تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور21مئی/عراق میں الصادقون سیاسی تحریک کے ایک سرگرم کارکن نے اس بات پر انتباہ کیا ہے کہ ہمارے ملک میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مداخلت کا دعوی امریکہ کی ایک سازش ہے۔

نیوزنور21مئی/روس سے تعلق رکھنے والے ایک عیسائی راہب نے کہا ہے کہ  دنیا کے تمام مذہبی رہنماؤں من جملہ ویٹیکن کے پاپ کو چاہئے کہ مقبوضہ فلسطین میں ہونے والے قتل عام پر آواز بلند کریں۔

نیوزنور21مئی/تحریک انصاف پاکستان کے مرکزی رہنما نے کہا ہے کہ فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی اندھادھند فائرنگ سے ہزاروں افراد کی شہات عالمی برادری کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت اور امن کے علمبردار ممالک، این جی اوز کے منہ پرزوردار تھپڑ ہے۔

نیوزنور21مئی/حزب اللہ لبنان کی مرکزی کونسل کے رکن نے سعودی عرب کی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ملکر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف آشکارا اور پنہاں سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب میں حزب اللہ لبنان کو لبنانی حکومت میں شامل ہونے سے روکنے کی ہمت نہیں ہے۔

نیوزنور21مئی/ملائیشیائی اسلامی تنظیم کی مشاورتی کونسل کے صدر نے کہا ہے کہ فلسطین میں نہتے شہریوں پر صہیونی حکومت کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کو روکنا ہو گا۔

  فهرست  
   
     
 
    
دو شعبان امام زمان(عج) کے آخری منتخب نائب علی بن محمد سمری کی وفات

نیوزنور: علی بن محمد سمری کی وفات کے ساتھ رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری وصی اور امام زمان کا غیبت صغری ختم اور غیبت کبری شروع ہو گئ اور اب تک جاری ہے ۔ آنحضرت نے اپنا خاص نائب مقرر نہیں کیا بلکہ شیعوں کو اپنے عام وکیلوں مجتہد جامع الشرائط (روات احادیث ائمہ معصومین علیہم السلام)کی طرف رجوع کرنے کو کہا ہے ۔

اسلامی بیداری صارفین۲۸۹۸ : // تفصیل

دو شعبان امام زمان(عج) کے آخری منتخب نائب علی بن محمد سمری کی وفات

نیوزنور: علی بن محمد سمری کی وفات کے ساتھ رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری وصی اور امام زمان کا غیبت صغری ختم اور غیبت کبری شروع ہو گئ اور اب تک جاری ہے ۔ آنحضرت نے اپنا خاص نائب مقرر نہیں کیا بلکہ شیعوں کو اپنے عام وکیلوں مجتہد جامع الشرائط (روات احادیث ائمہ معصومین علیہم السلام)کی طرف رجوع کرنے کو کہا ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارہ نیوزنور:رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارہویں اور آخری وصی حضرت حجت بن الحسن (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کہ جنہیں اللہ نے لمبی عمر عنایت کی ہے اور ابھی تک زندہ ہیں ۔ جب خدا قیام کرنے اور اسلام کی حکومت  قائم کرنے کاحکم نہ دے ظاہر نہیں ہوں گے ۔

خاتم الوصیین امام زمان(عج) ولادت سے لیکر ہی غیبت میں رہے ہیں اور عوام کی نظروں سےاوجھل رہے ہیں البتہ خواص ان کو دیکھنے کے قادر تھے اور ان کے ساتھ ارتباط قائم کرتے تھے ۔

آنحضرت کی دو قسم کی غیبت رہی ہے ایک صغری اور دوسری کبری سے معروف ہے (1)

غیبت صغری کے دوران اپنے منتخب نائبوں کے ذریعہ سے شیعوں کے ساتھ رابطہ رکھے ہوے تھے ۔ رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گیارہویں وصی حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شھادت کے بعد 8 ربیع الاول سن 260 ھ سے 15 شعبان سن 329 ھ تک 69 سال غیبت صغری جاری رہی ۔ اور ولادت سے منصب ولایت پر فائض ہونے تک مجموعا 74 سال غیبت صغری میں رہے اس دوران چار معروف شیعہ شخصیات آنحضرت کے طرف سے بترتیب نمایندے رہ کر شیعوں کا امام کے ساتھ رابطہ بناۓ رکھے تھے ۔

یہ چار شخصیتیں "نواب اربعہ " اور " سفرای امام زمان (عج) کے نام سے مشہور ہو ۓ ہیں ، جیسے :

        عثمان بن سعید عمروی ۔ 8 ربیع الاول سن 260 ھ سے 265 تک امام زمان (عج) کے نائب خاص رہے ہیں ۔ (2)

        محمد بن عثمان بن سعید عمروی ، والد کی وفات سے لیکر(سن 265)، آخری جمید الثانی سن 304 تک ، امام زمان (عج) کے نائب خاص رہے ہیں ۔

        حسین بن روح نوبختی ،دوسرسے نائب محمد بن عثمان کی وفات سن 304ھ سے  شعبان سن 326ھ تک امام زمان (عج) کے نائب خاص رہے ہیں ۔

        علی بن محمد سمری تیسرے نائب کی وفات سن  326 ھ سے 15 شعبان سن 329 ھ تک امام زمان (عج) کے نائب خاص رہے ہیں ۔ (3)

علی بن محمد سمری کی نیابت کا دور باقی تین نائبین سے کم تھا ، صرف تین سال امام کے نائب تھے جبکہ پہلے نائب عثمان بن سعید کم سے کم پانچ سال اورانکا فرزند محمد بن عثمان چالیس سال اور تیسرا نائب حسین بن روح نوبختی بیس سال امام زمانہ (عج) کی نیابت کا فریضہ انجام دیا ہے ۔

شیخ صدوق (رہ) نے " مکتب حسن بن احمد" سے روایت کی ہے کہ جس سال ابوالحسن علی بن محمد سمروی وفات پا گۓ‌ میں بغداد میں تھا اور انکی وفات سے کچھ دن پہلے ان کے حضور میں شرفیاب ہوا ، اس دوران انہوں نے امام زمانہ (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کی توقیع باہر نکال کر لوگوں کیلۓ قرائت کیا ،  امام زمانہ (عج) کے پیغام اور اس توقیع شریف کی عبارت یوں تھی :

بسم اللہ الرّحمن الرّحيم. يا علي بن محمد السمري! أعظم اللہ أجر اخوانك فيك، فانّك مَيّتٌ ما بينك و بين ستّہ أيام، فاجمع أمرك و لا تُوصِ الي أحدٍ فيقوم مقامك بعد وفاتك، فقد وقعت الغيبہ التّامّہ فلا ظہور الاّ بعد اذن اللہ تعالي ذكرُہُ و ذلك بعد طول الأمد و قسوہ القلوب و امتلاءِ الأرضِ جوراً و سيأتي مِن شيعتي مَن يَدّعي المشاہدہ، ألا فمن ادّعي المشاہدہ قبل خروج السّفياني و الصّيحہ فہو كذّابٌ مُفترٍ، و لا حول و لا قوّہ الاّ باللہ العليّ العظيم.

یعنی عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے، ای علی بن محمد سمري! خدا تمہارے دینی بھائیوں کو اجر عظیم عطا فرماے ، جان لے آج سے چھے دن بعد تم وفات پاؤ گے ، اسلۓ اپنے آپ کو تیار کر مگر کسی کو اپنا جانشین بنانے کی وصیت نہ کرنا کیونکہ میری غیبت کبری آغاز ہو گی ہے اورجب  تک خدا کا حکم نہیں ہوتا میں ظہور نہیں کرسکتا ۔ میری غیبت اس قدر طولانی ہو گی کہ لوگوں کے دل قساوت سے برے ہوں گۓ اور زمین ظلم و ستم سے بھری ہوئی ہو گی اور جلدی میرے شیعہ آئیں گے اور مجھے دکھنے کا دعوی کریں گے ۔ خبر دار جو کوئی سفیانی کے خروج اور آسمانی ندا سے پہلے مجھے دیکھنےکا دعوی کرے وہ جھوٹا ہے ۔

حسن بن احمد نے کہا : ہم نے اس پیغام کو لکھا اور اس سے نسخہ برداری کی اور علی بن محمد سمری کے حضور سے ہاہر آۓ اور چھے دن بعد دوبارہ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے دیکھا کہ وہ جان کندی کی حالت میں ہیں ۔ اسی اثنا میں وہاں پر حاضر شخص نے سوال کیا : آپ کے مرنےکے بعد آپ کا وصی کون ہوگا ؟ انہوں نے نہایت سکون و اطمنان کےساتھ جواب دیا کہ : "للہ امر ھو بالغہ و قضی" ؛ خدا کا حکم خدا کے ہاتھ میں ہے وہ بہتر جانتا ہے کہ کس طرح ابلاغ کرے گا ۔ ان ہی کلمات کے ساتھ داعی اجل کو لبیک کہہ گۓ ۔ (4)

اس طرح علی بن محمد سمری کی وفات کے ساتھ رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری وصی اور امام زمان کا غیبت صغری ختم اور غیبت کبری شروع ہو گئ اور اب تک جاری ہے ۔ آنحضرت نے اپنا خاص نائب مقرر نہیں کیا بلکہ شیعوں کو اپنے عام وکیلوں مجتہد جامع الشرائط (روات احادیث ائمہ معصومین علیہم السلام)کی طرف رجوع کرنے کو کہا ہے ۔ امام زمان (عج) نے محمد بن عثمان عمروی کے ذریعے اپنے ایک پیغام میں فرمایا ہے :

و أمّا الحوادث الواقعہ فارجعوا الي رواہ حديثنا، فانّہم حجّتي عليكم و أنا حجّہ اللہ عليہم.(5)

یعنی : روزمرہ کے مسائل کے بارے میں ہمارے راویوں(مجتہد جامع الشرائط) کی طرف رجوع کرنا ، کیونکہ وہ میری طرف سے آپ پر حجت ہیں اور میں ان پر خدا کی حجت ہوں۔

علی بن محمد سمری کے وفات کے بارے میں بعض نے 15 شعبان سن 328 ھ اور بعض نے 15 شعبان سن 329ھ بیان کیا ہے ۔ (6)

منابع اور مدارک:

1- الارشاد (شيخ مفيد)، ص 673؛ الغيبه (محمد بن ابراہيم نعماني)، ص 170

2- تاريخ الغيبہ الصغري (سيد محمد صدر)، ج1، ص 404

3- مدينہ المعاجز (سيد ہاشم بحراني)، ج 8، ص 8؛ بحارالانوار (علامہ مجلسي)، ج 15، ص 15 و ص 366؛ منتہي الآمال، ج2، ص 503؛ زندگاني چہاردہ معصوم (ترجمہ اعلام الوري امين الاسلام طبرسي)، ص 570؛ الاحتجاج (شيخ طبرسي)، ج2، ص 286و ص 296؛ تاج المواليد (علامہ طبرسي)، ص 142

4- الغيبہ، ص 394؛ كتاب الاربعين (شيخ ماحوزي)، ص 229؛ منتہي الآمال، ج2، ص 508؛ تاج المواليد، ص 145

5- منتہي الآمال، ج2، ص 509

6- نك: الخرائج و الجرائح (قطب الدين راوندي)، ج3، ص 1128؛ الاحتجاج، ج2، ص 296؛ الغيبہ (شيخ طوسي)، ص 394؛ منتہي الآمال، ج2، ص 509؛ كشف المحجہ (سيد بن طاووس)، ص 159؛ مدينہ المعاجز، ج 8، ص 8؛ بحارالانوار، ج 15، ص 366  


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر