تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور: روسی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں دفاع اور امن کی کمیٹی کے سربراہ کے نے کہا ہے کہ اس بات کا امکان 100% کے قریب ہے کہ داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی موت واقع ہو چکی ہے۔

نیوزنور:ایران کے نائب وزیر خارجہ نے سعودی عرب پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب نے جو خطرناک کھیل شروع کر دیا ہے اس میں اسے بری طرح سے شکست ہو گی۔

نیوزنور:ترکی کے وزیر دفاع نے قطر میں فوجی اڈے ختم کرنے کی خلیج فارس تعاون کونسل کی درخواست کو ترکی کے امور میں مداخلت قرار دیا ہے۔

نیوزنور:سعودی عرب کی مسلسل گرتی ہوئی اقتصادی صورتحال کی بدولت آل سعود نے خاندان کو اپنے ساتھ رکھنے والے غیر ملکی شہریوں کو فی فرد کے حساب سے ایک سو ریال ماہانہ ٹیکس سعودی حکومت کو ادا کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

نیوز نور:امریکہ کے ایک سینئر سینیٹر نے شام کی سرکاری فوج پر  امریکی فضائی حملوں کی پرزورالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں غیر قانونی اوربین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قراردیا۔

  فهرست  
   
     
 
    
رائ الیوم نے اسرائیلی جرنیلوں کی وصیت کے بارے میں دی رپورٹ ؛
حزب اللہ اور ایران اسرائیل کے لیے پہلا اور دوسرا خطرہ ہیں، داعش کو ختم نہیں ہونا چاہیے

نیوزنور:صہیونی حکومت کے چند افسروں کا کہنا ہے کہ داعش اس حکومت کے لیے خطر ناک نہیں ہے ، اور واشنگٹن اگر شام اور عراق میں داعش کو شکست سے دوچار کرتا ہے تو وہ اس سے پشیمان ہو گا ۔

استکباری دنیا صارفین۱۲۶۱ : // تفصیل

رائ الیوم نے اسرائیلی جرنیلوں کی وصیت کے بارے میں دی رپورٹ ؛

حزب اللہ اور ایران اسرائیل کے لیے پہلا اور دوسرا خطرہ ہیں، داعش کو ختم نہیں ہونا چاہیے

نیوزنور:صہیونی حکومت کے چند افسروں کا کہنا ہے کہ داعش اس حکومت کے لیے خطر ناک نہیں ہے ، اور واشنگٹن اگر شام اور عراق میں داعش کو شکست سے دوچار کرتا ہے تو وہ اس سے پشیمان ہو گا ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق عربی روزنامہ" رائ الیوم" نے کہ جو لندن سے چھپتا ہے نے اپنے نیوز پورٹل پر لکھا ہے کہ داعش نے اپنے وجود میں آنے سے لے کر آج تک اسرائیل یا یہودی صہیونیوں کے خلاف کوئی بھی فوجی کاروائی نہیں کی ہے ۔

اس بنا پر طبیعی ہے کہ یہ غاصب حکومت سال ۲۰۱۷ کے اپنے کارآمد منصوبوں میں تاکید کرے کہ حزب اللہ اس کا پہلا دشمن ہے اور اس کے بعد جمہوریء اسلامی ایران اور اسلامی فلسطینی  مزاحمتی تحریک  حماس ہیں لیکن اس نے اپنی رپورٹوں میں داعش کی طرف اشارہ نہیں کیا ۔

اس پر مستزاد یہ کہ صہیونی حکومت کے سابقہ وزیر موشیہ یعالون نے اعلان کیا کہ داعش نے جس زمانے میں شام اور مقبوضہ فلسطین کی سر حد پر اسرائیل کے ٹھکانوں کی طرف گولہ باری کی تھی تو اس کے بعد اس نے اس حکومت سے معافی مانگی تھی یعلون نے اسی طرح اپنے کھلے بیان میں ایک ثقافتی کانفرنس میں شام میں اسرائیل اور داعش کے رابطے کے بارے میں بھی خبر دی ۔

اس صہیونیستی عہدیدار نے شام میں مداخلت نہ کرنے کا مطالبہ کیا اور اعلان کیا : اگر ہم کسی ایک فریق کے حق میں مداخلت کریں گے تو دوسرا فریق اس سے فائدہ اٹھائے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اپنی حدیں معین کر لی ہیں اور جو شخص بھی ہماری حاکمیت کو توڑنے کی کوشش کرے گا ہماری طاقت کے توازن کا اس کو سامنا کرنا پڑے گا ۔

 اسرائیل کے نیوز سینٹر ۰۴۰۴ نے بھی اعلان کیا کہ مجلہء پالیٹیکو نے صہیونی حکومت کی فوج کے اعلی افسروں سے اپنے انٹرویوز کے دوران امریکہ کو خطاب کرتے ہوئے ان کی طرف سے تنبیہات کا سامنا کیا ۔ اسرائیلی افسروں نے امریکہ کو داعش کے شکست کھانے کی صورت میں خبر دار کیا ، اور دعوی کیا کہ واشنگٹن اس مسئلے پر پشیمان ہو گا ۔

اسرائیلی فوج کے پروگرام سازی کے شعبے کے سربراہ رام یونی نے دعوی کیا کہ داعش کی شکست آسان کام نہیں ہے میں اس گروہ سے اور اس جماعت سے امریکیوں کی پریشانی کو نہیں سمجھ پا رہا ہوں یہ وہ گروہ ہے کہ جو امریکہ کے لیے بالکل خطرہ نہیں ہے ۔

اس ویب سایٹ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی افسروں نے اپنے انٹرویوز میں دعوی کیا ہے کہ داعش تقریبا ایک اعتدال پسند گروہ ہے جس کا خؒطرہ القاعدہ سے کم ہے اور ان کا یہ مانناہے کہ داعش کی مغرب سے کوئی دشمنی نہیں ہے ۔ ان کے بقول داعش کی تشکیل اسلامی خلافت کی تشکیل اور اپنی اندرونی حالت کو بہتر بنانے کے لیے ہوئی ہے ۔ اور ممکن ہے کہ وہ اپنی اندرونی حالت کو بہتر بنانے کے بعد خارجی طاقتوں کے ساتھ جنگ کریں ۔

اسرائیلی افسروں نے اس چیز کو مانتے ہوئے کہ شام کا صدر بشار اسد اس ملک کی جنگ میں کامیاب ہو چکا ہے کہا : اگر اسد کامیاب ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ شام اور لبنان میں ایک ہی محاذ پر ہمیں حزب اللہ کا سامنا ہو گا ۔ رائ الیوم نیوز سینٹر کی رپورٹ کے مطابق ایک اسرائیلی افسر نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ داعش کے خلاف لڑنے سے اجتناب کرے ، اور اجازت دے کہ خلافت شام اور عراق کے کچھ حصوں میں باقی رہے ، خاص طور پر اس لیے کہ یہ گروہ القاعدہ ،حزب اللہ اور اسد کے خلاف بر سر پیکار ہے ۔

اسرائیل کے سفیر گوری کورن نے روس میں اعلان کیا ہے کہ تل ابیب آمادہ ہے کہ واقعی خطرے کے احساس کی صورت میں شام میں حزب اللہ اور اس کی ساتھی فوجوں کے خلاف فوجی کاروائی کرے ۔

کورن نے آگے دعوی کیا : ایران نے ہمیشہ شام اور حزب اللہ کی حمایت کی ہے اور سے اسرائیل کے لیے دھمکی اور اس کو پیچھے بھگانے کے لیے استفادہ کیا ہے ۔ ہماری زمینوں پر عمدا بمباری کی جاتی ہے ہماری فوج کے ہاتھ بندھے نہیں ہیں اور وہ جواب دے گی ۔ لیکن اگر یہ صورتحال بدل جائے اور حزب اللہ یا دوسرے شیعہ نیم فوجی یا ایران جولان کی پہاڑیوں پر دوسرا محاذ کھولنا چاہیں تو ہم بھی اس مسئلے کو قبول نہیں کریں گے اور ہر ممکنہ تیزی کے ساتھ جواب دیں گے ۔

اس صہیونی سفیر نے شام کی ایک بندرگاہ ایران کو دیے جانے کی خبر کے بارے میں دعوی کیا کہ یہ مسئلہ یا شام میں تہران کے ذریعے ایک فوجی چھاونی کی تشکیل روس اور صہیونی حکومت کے حق میں نہیں ہو گی ۔

شام میں ایران کی فوجی چھاونی کے بارے میں کبروں کے سلسلے میں اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی روس کے صدر ولادیمیر پوتین کے ساتھ گفتگو میں کہا تھا کہ تل ابیب اس بات کو قبول نہیں کرے گا کہ تہران اور اس کے ساتھیوں کے شام میں پاوں مضبوط ہوں ۔

نیتن یاہو نے آخر میں دعوی کیا :ایران کوشش میں ہے کہ شام میں اپنی فوج اور انفرا اسٹریکچر میں اضافہ کرے ، اور اپنا ایک سمندری مرکز بنائے ۔ ان اقدامات سے اسرائیل کی سلامتی پر واقعی اثر پڑے گا ۔   

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر