تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور: روسی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں دفاع اور امن کی کمیٹی کے سربراہ کے نے کہا ہے کہ اس بات کا امکان 100% کے قریب ہے کہ داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی موت واقع ہو چکی ہے۔

نیوزنور:ایران کے نائب وزیر خارجہ نے سعودی عرب پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب نے جو خطرناک کھیل شروع کر دیا ہے اس میں اسے بری طرح سے شکست ہو گی۔

نیوزنور:ترکی کے وزیر دفاع نے قطر میں فوجی اڈے ختم کرنے کی خلیج فارس تعاون کونسل کی درخواست کو ترکی کے امور میں مداخلت قرار دیا ہے۔

نیوزنور:سعودی عرب کی مسلسل گرتی ہوئی اقتصادی صورتحال کی بدولت آل سعود نے خاندان کو اپنے ساتھ رکھنے والے غیر ملکی شہریوں کو فی فرد کے حساب سے ایک سو ریال ماہانہ ٹیکس سعودی حکومت کو ادا کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

نیوز نور:امریکہ کے ایک سینئر سینیٹر نے شام کی سرکاری فوج پر  امریکی فضائی حملوں کی پرزورالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں غیر قانونی اوربین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قراردیا۔

  فهرست  
   
     
 
    
امیر قطر کی اختلافی گفتگو سے ؛
سعودی عرب کے ٹرامپی اقتدار کی کروڑوں ڈالر کی تصویر چکنا چور ہو گئی

نیوزنور:سعودی عرب نے ٹرامپ کی میزبانی میں کروڑوں ڈالر خرچ کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ایران کے مقابلے میں ایک طاقتور اتحاد کی سربراہی کررہا ہے لیکن اس کروڑوں ڈالر کی ٹرامپی اقتدار میں امیر قطر  کی معمولی گفتگو سے یہ پوری تصویر مسخ ہو گئي ۔

اسلامی بیداری صارفین۹۹۰ : // تفصیل

امیر قطر کی اختلافی گفتگو سے ؛

سعودی عرب کے ٹرامپی اقتدار کی کروڑوں ڈالر کی تصویر چکنا چور ہو گئی

نیوزنور:سعودی عرب نے ٹرامپ کی میزبانی میں کروڑوں ڈالر خرچ کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ایران کے مقابلے میں ایک طاقتور اتحاد کی سربراہی کررہا ہے لیکن اس کروڑوں ڈالر کی ٹرامپی اقتدار میں امیر قطر  کی معمولی گفتگو سے یہ پوری تصویر مسخ ہو گئي ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں  قطر نیوز ایجینسی ( قنا ) نے  تمیم ابن احمد کی خبر دکھائی جس نے بہت بڑا جنجال برپا کیا اور سعودیوں کے کام و دہن کو انتہائی تلخ کر دیا ۔

قطر نیوز ایجینسی نے کہ جس نے بعد میں اس خبر کو سایٹ ، ٹویٹر اور دوسرے ذرائع سے حذف کر دیا اور اس کی تکذیب کی اور اعلان کیا کہ اس کی ویبگاہ ہیک ہو گئی ہے ، اس میں کہا گیا تھا کہ امیر قطر نے شمال کی چھاونی سے  کچھ فارغ التحصیل ہونے والے  فوجیوں کے مجمع میں علاقے کے کچھ ملکوں پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ دوحہ دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتا اور اس کے ایران کے ساتھ روابط اچھے ہیں کہ جس کی یعنی ایران کی  وجہ سے علاقے میں امن کی فضا قائم ہے ۔

حذف شدہ خبر کی بنیاد پر امیر قطر نے کہا ہے کہ سعودی عرب ، بحرین  ، مصر اور امارات جو اس پر تنقید کرتے ہیں وہ درست نہیں ہے اور دوحہ نہ صرف دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتا بلکہ داعش کے خلاف گٹھ بندھن کا رکن بھی ہے ۔

ان باتوں کا کہنا ان کے سچ یا جھوٹ ہونے سے قطع نظر کرتے ہوئے ، ان کا منتشر ہونا ہے کہ جو اس وقت جنجال برپا کر چکا ہے اور سعودیوں نے بھی نہیں مانا ہے کہ قطر کی خبری سایٹ ہیک ہو گئی تھی ۔

اسی لیے خبروں سے  سعودی عرب کی طرف سے قطر کے الجزیرہ چینل کی سایٹ اور قطر کے کچھ دوسرے روزناموں کی سایٹوں کے  فوری طور پر فیلٹر کیے جانے کا پتہ چلتا ہے ۔

قطر نیوز ایجینسی سے جس خبر کو حذف کیا گیا ہے اس کے مطابق امیر قطر نے کہا ہے کہ اس کے باوجود کہ اس کا ماننا ہے کہ ڈونالڈ ٹرامپ کو امریکہ میں کچھ حقوقی مشکلات کا سامنا ہے اور وہ قطر کے بارے میں  مثبت رویہ نہیں رکھتا لیکن دوحہ کے امریکہ کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں ۔

امیر قطر نے کہا : حماس اور حزب اللہ اسلامی مقاومتی تحریکیں ہیں اور تحریک حماس فلسطینیوں کی سرکاری نمایندہ ہے اور دوحہ نے  اپنے مسلسل رابطے کو اسرائیل اور حماس کے ساتھ برقرار رکھا ہے ۔ تمیم نے سعودی عرب یا کسی دوسرے ملک کے نام کی طرف اشارہ کیے بغیر کہا ہے کہ العدید نام کی امریکہ کی چھاونی کا وجود اس کے ہمسایہ ملکوں کے مقابلے میں ایک مضبوط قلعہ ہے ۔

اس نے ایران کے بارے میں بھی کہا کہ قطر ایک ساتھ امریکہ اور ایران کے ساتھ اچھے روابط رکھنے میں کامیاب ہوا ہے اور چونکہ ایران اسلام اور علاقے کا ایک توازن ہے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، عقلمندی سے دور ہے کہ اس کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ کیا جائے اس لیے کہ وہ ایک بڑی طاقت ہے اور علاقے کے ثبات کا ضامن ہے اور یہ وہی چیز ہے کہ قطر جس کے پیچھے ہے ۔

ان جنجالی باتوں کے مضمون کے ساتھ جو چیز اہم ہے وہ ان باتوں کے بیان ہونے کا وقت ہے ، ریاض میں عربی امریکی اور اسلامی امریکی سربراہوں کے اجلاس کے بلا فاصلہ بعد کہ سعودی عرب ایران کے مقابلے میں جس کے سامنے شدت کے ساتھ عرض اندام کر رہا ہے اور معتقد ہے کہ اس دورے نے علاقے کی تاریخ کو ٹرامپ کے سعودی عرب کے دورے سے پہلے اور دورے کے بعد میں تقسیم کر دیا  ہے ۔

لیکن ماجرا کیا ہے اور اس کا سرچشمہ کیا ہے ۔ظاہرا با خبر ذرائع کے بقول ۔ سعودی عرب ، بحرین ، مصر اور امارات نے اسلامی امریکی سربراہوں کے اجلاس میں ریاض میں امیر قطر کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا اور دوحہ کے خلاف ڈونالڈ ٹرامپ کے کان بھرے تھے ۔

سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے امریکہ کی حکومت سے کہا ہے کہ دوحہ دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے اور پہلے کی طرح اخوان المسلمین کا حامی ہے ۔

کہا جاتا ہے کہ ریاض میں ٹرامپ اور تمیم کی ملاقات گرم جوشی اور صمیمیت پر مبنی نہیں تھی اور ٹرامپ نے بھی تمیم سے کہا کہ اس کے ملک کو دہشت گردی کے مقابلے میں سرگرمی دکھانی چاہیے ۔

دوسری طرف امارات کے سربراہوں نے بھی ریاض میں ٹرامپ  کے ساتھ اجلاس میں تمیم کے ساتھ بالکل بات چیت نہیں کی ۔

قطر کے ساتھ چند عرب ملکوں کا سلوک کہ جو یہ محسوس کر رہا ہے کہ انہوں نے اس کو امریکہ کے خلاف لا کھڑا کیا ہے ، طبعا امیر قطر کی طرف سے اس طرح کی باتوں کا باعث بنا ہے کہ جس نے دوحہ کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے سے نفرت کرتے ہوئے ، کہا ہے کہ جو ملک اسلام کو شدت پسند بنا کر استعمال کرتے ہیں یعنی سعودی عرب وہ دہشت گردی کو تقویت دینے کا باعث بنے ہیں ۔

دوحہ کی طرف سے تکذیب کو جو چیز ناقابل قبول بناتی ہے وہ یہ ہے کہ امیر قطر کی باتیں اس ملک کی نیوز ایجینسی پر نشر ہونے کے ساتھ ہی اس ملک کی دوسری سایٹوں پر بھی منتشر ہو چکی تھیں اور اس ملک کے ٹی وی نے بھی امیر قطر کی باتوں کی طرف اشارہ کر دیا تھا اور کہا تھا کہ امیر قطر نے دوحہ پر دہشت گردی کی حمایت کرنے کا الزام لگانے کے سلسلے  میں متنبہ کیا ہے ۔

سعودی عرب بھی سخت ناراض ہے  کہ کیوں ریاض کہ جس نے کروڑوں ڈالر خرچ کر کے ٹرامپ کے ساتھ علاقے میں ایک وقار پیدا کیا تھا تا کہ خود کو ایران کے خلاف عربی اور اسلامی دنیا کا رہبر منوا سکے اتنی جلدی ایک جوان امیر کی اختلاف انگیز باتوں سے بھڑک اٹھا اور اس نے اختلافات کو برملا کر دیا ۔    

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر