تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور22جنوری/ ایک صہیونی تجزیہ نگار نےاسرائیلی انٹیلی جنس ادارہ موساد کو تین ہزار بے گناہ فلسطینیوں کا قاتل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ  ان افراد کو موساد کا نشانہ نہیں بننا چاہیے تھا کیونکہ ان میں سے اکثر بے گناہ تھے۔


نیوزنور22جنوری/ گذشتہ روز اسرائیلی فوج کی بھاری نفری نے قبلہ اول میں گھس کر وہاں پر موجود فلسطینی محکمہ اوقاف کے مقرر کردہ ایک محافظ کو حراست میں لے لیاجس کےنتیجے میں قبلہ اول میں سخت کشیدگی اور فلسطینیوں میں غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔

نیوز نور22جنوری/بحرین کے ممتاز شیعہ عالم دین آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم  کے نمائندے نے آل خلیفہ رژیم  کے وفد کے اسرائیل کے سرکاری دورے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دورے کا مقصد فلسطینیوں کی قاتل  حکومت کےساتھ تعلقات کو معمول پرلانا ہے ۔

نیوزنور22جنوری/اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں میں آباد کیے گئے یہودیوں کی تعداد 2017ء کے آخر میں 4 لاکھ 36 ہزار ہوگئی ہے۔

نیوزنور22جنوری/شام کے صدر نے کہا  ہےکہ ترکی اپنے مخالفین کو کچلنے اور شامی حکومت کے مخالفین کی مدد اور حمایت کرنے میں مصروف ہے۔
  فهرست  
   
     
 
    
مفسرقرآن استاد قرائتی:
بلاوجہ پارٹی بازی انسان کو جاہلانہ امور میں دھکیل دیتی ہے

نیوزنور:اہل کتاب کا ایک اور باطل  اور غلط عقیدہ کہ جسے وہ اپنے دین کو حق پر مبنی ظاہر کرنے کے لیے پیش کرتے تھے وہ یہ تھا کہ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے پیغمبر کو خدا کا بیٹا سمجھتا تھا ۔

اسلامی بیداری صارفین۱۲۲۴ : // تفصیل

مفسرقرآن استاد قرائتی:

بلاوجہ پارٹی بازی انسان کو جاہلانہ امور میں دھکیل دیتی ہے

نیوزنور:اہل کتاب کا ایک اور باطل  اور غلط عقیدہ کہ جسے وہ اپنے دین کو حق پر مبنی ظاہر کرنے کے لیے پیش کرتے تھے وہ یہ تھا کہ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے پیغمبر کو خدا کا بیٹا سمجھتا تھا ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ایران کے نامی گرامی مفسرقرآن استاد محسن قرائتی نے اپنے تفسیر قطرہ ای موضوع کے تحت اپنے تفسیر کے درس کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے سورہء بقرہ کی آیت نمبر ۱۱۶ اور ۱۱۷ کی تعلیمات سے  روشنی کسب کی   ۔

وَقَالُواْ اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَداً سُبْحَنَهُ بَلْ لَّهُ مَا فِى السَّموتِ وَالأَرْضِ كُلٌّ لَّهُ قَنِتُونَ‏

 بَدِیعُ السَّمَواتِ وَالأَرْضِ وَإِذَا قَضى‏ أَمْراً فإِنّمَا یَقُولُ لَهُ كُنْ فَیَكُونُ

یہودیوں اور نصرانیوں نے کہا کہ خدا نے بیٹا انتخاب کر لیا ہے ۔ وہ اس سے منزہ ہے ، بلکہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور ہر چیز اس کے حکم کے تابع ہے ۔

اس نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور جب بھی وہ کسی چیز کو چاہتا ہے کہ وہ وجود میں آئے تو اس کو صرف یہ کہتا کہ وجود میں آجا تو وہ وجود میں آجاتی ہے ۔

اہل کتاب کا ایک اور باطل  اور غلط عقیدہ کہ جسے وہ اپنے دین کو حق پر مبنی ظاہر کرنے کے لیے پیش کرتے تھے وہ یہ تھا کہ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے پیغمبر کو خدا کا بیٹا سمجھتا تھا۔

یہودی کہتے تھے «عُزیر» خدا کا بیٹا ہے اور عیسائی کہتے تھے «عیسى» خدا کا بیٹا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مکہ کے مشرکین بھی فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے کہ جو اس کے کام کرتے ہیں۔

یہ آیت ان غلط عقاید کو جو لوگوں کے درمیان رائج ہو گئے تھے ٹھکراتی ہے اور خدا کو اس سے پاک و منزہ قرار دیتی ہے کہ اس کا کوئی فرزند ہے ، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے :

وہ خدا کہ جو زمین و آ سمان کا خالق بھی اور ان پر حاکم بھی ہے  اس کو کس چیز کی کمی اور ضرورت ہے کہ وہ کسی کو اپنا فرزند بنا کر اس کو دور کرے ۔

اصولی طور پر خدا کا خود سے مقایسہ کرنا اور خدا کے بارے میں اس طرح سوچنا ، ایک غلط تصور ہے جو باعث بنتا ہے کہ انسان جو انسان کے اندر محدودیتیں اور خواہشیں ہیں ان کو  وہ خدا  کے لیے سوچے ، جب کہ (لَیْسَ كَمِثْلِهِ شَىْ‏ء) کوئی چیز خدا جیسی نہیں ہے ۔

اب ان آیات سے جو سبق ہمیں ملتے ہیں ہم ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں :

٭۔  بے جا تعصب اور فرقہ پرستی انسان کو جہالت آمیز باتوں اور کاموں کی طرف لے جاتی ہے اور وہ صرف خود کو حق پر سمجھتا ہے دوسروں کا حق قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا ۔

٭۔مسجدیں کفرو شرک کے خلاف جنگ کا مورچہ ہیں لہذا دشمن ان کی ظاہری اور معنوی ساخت کو خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ پس ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ مسجدیں اس قدر با رونق اور آباد رہیں کہ دشمن ان میں نفوذ کرنے سے ڈرے ۔

٭۔ ماں باپ ، مربی اور اسی طرح مساجد کے متولی اور خدام ، نہ صرف بچوں اور جوانوں کو مسجدوں میں جانے سے نہ روکیں بلکہ ہمیشہ ان کو تشویق دلائیں کہ مذہبی مقامات پر حاضر رہیں ۔

خدا کسی خاص سمت میں یا مقام پر نہیں ہے جدھر بھی رخ کریں اسی طرف خدا ہے ۔ لیکن قبلہ کی حکمت یہ ہے کہ بڑے بڑے عبادتی اجتماعات  کا رخ ایک طرف اور ایک سمت ہو اور وہ بھی توحید کے سب سے پہلے مرکز یعنی کعبہ کی طرف ۔

٭۔ خدا انسان نہیں ہے کہ جس کو بیوی اور بچے کی ضرورت ہو وہ انسان ،بیوی اور بچے کا خالق ہے چنانچہ وہ تمام ہستی کا خالق اور حاکم ہے جو کچھ ہم ذہن میں خدا کے بارے میں سوچتے ہیں وہ ہمارا خالق نہیں بلکہ ہماری مخلوق ہے ۔  

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر