تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور:عراقی وزیراعظم نے کہا ہے کہ نام نہادداعشی خلافت کی مذہبی علامت سمجھی جانے والی جامع مسجد النوری کی دھماکے میں شہادت دہشت گرد گروپ داعش کا اعتراف شکست ہے۔

نیوزنور:ایک صیہونی روزنامےنے اپنے ایک  مقالے میں لکھا ہے کہ سعودی شہزادے محمد بن سلمان جو اپنے والد کے خصوصی حکم پر سعودی عرب کے نئے ولیعہد منتخب ہوئے ہیں نے اپنا نیا عہدہ سنبھالنے سے قبل اعلی صیہونی حکام سے ملاقات کی ۔

نیوزنور:یمن کی تحریک انصاراللہ کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ صیہونی حکومت کے ساتھ مل کر علاقے پر تسلط جمانے کی کوشش کر رہا ہے-

نیوزنور:ایران کے ایک بزرگ شیعہ عالم دین نے ایک بیان میں داعش پر سپاہ کے جوابی حملے کو بہترین اور مضبوط دفاع قرار دیتے ہوئے کہا ہےکہ یوم القدس کی ریلی میں شرکت کرنا ملک اور عالم اسلام کی سلامتی کی ضامن ہے۔

نیوز نور: یمن کےسابق صدر  نے اپنے ایک بیان میں  تحریک انصاراللہ کےساتھ اتحاد جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہےکہ سعودی جنگی اتحاد کے خلاف یمنی عوام کی حتمی فتح یقینی ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
مفسرقرآن استاد قرائتی:
بلاوجہ پارٹی بازی انسان کو جاہلانہ امور میں دھکیل دیتی ہے

نیوزنور:اہل کتاب کا ایک اور باطل  اور غلط عقیدہ کہ جسے وہ اپنے دین کو حق پر مبنی ظاہر کرنے کے لیے پیش کرتے تھے وہ یہ تھا کہ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے پیغمبر کو خدا کا بیٹا سمجھتا تھا ۔

اسلامی بیداری صارفین۱۰۶۳ : // تفصیل

مفسرقرآن استاد قرائتی:

بلاوجہ پارٹی بازی انسان کو جاہلانہ امور میں دھکیل دیتی ہے

نیوزنور:اہل کتاب کا ایک اور باطل  اور غلط عقیدہ کہ جسے وہ اپنے دین کو حق پر مبنی ظاہر کرنے کے لیے پیش کرتے تھے وہ یہ تھا کہ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے پیغمبر کو خدا کا بیٹا سمجھتا تھا ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ایران کے نامی گرامی مفسرقرآن استاد محسن قرائتی نے اپنے تفسیر قطرہ ای موضوع کے تحت اپنے تفسیر کے درس کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے سورہء بقرہ کی آیت نمبر ۱۱۶ اور ۱۱۷ کی تعلیمات سے  روشنی کسب کی   ۔

وَقَالُواْ اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَداً سُبْحَنَهُ بَلْ لَّهُ مَا فِى السَّموتِ وَالأَرْضِ كُلٌّ لَّهُ قَنِتُونَ‏

 بَدِیعُ السَّمَواتِ وَالأَرْضِ وَإِذَا قَضى‏ أَمْراً فإِنّمَا یَقُولُ لَهُ كُنْ فَیَكُونُ

یہودیوں اور نصرانیوں نے کہا کہ خدا نے بیٹا انتخاب کر لیا ہے ۔ وہ اس سے منزہ ہے ، بلکہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور ہر چیز اس کے حکم کے تابع ہے ۔

اس نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور جب بھی وہ کسی چیز کو چاہتا ہے کہ وہ وجود میں آئے تو اس کو صرف یہ کہتا کہ وجود میں آجا تو وہ وجود میں آجاتی ہے ۔

اہل کتاب کا ایک اور باطل  اور غلط عقیدہ کہ جسے وہ اپنے دین کو حق پر مبنی ظاہر کرنے کے لیے پیش کرتے تھے وہ یہ تھا کہ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے پیغمبر کو خدا کا بیٹا سمجھتا تھا۔

یہودی کہتے تھے «عُزیر» خدا کا بیٹا ہے اور عیسائی کہتے تھے «عیسى» خدا کا بیٹا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مکہ کے مشرکین بھی فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے کہ جو اس کے کام کرتے ہیں۔

یہ آیت ان غلط عقاید کو جو لوگوں کے درمیان رائج ہو گئے تھے ٹھکراتی ہے اور خدا کو اس سے پاک و منزہ قرار دیتی ہے کہ اس کا کوئی فرزند ہے ، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے :

وہ خدا کہ جو زمین و آ سمان کا خالق بھی اور ان پر حاکم بھی ہے  اس کو کس چیز کی کمی اور ضرورت ہے کہ وہ کسی کو اپنا فرزند بنا کر اس کو دور کرے ۔

اصولی طور پر خدا کا خود سے مقایسہ کرنا اور خدا کے بارے میں اس طرح سوچنا ، ایک غلط تصور ہے جو باعث بنتا ہے کہ انسان جو انسان کے اندر محدودیتیں اور خواہشیں ہیں ان کو  وہ خدا  کے لیے سوچے ، جب کہ (لَیْسَ كَمِثْلِهِ شَىْ‏ء) کوئی چیز خدا جیسی نہیں ہے ۔

اب ان آیات سے جو سبق ہمیں ملتے ہیں ہم ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں :

٭۔  بے جا تعصب اور فرقہ پرستی انسان کو جہالت آمیز باتوں اور کاموں کی طرف لے جاتی ہے اور وہ صرف خود کو حق پر سمجھتا ہے دوسروں کا حق قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا ۔

٭۔مسجدیں کفرو شرک کے خلاف جنگ کا مورچہ ہیں لہذا دشمن ان کی ظاہری اور معنوی ساخت کو خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ پس ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ مسجدیں اس قدر با رونق اور آباد رہیں کہ دشمن ان میں نفوذ کرنے سے ڈرے ۔

٭۔ ماں باپ ، مربی اور اسی طرح مساجد کے متولی اور خدام ، نہ صرف بچوں اور جوانوں کو مسجدوں میں جانے سے نہ روکیں بلکہ ہمیشہ ان کو تشویق دلائیں کہ مذہبی مقامات پر حاضر رہیں ۔

خدا کسی خاص سمت میں یا مقام پر نہیں ہے جدھر بھی رخ کریں اسی طرف خدا ہے ۔ لیکن قبلہ کی حکمت یہ ہے کہ بڑے بڑے عبادتی اجتماعات  کا رخ ایک طرف اور ایک سمت ہو اور وہ بھی توحید کے سب سے پہلے مرکز یعنی کعبہ کی طرف ۔

٭۔ خدا انسان نہیں ہے کہ جس کو بیوی اور بچے کی ضرورت ہو وہ انسان ،بیوی اور بچے کا خالق ہے چنانچہ وہ تمام ہستی کا خالق اور حاکم ہے جو کچھ ہم ذہن میں خدا کے بارے میں سوچتے ہیں وہ ہمارا خالق نہیں بلکہ ہماری مخلوق ہے ۔  

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر