تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور:ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ میانمار کی فوج نے روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام منظم منصوبہ بندی کے تحت کیا ہے۔

نیوزنور:ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی صدر نے اپنی حالیہ ایران مخالف تقریر سے پورے ایران کو متحد کر دیا اور یہ بات ہمارے لئے باعث خوشی ہے۔

نیوزنور:ترکی کے صدر نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے والے اپنی ایٹمی سرگرمیوں پر نظرڈالیں، ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کی حمایت صرف اسرائیل کررہا ہے۔

نیوزنور:اقوام متحدہ میں فلسطین کے مستقل مندوب نے کہا ہےکہ سلامتی کونسل نے اسرائیل کے سامنے خود کو مفلوج ثابت کیا ہے۔

نیوزنور:امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے خبردار کیا ہے کہ شمالی کوریا امریکہ کو جوہری میزائل سے نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کے قریب ہے۔


  فهرست  
   
     
 
    
ٹرامپ کا ریاض کا دورہ اور مشرق وسطی کے لیے اس کے متوقع نتائج

نیوزنور:امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے ایسی حالت میں سعودی عرب کے پایتخت ریاض میں قدم رکھا ہے کہ جو مشرق وسطی[مغربی مشرق] کے اس کے مستقبل قریب میں اس کے دوروں کی شروعات ہے ، اسی طرح یہ دورہ ایسے حالات میں ہوا ہے کہ واشنگٹن میں کاخ سفید بحران سے دوچار ہے ۔ ٹرامپ کے اس دورے کو چند بنیادی مشکلوں کا سامنا ہے کہ جن میں سب سے پہلی اور اہم ترین مشکل خارجی لحاظ سے مشرق وسطی[مغربی مشرق] میں طاقت کے توازن کو بچا کر رکھنا ہے ۔

استکباری دنیا صارفین۹۸۲ : // تفصیل

ٹرامپ کا ریاض کا دورہ اور مشرق وسطی کے لیے اس کے متوقع نتائج

نیوزنور:امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے ایسی حالت میں سعودی عرب کے پایتخت ریاض میں قدم رکھا ہے کہ جو مشرق وسطی[مغربی مشرق] کے اس کے مستقبل قریب میں اس کے دوروں کی شروعات ہے ، اسی طرح یہ دورہ ایسے حالات میں ہوا ہے کہ واشنگٹن میں کاخ سفید بحران سے دوچار ہے ۔ ٹرامپ کے اس دورے کو چند بنیادی مشکلوں کا سامنا ہے کہ جن میں سب سے پہلی اور اہم ترین مشکل خارجی لحاظ سے مشرق وسطی[مغربی مشرق] میں طاقت کے توازن کو بچا کر رکھنا ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاوس کو گذشتہ چند ماہ میں ایک کے بعد ایک مشکل کا سامنا رہا ہے ، اور ٹرامپ کا مشرق وسطی[مغربی مشرق] اور سعودی عرب کا دورہ ایسی حالت میں ہورہا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ اپنی پوری کوشش کر کے علاقے کے اپنے دوستوں کو یہ سگنل دینا چاہتا ہے کہ امریکی سیاست میں تمام داخلی مشکلات کے بر خلاف واشنگٹن پہلے کی طرح خارجی سطح پر ایک متحدہ اور منطقی سیاست کا راستہ ہموار کرنے کی طاقت رکھتا ہے ۔

اس کے باوجود حالات ایسے ہیں کہ ان دوروں میں ٹرامپ اور اس کی ٹیم کی طرف سے معمولی سی غلطی بھی مشرق وسطی[مغربی مشرق] کے مستقبل اور اس علاقے کے لیے امریکہ کی آیندہ کی حکمت عملی کو بنیادی طور پر دگر گون کر کے دوسری سمت کی جانب موڑ سکتی ہے ۔

اس وقت تک واشنگٹن میں سفیروں اور خارجی ملکوں کے حکام کے ساتھ ڈونالڈ ٹرامپ کی جو ملاقاتیں رہی ہیں وہ اس کے لیے اور اس کی ٹیم کے لیے دونوں فریقوں کی پہچان کی حد تک رہی ہیں ۔ لیکن اس کے بعد ٹرامپ کے دورے اور ملاقاتیں نیا اور سنجیدہ روپ اختیار کریں گے ۔ اس کے بعد مختلف ملکوں کے حکام کہ ٹرامپ جن کے ساتھ ملاقات کرے گا ، وہ اس سے براہ راست خارجی سیاست کے بارے میں سنجیدگی سے درخواست کریں گے کہ ممکن ہے کہ وہ امریکہ کے مفادات کے حق میں ہوں یا ان کے خلاف ہوں۔

مثال کے طور پر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مشرق وسطی[مغربی مشرق] کے اس دور کے سفر میں ٹرامپ کا ایک اہم کام ایران کا موضوع ہوگا ۔ اس وقت اسرائیل کی حکومت اور خلیج فارس کے کچھ عرب ملک ایران کو اپنے لیے پہلا اور سنجیدہ خطرہ سمجھ رہے ہیں ، اور ایک عرصے سے وہ امریکہ سے توقع رکھتے ہیں کہ ایران کے سلسلے میں  جارحانہ اور سختی پر مبنی سیاست اپنائے ۔ 

ٹرامپ کی حکومت نے بتا دیا ہے کہ ایران کے سلسلے میں جوان ملکوں کی مجموعی ذہنیت ہے اس سے وہ اتفاق رکھتا ہے ، اور مشرق وسطی[مغربی مشرق] میں ایران کو پیچھے دھکیلنے کی خاطر وہ ان ملکوں کے تعاون سے اپنی کوشش جاری رکھے گا ؛ لیکن  جو چیز پریشانی کا باعث ہے وہ یہ ہے کہ ٹرامپ اس سفر میں جو کچھ اپنے علاقائی اتحادیوں سے سن رہا ہے اس کو علاقے اور امریکہ کے قومی مفادات کے برخلاف وہ اپنے دستور کار کا حصہ بنائے گا ۔ اصل میں احتمال قوی یہ ہے کہ خاص کر سعودی عرب علاقے میں ایران کا محاصرہ کرنے کے لیے  دلچسپ آئیڈیے ٹرامپ کو دے سکتا ہے ، جو علاقے کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں اور خود امریکہ کے مفادات کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ڈونالڈ کے ہمراہ جو ٹیم ہے ان کا ان آئیڈیوں کی جانچ پڑتال کرنے میں بڑا کردار ہے ۔

بہت سارے لوگ بین الاقوامی روابط کو علم فیزیک کی طرح بتاتے ہیں کہ جس میں ہر عمل اور حرکت کے لیے رد عمل اور ضد حرکت ہے ۔ اس سلسلے میں ٹرامپ کو ایک اہم مشکل کا سامنا ہے اور وہ تمام پیچیدہ تحقیقات میں تعادل اور توازن بر قرار کرنا ہے کہ جن میں سے بہت ساری چیزیں اس کی سمجھ سے باہر ہیں ۔

مثال کے طور پر دو موضوع کہ جن میں ایک  واشنگٹن اور ریاض کے درمیان ۱۱۰ ارب ڈالر کی ہتھیاروں کی قرارداد ہے  اور دوسرا موضوع کہ جو عربی نیٹو کے نام سے مشہور ہوا ہے ، دونوں موضوع ٹرامپ کے دستور کار کا حصہ ہیں ٹرامپ ظاہرا خوشحال ہو گا کہ علاقے کے عرب ملک متحد ہو کر امریکی ہتھیاروں کے ذریعے دہشت گردی یعنی ایران کا مقابلہ کریں ۔

لیکن ٹرامپ کی خواہشوں کا یہیں پر خاتمہ  ہو جاتا ہے اور بظاہر اس سے زیادہ اس کی کوئی خواہش نہیں ہے  کہ وہ اس منصوبے کی عملی مشکلات کا سامنا کرے منجملہ عرب ملکوں کی جو ایکدوسرے سے مختلف توانائیاں ہیں اسی طرح خلیج فارس کے ملکوں میں جو کئی طرفہ اور دو طرفہ بد گمانیاں ہیں ان میں مداخلت کرے ۔

اسی طرح سب سے اہم موضوع یہ ہے کہ اس طرح کا اتحاد صہیونی حکومت کی نظر میں کیسا ہو گا ۔ امریکہ نے عرب ملکوں کو  کئی سال تک ہتھیار بیچنے کو متوقف کر رکھا تھا ، تا کہ اسرائیل کی حکومت کیفی لحاظ سے فوجی میدان میں برتر حکومت بن کر رہے ۔ یہ صرف ایک حکمت عملی نہیں ہے بلکہ ایک قانون ہے کہ جسے کانگریس نے پاس کیا ہے ۔ شاید ٹرامپ ہنستے ہوئے اور راضی خوشی سعودی عرب کو ترک کرے ، لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ واشنگٹن کی طرف واپسی کے بعد امریکی سینیٹ سعودی عرب کے ساتھ کی گئی بہت ساری قرار دادوں کو لغو کر دے اور خارجی سیاست کے میدان میں اس کے لیے ایک اور شکست کو لکھ دے ۔

اسرائیلی حکومت اور فلسطین کے درمیان مناقشے کا موضوع بھی اسی طرح کا ہے وہ جس طرح اسرائیل کے ساتھ اپنی پابندی کو دکھا رہا ہے ، اسی طرح فلسطین کے لوگوں کو بھی یقین دلائے رکھے تا کہ اختلاف کے حل کی ڈیپلومیسی کو آگے بڑھا سکے ۔ وہ موضوع کہ امریکہ کے منظم ترین اور منطقی ترین صدور بھی جس منصوبے کو کامیابی کے ساتھ آگے بڑھانے میں ناکام رہے ہیں ۔

جو کچھ دکھائی دیتا ہے وہ یہ ہے کہ مشرق وسطی[مغربی مشرق] کا ڈونالڈ ٹرامپ کا یہ دورہ گہرائی کے اعتبار سے امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے لیے زیادہ اچھے نتائج کا حامل نہیں ہو گا ۔ اس سفر میں ٹویٹر کے لیے خوبصورت تصویریں ہو ں گی اور دونوں فریقوں کی مسکراہٹیں ہو ں گی ، اس لیے کہ عرب ملک ٹرامپ کے دورے کو کامیاب ظاہر کرنے کی بہت کوشش کریں گے ۔ لیکن اس ماجرا کے باطن میں ایسی واقعیت ہے کہ جس کو نہ ٹرامپ بیان کر سکتا ہے اور نہ اس ملک کے اتحادی ۔   

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر