تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور: روسی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں دفاع اور امن کی کمیٹی کے سربراہ کے نے کہا ہے کہ اس بات کا امکان 100% کے قریب ہے کہ داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی موت واقع ہو چکی ہے۔

نیوزنور:ایران کے نائب وزیر خارجہ نے سعودی عرب پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب نے جو خطرناک کھیل شروع کر دیا ہے اس میں اسے بری طرح سے شکست ہو گی۔

نیوزنور:ترکی کے وزیر دفاع نے قطر میں فوجی اڈے ختم کرنے کی خلیج فارس تعاون کونسل کی درخواست کو ترکی کے امور میں مداخلت قرار دیا ہے۔

نیوزنور:سعودی عرب کی مسلسل گرتی ہوئی اقتصادی صورتحال کی بدولت آل سعود نے خاندان کو اپنے ساتھ رکھنے والے غیر ملکی شہریوں کو فی فرد کے حساب سے ایک سو ریال ماہانہ ٹیکس سعودی حکومت کو ادا کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

نیوز نور:امریکہ کے ایک سینئر سینیٹر نے شام کی سرکاری فوج پر  امریکی فضائی حملوں کی پرزورالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں غیر قانونی اوربین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قراردیا۔

  فهرست  
   
     
 
    
سعودی اور اماراتی ذرائع ابلاغ کے امیر قطر پر شعلہ فشاں حملے

نیوزنور:سعودی اور اماراتی ذرائع ابلاغ نے چند روز سے اس وقت تک امیر قطر پر حملوں کی بوچھاڑ کر رکھی ہے اور اس پر ایران کے ساتھ رابطہ برقرار کر کے عرب ملکوں کے درمیان پھوٹ دالنے کا الزام لگایا ہے ۔

استکباری دنیا صارفین۱۴۴۵ : // تفصیل

سعودی اور اماراتی ذرائع ابلاغ کے امیر قطر پر شعلہ فشاں حملے

نیوزنور:سعودی اور اماراتی ذرائع ابلاغ نے چند روز سے اس وقت تک امیر قطر پر حملوں کی بوچھاڑ کر رکھی ہے اور اس پر ایران کے ساتھ رابطہ برقرار کر کے عرب ملکوں کے درمیان پھوٹ دالنے کا الزام لگایا ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق العربیہ اور اسکائی نیوز چینل نے  حال ہی میں دن رات تمیم ابن حمد آل ثانی پر لگاتار حملوں کی بارش کر رکھی ہے اور امارات اور سعودی عرب نے الجزیرہ چینل کی نشریات بند کر دی ہیں اور قطر کے اطلاع رسانی کے مراکز کو ان دو ملکوں میں فیلٹر کر دیا گیا ہے ۔

سعودی اور اماراتی چینلوں پر امیر قطر پر حملوں کی گرم رات ،

یہ اقدام امیر قطر کے ایران کی حمایت میں جنجالی بیان کے بعد کیا گیا ہے کہ جس کو قطر کی سرکاری نیوز ایجینسی نے نشر کیا تھا ۔

تمیم نے گذشتہ رات کہا تھا : امریکی چھاونی العدید نے ہمسایہ ملکوں کی لالچی نگاہوں کے مقابلے میں قطر کی حمایت کی ہے ۔ ایران کے خلاف کشیدگی بڑھانے والے اقدامات کرنا بھی غلطی ہے اس لیے کہ ایران علاقے کا توازن ہے اور حماس اور حزب اللہ مزاحمتی تحریکیں شمار ہوتی ہیں  نہ کہ دہشت گرد ۔۔۔ تحریک حماس فلسطین کے لوگوں کی قانونی  نمایندہ ہے۔

اس خبر کے منتشر ہونے کے بعد سعودی عرب میں العربیہ کے چینل اور اسکائی نیوز کہ جو ابو ظبی سے نشر ہوتا ہے ، نے متعدد مہمانوں کو دعوت دے کر کئی گھنٹوں تک امیر قطر اور اس کی سیاست پر حملے کیے ۔ العربیہ نے امیر قطر کے باپ کا محفوظ بیان نکال کر نشر کیا جس میں اس نے  قذافی کے ساتھ ملاقات میں سعودی عرب کے خلاف زبان کھولی تھی ۔ اس کے بعد وہ بیان نشر کیا جو یمن کے سابقہ صدر علی عبد اللہ صالح کے خلاف تھا ، جس میں اس نے اعلان کیا کہ امیر قطر کا باپ جب اقتدار پر تھا تو اس نے صنعاء سے سعودی عرب کو نابود کرنے کے لیے مدد مانگی تھی ۔

الجزیرہ ؛ امیر قطر نے ایسی کوئی بات نہیں کہی ہے / قطر نیوز ایجینسی کو ہیک کیا گیا ہے ۔

ایسے حالات میں قطر کا الجزیرہ چینل کل رات بھر خاموش رہا اور اس نے معمول کے اپنے پروگرام نشر کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ، اس نے صرف ایک چھوٹی سی خبر منتشر کی اور اعلان کیا کہ قطر نیوز ایجینسی کو غیر معلوم افراد نے ہیک کر لیا ہے اور جس بیان کی امیر قطر کی طرف نسبت دی جا رہی ہے وہ غلط ہے ۔

الجزیرہ نے اس کے بعد دوحہ کے دانشکدہء افسری میں فارغ التحصیل ہونے والوں کے مجمع میں امیر قطر کا اصلی بیان نشر نہیں کیا ۔ جس کے بعد امارات نے اس چینل کی نشریات بند کر دی تھیں ۔

 امیر قطر پر حملے کی وجہ ،

سعودی اور اماراتی ذرائع ابلاغ کی امیر قطر پر لگاتار حملوں کی وجہ یہ ہے کہ  ابھی امریکہ کے صدر کے ساتھ جو ۵۵ عرب ملکوں کے سربراہوں کا اجلاس ریاض میں ۲۱ مئی کو ہوا ، اس کو زیادہ وقت نہیں گذرا ہے ۔

ایسی بیٹھکیں کہ جو ایران کے خلاف بیان پر اختتام پذیر ہوئیں ، اور ان میں ریاض میں شدت پسندی کے خلاف جنگ کے لیے ایک مرکز کے قیام کا استقبال کیا گیا اور اس نشست میں موجود ملکوں نے آمادگی ظاہر کی کہ اسلامی ملکوں سے ۳۴ ہزار افراد شام میں  دہشت گردی کے خلاف کاروائی کرنے والوں کے حامیوں کی صورت میں مہیا کیے جائیں گے ۔ اس بیان میں ایک ملک کو دہشت گردی  کا حامی مداخلت کرنے والا اور خطر ناک کہا گیا اور عربی ذرائع ابلاغ نے ایران کے  اور جس کو وہ دہشت گردی کہتے ہیں اس کے خلاف  عربوں کے اتحاد کو بہت اچھالا ۔

سب سے پہلا ملک جس نے اس بیان کے منتشر ہونے کے بعد رد عمل ظاہر کیا وہ لبنان تھا جس نے اعلان کیا کہ اب تک کی  بیٹھکوں میں اور آخری بیان میں  جو کچھ ایران کے خلاف ہوا ہے اس میں وہ شامل نہیں ہے ، اور اب بھی امیر قطر نے تہران کے خلاف موقف اپنانے سے انکار کردیا ہے ۔

سعودی عرب اور امارات میں الجزیرہ اور قطر کی نیوز ایجینسیوں کا فیلٹر کیا جانا ،

امارات اور سعودی عرب نے امیر قطر کے بیان کے پہلے رد عمل کے طور پر الجزیرہ اور قطر کی نیوز ایجینسیوں کو فیلٹر کر دیا ۔

سعودی ذرائع ابلاغ میں امیر قطر کی طرف منسوب بیان کاا نعکاس ،

العربیہ نے  ایک فوری خبر میں اعلان کیا  کہ قطر نے سعودی عرب ، کویت ، امارات اور مصر کے سفیروں سے مطالبہ کیا کہ ۲۴ گھنٹے کے اندر اس ملک کو چھوڑ دیں اس کے بعد اعلان کیا کہ اس خبر قطر کو سرکاری نیوز ایجینسی نے اعلان کیا ہے ۔ لہذا اگر یہ نیوز ایجینسی کل واقعا ہیک ہو گئی تھی تو کیا وہ اس وقت تک ان لوگوں کے کنٹرول میں رہ سکتی ہے کہ جنہوں نے اس کو ہیک کیا ہے ۔

العربیہ نے اس کے بعد قطر کے وزیر خارجہ کی طرف ایک خبر کو نسبت دے کر منتشر کیا کہ اس نے مذکورہ سفیروں کے دوحہ سے نکالنے کی تکذیب کی ۔ یہی چیز باعث بنی کہ اس چینل میں  اور اسکائی نیوز میں موجود  مہمانوں نے اعتراف کیا کہ قطر میں ایک غیر طبیعی واقعہ رونما ہوا ہے ۔

سعودی عرب کے روزنامہ الوطن نے بھی آج ایک رپورٹ میں اس سلسلے میں لکھا : سعودی اور اماراتی چینلوں نے  امیر قطر کے اس بیان کے بعد کہ جو دوحہ کے تہران کے ساتھ مضبوط روابط کا عکاس ہے اس پر حملہ کیا ۔ اس لیے کہ اس نے بیان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ دشمنی کی کوئی وجہ نہیں ہے اور یہ بیان خلیج فارس  تعاون کونسل کی ریاض میں حالیہ بیٹھکوں کے نتائج اور محصولات کے خلاف ہے ۔

روزنامہ الریاض نے بھی اس سرخی کے ساتھ کہ سننے والے اتنے بیوقوف نہیں کہ وہ ہیک ہونے کی خبر کو مان لیں گے امیر قطر کے جنجالی بیان کا ذکر کیا اور لکھا : ذرائع ابلاغ کوشش میں ہیں کہ امیر قطر کے بیان کی صحت کی تکذیب کریں اور کہیں کہ قطر نیوز ایجینسی ہیک ہو چکی ہے لیکن اس خبر کا ایک ساتھ قطر کی متعدد نیوز ایجینسیوں پر نشر ہونا اس کے درست ہونے کا عکاس ہے ۔

سعودی عرب کے روزنامے عکاظ کی تحریریہ کے سربراہ جمیل الزیانی نے بھی امیر قطر کے بیان پر رد عمل دکھاتے ہوئے کہا : قطر ایک بڑا یا اثرانداز ہونے والا ملک نہیں ہے ۔

اس نے ٹیلیفون پر ایک گفتگو میں العربیہ کو بتایا : ان تمام لوگوں کے چہرے سے نقاب ہٹا دینا چاہیے کہ جو عرب ملکوں کے خلاف اقدام کرتے ہیں ۔ قطر چاہتا ہے  کہ وہ عرب ملکوں میں ہرج ومرج پیدا کرے ان بیانات نے قطر کو مشکل میں ڈال دیا ہے جس کا نتیجہ اچھا نہیں ہے ۔

الزیانی نے سعودی عرب کے سیاسی تحلیل گر ھانی وفا ، کی آواز میں آواز ملائی اور کہا کہ قطر چاہتا ہے کہ اپنی چادر سے پاوں باہر نکالے اور  اس کے بعد علاقے میں اپنی حد سے بڑا کردار ادا کرے ۔

وفا نے ٹیلیفوں پر العربیہ کے ساتھ گفتگو میں بتایا : قطر مخالفت کا ساز بجانا چاہتا ہے اور اس کام کے لیے اس کے پاس کافی زیادہ اقتصادی وسایل موجود ہیں لیکن اسے آخر کار یہ جان لینا چاہیے کہ پیسہ سب کچھ نہیں ہے ۔

امجد طہ ایک بحرینی قلمکار نے بھی کہا : جو کچھ اس وقت قطر میں ہوا ہے وہ ایک نرم کودتا یا حکمران خاندان کے اندر  ایک منازعہ ہے ۔

سعودی روزنامے عکاظ نے ایک مضمون میں اس سرخی کے ساتھ کہ قطر نے صف کے دو ٹکڑے کر دیے ہیں اور امت کے دشمنوں سے جا ملا ہے کہ جو آج بدھ کے دن منتشر ہوا ہے اعلان کیا ہے کہ امیر قطر کا یہ بیان جہان عرب میں پھوٹ کا باعث بنا ہے ۔

اس مضمون میں آگے آیا ہے کہ : امیر قطر نے حزب اللہ کو ایک مزاحمتی تحریک جانا ہے اور ایران کو ایک اسلامی ملک کہ جو علاقے میں  ناقابل انکار توازن کا حامل ہے قرار دیا ہے اور تہران کے خلاف کشیدگی پیدا کرنے کی مخالفت کی ہے ۔

وہ ایک طرف سے اسرائیل اور دوحہ کے رابطے کی تعریف کرتا ہے اور دوسری طرف امریکہ کی موجودہ حکومت کے قطر کے سلسلے میں رویے پر شک کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ اس رویے کو مثبت نہیں مان سکتا اگر چہ یہ وضعیت امریکہ کے صدر کے خلاف ملک کے اندر قانونی اقدامات کے مطالبے کے بعد زیادہ دیر تک باقی نہیں رہے گی ۔

امیر قطر اس کے بعد کہتا ہے کہ العدید کی ہوائی پایگاہ دوحہ کو دشمن کی لالچی نظروں سے محفوظ رکھے گی اور اس نے مصر ،بحرین اور امارات سے خواہش کی کہ وہ دوحہ کے خلاف اپنے موقف پر نظر ثانی کریں ۔        

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر