تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور:1932 ء میں سعودی عرب کے قیام کے بعد سے آل سعود نے بادشاہت کے متضاد سیاسی ،سماجی اورمذہبی ڈھانچے کے چلینجز سے نمٹنے کیلئے وہابیت کا استعمال کیا ہے اوروہابیت کے نظرئے نے مذہبی طورپر آل سعود خاندان کی طاقت تاج اورحکومت کو جائز ٹھہرایا ہے۔

نیوز نور : بولویا کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کو وینزوئلا میں مداخلت کا خیال ترک کرنا چاہئے کیونکہ دنیا بھر میں امریکی سامراجیت دم توڑ چکی ہے۔

نیوز نور:ایران کے ایک سینئر قانون ساز نے کہاہےکہ امریکہ کی طرف سے روس اورایران پر  بیک وقت پابندیوں کو عائد کئے جانے کا مقصد دوعلاقائی اتحادیوں کے درمیان تعلقات میں شگاف پیدا کرنا تھا۔

نیوز نور:لبنان کی اسلامی تحریک مقاومت حزب اللہ کی سیکورٹی کونسل کےچیئرمین نے کہاہے کہ شام میں سرگرم تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے خلاف جنگ آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

نیوز نور : لبنان کے پارلیمانی نمائندے نے کہا ہے کہ  شام فلسطین اور بیت المقدس کی حمایت کا علمبردار ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
سان فرانسیسکو ایگزامینر ؛
ایران کو الگ تھلگ کرنے کی ٹرامپ کی کوشش سےمشرق وسطی[مغربی مشرق] میں شیعوں اور سنیوں کے روابط میں تیرگی آئے گی

نیوزنور:ایک امریکی روزنامے نے رپورٹ دی  ہے کہ امریکہ کے صدر کی سعودی عرب کی جانبداری کی سیاست اور ایران کو اس کی الگ تھلگ  کرنے کی کوشش مشرق وسطی میں شیعوں اور سنیوں کے روابط میں تیرگی کا باعث بنے گی ۔

استکباری دنیا صارفین۲۴۵۵ : // تفصیل

سان فرانسیسکو  ایگزامینر ؛

ایران کو الگ تھلگ کرنے کی ٹرامپ کی کوشش سےمشرق وسطی[مغربی مشرق] میں شیعوں اور سنیوں کے روابط میں تیرگی آئے گی

نیوزنور:ایک امریکی روزنامے نے رپورٹ دی  ہے کہ امریکہ کے صدر کی سعودی عرب کی جانبداری کی سیاست اور ایران کو اس کی الگ تھلگ  کرنے کی کوشش مشرق وسطی میں شیعوں اور سنیوں کے روابط میں تیرگی کا باعث بنے گی ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق روزنامہ سان فرانسسکو  ایگزامینر [The San Francisco Examiner]نے ایک رپورٹ میں امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرامپ  کے سعودی عرب کے حالیہ سفر ، اور اس کے ایران کے خلاف بیانات کی طرف اشارہ کیا اور لکھا کہ ایران کو الگ تھلگ کرنے کا ٹرامپ کا اقدام مفید ہونے سے پہلے نقصان دہ ہے اور پہلے سے زیادہ مشرق وسطی میں شیعوں اور سنیوں کے روابط میں رخنہ ڈالے گا ۔

مشرق وسطی [مغربی مشرق]فکری مرکزمیں خلیج فارس کے امور کے ڈائریکٹر جرالڈ فیریسٹین کا کہنا ہے کہ ٹرامپ کا سعودی عرب کے ساتھ ہونا مفید ہونے سے زیادہ نقصان دہ ہے اور ٹرامپ کا ایران پر تنقید کرنا کہ جو ایک شیعہ ملک ہے اور اس کا ان ملکوں کی صف میں آنا کہ جن کی اکثریت سنی ہے شیعوں کے پہلے سے زیادہ الگ تھلگ ہونے اور ان دو فرقوں کے درمیان نزاع میں شدت آنے کا باعث بن سکتا ہے ۔

فیریسٹین جو پہلے یمن میں امریکہ کا سفیر رہ چکا ہے ٹرامپ کے ان اقدامات کے بارے میں کہتا ہے : یہ اقدامات بات چیت کی تاثیر اور علاقے میں مشکلات کے حل کو مشکل بنا دیں گے ۔ یہ ملاقات کسی حد تک صلح آمیز راہ حل کے پوٹینشیل کو الگ تھلگ کر دے گی اور اسے ختم کر دے گی ۔

اس رپورٹ کے مطابق ٹرامپ جب ۲۱ مئی کے دن ریاض میں کانفرنس میں شرکت کے لیے سعودی عرب میں داخل ہوا تو بڑی گرمجوشی سے اس کا استقبال کیا گیا اور ایسی حالت میں کہ مسلمان ملکوں کے ۵۵ سربراہ اس کے گرد جمع تھے اس نے دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کے بارے میں بات کی اور ایران کو دنیا میں شدت پسندی پھیلانے کا قصور وار ٹھہرایا ۔

اس نے اس تقریر میں کہا : جب تک ایران کی حکومت صلح میں شریک ہونے پر مایل نہ ہو تمام خبردار ملتوں کو چاہیے کہ ایران کو الگ تھلگ کر دینے کی کوشش کریں ۔

نخبگان کے بین الاقوامی مرکز اورامریکی فکری مرکز صلح کے ارکان رابین رایٹ اور وویڈرو ویلسن کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ٹرامپ کے ان اقدامات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ گہرے فرقہ وارانہ اختلافات میں شامل ہو چکا ہے اور ایک فرقے کی طرفداری کر رہا ہے ۔

اس نے اپنی بات جاری رکھی ؛ ٹرامپ کی مشرق وسطی کی ساری سیاست کی بنیاد سنی احتیاط پسند حکومتوں کا ایک نیا گٹھ بندھن بنانے پر استوار ہے اور وہ بھرپور طریقے سے جغرافیائی  ، سیاسی ، ڈیپلومیٹیک اور فرقے کے لحاظ سے ایک فریق کی طرف داری کرتا ہے اور یہ چیز خطر ناک ہے ۔

اس رپورٹ کی بنیاد پر شیعہ دنیا کے مسلمانوں کی کل آبادی کا دس سے پندرہ فیصد تک ہیں اور کافی عرصے سے سنی انہیں اذیت دیتے چلے آرہے ہیں ۔

ریسرچ سینٹر پیو کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے اکثر شیعہ مسلمان ، عراق ، ایران ، ھندوستان ، پاکستان میں رہتے ہیں ، اور ان میں سے ایک تہائی ایران میں رہتے ہیں ، سعودی عرب ، مصر اور اردن جیسے ملکوں کی اکثریت سنی ہے ۔

اس رپورٹ کے مطابق داعش کے تکفیری جو نسل کشی اور پوری قوم کو ختم کرنے کے ذمہ دار ہیں انہوں نے شام میں شیعہ مسلمانوں کو نشانہ بنا رکھا ہے ۔

اس رپورٹ میں ٹرامپ کے اس طرح کے جانبدارانہ اقدامات کی طرف اشارہ کیا ہے اور لکھا ہے : ٹرامپ کی تقریر کے دو دن بعد بحرین میں  بحرین کی پولیس نے شیعہ عالم شیخ عیسی قاسم کی اس ملک میں زاد گاہ پر حملہ کر کے ۵ افراد کو شہید کیا اور سینکڑوں افراد کو گرفتار کر لیا ۔

عالمی امن مرکز کے بقول گذشتہ سال جولائی تک داعش نے پوری دنیا میں کم سے کم ۱۴۳ دہشت گردانہ حملے کیے اور ان حملوں میں کم از کم ۲۰۴۳ افراد مارے گئے جون ۲۰۱۴ میں اس دہشت گرد گروہ نے تکریت میں اسپایکر کے کیمپ میں عراق کی ہوائی فورس کے ۱۵۰۰ اسٹوڈینٹس کو قتل عام کر دیا ۔ دوسری طرف القاعدہ نے سال ۱۹۹۲ سے ۲۰۰۸ تک ۳۱ حملے کیے اور ۴۴۰۰ افراد کو قتل کیا ۔

اس امریکی روزنامے نے مزید لکھا ہے ان تمام حملوں کے باوجود کہ جن کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ٹرامپ کی دہشت گردی کے خلاف ساری لفاظی کا رخ ایران کی طرف تھا کہ جو خود داعش کے نشانے پر تھا ، اور ان دہشت گردوں کے وجود سے علاقے کو پاک کرنے  کی کوششوں میں ایران شریک رہا ہے ۔

ٹرامپ نے اپنی تقریر میں ریاض کے حکام سے کہا : کئی دہائیوں سے ایران قومی جھڑپوں اور دہشت گردی کی کاروائیوں کی آگ کو ہوا دے رہا ہے ، اور کھل کر اجتماعی قتل عام ، اسرائیل کی نابودی اور مرگ بر امریکہ کے نعرے لگاتا ہے ۔

مشرق وسطی اور شمالی افریقہ  کے فکری مرکز میں ماہ  ماہر حسن منعم نے کہ جو ایک امریکی مرکز ہے کہا ہے کہ چونکہ امریکہ دنیا کی واحد بڑی طاقت ہے ، اس کی ذمہ داری ہے کہ عالمی امن کے لیے شیعہ اور سنی دونوں فرقوں کے ساتھ تعاون کرے ۔

اس نے آگے کہا اگر چہ یہ کہنا جلد بازی ہو گی کہ ٹرامپ کی حکومت میں کیا ہونے والا ہے ، لیکن ایران کو مستثنی کرنا کہ جس طرح ٹرامپ کر رہا ہے عاقلانہ نہیں ہے ۔

اس نے تاکید کی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے مسئلے میں شیعہ اور سنی کو شریک ہونا چاہیے ، کہا : ایران ایک مشکل ہے لیکن تنہا مشکل نہیں ہے بلکہ راہ حل کا ایک حصہ ہو سکتا ہے ۔   

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر