تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور:1932 ء میں سعودی عرب کے قیام کے بعد سے آل سعود نے بادشاہت کے متضاد سیاسی ،سماجی اورمذہبی ڈھانچے کے چلینجز سے نمٹنے کیلئے وہابیت کا استعمال کیا ہے اوروہابیت کے نظرئے نے مذہبی طورپر آل سعود خاندان کی طاقت تاج اورحکومت کو جائز ٹھہرایا ہے۔

نیوز نور : بولویا کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کو وینزوئلا میں مداخلت کا خیال ترک کرنا چاہئے کیونکہ دنیا بھر میں امریکی سامراجیت دم توڑ چکی ہے۔

نیوز نور:ایران کے ایک سینئر قانون ساز نے کہاہےکہ امریکہ کی طرف سے روس اورایران پر  بیک وقت پابندیوں کو عائد کئے جانے کا مقصد دوعلاقائی اتحادیوں کے درمیان تعلقات میں شگاف پیدا کرنا تھا۔

نیوز نور:لبنان کی اسلامی تحریک مقاومت حزب اللہ کی سیکورٹی کونسل کےچیئرمین نے کہاہے کہ شام میں سرگرم تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے خلاف جنگ آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

نیوز نور : لبنان کے پارلیمانی نمائندے نے کہا ہے کہ  شام فلسطین اور بیت المقدس کی حمایت کا علمبردار ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
کیا سچ مچ ٹرامپ کی خارجی سیاست میں تبدیلی آرہی ہے ؟

نیوزنور:یہ کہ کیا ایران  کا اس نئی صورتحال میں کون سا مقام ہے اس کا حسن روحانی یا محمود احمدی نژاد کی ہویت سے کوئی تعلق نہیں ہے ، جس طرح کہ امریکہ کی امنیت کا پوتین یا کیم جونگ اون سے کوئی ربط نہیں ہے ۔ یہ شخصیتیں ٹرامپ کے لیے بے معنی ہیں ، اس کے لیے برجام بے معنی ہے اگر وہ امریکہ کے لیے جس طرح وہ چاہتا ہے اس طرح ضمانت فراہم نہ کرے ۔

استکباری دنیا صارفین۱۶۰۶ : // تفصیل

کیا سچ مچ ٹرامپ کی خارجی سیاست میں تبدیلی آرہی ہے ؟

نیوزنور:یہ کہ کیا ایران  کا اس نئی صورتحال میں کون سا مقام ہے اس کا حسن روحانی یا محمود احمدی نژاد کی ہویت سے کوئی تعلق نہیں ہے ، جس طرح کہ امریکہ کی امنیت کا پوتین یا کیم جونگ اون سے کوئی ربط نہیں ہے ۔ یہ شخصیتیں ٹرامپ کے لیے بے معنی ہیں ، اس کے لیے برجام بے معنی ہے اگر وہ امریکہ کے لیے جس طرح وہ چاہتا ہے اس طرح ضمانت فراہم نہ کرے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطی[مغربی مشرق] کے ڈونالڈ ٹرامپ کے حالیہ دورے ، اور علاقے کے عرب ملکوں کے سربراہوں کے ساتھ ان کی ملاقاتوں اور اسی طرح اسرائیلی حکومت  کے حکام کے ساتھ اس کی ملاقات  کے بارے میں علاقے میں اور علاقے سے باہر بہت ساری تحلیلیں ہوئی ہیں ایسی تحلیلیں کہ جو بہت ساری خبروں پر مشتمل ہیں ۔ ٹرامپ کی خارجی سیاست میں خاص کر مشرق وسطی میں تبدیلیوں سے لے کر امریکی سیاست میں داخلی بحرانوں سے فرار تک کہ جنہوں نے گذشتہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے ٹرامپ کے گریبان کو سختی سے جکڑ رکھا ہے ، تاکہ پتہ چلے کہ اس وقت مشرق وسطی کے بارے میں ٹرامپ کی خارجی سیاست کا دوسرا مرحلہ شروع ہونے والا ہے جو اس علاقے کے مستقبل پر سختی سے اثر انداز ہو سکتا ہے ۔ بہت سارے لوگ علاقے میں بش کے بیٹے کی پالیسیوں کی طرف اشارہ کرہے ہیں تا کہ  یہ بتا سکیں کہ اسکے دور کے واقعات اور ٹرامپ کے دور کے واقعات میں  مشرق وسطی میں ایک طرح کی یکسانیت ہے۔

 لیکن ایک سوال کہ جس کا بنیادی طور اس وقت جواب دینا چاہیے وہ یہ ہے کہ آیا ٹرامپ کی مشرق وسطی کی سیاست میں واقعا کوئی تبدیلی ہوئی ہے یا تبدیلی ہونے والی ہے یا نہیں ؟ یہ سوال اس اعتبار سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ اس کا جواب ہمارے علاقے کے مستقبل سے اور ایران جو اس کے سلسلے میں رد عمل دکھاتا ہے اس کے نتیجے سے مربوط ہے ۔

واقعیت یہ ہے کہ ڈونالڈ ٹرامپ نے اپنی صدارت کے سو سے زیادہ دنوں میں یہ دکھا دیا ہے کہ اس کی خارجی سیاست کسی بھی اصول پر یا نظریے پر کہ جو اس سے پہلے تھے مبنی نہیں ہے ۔ یہ ایسا موضوع ہے کہ امریکہ کے اندر بھی بہت سارے تحلیل گروں نے اس کی طرف  صاف اشارہ کیا ہے ، اس کے لیے کافی ہے کہ ہم نیویارک ٹایمز میں پیٹر برگ ، یا واشنگٹن پوسٹ میں رابرٹ رچ کے مقالے پر ایک نگاہ ڈالیں تا کہ اچھی طرح معلوم ہو جائے کہ یہاں تک کہ جو لوگ امریکہ میں سیاسی تحقیقات سے بالکل نزدیک سے جڑے ہوئے ہیں ان کا بھی یہ ماننا ہے کہ وائٹ ہاوس میں ٹرامپ اور اس کی ٹیم کے سامنے خارجی سیاست میں کوئی ایسا نمونہ نہیں ہے کہ جو اس سے پہلے  ہم دیکھتے تھے ۔

نتیجے میں یہ کہنا کہ مشرق وسطی کے بارے میں ٹرامپ کی خارجی سیاست میں تبدیلی اس بنیاد پر درست نہیں ہے ، چونکہ ہمارے ذہن میں جب کسی چیز کا نمونہ ہے ہی نہیں تو اس میں تبدیلی کے بارے میں بات کرنا بے کار ہے ۔ اس کے باوجود ایک نکتہ جو ٹرامپ کی خارجی سیاست کے بارے میں خاص طور سے ایران کے بارے میں ہے اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ اس کی خارجی سیاست بدلی ہے ۔

ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ڈونالڈ ٹرامپ نے امریکہ کے سیاسی منظومے میں ایک یو ٹرن لیا ہے ، ایک ایسا ٹرن کہ جس کی ابھی ابتدا ہے   ، اور اگر یہ سلسلہ آگے بڑھتا ہے تو مجموعی صورت میں سیاست میں ہدایت کنندہ ڈھانچے کی جگہ ایکشن کرنے والے فیصلہ کن سسٹم کو رکھنے کی طاقت رکھتا ہے ۔ ڈونالڈ ٹرامپ کہ جو ایک تاجر اور غیر سیاسی گھرانے سے اٹھا ہے  امریکہ کے ڈھانچے میں کس قدر محدودیتیں ہیں وہ ان کو نہیں سمجھ پا رہا ہے اسی لیے ابتدا میں چین کے مقابلے میں امریکہ کی گہری حساس سیاست کو اس نے مشکل میں ڈال دیا اور وہ اساسا ان ڈھانچے کی محدودیتوں کا معتقد نہیں ہے ۔

 ٹرامپ کے لیے مشرق وسطی اور روس ، شمالی کوریا یورپ کینیڈا ، میکسیکو اور چین ، ایسے علاقے اور کھلاڑی نہیں ہیں کہ جو پہلے سے شناختہ شدہ ہوں اس لیے کہ جس ڈھانچے نے ان کو ایک خاص معنی اور ہویت دی ہے وہ اس کے ذہن میں اصلا موجود نہیں ہیں اور نہ اہمیت رکھتے ہیں ۔ اسی لیے  امریکہ کی کئی دہائیوں کی سیاست کے اوپر سے چلانگ لگاتے ہوئے اس نے پوتین کی طرف تعاون کا ہاتھ بڑھا دیا ، اور نیٹو کو جو اتنی حساس تھی مشکل میں ڈال دیا ، ٹرامپ کے لیے یہ سب ایسے ہیں کہ جن سے آمنے سامنے بیٹھ کر بات کی جا سکتی ہے اور ان کے ساتھ معاملے اور بات چیت کے نمونوں کی رعایت کرنی چاہیے ۔

اس معاملے کے پیچھے کیا چیز ہے ؟ سب سے پہلے امریکہ ؛ وہ بھی وہ امریکہ نہیں کہ جسے ہم جانتے ہیں بلکہ وہ امریکہ جسےٹرامپ جانتا ہے ، نہ ڈیمو کریٹوں کا امریکہ نہ جمہوریخواہوں کا ۔ ایک زنگ زدہ بیلٹ والا امریکہ ، گوری چمڑی والے بے کار لوگوں کا امریکہ ، وہ امریکہ کہ جس کے لوگوں کو اب بھلایا نہیں جا سکتا ، وہ امریکہ جو اپنی سرحدوں کو دوسرے ملکوں کی سرحدوں سے زیادہ اہمیت دیتا ہے ۔ وہ امریکہ جو چینیوں کو دولتمند بنانے کے بجائے اپنے کاریگروں کو طاقتور بنانا چاہتا ہے ۔ وہ امریکہ کہ جو نئی پہچان والے نئے گٹھ بندھن بنانا چاہتا ہے یہ ٹرامپ کی حلف برداری کے دن کی باتیں ہیں ۔ یہ ٹرامپ کا مینو فیسٹو ہے ۔یہ ٹرامپ کی داخلی اور خارجی سیاست ہے جو پہلے کی سیاست سے بالکل الگ ہے ۔

ٹرامپ کا مشرق وسطی کا سفر بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا ٹرامپ کی خارجی سیاست داخلی سیاست میں اس کی کارستانیوں کی عکاس ہے ۔ سعودی عرب کے ساتھ ۱۱۰ ارب ڈالر کی قرار داد ، فلسطین کی صلح کے لیے تل ابیب کا دورہ ، شام پر میزائل کا حملہ ایران کی متحدہ فوج کے کاروان پر حملہ ، ان میں سے کوئی چیز بھی امریکہ کی خارجی سیاست کے یو ٹرن سے تعلق نہیں رکھتی ، بلکہ ان سب کو ایک نئی چال قرار دینا چاہیے ، اور وہ نئی چیز سسٹم میں ایک نئی حرکت ہے جس کے پیچھے ٹرامپ گھوم رہا ہے ۔ یہ سب وہ نقطے اور گرہیں ہیں کہ جن کو آپس میں متصل ہونا ہو گا تا کہ جس چیز سے ٹرامپ آزمائش یا غلطی کے ذریعے باہر نکلنا چاہتا ہے تو نمایاں تر چہرے کے ساتھ نکلے ۔   

یہ کہ کیا ایران  کا اس نئی صورتحال میں کون سا مقام ہے اس کا حسن روحانی یا محمود احمدی نژاد کی ہویت سے کوئی تعلق نہیں ہے ، جس طرح کہ امریکہ کی امنیت کا پوتین یا کیم جونگ اون سے کوئی ربط نہیں ہے ۔ یہ شخصیتیں ٹرامپ کے لیے بے معنی ہیں ، اس کے لیے برجام بے معنی ہے اگر وہ امریکہ کے لیے جس طرح وہ چاہتا ہے اس طرح ضمانت فراہم نہ کرے ۔

ٹرامپ کے لیے مشکل نہیں ہے وہ کیم جونگ اون جیسے شخص کے ساتھ بھی معاملہ کر سکتا ہے اور شاید ممکن ہے کہ وہ اس کے ساتھ ملاقات بھی کرے ۔ ٹرامپ کے لیے مایکل فلین کا روس کے ساتھ مخفی  رابطہ کوئی معنی نہیں رکھتا اس لیے کہ وہ پوتین کے ساتھ معاملہ کرنا چاہتا ہے اس کے لیے نیٹو کی کوئی اہمیت نہیں ہے ، اگر وہ دفاع میں اپنا حصہ ادا نہ کرے بلکہ امریکہ کے خرچ پر اپنا دفاع کرنا چاہے ۔ اس کے لیے چین اور ٹرانس پیسفیک کے ساتھ معاملے سے اگر امریکی کاریگر اور امریکہ کو فائدہ نہیں پہنچتا تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر