تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور21مئی/عراق میں الصادقون سیاسی تحریک کے ایک سرگرم کارکن نے اس بات پر انتباہ کیا ہے کہ ہمارے ملک میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مداخلت کا دعوی امریکہ کی ایک سازش ہے۔

نیوزنور21مئی/روس سے تعلق رکھنے والے ایک عیسائی راہب نے کہا ہے کہ  دنیا کے تمام مذہبی رہنماؤں من جملہ ویٹیکن کے پاپ کو چاہئے کہ مقبوضہ فلسطین میں ہونے والے قتل عام پر آواز بلند کریں۔

نیوزنور21مئی/تحریک انصاف پاکستان کے مرکزی رہنما نے کہا ہے کہ فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی اندھادھند فائرنگ سے ہزاروں افراد کی شہات عالمی برادری کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت اور امن کے علمبردار ممالک، این جی اوز کے منہ پرزوردار تھپڑ ہے۔

نیوزنور21مئی/حزب اللہ لبنان کی مرکزی کونسل کے رکن نے سعودی عرب کی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ملکر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف آشکارا اور پنہاں سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب میں حزب اللہ لبنان کو لبنانی حکومت میں شامل ہونے سے روکنے کی ہمت نہیں ہے۔

نیوزنور21مئی/ملائیشیائی اسلامی تنظیم کی مشاورتی کونسل کے صدر نے کہا ہے کہ فلسطین میں نہتے شہریوں پر صہیونی حکومت کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کو روکنا ہو گا۔

  فهرست  
   
     
 
    
تین شعبان ولادت حضرت سیّد الشہدائ ابوعبداللہ الحسین علیہ السّلام

نیوزنور: تورات میں امام حسین (علیہ السلام) کا نام گرامی " شبیر " اور انجیل میں "طاب" آیا ہے اور آنحضرت کی کنیت ابو عبداللہ اور القاب سبط ، سبط الثانی ، سیّد ، سیّد شباب اھل الجنہ ، رشید ، طیب ، وفّی ، مبارک ، زکی اور تابع لمرضاہ اللہ ہیں۔

اسلامی بیداری صارفین۲۷۰۸ : // تفصیل

تین شعبان ولادت حضرت سیّد الشہدائ ابوعبداللہ الحسین علیہ السّلام

نیوزنور: تورات میں امام حسین (علیہ السلام) کا نام گرامی " شبیر " اور انجیل میں "طاب" آیا ہے اور آنحضرت کی کنیت ابو عبداللہ اور القاب سبط ، سبط الثانی ، سیّد ، سیّد شباب اھل الجنہ ، رشید ، طیب ، وفّی ، مبارک ، زکی اور تابع لمرضاہ اللہ ہیں۔

 امام حسین (علیہ السلام) کی تاریخ ولادت کے بارے میں مورخین کا خاصا اتفاق نہیں ہے ۔ بعض نے پانچ شعبان سن چار اور بعض نے تین شعبان اور دوسروں نے دن کا زکر کۓ بغیر اوائل شعبان بیان کیا ہے ۔ مگر شیعوں کے درمیان توقیع شریف جو کہ  رسولخدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے گیارہویں وصی حضرت امام حسن عسکری (علیہ السلام) کے وکیل قاسم بن علاء ھمدانی کے ذریعہ امام حسین (علیہ السلام) کی تاریخ ولادت کے  حوالے سے حاصل ہوا ہے مشھور ہے کہ تین شعبان  امام حسین (علیہ السلام) کی ولادت کا دن ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارہ ؛ رسولخدا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تیسرے وصی  امام المومنین وارث المرسلین  و حجت رب العالمین  امام حسین علیہ السلام شاہ ولایت  امیر المومنین علی ابن ابیطالب علیہ السلام اور سیدۃ النساء العالمین فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کی دوسری اولاد اور آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چہیتے نواسےتھے۔

احادیث اور روایات کے رو سے امام حسین علیہ السلام کی ولادت اور دشمنان اسلام کے ہاتھوں مظلومانہ شہادت کے بارے میں آنحضرت کی ولادت سے پہلے ملائکہ وحی جبرئیل امین علیہ السلام اور رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشن گوئی کی تھی جن میں ذیل میں ديۓ گۓ احادیث نقل کئے جارہے ہیں:

رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چٹھے وصی امام جعفر صادق  علیہ السلام نے فرمایا : جبرئیل امین رسول خدا  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوے اور عرض کی : ای محمد ! خدای سبحان نے آپ کی بیٹی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے فرزند کی  بشارت دی ہے مگر اسے  تمہاری امت مار ڈالے گی۔

رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے جبرئيل ! میری  سلام پروردگار کو پہنچا اور کہہ کہ مجھے ایسی اولاد نہیں چاہۓ جسے میری امت مار ڈالے ۔

جبر‏ئیل امین آسمان کی طرف عروج کرکے واپس آ کر وہی پیغام دھرایا ۔

پیغمبر اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی وہی سوال دھرایا اور ایسے مولود کو قبول کرنے سےانکار کیا کہ جس کو مسلمان مار ڈالیں ۔

جبرئیل امین تیسری بار آے اور کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! پروردگار عالم نے سلام کہا اور تمہیں اس عظیم امر کی بشارت دی ہے کہ امامت اور ولایت کو تمہاری اسی نسل سے قرار دیا ہے ۔رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ پیغام سن کر خوشحال ہوگۓ  اور کہا کہ : میں نے قبول کیا اور اس پر راضی ہوں ۔اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاطمہ زھرا سلام اللہ علیہا کو یہ الہی  پیغام سنایا اور فاطمہ (سلام اللہ علیہا) نے نہایت ادب کے ساتھ   جواب دیا : اے میرے پیارے بابا مجھے ایسا فرزند نہیں چاہے کہ جو آپ کی امت کے ہاتھوں مارا جاے ۔

رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاطمہ (سلام اللہ  علیہا) کو بشارت الہی کا پیغام سنایا اور کہا : میری پیاری بیٹی ! خدای سبحان نے میری امامت اور ولایت کی وصایت میرے اسی نواسے میں رکھی ہے ۔

فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) یہ بشارت الہی سن کر کہا میرے پیارے بابا میں بھی اس مبارک مولود کی ولادت سے راضی ہوں۔(1)

اسی لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، فاطمہ زہراء(سلام اللہ علیہا) ، علی مرتضی (علییہ السلام) ، جبرئیل امین اور الھی فرشتے سب اس مولود مبارک کی آمد کا بے صبری کے ساتھ انتظار کررہے تھے اور آخر کار وہ لمحہ آ ہی گيا حضرت فاطمہ زہراء کے توحیدی دامن سے شعبان کے مہینے میں امام حسین (علیہ السلام) دنیا میں تشریف لے آۓ اور فرشتوں اور انسانوں کیلۓ خوشیاں لے آے ۔

رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چھٹے وصی حضرت امام  جعفر صادق (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ : جب امام حسین (علیہ السلام) پیدا ہوے ، جبرئل امین خدا کی طرف سے مامور ہوۓ کہ ھزار فرشتوں کے ہمراہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے نوزاد کے مبارکبادہ کہنے زمین پر نازل ہوجائیں ۔ (2)

ولادت امام حسین (علیہ السلام) کی برکت سے فطرس کی  عذاب الہی سے اس کی رہائی کا واقع  اسی حدیث میں بیان ہوا ہے ۔

امام حسین (علیہ السلام) کی تاریخ ولادت کے بارے میں مورخین کا خاصا اتفاق نہیں ہے ۔ بعض نے پانچ شعبان سن چار اور بعض نے تین شعبان اور دوسروں نے دن کا زکر کۓ بغیر اوائل شعبان بیان کیا ہے ۔ (3)

مگر شیعوں کے درمیان توقیع شریف جو کہ  رسولخدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے گیارہویں وصی حضرت امام حسن عسکری (علیہ السلام) کے وکیل قاسم بن علاء ھمدانی کے ذریعہ امام حسین (علیہ السلام) کی تاریخ ولادت کے  حوالے سے حاصل ہوا ہے مشھور ہے کہ تین شعبان  امام حسین (علیہ السلام) کی ولادت کا دن ہے ۔(4)

تورات میں امام حسین (علیہ السلام) کا نام گرامی " شبیر " اور انجیل میں " طاب " آیا ہے اور آنحضرت کی کنیت ابو عبداللہ اور القاب سبط ، سبط الثانی ، سیّد ، سیّد شباب اھل الجنہ ، رشید ، طیب ، وفّی ، مبارک ، زکی اور تابع لمرضاہ اللہ ہیں (5)

پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امام حسن (علیہ السلام) اور حسین (علیہ السلام) کے بارے میں ایک حدیث میں فرمایا:

من أحب الحسن و الحسين أحببتہ، و من أحببتہ أحبہ اللہ، و من أحبہ اللہ أدخلہ الجنہ، و من أبغضہما ابغضتہ، من أبغضتہ أبغضہ اللہ، من أبغضہ اللہ أدخلہ النار.(6)

 (ترجمہ و تحقیق: عبدالحسین)

حوالہ جات:

1_ الكافي (شيخ كليني)، ج1، ص 464، ح4

2_ بحارالانوار (علامہ مجلسي)، ج43، ص 243

3_ نك: مقاتل الطالبيين (ابوالفرج اصفہاني)، ص 51؛ مناقب آل ابي طالب (ابن شہر آشوب)، ج3، ص 240؛ بحارالانوار، ج91، ص 193 و ج 34، ص 237؛ الارشاد (شيخ مفيد)، ص 368؛ منتہي الآمال (شيخ عباس قمي)، ج1، ص 280

4_ بحارالانوار، ج34، ص 237؛ الاقبال بالاعمال الحسنہ (سيد بن طاووس)، ج3، ص 303

5_ بحارالانوار، ج34، ص 237؛ كشف الغمہ (علي بن عيسي اربلي)، ج2، ص 171.

6_ الارشاد، ص 369

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر