تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور 23 اپریل/ بحرین کے ایک ممتاز شیعہ عالم دین نے اس بات کےساتھ کہ آل خلیفہ  رژیم کےسامنے فلسطینی کاز کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہا ہے کہ بحرینی عوام  اپنے تمام جائز مطالبات پورے ہونے تک اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔

نیوزنور23اپریل/روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ مغربی ممالک شام کے شہر دوما میں کیمیائی حملے سے متعلق حقائق میں تحریف کر رہے ہیں۔

نیوزنور23اپریل/ٹوئٹر پرسعودی عرب کے  سرگرم  اور شاہی خاندان کے قریبی کارکن نےسعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شاہی محل میں کل رات ہونے والی فائرنگ کی اصل حقیقت سامنے لاتے ہوئے کہا ہے کہ فائرنگ کے واقعہ میں آل سعود کے بعض اعلٰی شہزادے ملوث ہیں ڈرون کو گرانے کا واقعہ سعودی حکومت کا ڈرامہ ہے فائرنگ کے واقعہ کے بعد سعودی بادشاہ اور ولیعہد شاہی محل سے فرار ہوگئے تھے۔

نیوزنور23اپریل/اسلامی مقاومتی محورحزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا ہےکہ اسرائيل کو لبنانیوں کے خلاف جارحیت سے روکنا ہمارا سب سے بڑا ہدف ہے ۔

نیوزنور23اپریل/مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے سیکرٹری جنرل نے کہا  ہے کہ امام حسینؑ نے ۱۴ سو سال قبل ان دہشتگردوں کو شکست دی جو دین اسلام کا لبادہ اوڑھ کر دین کو اپنی پسند نا پسند میں ڈھال رہے تھے۔

  فهرست  
   
     
 
    
عالمی ادارہ صحت:
دنیا میں ہرگیارہ میں سے ایک شخص کو شُوگر

نیوز نور:عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کو ذیابیطس کے ’بےرحمانہ اضافے‘ کا سامنا ہے اور ہرگیارہ بالغ لوگوں میں سے ایک اس مرض کا شکار ہے۔

سائنسی خبریں صارفین۳۱۹۲ : // تفصیل

عالمی ادارہ صحت:

دنیا میں ہرگیارہ میں سے ایک شخص کو شُوگر

نیوز نور:عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کو ذیابیطس کے ’بےرحمانہ اضافے‘ کا سامنا ہے اور ہرگیارہ بالغ لوگوں میں سے ایک اس مرض کا شکار ہے۔

عالمی اردوخبررساں ادارے‘‘نیوزنور’’نے بی بی سی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے شُوگر کے مرض کے حوالے سے ایک بڑا جائزہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنہ 1980 میں ذیابیطس کے شکار لوگوں کی تعداد دس کروڑ 80 لاکھ تھی جبکہ سنہ 2014 میں یہ تعداد تقریباً چار گنا بڑھ کر 42 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ چکی تھی۔

عالمی اداہ صحت کی رپورٹ کے مطابق آج خون میں شوگر کی زیادتی ایک مہلک بیماری بن چکی ہے اور ہر سال دنیا بھر میں 37 لاکھ اموات ایسی ہو رہی ہیں جن میں شوگر کی زیادتی کا عنصر شامل ہوتا ہے۔

ادارے کے افسران کا کہنا ہے کہ اگر اس سلسلے میں ’سخت کارروائی ‘ نہ کی گئی تو شوگر سے منسلک اموات میں اضافہ جاری رہے گا۔

اگرچہ اس جائزے میں ذیابیطس کی دونوں اقسام (ٹائپ ون اور ٹائپ ٹُو) کو یکجا رکھاگیا ہے لیکن زیادہ اضافہ ٹائپ ٹُو قسم کی شوگر میں دیکھنے میں آیا ہے۔

یاد رہے کہ ٹائپ ٹُو شوگر کا تعلق غیر صحت مندانہ طرز زندگی سے ہے۔ آج دنیا میں ہر تین میں سے ایک شخص موٹاپے کا شکار ہے اور جوں جوں لوگوں کی کمریں پھیل رہی ہیں، اسی قدر شوگر کے مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کی ذیابیطس کے خلاف مہم کے سربراہ ڈاکٹر اتینی کرگ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ذییطس ایک خاموش مرض ہے، لیکن یہ ایک ایسا مرض ہے جو ایک خطرناک روش اختیار کر چکا ہے اور ہمیں اسے روکنے کی ضرورت ہے۔

ہم ذیابیطس میں اس اضافے کو روک سکتے۔ ہمیں معلوم ہے کہ کیا کرنا ہے، لیکن اس بیماری کو اس طرح پھیلنے کی اجازت نہیں دے سکتے جیسی یہ پھیل رہی ہے کیونکہ لوگوں کی صحت، ان کے گھر والوں اور معاشرے پر اس مرض کے اثرات بہت زیادہ ہیں۔

خون میں شُوگر کی مقدار پر قابو نہ پانا صحت کے لیے بہت خطرناک ہوسکتا ہے۔ اگر شُوگر زیادہ ہو تو دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ تین گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔ نہ صرف آپ کی ٹانگ کاٹ دیے جانے کے امکانات میں 20 گنا اضافہ ہو جاتا ہے بلکہ آپ کو گردوں کے امراض، بینائی ختم ہو جانا اور حمل میں پیچیدگی جیسے کئی مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اموات کے لحاظ سے ذیابیطس دنیا میں آٹھواں بڑا مرض ہے اور ہر سال 15 لاکھ افراد شُوگر کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر