تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور:عراقی وزیراعظم نے کہا ہے کہ نام نہادداعشی خلافت کی مذہبی علامت سمجھی جانے والی جامع مسجد النوری کی دھماکے میں شہادت دہشت گرد گروپ داعش کا اعتراف شکست ہے۔

نیوزنور:ایک صیہونی روزنامےنے اپنے ایک  مقالے میں لکھا ہے کہ سعودی شہزادے محمد بن سلمان جو اپنے والد کے خصوصی حکم پر سعودی عرب کے نئے ولیعہد منتخب ہوئے ہیں نے اپنا نیا عہدہ سنبھالنے سے قبل اعلی صیہونی حکام سے ملاقات کی ۔

نیوزنور:یمن کی تحریک انصاراللہ کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ صیہونی حکومت کے ساتھ مل کر علاقے پر تسلط جمانے کی کوشش کر رہا ہے-

نیوزنور:ایران کے ایک بزرگ شیعہ عالم دین نے ایک بیان میں داعش پر سپاہ کے جوابی حملے کو بہترین اور مضبوط دفاع قرار دیتے ہوئے کہا ہےکہ یوم القدس کی ریلی میں شرکت کرنا ملک اور عالم اسلام کی سلامتی کی ضامن ہے۔

نیوز نور: یمن کےسابق صدر  نے اپنے ایک بیان میں  تحریک انصاراللہ کےساتھ اتحاد جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہےکہ سعودی جنگی اتحاد کے خلاف یمنی عوام کی حتمی فتح یقینی ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
شام کی تازہ ترین صورتحال؛
امریکہ اردن کی مدد سے شام کے جنوب پر حملہ کرنے کیلئے کر رہا ہےراستہ ہموار

نیوزنور:دو ہفتے پہلے امریکہ کی خصوصی فوج نے برطانوی اور اردنی فوج کے ساتھ شام کے جنوب کی طرف حرکت کی اور شام اور اردن کی سرحد پر التنف کے سرحدی علاقے میں پڑاو ڈالا۔ اس اقدام کا مقصد ایران اور شام کے اس پروگرام کا مقابلہ کرنا ہے کہ جو انہوں نے شام کے جنوب میں امریکہ کے اردن کی فوج کو مستقر کرنے کے منصوبے کو ناکام کرنے کے لیے بنا یا تھا۔ کہ جس کے وقت کا اعلان ڈونالڈ ٹرامپ کے مشرق وسطی کے دورے سے چند روز پہلے کر دیا گیا تھا ۔ ایک مغربی عہدیدار نے تاکید کی تھی کہ واشنگٹن نے امن کا علاقہ ایجاد کرنے کے لیے ماسکو کے ساتھ تعاون کی شرط یہ رکھی تھی کہ سپاہ پاسداران کو وہاں سے نکالا جائے تا کہ وہ جنوب کے منصوبے کے سلسلے میں روس کو آزما سکے ۔

استکباری دنیا صارفین۱۲۲۶ : // تفصیل

شام کی  تازہ ترین صورتحال؛

امریکہ اردن کی مدد سے شام کے جنوب پر حملہ کرنے کیلئے کر رہا  ہےراستہ ہموار

نیوزنور:دو ہفتے پہلے امریکہ کی خصوصی فوج نے برطانوی اور اردنی فوج کے ساتھ شام کے جنوب کی طرف حرکت کی اور شام اور اردن کی سرحد پر التنف کےسرحدی علاقے میں پڑاو ڈالا۔ اس اقدام کا مقصد ایران اور شام کے اس پروگرام کا مقابلہ کرنا ہے کہ جو انہوں نے شام کے جنوب میں امریکہ کے اردن کی فوج کو مستقر کرنے کے منصوبے کو ناکام کرنے کے لیے بنا یا تھا۔ کہ جس کے وقت کا اعلان ڈونالڈ ٹرامپ کے مشرق وسطی کے دورے سے چند روز پہلے کر دیا گیا تھا ۔ ایک مغربی عہدیدار نے تاکید کی تھی کہ واشنگٹن نے امن کا علاقہ ایجاد کرنے کے لیے ماسکو کے ساتھ تعاون کی شرط یہ رکھی تھی کہ سپاہ پاسداران کو وہاں سے نکالا جائے تا کہ وہ جنوب کے منصوبے کے سلسلے میں روس کو آزما سکے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق اور شام کے جنوب پر امریکہ کے حملے کے احتمال میں اضافے کے ساتھ ذرائع ابلاغ نے امریکی کانگریس کی ایک کمیٹی کے اردن کے دورے کی خبر دی ہے ۔ اس رپورٹ کی بنا پر امریکی سینیٹروں نے ایک گھنٹہ پہلے قصر الحسینیہ میں اردن کے شاہ مکل عبد اللہ کے ساتھ ملاقات اور گفتگو کی ۔

اسی سلسلے میں آج امریکی جنگی طیاروں نے بھی التنف کے علاقے کے نزدیک شام کی فوج کے ٹھکانوں پر اطلاعاتی پرچیاں منتشر کیں اور دعوی کیا شام کی فوج کو التنف کی گذرگاہ سے دور ہی رہنا چاہیے ۔

ان اطلاعی پرچیوں میں شام کی فوج کو  اس گذر گاہ کے نزدیک آنے سے خبردار کرنے کے ضمن میں  آیا ہے : التنف کی طرف کسی بھی طرح کی حرکت دشمنی کہلائے گی اور ہم اپنی فوجوں کی حمایت کریں گے ۔

شام کی خبری ویب سایٹ عنب نے رپورٹ دی ہے کہ امریکی اتحاد نے شام کی فوجوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ظاظا کی چیک پوسٹ تک پیچھے ہٹ جائیں چونکہ اس اتحاد کے دعوے کے مطابق ان کی فوجیں امن علاقے کے اندر ہیں کہ جو اتحاد کی نگرانی میں ہے ۔

جیش مغاویر الثورہ دہشت گرد گروہ کے سرکاری ترجمان البراء فارس نے اس سلسلے میں بتایا : یہ اطلاعی پرچیاں تل شحمی ، جلیغم اور ظا ظا کے علاقے میں منتشر کی گئی ہیں ۔

اس وقت شام کی فوج اور مقاومتی تحریک کے افراد التنف کے علاقے سے ۲۷ کیلو میٹر کے فاصلے پر الزرقائ  کی چیک پوسٹ پر مستقر ہیں۔

 جیش المغاویر کے سرکردہ مھند الطلاع نے پہلے کہا تھا کہ یہ گروہ التنف میں موجود ہے اور اس کی کوشش ہے کہ وہ شام کی فوج کو عراق کی سرحد کی طرف بڑھنے سے روک دے۔

شام کی  فوج کوشش میں ہے کہ شام کی طرف سے دمشق اور بغداد کے ارتباطی راستے پر قبضہ کر لے تا کہ اس راستے سے فوجی امداد زمینی راستے سے بھیجی جا سکے ۔

گذشتہ سال التنف کے علاقے میں بین الاقوامی اتحاد نے ایک فوجی ٹھکانہ بنایا تھا اور امریکہ اور برطانیہ اس کی  کمان سنبھالے ہوئے ہیں اور اس وقت وہ آزاد فوج کے دہشت گردوں کو ٹرینینگ دے رہے ہیں ۔

اسی سلسلے میں سعودی روزنامے الشرق الاوسط نے آج سوموار کے دن دعوی کیا کہ امریکی اور روسی عہدیدار وں نے اردن کے پایتخت عمان میں شام کے جنوب میں پر امن علاقے کی ایجاد کی غرض سے مذاکرات شروع کر دیے ہیں ۔

اس روزنامے نے مزید لکھا ہے کہ مذاکرات کا پھر سے آغاز ایسی حالت میں ہوا ہے کہ وہ عراق کی سرحد کے نزدیک التنف کے علاقے میں آزاد فوج کے زیر نظر گروہ کی حمایت ، اور الرقہ کی آزادی کے لیے جو داعش کے قبضے سے ہو گی شام کی ڈیموکریٹیک فوج کی حمایت کو جاری رکھیں گے اور ساتھ ہی ٹرامپ کی حکومت شام میں ہلال ایرانی کو توڑنے کی کوشش کرے گی ۔

اس سعودی روزنامے نے ایک عربی عہدیدار کے حوالے سے لکھا ہے کہ امریکہ کے کچھ عرصہ پہلے کے ایران کی نزدیکی اور دمشق کے حامی فوجیوں کے افراد پر حملے التنف کی چھاونی کی طرف ان کو بڑھنے سے روکنے کے لیے تھے ، کہ جن میں امریکہ ،برطانیہ اور ناروے کے مربی اور شام کے مخالف مستقر ہیں ، اور ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ امریکہ کی فوج شام کے مخالفین کے قبضے میں جو علاقے ہیں ان کا براہ راست دفاع کر رہی ہے ۔

مغربی عہدیدار نے مزید کہا :  روس کے عہدیدار کہ جو اپنے امریکی ہم منصبوں کے ساتھ اردن کی راجدھانی میں پر امن علاقے کی ایجاد کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے نتف کے نزدیک امریکیوں کی بمباری کے باوجود ، بیٹھک میں موجود رہے اور اس سے خارج نہیں ہوئے ۔

اس نے کہا : آنے والے مذاکرات میں ، پر امن علاقے کے رقبے ، مقامی کمیٹی ، اور ناظرین اور انسان دوستانہ امداد جیسے مسائل پر گفتگو ہو گی اور اس کے علاوہ واشنگٹن یہ شرط عاید کرے گا کہ ایرانی فوجیں جولان میں قنیطرہ اور ریف سویداء اور التنف میں موجود نہیں رہیں گی ۔

مغربی عہدیدار نے تاکید کی کہ واشنگٹن نے پر امن علاقے کی ایجاد میں روس کا تعاون کرنے کی یہ شرط عاید کی ہے کہ سپاہ پاسداران کی فوج کو وہاں سے نکال دیا جائے تا کہ وہ جنوب کے بارے میں روس کے منصوبے کو آزما سکے ۔

دوسری طرف امریکہ الرقہ کی آزادی کے لیے  بین الاقوامی اتحاد کے ہوائی حملوں میں شدت پیدا کر کے اس چیز کے درپے ہے کہ الرقہ کا نظم و نسق چلانے کے  لیے ایک شہری کمیٹی تشکیل دی جائے اور عربوں کو اس میں رہنے دیا جائے اور کردوں کی رضا کار دفاعی کمیٹیوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ تہران اور دمشق سے دوری اختیار کریں ۔

مغربی عہدیدار نے شام میں شام کی فوج اور مقاومتی تحریک کی فوجوں کی نقل و حرکت کو ہلال ایرانی قرار دیا اور دعوی کیا کہ امریکہ کے یہ تمام تحرکات ایرانی ہلال کو توڑنے ، شام ، عراق اور لبنان کی حزب اللہ  کے ساتھ ایران کے رابطے کے پل کو توڑنے  اور ایران کو میڈیٹیرین سمندر تک پہنچنے کے لیے زمینی گذر گاہ بنانے کے مقصد تک نہ پہنچنے دینے کے لیے ہیں ۔         

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر