تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور21اپریل/لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مشہور تجزیہ کار نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عربی ممالک کی اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بات چیت بالخصوص اسلامی جمہوریہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

نیوزنور21اپریل/شیخ الازهر مصر نے تاریخ اسلام کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہےکہ قدس اسلامی ـ عربی سرزمین ہے اور ہمیشہ اسلامی سرزمین  کے طور پرباقی رہے گی۔

نیوزنور21اپریل/سرزمین عراق کےایک معروف عالم دین نے کہا ہےکہ عرب لیگ میں فلسطین کے دفاع اور وہاں کے موجودہ حالات کو بدلنے کی توانائی موجود نہیں ہے ۔

نیوزنور21اپریل/حزب الله لبنان کی ایگزیٹو کونسل کے نائب صدر نے عرب ممالک کی فوج کو شام میں داخل ہونے کے حوالہ سے کئے جانے والے ہرقسم کے فیصلہ کے سلسلے میں منتبہ کرتے ہوئے اسے ایک قسم کا تجاوز قرار دیا ہے ۔

نیوزنور21اپریل/بحرین کی سکیورٹی فورسز نے اپنے تازہ ترین اقدام میں بحرین کے روحانی رہنماء کے گھر کے اطراف میں خاردار تاروں کی باڑ لگا دی ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
شیخ نمر کے شہر میں لگاتار دو ہفتوں سے حکومتی دہشتگردی جاری

نیوزنور:سعودی کہ جو دو ہفتوں سے شہر عوامیہ کے ایک دیہات المسورہ میں تباہی مچائے ہوئے ہیں لوگوں کی مقاومت کے بعدا نہوں نے  حملوں کی شدت میں اضافہ کیا ہے اور علاقے کے بہت سارے باشندوں کو گرفتار کر لیا ہے ۔

استکباری دنیا صارفین۱۱۰۴ : // تفصیل

شیخ نمر کے شہر میں لگاتار دو ہفتوں سے حکومتی دہشتگردی جاری

نیوزنور:سعودی کہ جو دو ہفتوں سے شہر عوامیہ کے ایک دیہات المسورہ میں تباہی مچائے ہوئے ہیں لوگوں کی مقاومت کے بعدا نہوں نے  حملوں کی شدت میں اضافہ کیا ہے اور علاقے کے بہت سارے باشندوں کو گرفتار کر لیا ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق سعودی فوجی کہ جو ابھی سعودی عرب کے مشرق میں شہر عوامیہ میں موجود ہیں ، لگاتار رہائشی مکانوں کو آگ لگا رہے ہیں اور تباہ کر رہے ہیں ۔

ان اقدامات کے چلتے سعودی شہریوں کے مساجد اور مدارس کو گولیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور مسجدوں اور مدرسوں کی دیواروں پر گولیوں کے نشان دکھائی دے رہے ہیں ۔

نباء نیوز ایجینسی نے یہ خبر منتشر کرتے ہوئے لکھا ہے : عوامیہ میں دوسرے ہفتے سے فوجیوں کا حملہ جاری ہے اور گھروں کی ویرانی میں شدت آ گئی ہے اور گولوں کی آواز نے اس شہر کے رہنے والوں کا چین سکون چھین لیا ہے ساتھ ہی کچھ تعداد میں شہری لا پتہ ہو چکے ہیں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کو فوجیوں نے گرفتار کر لیا ہے ، اور گولیوں کے نتیجے میں جو لوگ مارے گئے ہیں ان کے اجساد زمین پر پڑے دکھائی دے رہے ہیں ۔

سعودی عرب نے ایک عرصے سے یہ طے کیا تھا کہ المسورہ نام کے دیہات کو شیخ نمر کی جنم بومی ہے اور وہاں سے حکومت اور سعودی عرب کی حاکمیت کے خلاف اعتراضات کیے جاتے ہیں ، وہاں کے مکان قدیمی ہونے کے بہانے اور علاقے کو وسعت دینے کی خاطر مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے اور انہوں نے اس کام کو شروع کر دیا ہے ۔

العوامیہ پر حملے کے لگاتار تیرہویں دن سیکیوریٹی فوجوں کا ارادہ ہے کہ سعودی عرب کے اس علاقے کے شہروں کے لوگوں کی مقاومت اور پایداری کو توڑ دیں اسی وجہ سے گولی باری کی شدت میں اضافہ کر دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ شہریوں کے اجساد پر بھی گولیاں برساتے ہیں ۔

ایک انتہائی عجیب اقدام کے تحت سعودی فوجی لوگوں کو ڈرانے کے لیے گرینیڈ سے بھی کام لیتے ہیں جس سے لوگوں کے جانی اور مالی نقصان میں اور ان کو صدمہ پہنچنے میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔

اس رپورٹ کی بنیاد پر سعودی فوجیوں نے العوامیہ پر حملے کے تیرہویں دن ، شکر اللہ کے محلے پر میانے ہتھیاروں سے حملہ کیا اور الجمیمہ اور العونیہ پر گرینیڈ سے حملے کیے ، لیکن المسورہ میں انہوں نے آگ لگانے والے بمب استعمال کیے ۔

دوسری طرف کہا جاتا ہے کہ العوامیہ کے بہت سارے باشندے لاپتہ ہو گئے ہیں اور احتمال قوی یہ ہے کہ ان کو سعودی فوجیوں نے گرفتار کر لیا ہے ۔

آل سعود کے فوجی اس دیہات کو الگ تھلگ رکھنے کی سیاست پر عمل پیرا ہیں ، اور باٹنی دیواریں بنا کر محلوں کے درمیان رفت و آمد کو روک رہے ہیں ، انہوں نے اطراف کے شہروں اور دیہاتوں سے  ان کا رابطہ بالکل کاٹ دیا ہے اور امداد رسانی کی اجازت نہیں دے رہے ہیں ۔

اس سے پہلے گذشتہ مہینوں میں سعودی عرب کی حکومت نے علاقے کی بجلی کاٹ رکھی تھی ۔

آج صبح سے سعودی فوجیوں نے بکتر بند گاڑیوں اور بلڈوزروں سے المسورہ پر حملہ کیا اور چار گھنٹے تک اس دیہات پر گولہ باری  کرتے رہے۔ یہاں تک کہ اس شہر کے رہنے والوں نے فوجیوں کے آگے بڑھنے کے راستے بند کر دیے اور کچھ عرصے کے لیے گولہ باری بند ہو گئی لیکن اس شہر کے کچھ باشندے زخمی ہو گئے ۔

فوجی بھی جب شہر کو تباہ کرنے میں ناکام ہو گئے تو العوامیہ کے دوسرے علاقوں جیسے العونیہ ، شکر اللہ اور الجمیمہ  میں انہوں نے کھیتوں اور رہائشی مکانوں کو آگ لگانا شروع کر دی ۔

سعودی فوجی احد روڈ  پر  واقع القطیف میں داخلے کے راستوں کو بند رکھنے میں ناکام رہے اور ملازموں کو اپنے کام سے اپنے گھروں میں واپس آنے سے نہیں روک سکے ۔ لیکن اس دوران کچھ سعودی شہری لاپتہ ہو گئے کہ جن میں عبد اللہ سعید البدن کا نام دکھائی دیتا ہے اس کے ساتھ فوجیوں نے کچھ شہریوں کے گھروں پر حملہ کر کے انہیں گرفتار کر لیا ۔

سعودی سیکیوریٹی فوجوں نے اب تک کئی بار العوامیہ پر اور خاص طور پر المسورہ پر حملے کیے ہیں اور بہت سارے گھروں کو تباہ کیا ہے لیکن اس بار وہ زیادہ شدت کے ساتھ بین الاقوامی سوسائٹی کی خاموشی کے چلتے اس جنایت کو تکرار کر رہے ہیں ۔

کہا جاتا ہے کہ سعودی حکام علاقے کو وسعت دینے کے بہانے المسورہ دیہات کے تمام گھروں کو تباہ کر دینا چاہتے ہیں ۔

دوسری طرف سعودی عرب کی تیز کاروائی کرنے والی فوج نے دعوی کیا ہے کہ اس دیہات کو بد امنی اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیزی کے ساتھ تباہ کر دیا جانا چاہیے ۔ اس لیے کہ وہیں سے ہر اعتراض جنم لیتا ہے ۔

سعودی عرب کی ۱۰ سے ۱۵ فیصد آبادی شیعہ ہے کہ جو زیادہ تر الشرقیہ کے علاقے میں کہ جس میں چند صوبے ہیں رہتے ہیں ۔ ان صوبوں میں سعودی عرب کا سب سے زیادہ تیل پایا جاتا ہے ۔

سعودی عرب کے اعتراض کرنے والے فروری ۲۰۱۱ سے سعودی عرب کے الشرقیہ میں خاص کر قطیف اور عوامیہ میں سڑکوں پر مظاہرے کر کے ، سیاسی قیدیوں کی آزادی ، آزادیء بیان ، اجتماعات منعقد کرنے کی  آزادی اور اسی طرح امتیازی سلوک ختم کیے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔     

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر