی علیہ السلام کا بقائے اسلام پر ہے ۔

اسلامی بیداری صارفین۱۴۱۶ : // تفصیل

ولی امر مسلمین حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای مدظلہ العالی:

اسلام کی بقا پر امام حسن مجتبی علیہ السلام کا عظیم حق

نیوزنور:اگر امام حسن مجتبی علیہ السلام معاویہ کے ساتھ جنگ کو جاری رکھتے اور یہ جنگ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کی شہادت پر منتہی ہوتی ،تو امام حسین علیہ السلام اسی جنگ میں شہید ہو جاتے ۔حجر بن عدی جیسے لوگ بھی شہید ہو جاتے سب مٹ جاتے اور کوئی ایسا نہ ہوتا کہ جو رہے اور مواقع سے فائدہ اٹھائے اور اسلام کو اس کی اقداری صورت میں پھر سے محفوظ رکھے ۔پس یہ عظیم حق ہے کہ جو امام حسن مجتبی علیہ السلام کا بقائے اسلام پر ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ولی امر مسلمین حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای مدظلہ العالی نے 15 رمضان المبارک 1410 ہجری مطابق 11 اپریل 1990 کو امام المومنین وارث المرسلین و حجت رب العالمین حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام کی ولادت کی مناسبت سے آنحضرت کا معاویہ کے ساتھ صلح کے موضوع پرایک بلیغ و جامع خطبہ ارشاد فرمایا تھا اور آج نیوزنور نے اپنے قارئین کے لئے اسکے ترجمے کا اہتما م کیا ہے :

بسم‌اللَّه‌الرّحمن‌الرّحیم‌ الحمدللَّه ربّ العالمین و الصّلاة و السّلام علی سیّدنا و نبیّنا ابی‌القاسم محمّد و علی اله الاطیبین الاطهرین المنتجبین سیّما بقیةاللَّه فی الارضین‌

آج ماہ رمضان البارک کی پندرہ تاریخ اور امام مجتبی علیہ السلام کی ولادت کا دن ہے ۔ہماری مجلس میں ہر سال کا معمول یہ ہے کہ آج کے دن میں امام مجتبی علیہ السلام کے بارے میں اور غالبا صلح کے مسئلے کے بارے میں بیان کرتا ہوں ۔میں نے بھی اس مسئلے کے بارے میں بار ہا منجملہ ان ہی محفلوں میں بات کی ہے اور اس عجیب اور عظیم واقعے کے گونا گوں پہلووں کے بارے میں جائزہ لیا ہے اگر ہم اس سال گذشتہ سال کی باتوں کو نہ دوہرائیں تو اچھا ہو گا ۔بہتر ہو گا کہ جتنی وقت میں گنجائش ہے اس کے حساب سے اس مسئلے کے ایک نئے پہلو کا جائزہ لیں ۔

ا  مام مجتبی علیہ الصلاۃ و السلام کا دور اور آنحضرت کی صلح کا واقعہ کہ جو معاویہ کے ساتھ آپ کو کرنا پڑی تھی یا وہ کاروائی کہ جس کا نام صلح رکھا گیا صدر اول کے پورے اسلامی انقلاب میں ایک بے نظیر اور تاریخ ساز واقعہ تھا ۔ اس کے بعد اس طرح کا واقعہ پیش نہیں آیا ۔ اس جملے کے سلسلے میں مختصر سی وضاحت کر دوں  اور اس کے بعد اصل مطلب کو شروع کرتا ہوں اسلام کا انقلاب یعنی اسلام کی شکل میں تفکر اور امانت کہ جسے خدا وند متعال نے اسلام کے نام سے لوگوں کے لئے بھیجا تھا ،پہلے دور میں ایک تحریک اور ایک حرکت تھی اور اس نےایک مبارزے اور ایک عظیم انقلابی تحریک کے قالب میں خود کو ظاہر کیا اور ایسا اس وقت ہوا کہ جب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس فکر کا مکہ میں اعلان کیااور تفکر توحید اور اسلام کے دشمن اس کے مقابلے پر کھڑے ہو گئے تا کہ اس فکر اور سوچ کو پنپنے نہ دیں ۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مومن افراد سے مدد لے کر اس تحریک کو منظم کیا اور مکہ میں ایک انتہائی عاقلانہ ،قوی اور آگے بڑھنے والا جہاد شروع کر دیا ۔اس تحریک اور جہاد کا سلسلہ ۱۳ سال تک چلتا رہا ۔یہ پہلا دور تھا ۔

۱۳ سال کے بعد پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے ذریعے اور ا ن نعروں کے ذریعے جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلند کیے اور اس تنظیم سازی کے صدقے میں جو آپ نے کی اور اس راہ میں جو فداکاری کی گئی ، ان سارے اسباب کے ذریعے کہ جو موجود تھے یہ عقیدہ ایک حکومت اور ایک نظام میں تبدیل ہو گیا اور ایک سیاسی نظام اور ایک امت کے نظام حیات میں تبدیل ہو گیا اور یہ اس وقت ہوا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینے تشریف لائے اور اس جگہ کو اپنا مرکز قرار دیا اور وہاں پر اسلامی حکومت کو پھیلایا  اور اسلام ایک تحریک سے نکل کر ایک حکومت کی صورت میں تبدیل ہو گیا یہ دوسرا دور تھا ۔

یہ سلسلہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی میں دس سال تک اور آنحضرت کے بعد چار خلفاء کے دور میں اور اس کے بعد امام مجتبی علیہ السلام کے دور تک اور آنحضرت کی خلافت تک کہ جو تقریبا چھ ماہ تک چلی چلتا رہا اور اسلام ایک حکومت کی شکل میں ظاہر ہو گیا ۔ ہر چیز ایک اجتماعی نظام کی صورت میں ڈھل گئی ،یعنی حکومت ،فوج ،سیاسی کام ،ثقافتی کام ، عدلیہ کا کام ، اور لوگوں کے درمیا ن اقتصادی روابط وغیرہ سب کچھ تھا اور اس کے اندر آگے بڑھنے کی قابلیت پیدا ہو گئی اور اگر اسی صورت میں آگے بڑھتا رہتا تو تمام روئ زمین پر چھا جاتا یعنی اسلام نے یہ بتا دیا کہ اس کے اندر یہ قابلیت پائی جاتی ہے ۔

امام حسن علیہ السلام کے دور میں مخالف گروہ نے اتنی جان پکڑ لی تھی کہ ایک رکاوٹ کی صورت میں ظاہر ہونے میں کامیاب ہو گیا ۔ البتہ یہ مخالف گروہ امام مجتبی علیہ السلام کے زمانے میں پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ کئی سال پہلے پیدا ہو چکا تھا اگر کوئی اعتقاد کا لحاظ کیے بغیر اور صرف تاریخی شواہد کی روشنی میں بات کرنا چاہے تو وہ یہ دعوی کر سکتا ہے کہ یہ گروہ یہاں تک کہ اسلام کے دور میں بھی پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ یہ اسی سلسلے کی کڑی تھی کہ جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تحریک کے دور میں مکہ میں موجود تھا ۔

خلافت کے عثمان کے ہاتھ میں آ جانے کے بعد کہ جن کا تعلق بنی امیہ سے تھا،خلافت اس قوم کے ہتھے چڑھ گئی  ابو سفیان کہ جو اس وقت نابینا ہو چکا تھا ایک دن وہ اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ،کہ اس نے پوچھا : اس وقت یہاں کون کون لوگ بیٹھے ہیں ؟ جواب ملا کہ فلاں فلاں اور فلاں ۔جب اس کو اطمئنان ہو گیا کہ سب اپنے ہیں اور کوئی غیر اس بیٹھک میں موجود نہیں ہے تو ان سے خطاب کر کے بولا : " تلقّفنّها تلقّف الکرة"(1) یعنی حکومت کو تم گیند کی طرح ایک دوسرے کو پاس دو اور اس کو اپنے ہاتھ سے نہ نکلنے دو !اس واقعے کو شیعہ اور سنی دونوں تاریخوں نے نقل کیا ہے ۔یہ اعتقادی مسائل نہیں ہیں اور ہم اعتقادی نقطہ نظر سے بات نہیں کر رہے ہیں ۔یعنی میں پسند نہیں کرتا کہ مسائل کا اعتقادی نقطہ نظر سے جائزہ لوں ۔بلکہ میں صرف اس کا تاریخی پہلو پیش کر رہا ہوں ۔البتہ ابو سفیان اس وقت مسلمان تھا اور اسلام لا چکا تھا ،لیکن اس کا اسلام فتح کے بعد یا فتح کے نزدیک تھا ، غربت اور کمزوری کے زمانے کا اسلام نہیں تھا ،وہ اسلام کی طاقت کے بعد کا اسلام تھا ۔یہ گروہ امام حسن مجتبی کے دور میں اپنی طاقت کے عروج پر پہنچ چکا تھا ۔اور یہ وہی گروہ تھا کہ جو معاویہ بن ابو سفیان کی سرکردگی میں امام حسن علیہ السلام کے مقابلے پر ظاہر ہوا تھا ۔ اس گروہ نے مخالفت کا آغاز کر دیا ۔ اس نے حکومت اسلامی یعنی اسلام بصورت حکومت کا راستہ کاٹ دیا تھا اور اس کو مشکلات سے دوچار کر دیا تھا یہاں تک کہ عملی طور اسلامی حکومت کی  پیشروی کی راہ میں رکاوٹ بن گیا ۔

امام حسن علیہ السلام کی صلح کے باب میں میں نے اس بات کو بارہا کہا ہے کہ اور کتابوں میں بھی علماء نے اس کو لکھا ہے کہ کوئی بھی شخص یہاں تک کہ خود امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام بھی اگر امام حسن مجتبی علیہ السلام کی جگہ ہوتے اور ان حالات کے رو برو ہوتے تو جو کام امام حسن علیہ السلام نے کیا تھا اس کے علاوہ کوئی دورا کام ان کے لیے ممکن نہ تھا ۔ کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ امام حسن علیہ السلام کے کام کے فلاں پہلو پر اعتراض ہے ۔نہیں آنحضرت کا کام نا قابل انکار منطقی استدلال کے مطابق تھا ۔

آل رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے درمیان سب سے زیادہ ولولہ انگیز ترین شخصیت کون ہے ؟ سب سے زیادہ شہادت آمیز زندگی کس شخص کی تھی ؟ دشمن کے مقابلے میں دین کی حفاظت کے سلسلے میں ان سب سے زیادہ غیرت مند کون شخص تھا ؟ سبھی کہیں گے کہ حسین ابن علی علیہ السلام تھے ۔ اور وہ امام حسن علیہ السلام کی صلح میں آپ کے شریک کار تھے ۔ صلح صرف امام حسن علیہ السلام نے نہیں کی بلکہ امام حسن اور امام حسین دونوں نے یہ کام کیا ۔ لیکن امام حسن علیہ السلام آگے تھے اور امام حسین علیہ السلام ان کے پیچھے تھے ۔ امام حسین علیہ السلام صلح امام حسن علیہ السلام کا دفاع کرنے والوں میں ایک آیڈیل اور مثالی شخصیت تھے ۔جب ایک خصوصی مجلس میں اس پر جوش ترین اور پر انقلاب ترین اقدام کے سلسلے میں ایک نزدیکی دوست نے امام حسن علیہ السلام پر اعتراض کیا تو امام حسین علیہ السلام اس سے بھڑ گئے : " فغمز الحسین فی وجه حجر" (2) کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اگر امام حسین علیہ السلام امام حسن کی جگہ ہوتے تو یہ صلح انجام نہ پاتی ۔ نہیں ، امام حسین علیہ السلام امام حسن علیہ السلام کے ساتھ تھے جب یہ صلح انجام پائی اور اگر امام حسن علیہ السلام نہ ہوتے اور امام حسین علیہ السلام تنہا ہوتے تو ان حالت میں پھر بھی یہی کام ہوتا اور صلح انجام پاتی ۔

صلح کے اپنے اسباب تھے ، اور اس سے فرا رکی کوئی راہ نہیں تھی ۔ اس زمانے میں شہادت ممکن نہ تھی ۔مرحوم شیخ راضی آل یاسین (رضوان اللہ تعالی علیہ )  اس کتاب صلح الحسن میں کہ جس کا ۲۰ سال پہلے میں نے ترجمہ کیا تھا اور چھپ چکی ہے ثابت کرتے ہیں کہ اصلا وہ وقت شہادت کا نہیں تھا ہر مارا جانا شہادت نہیں ہوتا ۔ شرائط کے ساتھ مارا جانا شہادت ہو تا ہے ۔وہ شرائط وہاں نہیں تھے ۔اور اگر امام حسن علیہ السلام اس دور میں مارے جاتے تو شہید نہ ہوتے ۔ممکن نہیں تھا کہ ان حالات میں کوئی مصلحت آمیز حرکت انجام دیتے اور مارےجاتے اور اس کا نام شہادت رکھا جاتا ،اور وہ خود کشی نہ ہوتی ۔

صلح کو قبول کرنے کے بعد امام حسن علیہ السلام کا کارنامہ

صلح کے بارے میں میں نے مختلف پہلوں سے بات کی ہے ،لیکن اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ صلح امام حسن علیہ السلام  کے بعد کام کو اتنی ہوشیاری اور باریک بینی کے ساتھ منظم کیا گیا کہ اسلام اور اسلامی گروہ ،خلافت کے نام کی آلودہ دلدل میں کہ جو حقیقت میں سلطنت تھی نہ پھنس جائے  ۔یہ امام حسن مجتبی علیہ السلام کا کار نامہ تھا ۔امام حسن مجتبی علیہ السلام  نے وہ کام کیا کہ اسلام کی اصلی تحریک کہ جو مکہ سے شروع ہوئی تھی اور حکومت اسلامی تک اور امیر المومنین  علی ابن ابیطالب علیہ السلام کے دور تک اور خود ان کے دور تک پہنچی تھی ،دوسرے راستے پر نہ چل پڑے ۔لیکن اگر حکومت کی صورت میں ممکن نہ ہو تو کم سے تحریک کی صورت میں آگے بڑھے اس لیے کہ حکومت کی صورت میں ممکن نہ تھا ۔ یہ اسلام کا تیسرا دور ہے ۔

اسلام دوبارہ ایک تحریک بن گیا،خالص اسلام ، اصیل اسلام ،ظلم سے لڑنے والا اسلام ، سازش قبول نہ کرنے والا اسلام ، تحریف سے دور اور مبرا اسلام ، اس سے کہ وہ خواہشات اور لالچ کا بازیچہ بننے سے بچنے والا اسلام ؛ لیکن وہ ایک تحریک کی شکل میں باقی رہا ، یعنی امام حسن علیہ الصلاۃ و السلام  کے زمانے میں اسلام کا انقلابی تفکر کہ جس نے ایک دور کو پیچھے چھوڑا تھا اور حکومت اور قدرت تک پہنچ چکا تھا  وہ دوبارہ پلٹ کر ایک تحریک میں تبدیل ہو گیا ۔البتہ اس دور میں اس تحریک کا کام خود پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور سے زیادہ مشکل تھا اس لیے کہ نعرے ایسے لوگوں کے ہاتھ میں تھے کہ جنہوں نے مذہب کا لباس پہن رکھا تھا جب کہ وہ مذہبی نہیں تھے آئمہ ھدی علیھم السلام کے کام کی مشکل یہ چیز تھی ۔

آئمہ علیھم السلام چاہتے تھے کہ تحریک پھر سے اصل اسلامی انقلاب میں تبدیل ہو جائے  

البتہ میں نے بعض روایات اور آئمہ علیھم السلام کی زندگی سے یہ استنباط کیا ہے کہ یہ حضرات امام حسن مجتبی علیہ الصلاۃ والسلام کی صلح کے دن سے لے کر آخر تک ہمیشہ اس کوشش میں تھے کہ اس تحریک کو نئے سرے سے علوی اور اسلامی حکومت میں تبدیل کر سکیں اور اسے قائم کر سکیں ۔ اس سلسلے میں روایات بھی موجود ہیں ،البتہ ممکن ہے کچ دیگر افراد اس چیز کو اس طرح نہ دیکھیں بلکہ دوسری طرح دیکھیں ۔ لیکن میری تشخیص یہ ہے ،کہ آئمہ علیھم السلام چاہتے تھے کہ تحریک پھر سے اصلی اسلامی انقلاب میں تبدیل ہو اور اسلامی انقلاب کہ جو نفسانی خواہشات کی  آلودگیوں سے آلودہ ہونے سے دور ہے وہ برسر اقتدار آئے لیکن یہ کام مشکل کام ہے ۔

مروانی ،سفیانی اور عباسی خلفاء کے دور میں لوگوں کی اہم ترین ضرورت

تحریک کے دوسرے دور میں یعنی سفیانی ،مروانی اور عباسی خلفاء کی خلافت کے دور میں اہم ترین چیز کہ جس کی لوگوں کو ضرورت تھی کہ وہ اسلامی حقائق کو اور اصلی اور قرآنی اسلام کی کرنوں کو مختلف اور طرح طرح کی باتوں کے درمیان دیکھیں اور پہچانیں اور غلطی نہ کریں ۔بلا وجہ نہیں ہے کہ ادیان نے تعقل اور تدبر پر اس قدر زور دیا ہے ۔بلا وجہ نہیں ہے کہ قرآن کریم میں انسانوں کے تعقل ،تفکر اور تدبر پر اس قدر زور دیا گیا ہے وہ بھی دین کے اصلی ترین موضوعات یعنی توحید کے بارے میں ۔

توحید صرف یہ نہیں ہے کہ ہم یہ کہیں کہ خدا ہے اور وہ بھی ایک ہے دو نہیں ہیں یہ توحید کی ظاہری شکل ہے ۔توحید کا باطن ایک ناپیدا کنار سمندر ہے کہ خدا کے اولیاء جس میں ڈوب جاتے ہیں ۔توحید ایک بہت ہی عظیم وادی ہے لیکن اس عظیم وادی میں مومنین ،مسلمین اور موحدین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ تعقل ،تفکر اور تدبر پر اعتماد کرتے ہوئے آگے بڑھیں حقیقت میں عقل اور تفکر ہی انسان کو آگے بڑھا سکتے ہیں البتہ مختلف مراحل میں عقل کو نور وحی اور نور معرفت اور اولیائے خدا کی تعلیمات کی غذا اور مدد ملتی ہے لیکن آخر کار جو چیز آگے بڑھتی ہے وہ عقل ہے عقل کے بغیر کہیں بھی نہیں پہنچا جا سکتا ۔

ملت اسلامی پورے چند صد سالہ دور میں کہ جب خلافت نام کی ایک چیز اس پر حکومت کر رہی تھی یعنی ساتویں صدی تک کہ جب عباسی خلافت باقی تھی (البتہ عباسی خلافت کے ختم ہونے کے بعد بھی ادھر ادھر خلافت نام کی چیزیں موجود تھیں جیسے مصر میں ممالیک کا دور اور اس کے کچھ عرصے بعد تک بلاد عثمانی اور دوسرے مقامات پر ) وہ چیز کہ جسے لوگ سمجھنا چاہتے تھے وہ یہ تھی کہ وہ عقل کو قاضی بنائیں تا کہ یہ جان سکیں کہ کیا اسلام قرآن اور کتاب الہی اور مسلمہ احادیث کی نظر صاحبان امر کے بارے میں موجودہ حقائق کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے کہ نہیں یہ چیز بہت اہمیت کی حامل ہے ۔

میری نظر میں آج بھی مسلمانوں کے اندر اسی چیز کی کمی ہے ۔آج اسلامی سماج اور وہ لوگ جو یہ گمان کرتے ہیں کہ ان حکومتوں کے اندر کہ جو آج دنیا میں اسلام کے نام سے موجود ہیں وہ اسلام کی پابند ہیں کہ نہیں بہت سارے علماء اور متدینین کی طرح بہت سارے عوام کی طرح  ، مقدسوں اور غیر مقدسوں کی طرح ۔ البتہ ان سے کوئی مطلب نہیں کہ جو لا ابالی ہیں اور دین کی حاکمیت کے بارے میں نہیں سوچتے اور اپنے آپ کو کسی چیز کا پابند نہیں مانتے اور وہ اس وقت اس بحث میں شامل نہیں ہیں ۔ اگر یہ لوگ صرف فکر کریں اور دیکھیں کہ کیا وہ نظام کہ جس کا اسلام نے مطالبہ کیا ہے کیا وہ مدیریت کہ جو اسلام نظام اسلامی کے لیے چاہتا ہے ۔کہ یہ دوسری چیز زیادہ آسان ہے ۔ اس چیز کے ساتھ کہ جس سے وہ اس وقت رو برو ہیں تطبیق کر رہی ہے یا نہیں تو ان کے لیے مسئلہ روشن ہو جائے گا ۔

طاغوت کی خلافت کے دور کی خصوصیات

مروانی ،سفیانی اور عباسی خلافت کا دور وہ دور تھا کہ جب اسلامی قدریں اپنی اصلی حقیقت سے خالی ہو چکی تھیں ،صرف صورتیں باقی رہ گئی تھیں لیکن حقائق جاہلی اور شیطانی چیزوں میں تبدیل ہو چکے تھے ،وہ مرکز کہ جو یہ چاہتا تھا کہ انسانوں کو عاقل ،پابند ، مومن ، آزاد ،آلائشوں سے دور ،خدا کے حضور میں خاضع اور متکبروں کے سامنے متکبر تربیت کرے ،وہ سب سے اچھا مرکز پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں اسلامی مدیریت کا مرکز تھا وہ ایسے مرکز میں تبدیل ہو گیا کہ جو انسانوں کو طرح طرح کی تدبیروں سے ،دنیا ، ہوا و ہوس اور شہوات کا غلام  ،چاپلوس ،معنویات سے دور ، بغیر شخصیت کے انسان،اور فاسق و فاجر بناتا تھا ٍاور ان کی تربیت کرتا تھا بد قسمتی سے اموی اور عباسی خلافت کا پورا دور اسی طرح کا تھا ۔

تاریخ کی کتابوں میں کچھ چیزیں لکھی ہیں کہ میں اگر ان کو بتا نا چاہوں تو بات بہت لمبی ہو جائے گی ۔سلسلہ معاویہ کے زمانے سے شروع ہوا ، معاویہ کے بارے میں مشہور کیا  یعنی مورخین نے لکھا کہ وہ بردبار اور  با ظرف آدمی تھا اور مخالفین کو اجازت دیتا تھا کہ وہ اپنی بات کہیں اور جو کہنا چاہتے ہیں وہ کہیں ۔البتہ کچھ وقت تک اور اپنے دور کے آغاز میں وہ  شاید ایسا رہا ہو لیکن اس کی شخصیت کے اس پہلو کے ساتھ دوسرے پہلووں کی جانب بہت کم توجہ دی گئی ہے : یہ کہ وہ کس طرح افراد ار رجال اور شخصیات کو مجبور کرتا تھا کہ اپنے ایمان سے دست بردار ہو جائیں اور یہاں تک کہ حق کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو جائیں ۔ان چیزوں کو بہت ساروں نے نہیں لکھا ہے ۔ لیکن پھر بھی تاریخ میں موجود ہیں اور یہی چیزیں کہ جن کو ہم جانتے ہیں ان کو کچھ لوگوں نے لکھا ہے ۔

جو لوگ اس کے دربار میں تربیت پاتے تھے  ان کو عادی بنایا جاتا تھا کہ خلیفہ کی مرضی کے خلاف کوئی بات نہ کریں ۔یہ کیسا سماج ہے ؟! یہ کیسا انسان ہے ؟! اور یہ کیسا اسلامی اور الہی ارادہ انسانوں کے اندر ہے کہ مفاسد کو اصلاح بنا کر پیش کرنا چاہتے ہیں اور سماج کو نابود کرنا چاہتے ہیں اور خدا کے بغیر سماج بنانا چاہتے ہیں ؟! کیا ایسی چیز ممکن ہے ؟

طاغوتی حکومتوں کے افراد کی ایک خصوصیت چاپلوسی

جاحظ یا شاید ابوالفرج اصفہانی نے نقل کیا ہے کہ معاویہ اپنی خلافت کے دور میں گھوڑے پر سوار ہو کر مکہ جاتا تھا ۔اس دور کا ایک شخص بھی اس کے ساتھ تھا ۔ معاویہ اس شخص کے ساتھ بات کرنے میں مصروف تھا ۔ا ن کے پیچھے بھی کچھ لوگ آ رہے تھے ۔معاویہ اپنے جاہلی اموی مفاخر کو بیان کر رہا تھا کہ جاہلیت میں یہاں ایسا تھا ویسا تھا میرے باپ ابو سفیان نے یہ کیا وہ کیا ۔ بچے راستے میں کھیل رہے تھے اور ظاہرا پتھر پھینک رہے تھے ایک پتھر معاویہ کے ساتھ چلنے والے ایک شخص کی پیشانی پر لگا اور خون جاری ہو گیا ۔اس نے کچھ نہیں کہا اور معاویہ کی بات نہیں کاٹی اور برداشت کیا ۔ خون اس کے چہرے اور داڑھی پر بہنے لگا معاویہ اسی طرح سر گرم گفتگو تھا کہ اچانک اس شخص کی طرف مڑا اور دیکھا کہ اس شخص کے چہرے پر خون ہے ۔کہا : تیری پیشانی سے خون بہہ رہا ہے اس شخص نے معاویہ کے جواب میں کہا ؛ خون ؟! اور میرے چہرے سے ؟! کیسے ؟ کہاں ؟ اس نے یہ ظاہر کیا کہ وہ اس قدر اس کی باتوں میں مجذوب تھا کہ اس کو پتھر لگنے اور پیشانی سے خون بہنے کا اور زخمی ہونے کا پتہ ہی نہیں چلا ! معاویہ نے کہا : تعجب ہے پتھر تیری پیشانی پر لگا ہے لیکن تجھے پتہ ہی نہیں چلا ؟۱ کہا : نہیں مجھے کچھ پتہ نہیں چلا اس نے ہاتھ مارا اور کہا : عجیب ہے خو ن ہے ؟  اس کے بعد اس نے معاویہ کی جان کی یا مقدسات کی قسم کھائی کہ جب تک آپ نے نہیں بتایا آپ کے کلام کی مٹھاس نے پتہ ہی نہیں لگنے دیا کہ خون بہہ رہا ہے ! معاویہ نے پوچھا : بیت المال میں تمہارا حصہ کتنا ہے ؟ اس نے کہا مثال کے طور اتنا ہے ؛ معاویہ نے کہا تجھ پر ظلم ہوا ہے ،اس کو تین گنا ہونا چاہیے یہ تھی معاویہ کی حکومت پر حکمران تہذیب ۔

جو لوگ اس دور میں روئساء اور خلفاء کی چاپلوسی کرتے تھے ،ان کے ہاتھ کھلے تھے ۔ کام لیاقت اور صلاحیت کی بنیاد پر نہیں دیے جاتے تھے ۔بنیادی طور پر عرب اصل و نسب کو بہت اہمیت دیتے ہیں ۔فلاں کس خاندان سے ہے ؟اس کے باپ دادا کون لوگ تھے ؟ لیکن یہ اصل و نسب کا لحاظ بھی نہیں کرتے تھے ۔خالد بن عبد اللہ قصری کہ جو عبد الملک کے زمانے میں ایک مدت تک کوفے اور عراق کا حاکم تھا اور بہت ظلم کرتا تھا اور نا جائز فائدہ اٹھاتا تھا کتابوں میں لکھا ہے کہ وہ بے سر و پا انسان تھا اور وہ ایسا نہیں تھا کہ اس کو اس کے نسب کی بنا پر اس کام پر رکھا گیا ہو لیکن فقط چونکہ نزدیکی تھا لہذا اس پوسٹ پر پہنچا تھا ۔

کہتے تھے خلافت نبوت سے بڑھ کر ہے !

خالد ابن عبد اللہ قصری کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ ایسا شخص تھا جو یہ کہتا تھا کہ خلافت نبوت سے بڑھ کر ہے" کان یفضل الخلافة علی النّبوّة" وہ دلیل بھی پیش کرتا تھا اور کہتا تھا ۔جب آپ سفر پر جاتے ہیں تو کسی کو اپنا خلیفہ یا جانشین بنا کر جاتے ہیں تا کہ آپ کے گھر کے اور دکان کے کاموں کو انجام دے ؛ یہ خلیفہ ہے ۔ اس کے بعد جب آپ سفر پر چلے جاتے ہیں تو خط بھیجتے ہیں اور ایک شخص کے ذریعے پیغام دیتے ہیں ۔ وہ رسول ہے اب ان میں سے کون بڑا ہے ؟ کون آپ سے زیادہ نزدیک ہے ؟ وہ شخص کہ جس کو آپ نے اپنے خاندان کا سر براہ بنایا ہے یا وہ شخص کہ جس کو پیغام دے کر بھیجا ہے ؟!اس احمقانہ اور عوامانہ استدلال کے ذریعے وہ یہ ثابت کر نا چاہتا تھا کہ خلیفہ پیغمبر سے بڑھ کر ہے ! اس طرح کے آدمی کو جو اس طرح  کےخیالات کی تبلیغ کرتا تھا انعام دیا جاتا تھا ۔

عبد الملک اور اس کے کسی فرزند کے زمانے میں یوسف بن عمر ثقفی نام کے ایک شخص کو کافی لمبی مدت تک عراق کا حاکم بنائے رکھا ۔وہ کئی سال تک عراق کا حاکم اور والی رہا ۔ یہ شخص بد بختی سے کینہ توز تھا اور اس کی کینہ توزی کے بارے میں بہت کچھ نقل کیا گیا ہے ۔چھوٹے قد کا اور چھوٹے چھوٹے اعضاء والا شخص تھا اور اس کو اپنے قد کے چھوٹا ہونے کا بہت غصہ تھا ۔جب کسی درزی کو کپڑے سلنے کے لیے دیتا تھا تو اس سے پوچھتا تھا کہ یہ کپڑا میرے قد کے برابر ہے ؟ درزی اس کپڑے کو دیکھتا تھا اور اگر مثلا یہ کہتا تھا کہ یہ کپڑا کافی ہے بلکہ بچ بھی جائے گا تو فورا کپڑے کو درزی سے لے لیتا تھا اور حکم دیتا تھا کہ اس کو سزا دی جائے ! درزی اس بات کو جان چکے تھے ۔ اسی لیے جب وہ کپڑا کسی درزی کو دیتا تھا اور کہتا تھا کہ یہ کافی ہے یا نہیں تو درزی دیکھتا تھا اور کہتا تھا کہ نہیں یہ کپڑا شاید آپ کے قد و کاٹھ  کے لیے کم ہو گا اور ہمیں بہت محنت کرنا پڑے گی تا کہ اس سے آپ کی ناپ کے کپڑے بنا سکیں ۔وہ بھی یہ جاننے کے باوجود کہ درزی جھوٹ بول رہا ہے خوش ہوتا تھا ؛ وہ اس قدر احمق تھا ! یہ وہی شخص ہے کہ جس نے زید بن علی علیہ السلام کو کوچے میں شہید کیا ۔ایسا شخص سالہا لوگوں کی جان اور ان کے مال اور ان کی ناموس پر مسلط رہا ۔ نہ اس کی اصل درست تھی اور نہ نسب درست تھا اور نہ پڑھا لکھا تھا اور نہ ہی صحیح فہم و فراست رکھتا تھا ۔ لیکن چو نکہ حکومت کے چوٹی کے افراد سے جڑا تھا لہذا اس کو یہ پوسٹ دی گئی تھی ۔یہ سب آفات ہیں ۔یہ ایک حکومت کے لیے بہت بڑی آفتیں ہیں ۔

 اصلی اسلام جھوٹے اسلام کے مقابلے میں

یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا ۔ اس کے ساتھ ہی اصلی مسلمانی اسلام ، اقدار پر مبنی اسلام ،قرآنی اسلام ، کہ جس کا اقدار کے دشمن حاکم اسلام کے ساتھ کبھی سمجھوتہ نہیں ہوا ،بھی چلتا رہا کہ جس کے بارز مصداق آئمہ ھدی علیھم السلام اور ان کے ہمراہ بہت سارے مسلمان تھے ۔امام حسن مجتبی علیہ السلام کی برکت سے ،اسلامی تحریک کے اس اقداری سلسلے نے اسلام کو بچایا ۔ اگر امام مجتبی علیہ السلام اس صلح کو انجام نہ دیتے تو وہ تحریکی اقدار کا اسلام زندہ نہ رہتا بلکہ مٹ جاتا ؛ چونکہ معاویہ آخر کار غالب آ جاتا ۔

امام حسن مجتبی علیہ السلام کے دور کی خصوصیات

حالات ایسے نہیں تھے کہ جن میں امام حسن علیہ السلام کے لیے غلبہ حاصل کرنا ممکن ہوتا ۔تمام اسباب امام حسن مجتبی علیہ السلام کے غلبے کے برعکس تھے ۔معاویہ غلبہ پا  لیتا  چونکہ تبلیغات کی دستگاہ اس کے ہاتھ میں  تھی ۔ اسلام میں اس کا چہرہ ایسا نہیں تھا کہ جس کو موجہ کر کے وہ دکھا نہ سکتے ۔اگر امام حسن علیہ السلام صلح نہ کرتے تو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کے تمام افراد کو ختم کر دیا جاتا ۔اور کسی کو زندہ نہ چھوڑتے کہ وہ اصلی اسلام کے اقداری نظام کی حفاظت کر سکیں ۔ہر چیز بطور مطلق ختم ہو جاتی اور اسلام کا نام و نشان مٹ جاتا اور عاشورا کی نوبت نہ آتی ۔

اسلام کی بقا پر امام حسن مجتبی علیہ السلام کا عظیم حق

اگر امام حسن مجتبی علیہ السلام معاویہ کے ساتھ جنگ کو جاری رکھتے اور یہ جنگ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کی شہادت پر منتہی ہوتی ،تو امام حسین علیہ السلام اسی جنگ میں شہید ہو جاتے ۔حجر بن عدی جیسے لوگ بھی شہید ہو جاتے سب مٹ جاتے اور کوئی ایسا نہ ہوتا کہ جو رہے اور مواقع سے فائدہ اٹھائے اور اسلام کو اس کی اقداری صورت میں پھر سے محفوظ رکھے ۔پس یہ عظیم حق ہے کہ جو امام حسن مجتبی علیہ السلام کا بقائے اسلام پر ہے ۔

یہ تھا ایک اور پہلو امام حسن مجتبی علیہ السلام کی زندگی اور آنحضرت کی صلح کا  کہ امیدوار ہیں کہ خدا ہم سب کو ایسی بصیرت عنایت کرے تا کہ ہم اس بزرگوار کو پہچان سکیں اور بد شناختی  اور جہالت کا پردہ جو مدتوں سے ان بزرگوار کے چہرے پر تھا باقی نہ رہے ۔ یعنی حقیقت کو سبھی سمجھیں اور جان لیں کہ امام حسن علیہ السلام کی صلح اسی قدر قیمت رکھتی ہے کہ جتنی آپ کے برادر بزرگوار  امام حسین علیہ السلام کی  شہادت رکھتی ہے ۔ اور جس قدر اس شہادت نے اسلام کی خدمت کی ہے اس صلح نے بھی اسی قدر یا اس سے زیادہ اسلام کی خدمت کی ہے ۔

نسئلک اللّهم و ندعوک باسمک العظیم الاعظم الاعزّ الاجلّ الاکرم‌

ترجمہ ؛ سید مختار حسین جعفری

                    منبابع:

(1) شرح نهج‌البلاغه، ابن‌ابی‌الحدید، ج ۹ ، ص ۵۳

(2)شرح نهج‌البلاغه، ابن‌ابی‌الحدید، ج ۱۶ ، ص

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر