تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور:1932 ء میں سعودی عرب کے قیام کے بعد سے آل سعود نے بادشاہت کے متضاد سیاسی ،سماجی اورمذہبی ڈھانچے کے چلینجز سے نمٹنے کیلئے وہابیت کا استعمال کیا ہے اوروہابیت کے نظرئے نے مذہبی طورپر آل سعود خاندان کی طاقت تاج اورحکومت کو جائز ٹھہرایا ہے۔

نیوز نور : بولویا کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کو وینزوئلا میں مداخلت کا خیال ترک کرنا چاہئے کیونکہ دنیا بھر میں امریکی سامراجیت دم توڑ چکی ہے۔

نیوز نور:ایران کے ایک سینئر قانون ساز نے کہاہےکہ امریکہ کی طرف سے روس اورایران پر  بیک وقت پابندیوں کو عائد کئے جانے کا مقصد دوعلاقائی اتحادیوں کے درمیان تعلقات میں شگاف پیدا کرنا تھا۔

نیوز نور:لبنان کی اسلامی تحریک مقاومت حزب اللہ کی سیکورٹی کونسل کےچیئرمین نے کہاہے کہ شام میں سرگرم تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے خلاف جنگ آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

نیوز نور : لبنان کے پارلیمانی نمائندے نے کہا ہے کہ  شام فلسطین اور بیت المقدس کی حمایت کا علمبردار ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
امریکی روزنامے واشنگٹن پوسٹ کا اداریہ؛
ٹرامپ سعودی عرب کی حمایت سے مشرق وسطی[مغربی مشرق] میں تنازعے کے نئے بیج بو رہا ہے

نیوزنور:علاقے میں حالیہ کشیدگی امریکہ کے صدر کے سعودی عرب کے دورے اور سعودی عرب کو اربوں ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کا نتیجہ ہے ، کہ ایک طرف سعودی عرب کے رقیبوں اور دشمنوں کے لیے اضطراب اور بے چینی کا باعث بنا ہے اور دوسری طرف ریاض کے استبدادی اور وفادار اتحادیوں کے جسور ہونے کا باعث بنا ہے ۔

استکباری دنیا صارفین۱۷۵۷ : // تفصیل

    امریکی روزنامے واشنگٹن پوسٹ کا اداریہ؛

ٹرامپ سعودی عرب کی حمایت سے مشرق وسطی[مغربی مشرق] میں تنازعے کے نئے بیج بو رہا ہے

نیوزنور:علاقے میں حالیہ کشیدگی امریکہ کے صدر کے سعودی عرب کے دورے اور سعودی عرب کو اربوں ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کا نتیجہ ہے ، کہ ایک طرف سعودی عرب کے رقیبوں اور دشمنوں کے لیے اضطراب اور بے چینی کا باعث بنا ہے اور دوسری طرف ریاض کے استبدادی اور وفادار اتحادیوں کے جسور ہونے کا باعث بنا ہے ۔

امریکی حکام خاص کر اس ملک کا صدر  سعودی عرب کے اپنے دورے کا ایک مقصد ، صلح کرانے اور دہشت  گردی کے خلاف جنگ کرنے اور شدت پسندی کے خلاف لڑنا بتا رہا ہے ، اور ٹرامپ نے اس سفر کو ایک تاریخی سفر قرار دیا ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی اسی سلسلے میں رپورٹ کے مطابق امریکی روزنامے واشنگٹن پوسٹ نے ایک اداریہ میں لکھا ہےکہ ٹرامپ کے سعودی عرب کے سفر کا ماحصل صلح و ثبات نہیں جنگ اور  جھڑپ ہو گا ۔

اس امریکی روزنامے نے لکھا ہے :ڈونالڈ ٹرامپ نے اپنے پچھلے ہفتے کی تقریر میں ریاض میں اور عرب اور مسلمان سربراہوں کے مجمع میں اتحاد کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ان ملکوں کی توجہ دہشت گردی کے مقابلے اور خاص کر ایران کے مقابلے پر مرکوز رہے ۔

ٹرامپ نے کہا تھا : ہم دعا کرتے ہیں کہ ایک دن اس بیٹھک کو مشرق وسطی میں صلح کی شروعات کے طور پر یاد کیا جائے ۔

لیکن ٹرامپ کے اس دورے کے بعد مشرق وسطی میں نئے تنازعوں اور کشیدگیوں کی ایک نئی موج اٹھ کھڑی ہوئی ہے ، اور صلح اور اتحاد کے بدلے ہم اس علاقے کے ملکوں میں اختلاف اور کشیدگی دیکھ رہے ہیں ۔ سعودی عرب اور قطر کے درمیان لفظی جنگ شروع ہو چکی ہے جس سے علاقے میں نفوذ کو لے کر ان کے درمیان رقابت کا پتہ چلتا ہے ۔

دوسری طرف مصر اور بحرین میں بھی سیکیوریٹی فورسز کی طرف سے اس ملک کے سیاسی مخالفین کو سختی سے کچلا جا رہا ہے کہ جن کے نتیجے میں ۵ افراد مارے گئے ہیں اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں ۔ 

ایران میں بھی کہ علاقے میں سعودی عرب کا اصلی رقیب ہے اس مہینے کے اواسط میں ووٹروں نے دوبارہ ایک اصلاح طلب صدر کو چن لیا ہے ، اور ایران کے رہنماوں نے اس حالت میں کہ ٹرامپ کی طرف سے سعودی عرب کو اربوں ڈالر کے ہتھیار بیچے جانے کی مذمت کی ہے ، انڈر گراونڈ بیلیسٹیک میزائل کی ایک فیکٹری کی نشاندہی کی ہے ۔

واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے ، علاقے میں حالیہ کشیدگی امریکہ کے صدر کے سعودی عرب کے دورے اور سعودی عرب کو اربوں ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کا نتیجہ ہے ، کہ ایک طرف سعودی عرب کے رقیبوں اور دشمنوں کے لیے اضطراب اور بے چینی کا باعث بنا ہے اور دوسری طرف ریاض کے استبدادی اور وفادار اتحادیوں کے جسور ہونے کا باعث بنا ہے ۔

 اسی سلسلے میں فواد جرجس نے جو لندن کے مدرسہء اقتصاد میں مشرق میانہ کے بارے میں مطالعات کا استاد ہے کہا ہے : جو کچھ آپ اس وقت دیکھ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ سعودی عرب کی رہبری میں جو اتحاد ہے وہ طاقتور ہونے کا احساس کرتا ہے ۔ اب وہ زیادہ جارح ہو چکے ہیں  اور یہ نیا دور ہے کہ جو شروع ہو چکا ہے ۔

جرجس نے آگے کہا : اس تبدیلی سے پیدا ہونے والے نتیجے سالہا سال تک علاقے کے لیے مشکلات ایجاد کر سکتے ہیں اور شام اور یمن میں نیابتی جنگوں کو اور سخت کر سکتے ہیں کہ جہاں ایران اور سعودی عرب لڑنے والوں کی حمایت کر رہے ہیں ۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ ایک نیا شعلہ بھڑک اٹھے اور وہ ہے جنوب لبنان اور  اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ ۔

جرجس کے عقیدے کے مطابق تمام فریق خود کو جنگ کے بعد کے مرحلے کے لیے تیار کر رہے ہیں ۔

ایرانی حکام نے شروع میں ریاض میں ٹرامپ کی ایران کے خلاف بکواس کو نظر انداز کیا تھا ، اور ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بھی اپنے ٹویٹر کے صفحے پر امریکہ اور سعودی عرب کے ہتھیاروں کے سودے کا مذاق اڑایا تھا ۔

لیکن اس کے بعد کے دنوں میں ایران کی حکومت نے اپنے لہجے کو سخت اور اعتراض آمیز کر دیا اور بحرین کی حکومت کے مخالفین پر حملے کی مذمت کرنے کے ساتھ ، اس ملک میں مخالفین پر جو سختی ہو رہی ہے اس کو ٹرامپ کے سعودی عرب کے دورے کا نتیجہ قرار دیا ۔

جیسا کہ دنیائے عرب ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے لیے تیار ہے ، گذشتہ ہفتے سے ہم سعودی عرب اور قطر کے مابین کشیدگی دیکھ رہے ہیں جنہوں نے پرانی رقابت خاص کر سال ۲۰۱۱ میں عربی تحریکوں کے بعد کی رقابت کو شروع کر دیا ہے ۔

اسی سلسلے میں دویجہ ویلہ نے لکھا ہے : طے یہ تھا کہ ٹرامپ کی عرب ملکوں کے رہنماوں کے ساتھ ریاض میں بیٹھک سے ان ملکوں میں اتحاد ہو گا لیکن ابھی اس بیٹھک کو چند دن بھی نہیں ہوئے ہیں کہ ایک گہرا شگاف قطر اور سعودی عرب گروہ اخوان المسلمین کو لے کر پڑ چکا ہے ۔

ٹرامپ کی عرب ملکوں کے سربراہوں کے ساتھ بیٹھک کے ٹھیک دو دن بعد ، قطر کی حکومت ایک پریس نوٹ صادر کرنے پر مجبور ہوئی اور اس نے اس ملک کے امیر کے بیان کی وضاحت کی ۔ شیخ تمیم بن حمد آل ثانی امیر قطر نے ایک تقریر میں کہ جس کا ویڈیو دنیائے عرب میں منتشر ہوا اس میں اس نے حماس اور حزب اللہ کی تعریف کی ہے ۔

امیر قطر نے اس تقریر میں کہا ہے : کسی کو حق نہیں ہے کہ اخوان المسلمیں جیسے گروہ کو دہشت گردوں کے طبقے میں رکھ کر قطر پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگائے اور حماس اور حزب اللہ جیسی مزاحمتی تحریکوں کے کردار کو نظر انداز کرے ۔

امیر قطر نے اس تقریر میں یہ بھی کہا : واقعی خطرہ علاقے کی کچھ حکومتوں سے ہے کہ اس کے بقول وہ خود دہشت گردی کو وجود میں لانے کا باعث ہیں اور اسلام میں شدت پسندی کے قائل ہیں جس کا حقیقی اسلام سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔

دنیائے عرب میں عام طور پر کسی کو شک نہیں ہے کہ اس سے امیر قطر کی مراد سعودی عرب ہے ۔ اس بیان کی ویڈیو کے منتشر ہونے نے  اس کے لیے مصیبت کھڑی کر دی ہے ۔ اس نے اس ویڈیو کے بیان کی تکذیب کی ہے اور اس طرح کی ویڈیو کے انتشار کو اس نے ہیکروں کی گردن پر ڈال دیا ہے ۔ لیکن سعودی عرب ، بحرین ، امارات ، اور مصر نے امیر قطر کے اس بیان کے رد عمل میں اس ملک کے تمام ذرائع کو فیلٹر کر دیا ۔

مجموعی طور پر اس امریکی اخبار کے بقول ٹرامپ کے مشرق وسطی اور سعودی عرب کے دورے کا نتیجہ صلح و اتحاد نہیں ہو گا بلکہ اس علاقے کے کھلاڑیوں کے درمیان جھگڑوں میں اضافے پر منتہی ہو گا ۔ 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر