تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور:ایرانی صدر کے معاون نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عالمی سطح پر غیر مہذبانہ رفتار امریکہ کے لئے شرم آور ہے جو دنیا میں سپر پاور ہونے کا مدعی ہے سعودی عرب ام الفساد اور دہشت گردی کے فروغ کا اصلی مرکز ہے جسے امریکی سرپرستی حاصل ہے۔

نیوزنور:روس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی سربراہی والا اتحاد دہشت گرد گروہ جبھۃ النصرہ کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

نیوزنور:بحرین کی تنظیم برائے انسانی حقوق کے صدر نے کہا ہے کہ آل خلیفہ کے ظلم وستم اور اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود بحرین میں انسانی حقوق کا کام بند نہیں کریں گے۔

نیوزنور:ایک امریکی روزنامے نے لکھا ہے کہ وائٹ ہاوس ایران پر حملہ کرنے کا بہانہ تلاش رہا ہے حالانکہ ٹرمپ کو ایرانی تاریخ سے عبرت حاصل کرنا چاہئے۔

نیوزنور:فلپائن کے صدرنے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکا کے دورے کی دعوت مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کبھی بھی امریکا نہیں جائیں گے۔

  فهرست  
   
     
 
    
امیر عبد اللھیان کی خبر نگاروں کے ساتھ گفتگو؛
سعودی عرب میں وہ ظرفیت نہیں کہ اسے ایران کی ٹکر کا دشمن قرار دیا جائے

نیوزنور:مجلس شورای اسلامی (پارلیمنٹ)ایران  کے اسپیکر کے خصوصی معاون نے بتایا : ایران کی اسٹریٹجی کے پیش نظر سعودی عرب میں وہ ظرفیت نہیں کہ اسے ایران کی ٹکر کا دشمن قرار دیا جائے۔

اسلامی بیداری صارفین۱۲۰۱ : // تفصیل

امیر عبد اللھیان کی خبر نگاروں کے ساتھ گفتگو؛

سعودی عرب میں وہ ظرفیت نہیں کہ اسے ایران کی ٹکر کا  دشمن قرار  دیا جائے

نیوزنور:مجلس شورای اسلامی (پارلیمنٹ)ایران  کے اسپیکر کے خصوصی معاون نے بتایا : ایران کی اسٹریٹجی کے پیش نظر سعودی عرب میں وہ ظرفیت نہیں کہ اسے ایران کی ٹکر کا دشمن قرار دیا جائے۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق 21مئی کے دن  علاقے میں سعودی ۔ امریکی نقل و حرکت کا خبر نگاروں کے ساتھ خصوصی گفتگو کے پروگرام میں بین الاقوامی امور میں مجلس شورای اسلامی(پارلیمنٹ)ایران کے اسپیکر کے خاص معاون حسین امیر اللھیان کی موجودگی میں جائزہ لیا گیا اور اس پر بحث و گفتگو کی گئی ۔

پارلیمنٹ کے اسپیکر کے خصوصی معاون حسین امیر اللھیان نے ابتدا میں اس سوال کے جواب میں کہ ٹرامپ نے کیوں سعودی عرب کا دورہ کیا ، کہا : ٹرامپ نے اپنی الیکشن مہم کے دوران ایسے نظریات پیش کیے تھے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا کہ جن میں سے مہاجرت اور مسلمانوں کے موضوع کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے کہ جو اس وقت ٹرامپ کے منطقی نظریات نہیں تھے ۔ ٹرامپ کی رفتار میں آہستہ آہستہ اصلاح ہو رہی ہے ۔

اس نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ امریکہ کا سیاسی ڈھانچہ اس کوشش میں ہے کہ وہ اس کو چلائے ، اظہار کیا : ٹرامپ کے صدر بننے کے دوسرے دن اس نے امنیتی مشینری کے ساتھ سب سے پہلی میٹینگ کی ، جس سے پتہ چلا کہ اس کی رفتار میں دھیرے دھیرے اصلاح ہو رہی ہے لیکن یہ رفتار قدرے پیچیدہ بھی ہے ۔

بین الاقوامی امور میں پارلیمنٹ کے اسپیکر کے خصوصی معاون نے اس چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ٹرامپ سعودی عرب میں داخل ہوا اور اس کے بعد وہ واٹیکان اور تل ابیب جائے گا اپنی بات جاری رکھی : ٹرامپ نے اسلام ، عیسائیت اور یہودیت کو اپنے سیاسی ، اقتصادی اور امنیتی مقاصد کی مضبوط پوشش کی چھاوں میں لے رکھا ہے ۔

امیر عبد اللھیان نے اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ مالی مسائل میں ٹرامپ ایک خاص تجربے کا مالک ہے کہا : امریکہ کے اس صدر نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ اس طرح پیش آئے گا کہ سعودی عرب ہر قسم کی کاروائی کا خرچ نقدی صورت میں دے گا ۔

اس نے ٹرامپ کے سعودی عرب کے دورے کے  توانائی ، تیل ، ہتھیاروں کی فروخت اور اپنے ملک کے اندر روزگار پیدا کرنے کے مقاصد کی خاطر ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا : سعودی عرب نے کانفرنس منعقد کرنے کے لیے دسیوں اسلامی ملکوں کو دعوت دی ہے اور ٹرامپ اس چیز کے پیچھے ہے کہ مختلف موضوعات میں حمایت کے نتیجے میں حاصل ہونے والے فائدے کو اپنے مطلوبہ مقاصد کی تکمیل  کر سکے ۔

ٹرامپ کا یہ دورہ علاقے اور دنیائے اسلام کے لیے مبارک نہیں ہو گا ،

بین الاقوامی امور میں پارلیمنٹ کے خصوصی معاون نے تصریح کی : ٹرامپ کے طرز عمل کی امریکہ میں موجود سسٹم کے ذریعے ہدایت ہورہی ہے ، البتہ یہ موضوع قدرے پیچیدہ ہے اور یہ دورہ علاقے اور دنیائے اسلام کے لیے مبارک نہیں ہو گا عرب ملکوں کے حکام کا اشکال یہ ہے کہ وہ اپنی مشروعیت کو خارجی طاقتوں سے بھیک کے طور پر لیتے ہیں اور ان کی حکومت اور عوام کے درمیان شگاف پایا جاتا ہے ۔

جمہوریء اسلامیء ایران خارجی سیاست اور قومی سلامتی کے میدان میں اپنی زیادہ سے زیادہ قومی سلامتی کے لیے وہ کسی سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا ۔

اس نے اس چیز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ سعودی عرب کی کوشش ہے کہ اس موقعے پر امریکہ کی حمایت حاصل کر لے اپنی بات آگے بڑھائی : اس سفر کے سکے کا دوسرا رخ پوشیدہ ہے سعودی عرب اس چیز کے پیچھے ہے کہ ٹرامپ کی امریکی طاقت سے اپنے لیے مشروعیت حاصل کرنے اور سعودی عرب کو دوبارہ اقتدار دلانے اور ایران اور محور مقاومت کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال کرے ۔

سعودیہ والے امتیاز دے کر قانون جاستا کو ختم کروانا چاہتے ہیں ۔

بین الاقوامی امور میں پارلیمنٹ کے اسپیکر کے خصوصی معاون نے سکے کے دوسرے رخ کو جاستا کا قانون قرار دیا اور بتایا : قانون جاستا نے واقعی سعودی عرب کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے ٹرامپ کے بر سر اقتدار آتے ہی سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے کہ جو بیس سال پہلے واشنگٹن میں سعودی عرب کا سفیر تھا ۴۵ دن وہاں گذارے تا کہ ٹرامپ کے ساتھ ملاقات کر سکے ۔ سعودیہ والے امتیاز دے کر اس چیز کے پیچھے ہیں  کہ جاستا کے قانون کو ختم کر سکیں اس لیے کہ سعودیہ والے ۱۱ ستمبر کے حادثے میں پہلے نمبر کے شریک ہیں ۔

ریڈیو اور ٹی وی کے نامہ نگار کامران نجف زادہ نے ایک گفتگو کے دوران ٹیلیفون پر نیو یارک سے اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ سعودی عرب کا ۱۱ ستمبر کے حادثے میں بنیادی کردار تھا مزید کہا : ٹرامپ نے  حکومت سنبھالنے کی ابتدا میں کہا تھا کہ سعودی عرب کی بھینس کا دودھ دھو کر اسے علاقے میں کھلا چھوڑ دینا چاہیے ۔

اس نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ٹرامپ بعض ذرائع ابلاغ کو قیمت ادا کرے گا اس لیے کہ ۲۸ صفحے کی فائل ہے کہ جس سے پتہ چلتا ہے کہ ۱۱ ستمبر کے حادثے میں سعودیہ والوں کا ہاتھ تھا یاد دلایا : آج امریکہ کو مالی اعتبار سے سعودی عرب کی ضرورت ہے اور دوسری طرف سعودی عرب یمن میں پھنسا ہوا ہے اور اس کے حالات اچھے نہیں ہیں ، سعودیوں نے ایک چیز کا حساب نہیں لگا یا ہے اور وہ یہ کہ امریکہ کے صدر کا پیٹ نہیں بھرتا ۔

امیر عبد اللھیان نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ دو سال سے زیادہ ہو گئے ہیں کہ سعودی عرب امریکہ کی ہر طرح کی حمایت سے یمن میں جنگ کر رہا ہے ، کہا : جدید ترین ہتھیار جو امریکہ سعودی عرب کو دے رہا ہے وہ اس طرح بنائے گئے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک دن یہ ہتھیار سعودی عرب کی سلامتی کے لیے خطرہ بن جائیں ۔

اس نے مزید کہا : یہ ہتھیار واقعی خرابیوں کے ساتھ سعودی عرب اور دوسرے عرب ملکوں کو دیے گئے ہیں اس طرح کہ یہ کاروائی کے دوران کبھی بھی صہیونی حکومت کی جانب نہیں مڑ سکتے ۔

بین الاقوامی امور میں پارلیمنٹ کے اسپیکر کے خصوصی معاون نے اس بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہ ٹرامپ کے سفر سے سعودی عرب کو کیا ملا ہے بیان کیا : سعودی عرب اس بازیگری اور ڈیپلومیسی کی اور سیاسی نمائش سے چاہتا ہے کہ ایک بار پھر خود کو دنیائے اسلام کے رہبر کے طور پر پہچنوائے ساتھ ہی اس کوشش میں ہے کہ امریکہ کے سہارے عوام کے اندر اپنی مقبولیت میں کمی کا جبران کرے ۔

امیر عبد اللھیان نے اپنی بات جاری رکھی : اسی طرح کہ جو علاقے میں دہشت گردی کو وجود میں لانے والا اور اس کو تقویت پہنچانے والا ہے وہ خود کو علاقے میں دہشت گردی کے خلاف ایک نئے گٹھ بندھن کا سربرا  ہ بنانا چاہتا ہے تا کہ اس طرح اپنی کچھ مشکلات پر پردہ ڈال سکے ۔

اس نے آگے اس دورے کے دوران امریکہ کے محصولات کی جانب اشارہ کیا اور اظہار کیا : صہیونی حکومت کا زیادہ سے زیادہ تحفظ ، امریکہ کے اندر سعودی عرب کے سرمائے کو کھینچنا ، تا کہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں ، اور کام پیدا کرنے اور آمدنی بڑھانے کے لیے اس ملک کے ہتھیاروں کی فروخت ٹرامپ کے اس  دورے کے محصولات ہیں ۔

امیر عبد اللھیان نے تصریح کی : لیکن یہ سوال کہ امریکہ کس قدر تمام موضوعات منجملہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے مسئلے کا پا بند ہے اس کا جواب اس کے قومی مفادات کی تکمیل میں ہے نہ ان سمجھوتوں میں جو اس سفر میں امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہوئے ہیں ۔

پارلیمنٹ کے اسپیکر کے خصوصی معاون نے اس چیز کے بارے میں کہ آیا عربی محور اور عبری ،غربی محور پر یہ سفر بڑے مشرق وسطی کے خواب کے چکنا چور ہو جانے کا متبادل ہے ، بیان کیا : بڑے مشرق وسطی کی تشکیل کا منصوبہ مرا ہوا پیدا ہوا تھا اور امریکی بڑے مشرق وسطی کے منصوبے سے کچھ بھی حاصل نہیں کر پائے تھے ۔

 اس نے  آگے یہ بیان کرتے ہوئے  کہ اس موقعے پر امریکہ والے علاقے  میں چند اہم موضوعات کے پیچھے ہیں ، کہا :وہ شروع میں یہ چاہتے ہیں کہ مقاومت کے محور کو توڑا جائے اور اس سلسلے میں وہ بڑے  مشرق وسطی کی تشکیل میں شکست سے سبق لیں گے تا کہ ایک اور شکست ان کو نصیب نہ ہو ۔

امیر عبد اللھیان نے اپنی بات آگے بڑھائی : اسی طرح ایک بڑا اہم مقصد کہ امریکیوں اور سعودیوں نے ٹرامپ کے سعودی عرب کے دورے کا اعلان کیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ جمہورہی اسلامیء ایران کے خلاف ایک نیا گٹھ بندھن بنانا چاہتے ہیں  اور یہ وہ چیز ہے کہ سعودیہ والے ٹرامپ کے بر سر اقتدار آنے کے بعد بڑی بے تابی کے ساتھ اس کا پیچھا کر رہے ہیں اور ان کو امید ہے کہ اس جلسے میں کہ جو آج کچھ اسلامی ملکوں اور ٹرامپ کی موجودگی میں ہونے والا ہے اس بات کا اعلان کریں گے کہ جو ایک طرح سے ایران ہراسی کی طرف واپسی ہے اور سعودی عرب کوشش کر رہا ہے کہ اس سفر سے پہلے ایران ہراسی کی ایک نئی لہر ایجاد کرے اور جمہوریء اسلامیء ایران کے ساتھ مقابلہ کی ایک نئی فضا ایک نئے گٹھ بندھن کے قالب میں ہموار کرے ۔

بین الاقوامی امور میں پارلیمنٹ کے خصوصی معاون نے یاد دلایا : یہ نقل و حرکت ایسی حالت میں ہے کہ میں نے ہمیشہ حکام سے عرض کیا ہے کہ جمہوریء اسلامی کا علاقے میں معنوی نفوذ ہے اور حتما ہم اپنے معنوی نفوذ سے اپنی قومی سلامتی کی زیادہ سے زیادہ حفاظت کے لیے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔

اس نے امریکہ کی کوشش کے بارے میں کہ جو کردوں کو بھاری ہتھیار دینے کی قرار داد کے بارے میں ہے اور اردوغان کی اس اقدام کی مخالفت کے بارے میں کہا : امریکہ چاہتا ہے  کہ آیندہ مہینوں میں علاقے کی چند فائلوں کو اپنی سیاست کے مطابق دوبارہ کھولے کہ جن میں سے ایک فائل شام کی فائل ہے ۔

امیر عبد اللھیان  نے آگے بتایا : اس بنیاد  پر وہ شام میں ایک پر امن علاقہ ایجاد کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں وہ ایک قرار داد کے پیچھے ہیں تا کہ رقہ کو داعش سے آزاد کروا کے اس کو شام کی رسمی اور جائز حکومت کے مخالف گروہ کے حوالے کریں اس سلسلے میں ان کا مطلوب یہ ہے کہ وہ کردوں کو استعمال کریں ، لیکن اس کے باوجود کہ اس کاروائی کے حق میں ہے ترجیح دے گا کہ جو گروہ اس علاقے میں مستقر ہو اس کا تعلق جیش الحر سے ہو کہ جس کو خود اس نے تیار کیا ہے تا کہ ترکی کے نفوذ میں بھی اضافہ ہو اور کردوں کے افراد بھی کہ جو ترکی کے مفادات کے خلاف ہیں اہم کردار ادا نہ کر سکیں ۔

بین الاقوامی امور میں پارلیمنٹ کے اسپیکر کے ترجمان نے اپنے بیان کے دوسرے حصے میں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ سعودی عرب کس حد تک اپنے طے شدہ مقاصد تک پہنچ سکتا ہے بیان کیا : سعودی عرب اس وقت بہت بری کنڈیشن میں ہے ، موجودہ سعودی عرب کے ساتھ کہ جس پر ایک ریڈیکل ، شدت پسند اور جنگ طلب جماعت کی حکومت ہے ، اقتدار اور طاقت  کی حکمت کے ساتھ نمٹا جا سکتا ہے ۔

 سعودی عرب اس پوزیشن کا مالک نہیں ہے کہ اس کو ایران کا دشمن قرار دیا جائے ،

اس نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ہم نے اپنی حکمت عملی میں سعودی عرب کو دشمن نہیں مانا ہے تاکید کی : سعودی عرب  اصلا اس پوزیشن کا مالک نہیں ہے کہ اس کو جمہوریء اسلامیء ایران کی حکمت عملی میں    دشمن کا درجہ دیا جائے  ۔

بین الاقوامی امور میں پارلیمنٹ کے اسپیکر کے خصوصی معاون نے مزید کہا : خاندان آل سعود کے اندر بحران اس وقت بد ترین حالت اختیار کر چکا ہے کہ جو اس طرح کے منظر ناموں کو وجود میں لاتا ہے  کہ کبھی محترمہ ٹرازامی کو اور کبھی ٹرامپ کو دعوت دیتا ہے ۔

امیر عبد اللھیان نے اپنی بات آگے بڑھائی : سعودی عرب کے بارے میں ہم بات کرتے ہیں کہ جب اس نے یمن پر حملہ کرنا چاہا تو اس کے وزیر خارجہ نے واشنگٹن سے جنگ کا اعلان کیا ۔ وہی کام کہ جو سعودی والے مقفل ذہن کے ساتھ دوسرے علاقوں میں انجام دیتے ہیں اپنے ملک کے ساتھ بھی وہی کرتے ہیں ۔

بحرین کی حکومت آیۃ اللہ شیخ عیسی قاسم کے خلاف حکم پر عمل کے نتائج کو تحمل کرنے پر قادر نہیں ہو گی ۔

اس نے آیۃ اللہ شیخ عیسی قاسم کے خلاف حکم کے بارے میں بھی بیان کیا : شیخ عیسی قاسم پر بحرین کی حکومت کے دباو سے نہ صرف مشکل حل نہیں ہو گی بلکہ حالات اور پیچیدہ ہو جائیں گے اور بحرین کی حکومت اس کے نتائج کو تحمل نہیں کر پائے گی ۔

بین الاقوامی امور میں پارلیمنٹ کے اسپیکر کے خصوصی معاون نے آخر میں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ جمہوری اسلامی ایران خارجی سیاست کے میدان میں اور اپنی قومی سلامتی کی حفاظت میں کسی فریق کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی کہا : جمہوریء اسلامی کے مقام نے حالیہ انتخاب میں مشروعیت پیدا کرنے کے اعتبار سے بھی اور ملک کی دفاعی بنیادوں کے اعلی سطح پر مضبوط ہونے کے لحاظ سے بھی اور انقلاب اسلامی کے مکمل طور پر منطقی ہو نے نے بھی ہمارے لیے خطے میں بہت بڑی گنجائش اور اعلی پیمانے پر ہمہ گیر نفوذ کی ایجاد میں مدد کی ہے ۔         

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر