تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور21مئی/عراق میں الصادقون سیاسی تحریک کے ایک سرگرم کارکن نے اس بات پر انتباہ کیا ہے کہ ہمارے ملک میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مداخلت کا دعوی امریکہ کی ایک سازش ہے۔

نیوزنور21مئی/روس سے تعلق رکھنے والے ایک عیسائی راہب نے کہا ہے کہ  دنیا کے تمام مذہبی رہنماؤں من جملہ ویٹیکن کے پاپ کو چاہئے کہ مقبوضہ فلسطین میں ہونے والے قتل عام پر آواز بلند کریں۔

نیوزنور21مئی/تحریک انصاف پاکستان کے مرکزی رہنما نے کہا ہے کہ فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی اندھادھند فائرنگ سے ہزاروں افراد کی شہات عالمی برادری کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت اور امن کے علمبردار ممالک، این جی اوز کے منہ پرزوردار تھپڑ ہے۔

نیوزنور21مئی/حزب اللہ لبنان کی مرکزی کونسل کے رکن نے سعودی عرب کی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ملکر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف آشکارا اور پنہاں سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب میں حزب اللہ لبنان کو لبنانی حکومت میں شامل ہونے سے روکنے کی ہمت نہیں ہے۔

نیوزنور21مئی/ملائیشیائی اسلامی تنظیم کی مشاورتی کونسل کے صدر نے کہا ہے کہ فلسطین میں نہتے شہریوں پر صہیونی حکومت کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کو روکنا ہو گا۔

  فهرست  
   
     
 
    
زندگی میں دین کے آثار و برکات ؟
نیوزنور:دین احکام و قوانین کا مجموعہ ہے کہ جن کو دینی سوساٰئٹیوں میں خدا وند متعال کی طرف سے پیغمبروں کے ذریعے انسانوں تک پہونچایا گیا ہے ۔
دینی و مذھبی رواداری صارفین۳۶۱۲ : // تفصیل

زندگی میں دین کے آثار و برکات ؟

نیوزنور:دین احکام و قوانین کا مجموعہ ہے کہ جن کو دینی سوساٰئٹیوں میں خدا وند متعال کی طرف سے پیغمبروں کے ذریعے انسانوں تک پہونچایا گیا ہے۔

پہلے ہم زندگی میں دین کے اجمالی آثار کا جائزہ لیتے ہیں ؛

دین سرمایہء حیات

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ:قوت فکر ایک طاقتور قوت ہے جس کو انسان کو ودیعت کیا گیا ہے کہ وہ ابدیت کے بارے میں سوچتا ہے اور دوسرے جہان کے ساتھ رابطہ برقرار کرتا ہے ۔یہ تصوری اور فکری طاقت ابدیت پسندی کے احساسات اور رجحانات کو اس کے اندر وجود میں لاتی ہے ۔ان رجحانات اور عظیم چاہتوں کا  وجود میں آنا اس کے بدن کی اس فانی اور محدود عمارت کے ساتھ ناسازگار ہیں لہذا  وہ اپنی امیدوں اور اپنی جسمانی استعداد کے درمیان ایک عجیب اور ناراحت کن بے اعتدالی کو محسوس کرتا ہے اور ابدیت اور بقا سے محرومیت کا تصور اسے توڑ کر رکھ دیتا ہے ۔ انسان کی اس کے نام و نمود اور اس کی یادوں کے باقی اور جاویدانی رہنے کے سلسلے میں اس کی بہت ساری کوششیں اس کے اسی احساس اور اس کی اسی آرزو کی پیداوار ہیں ۔اور ہم جانتے ہیں کہ شہرت ،اور نام و نمود کے افتخار کی لذت ،انسان کی بقا اور حیات کی شاخ ہے ،جو چیز اس احساس اور احتیاج کو مکمل اور اطمئنان بخش صورت میں پورا کر سکتی ہے وہ دینی احساسات اور دینی عقاید ہیں ۔

ویکٹور ھوگو لکھتا ہے : سچ مچ اگر انسان یہ سوچ لے کہ وہ فانی ہے ،اور اس زندگی کے بعد مطلق نیستی ہے تو زندگی کی اس کے لیے کوئی قیمت نہیں رہ جائے گی ۔جو چیز زندگی کو انسان کے لیے گوارا اور لذت بخش بناتی ہے اور اس کے کام کو فرحت اور اس کے دل کو حرارت دیتی ہے اور انسان کی نگاہ کے افق کو وسعت دیتی ہے ،وہ خلود اور ابدی جہان کا اعتقاد ،اور اس بات کا اعتقاد کہ اے انسان تو فنا ہونے والا نہیں ہے اور اس جہان سے بزرگتر ہے اور یہ جہان تیرے لیے ایک چھوٹا سا آشیان اور وقتی ہے اور تیرے بچپنے کے لیے ایک چھوٹا سا گہوارا ہے ،اصلی جہان تو دوسرا جہان ہے (۱)

ایک روسی حکیم ٹولسٹو ،ایمان کی تعریف کے جواب میں کہتا ہے :ایمان وہ چیز ہے کہ جس کے ساتھ انسان زندگی بسر کرتا ہے اور وہ زندگی کا سرمایہ ہے (۲) لہذا زندگی سے بہرہ مند ہونے ،اور زندگی کی حقیقت کو درک کرنے کے لیے کہ ہم بے کار ہونے کے تصور سے دور رہیں ہمیں فلسفہء حیات سے متعلق بنیادی سوالوں کے ،کہ (میں کہاں سے آیا ہوں ؟کہاں پر ہوں ؟ اور کہاں جانا ہے ؟ )جواب ڈھونڈھنا ہوں گے ،اور صرف دین ہی ان سوالوں کے روشن اور صاف و شفاف جواب دے سکتا ہے ۔بہت سارے انسان اپنی روزمرہ کی زندگی سے بیزار ہو کر کبھی اجتماعی زندگی کو خیر باد کہہ دیتے ہیں اور کبھی خود کشی کر لیتے ہیں ،ان سب امور کی وجہ بے دینی کے رجحان اور زندگی کو بے کار اور بے فائدہ سمجھنے کی پیداوار ہیں ۔

خواہشات کو کنٹرول کرنے میں دین کا کردار

 خطرات اور گمراہیاں جو بشر کو چیلینج کرتی ہیں ان کا تعلق بشر کے دور قدیم سے ہے ،اس کے دوران جہل اور غار نشینی سے مخصوص نہیں ہے ،بلکہ یہ خطرے ،دانش ،ایٹم اور فضا کے دور میں پہلے سے زیادہ اور عظیم تر ہو گئے ہیں چونکہ بشر کے انحرافات کی وجہ صرف جہل اور نادانی نہیں تھی ،اور نہ ہے ،بلکہ ان کا تعلق بے لگام خواہشات ،جیسے شہوت ، غضب ، لالچ ،تکبر ، لذت طلبی ، اور نفس پرستی سے ہے ،اور اس کا گواہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کا استکبار اور کمزور قوموں کا استثمار ہے اور علوم و فنون ان خواہشات کا آلہء کار بن گئے ہیں ،اور دنشمند سیاستمداروں اور جباروں کے خدمت گذار ہو کر رہ گئے ہیں ۔

علم بشر کے مقاصد کی تکمیل کے لیے ہے ،لیکن مقاصد کیا ہیں اور کیا ہونا چاہییں ،یہ طے کرنا دین کا کام ہے ،اور دین ہی اس کی سمت متعین کرتا ہے چونکہ دین کا کام خواہشات اور حیوانی غرائز کو کنٹرول کرنا  اور اس کی بلند اور انسانی خواہشات کو بڑھاوا دینا ہے ،علم انسان اور اس کی خواہشات کے علاوہ ہر چیز کو اپنے کنٹرول میں کر لیتا ہے ،انسان علم کو اختیار کرتا ہے اور جس طرح چاہے اس کو استعمال کرتا ہے ،لیکن دین انسان پر اختیار حاصل کرتا ہے اور اس کی سمت اور اس کے مقصد کو بدلتا ہے ،اور یہی وجہ تھی کہ ویل دورانت لذات فلسفہ کے مقدمہ میں کہتا ہے : ہم مشینی لحاظ سے توانگر ہو گئے ہیں لیکن مقاصد کے لحاظ سے فقیر ہیں(۳)

اس بنا پر ،اعتقادی نظریات خاص کر خدا پر اعتقاد اور قیامت پر اعتقاد دینی اقدار اور احکام  کے اجراء کا ضامن ہیں۔سوسائٹی کے افراد اور حکومت کو دو طریقے سے کنٹرول اور نظارت میں رکھا جا سکتا ہے ،ایک بیرونی نظارت ہے کہ جو جزائی احکام اور طرح طرح کی مجازات کے ذریعے ہوتی ہے ،اور ایک اندرونی نظارت ہے کہ جو اعتقادی چیزوں سے ہوتی ہے ،اور اس طرح کی نظارت کم خرچ اور بالا نشین کا مصداق ہے ،یعنی یہ زیادہ کار آمد اور موئثر ہے ۔

دین ،اخلاق اور قانون کی بنیاد ،معاشرے کا بنیادی رکن اخلاق اور قانون ہے  اور اس کا بنیادی ستون صرف دین اور انسان کے دل کی گہرائی تک پایا جانے والا ایمان ہے ۔

الکسس کارل کہتا ہے : دماغ بہت فارورڈ ہے لیکن افسوس کہ دل ابھی کمزور ہیں ،دل کو صرف ایمان مضبوط بناتا ہے ،اور بشر کی تمام برائیاں اس وجہ سے ہیں کہ مغز طاقتور ہو گئے ہیں جبکہ دل ابھی تک کمزور ہیں تمدن نے انسان کے لیے اچھے آلات بنائے ہیں لیکن کیا انسان بھی بنائے ہیں ؟ جو چیز انسانوںکو بدل سکتی ہے اور انسانی قدروں کو جاگزین کر سکتی ہے وہ دین ہے پس انسانیت دین اور ایمان کے مساوی ہے ۔(۴) دین سے ہٹ کر اخلاق کا کوئ ٹھکانہ نہیں اور وہ پایدار نہیں رہ سکتا ،تجربے نے انسان کو بتا یا ہے کہ جہان دین اخلاق سے الگ ہوا ہے وہاں اخلاق بہت پیچھے رہ گیا  ہے ۔داستایو فیسکی لکھتا ہے :اگر خدا نہ ہو تو  ہر چیز مباح ہو جائے گی (۵) یعنی خدا کے علاوہ کوئی دوسری چیز کہ جو واقعا انسان کو اخلاق کے خلاف اعمال انجام دینے سے روک سکے نہیں ہے ،اسی طرح کوئی بھی غیر دینی اخلاقی مکتب اپنے کام میں کامیاب نہیں ہوا ہے ۔

دین علوم کو وجود میں لاتا ہے اور علم کو حرارت دیتا ہے : تمام آسمانی ادیان انسان کی جہل اور نادانی سے نجات کو اپنی عظیم ذمہ داری سمجھتے تھے  اور انبیاء ع نے اپنی تمام کوششیں اسی مقصد کے لیے صرف کیں ،اور انہوں نے ہمیشہ علم کو فضیلت سمجھا ،اور عالم کے مرتبے کی قدر کی ،خاص کر دین اسلام علم حاصل کرنے کو عورت مرد کی تخصیص کے بغیر تمام مسلمانوں کا وظیفہ اور فریضہ سمجھتا ہے (۶) اور امام باقر ع نے فرمایا : علم کو عالموں سے  سیکھو اور اسے اپنے بھائیوں کو سکھاو جس طرح کہ علماء نے اس کو تمہیں سکھایا ہے ۔(۷)

اس دور میں کہ جب مغرب والے ابھی نیند میں تھے ،مسلمان دینی تعلیمات کے سائے میں ترقی کے بام عروج کو چھو چکے تھےاور عظیم اسلامی تمدن کی بنیاد رکھ چکے تھے ،اور اگر آج  ہم مغرب کی دنیائے علم اور ٹیکنالوجی سے پیچھے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کا دامن سنجیدگی سے نہیں تھاما اور اس پر عمل نہیں کیا ۔

نفسیاتی بحرانوں سے روکنا اور خوشی اور مسرت ایجاد کرنا

انسانوں کے پاس جو کچھ نہیں ہے اس کے لیے وہ سعی اور جستجو کرتے ہیں تا کہ اسے حاصل کر سکیں ،غمگین اور پریشان ہوتے ہیں اور اسی طرح جو کچھ ان کے پاس ہے اس کے سلسلے میں بھی فکر مند ہیں کہ کہیں حوادث روزگار اس کو اس کے چنگل سے نکال نہ لیں ،صرف ایمان ہے جو دونوں آفتوں کو مٹا سکتا ہے ،اور انسان کے اندر خوشی اور سرور کو پیدا کرتا ہے ۔دوسرے لفظوں جو چیز انسان کے اعصاب کواس زندگی میں کمزور کرتی ہے وہ بے چینی اور ہیجانات ہیں کہ  مادی لگاو کی چیزوں کی  خوشی سے اور ان تک نہ پہونچنے کی ملالت سے حاصل ہو تی ہے ۔صرف ایمان ہے کہ جو مومن کو آرام اور سکون دیتا ہے اور انسان کو امن سکون اور آرام کے ساحل تک پہونچاتا ہے ۔

ظاہری اور باطنی قیود سے انسان کی رہائی

اسلام انسانوں کو خبردار کرتا ہے کہ وہ خواب غفلت سے بیدار ہوں اور خود کو قید و بند سے آزاد کریں اور خدا کی بارگاہ کی طرف کمال کے راستے پر چل پڑیں اور بیان کرتا ہے کہ خدا نے تجھے آزاد پیدا کیا ہے اور کائنات کی اس پھولوں کی ٹوکری کا سب سے قیمتی اور نمایاں پھول تو ہے اور اس نے تمام عالم کو تیرے تحت مسخر کیا ہے تو اپنی حقیقت کو اگر دیکھے تو تجھے معلوم ہو جائے گا کہ تو فرشتوں سے بھی بالاتر ہے اور کس ارزش اور کرامت کا مالک ہے پس خود کو ظاہری و باطنی قیدوں اور اسارتوں سے ٓزاد کر ،

اسلامی ملتوں کی بیداری دلوں میں اس امید کو زندہ کرتی ہے کہ مستقبل قریب میں وہ جابروں اور استکباری اور استعماری طاقتوں کے دباو اور تسلط سے آزاد ہو جائیں گے اور استقلال اور آزادی حاصل کر لیں گے ۔

انسانی معاشروں سے باطل عقاید اور خرافات کو مٹانا

خرافات ،اندھے تعصبات اور گذشتگان کے عقاید کی اندھی تقلید ،انسانوں کی ترقی اور ان کے تکامل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں کہ جن کو مٹانا شرک اور بت پرستی  سے بھی زیادہ مشکل اور طاقت فرسا ہے ۔

اور دین اسلام نے اس میدان میں اپنی کامیابی کا ،جیسے عورتوں کو حقیر سمجھنے اور لڑکیوں کو زندہ در گور کرنے کی باطل رسم کو مٹا کر ،سکہ جما دیا ہے ،اور جدید دور کے خرافات اور تعصبات کا مقابلہ بھی صرف خالص اسلام کے ذریعے کیا جا سکتا ہے ،

اسلام کے تمام عقاید اور احکام جیسے شادی بیاہ ،طلاق ،قصاص ،ہمجنس بازی کا حرام ہونا ،زنا اور شراب پینے کا حرام ہونا ،اور احکام میراث وغیرہ بیشمار آثار و برکات کے حامل ہیں کہ جن کے ذکر کرنے کی گنجائش یہاں نہیں ہے ،ہم صرف مثال کے طور پر ،قرآن کے خمس و زکات کی ادائیگی کی برکتوں کے بارے میں کلام کو بیان کرتے ہیں ،فرمایا ہے (۸) ان احکام کے ذریعے ،عدل اور اقتصادی اعتدال مسلمانوں کے اندر وجود میں آئے گا چونکہ اس کام سے پیسہ حرکت میں آئے گا اور ثروت صرف ثروتمندوں کے ہاتھ میں منحصر ہو کر نہیں رہے گی ،اور ان کی عادلانہ تقسیم سے طبقاتی فاصلہ ختم ہو جائے گا ۔

یاد دہانی :ایمان اور دینداری کے شدت و ضعف پر مبنی مراتب ہیں ،اور دینی آثار کی کمزوری اور طاقت کا تعلق ،دینداروں کے ایمان کی شدت اور کمزوری اور ان کے دین کی جانب متوجہ رہنے اور اس پر عمل کرنے کے طریقے اور ڈھنگ سے ہے یعنی جس قدر دین پر عمل ہو گا اسی قدر دین کے آثار نمایاں ہوں گے ۔

مزید معلومات کے لیے دیکھیں ؛

۱ ۔ مبانی اندیشہء اسلامی ۳ ،تحریر محمود فتحعلی اور ساتھی ،

۲ ۔ کلام جدید ،تحریر عبد الحسین خسرو پناہ

حوالے ؛

۱ ۔ مجموعہء آثار شہید مطہری ،ج۳ ص۳۹۸

۲ ۔ گذشتہ حوالہ

۳ ۔ امدادھائ غیبی در زندگیء بشر ،مرتضی مطہری ص۸۶

۴ ۔ گذشتہ حوالہ ،ص۳۹ و ۴۰

۵ ۔ تعلیم و تربیت در اسلام ،مرتضی مطہری ،ص۱۰۰

۶ ۔ قال رسول اللہ ص طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم و مسلمۃ ، منیۃ المرید ،شہید ثانی ،تحقیق رضا مکتاری ،مکتب الاعلام الاسلامی ،چاپ سوم ،۱۳۷۴ ، ص۹۹ ،

۷ ۔ گذشتہ حوالہ ص ۱۱۱ ، تعلموا العلم من حملۃ العلم علموہ اخوانکم کما علمکموہ العلماء

۸ ۔ ما افاء اللہ علی رسولہ من اھل القری فللہ و للرسول و لذی القربی و الیتامی و المساکین و ابن السبیل کی لا یکون دولۃ بین الاغنیاء منکم (حشر)    


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر