تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور :17 نومبر/ میانمار فوج کے سربراہ نے کہاہے کہ بدھ مت کے پیروکاروں کے راضی ہونے تک بنگلادیش ہجرت کر جانے والے روہنگیا مسلمان واپس نہیں آسکتے، روہنگیائی افراد کی اپنے گھروں کی واپسی میانمار کے حقیقی باشندوں کی رضامندی سے ہوگی اور اس مقصدکے لیے سب سے پہلے بدھ پرستوں کو راضی کرنا پڑے گا ۔

نیوز نور :17 نومبر/ عراقی فوج اور سیکورٹی فورس نے مغربی صوبے الانبار کے شہر راوہ کو بھی تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے قبضے سے آزاد کرا لیاہے۔

نیوز نور :17 نومبر/ ترکی کے صدر نے مغربی ممالک پر شامی کردوں کی حمایت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن ممالک نے داعش کو تشکیل دیا تھا وہی آج شام کے کردوں کو مسلح کررہے ہیں۔

نیوز نور :17 نومبر/ تہران کےخطیب جمعہ نے خطے کے حساس شرائط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاہےکہ  مسلمانوں کو باہمی اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ دشمنوں کے منصوبوں کو ناکام بنانا چاہیے۔

نیوز نور :17 نومبر/ جرمن وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یورپی ممالک سعودی اقدامات اور مہم جوئی پر کسی بھی صورت میں خاموش نہیں رہیں گے۔

  فهرست  
   
     
 
    
شاہ سلمان کا عربی نیٹو کا خواب کس طرح چکنا چور ہو رہا ہے ؟آل سعود کا مغربی ایشیاء سے افریقہ کی جانب کوچ

نیوزنور:اگر چہ حال ہی میں قطر اور سعودی عرب کے درمیان جھڑپوں نے نمایاں صورت اختیار کر لی ہے اور یہ چیز سعودی بادشاہی کے لیے علاقے میں ایک بنیادی مشکل میں تبدیل ہو چکی ہے ۔ دوسری طرف اس بات کی واضح نشانیاں مل رہی ہیں کہ سعودی عرب ایران کے خلاف علاقائی اتحاد کو سنبھال کر رکھنے کی ڈیپلومیٹیک صلاحیت نہیں رکھتا ۔

استکباری دنیا صارفین۱۹۹۹ : // تفصیل

شاہ سلمان کا عربی نیٹو کا خواب کس طرح چکنا چور ہو رہا ہے ؟آل سعود کا مغربی ایشیاء سے افریقہ کی جانب کوچ

نیوزنور: اگر چہ حال ہی میں قطر اور سعودی عرب کے درمیان جھڑپوں نے نمایاں صورت اختیار کر لی ہے اور یہ چیز سعودی بادشاہی کے لیے علاقے میں ایک بنیادی مشکل میں تبدیل ہو چکی ہے ۔ دوسری طرف اس بات کی واضح نشانیاں مل رہی ہیں کہ سعودی عرب ایران کے خلاف علاقائی اتحاد کو سنبھال کر رکھنے کی ڈیپلومیٹیک صلاحیت نہیں رکھتا ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ابھی تک سعودی اور قطری سربراہوں کے درمیان لفظی اور عملی جھڑپوں کی موجیں لگاتار اٹھ رہی ہیں اور وہ جھگڑا جو مدتوں پہلے دو ملکوں کے درمیان اخوان المسلمین کے موضوع پر شروع ہوا تھا ، اور حال ہی میں عربی ۔امریکائی کانفرنس میں اس نے پھر سے سر ابھارا ہے ، وہ ایران کے خلاف سعودی عرب کے گٹھ بندھن میں گہرے شگاف کی نشاندہی کر رہا ہے ۔

سعودی عرب نے انتھک محنت کر کے علاقے کے ۴۱ مسلمان ملکوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عنوان کے تحت اور علاقے میں ایران کے نفوذ کو کنٹرول کرنے کے مقصد کی خاطر ایک جھنڈے کے نیچے اکٹھا کرنے میں کامیابی حاصل کی ، لیکن واضح اور کھلی نشانیاں جو کچھ اس وقت بیان کر رہی ہیں وہ یہ ہے کہ یہ گٹھ بندھن  کہ جو بہت ساروں کے عقیدے کے مطابق ایک عربی نیٹو  کی ایجاد کی بنیاد قرار پائے گا لیکن یہ تو ایک ظاہری شکل و صورت والا اتحاد ہے جو اندر سے پڑنے والے شگافوں کی وجہ سے رنج اٹھا رہا ہے ۔

قطر کہ جو ایک مدت تک خارجی سیاست میں سعودی عرب کا ساتھی رہا ہے اخوان المسلمین کے مسئلے پر سعودی عرب کے ساتھ جھڑپوں کی وجہ سے اب پتہ چلاہے کہ وہ سعودی عرب کی خارجی سیاست میں اس کا ساتھ دینے پر زیادہ مایل نہیں ہے ۔ حسن روحانی کے ساتھ فون پر امیر قطر کے بیان سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ملک کچھ دلایل کی بنا پر کہ جن میں خارجی سیاست میں مستقل ہونا ، اور سعودی عرب کا مقابلہ کرنا اور غیر الزامی طور پر ایران کا ساتھ دینا کچھ ایسے دلایل ہیں کہ جن کی بنا پر یہ ملک علاقے میں خاندان سعود سے فاصلہ بنا کر رکھنا چاہتا ہے ۔

یہ موضوع خاص کر ریاض میں عربی ۔ امریکائی شو  کے بعد شاہ سلمان کے لیے اس کی عزت کا مسئلہ تھا اور بہت ہی خرچیلا بھی تھا ۔ حالانکہ سعودی بادشاہ نے اپنی پوری کوشش کی کہ علاقے میں ایران مخالف بلاک کو اپنے مغربی اتحادیوں کی حمایت سے مضبوط اور خلل ناپذیر بتائے ، اور ٹرامپ کے علاقے کے دورے کے صرف چند دن بعد اس کی ایران کے خلاف  دریدہ دہنی کے باوجود عربی نیٹو کا شاہ سلمان کا منصوبہ نقش بر آب ہو رہا ہے ۔

قطر کے شاہ سلمان اور سعودی خاندان کے دستور کار سے نکل جانے سے  یہ ظاہر ہو گیا ، کہ یہ  جو ظاہر میں ایران کے خلاف بہت ہی مضبوط اتحاد تھا اس میں بنیادی شگاف موجود تھے جس سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب والوں کو اتحاد کو باقی رکھنے کی کوئی شد بد نہیں ہے ۔ کویت پہلے کی طرح  ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالث کے عنوان سے علاقے میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان  کشیدگی کو ہوا دینے پر زیادہ مایل نہیں ہے ، اور پاکستان نے بھی سعودیہ کے ساتھ اتحاد میں شامل ہونے کے لیے اپنے شرائط بیان کر دیے ہیں ۔

ایکسپریس ٹریبون نے گذشتہ روز اس سلسلے میں لکھا ہے : اگر چہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان ۴۱ اعضاء پر مشتمل اس اتحاد  کی کمان راحیل شریف کے ہاتھ میں دیے جانے سے پہلے ہی اس میں شامل ہو گیا تھا ، لیکن اس ملک کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ اس سلسلے میں حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا ہے ۔ اس روزنامے کے بقول پاکستانی حکام نے سعودیوں کے لیے عیاں کر دیا ہے کہ وہ صرف اسی صورت میں اس اتحاد میں شامل ہو ں گے کہ جب اس کا مقصد ایران کو کنٹرول کرنا نہیں بلکہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہو ۔

شاہ سلمان کو اس وقت بہت بڑی مشکل کا سامنا ہے ، وہ مشکل کہ جو ہر چیز سے پہلے اس کی عزت کا مسئلہ ہے ۔ وہ جو علاقے میں عربی ۔اسلامی دنیا کی رہبری کا دعویدار ہے ، اب وہ دیکھ رہا ہے کہ ایران کے ارد گرد دیوار کھینچنے کی اس کی ساری کوششیں بے کار ثابت ہوئی ہیں ۔

اس بیتابی اور بے چینی کا واضح نمونہ اس کی طرف سے مصر کی سیاسی حمایت میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ ایسی حالت میں کہ جب مصر کی طرف سے تیران اور صنافیر کے جزایر سعودی عرب کو دیے جانے کا مسئلہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی  کا باعث بناہوا ہے ملک سلمان نے ایتوار کے دن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں(قبطی عیسائیوں پر داعش کے وحشیانہ حملے کے بعد )  مصر کی مکمل حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ آج بھی لیبیا کی فوج کے کمانڈر جنرل خلیفہ حفتر نے کہ جو اس وقت مصر کی حمایت سے لیبیا کا کنٹرول حاصل کرنے کی جنگ میں مشغول ہے قطر پر تنقید کرتے ہوئے بیان کیا کہ یہ ملک اور کچھ دوسرے ملک کہ جن کا اس نے نام نہیں لیا لیبیا میں دہشت گردی کی حمایت میں مشغول ہیں ۔

اس بیان اور اس لحن سے قطر پر تنقید میں سعودیوں کی حالیہ باتوں کی یاد تازہ ہوتی ہے اور اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ اب ملک سلمان مغربی ایشیا سے شمالی افریقہ کا رخ کرے گا تا کہ پہلے کی طرح یہ دکھا سکے کہ سعودیوں کی اپنے احتمالی اتحادیوں کو اپنے ساتھ ملائے رکھنے کی ڈیپلومیٹیک صلاحیت کافی زیادہ ہے ۔ لیکن وہ خود بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ ایران کے خلاف اتحاد اور عربی نیٹو میں جو چیز اس کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے وہ جغرافیہ کا مسئلہ ہے ۔

عربی نیٹو اس صورت میں کہ جو اس سے پہلے خارجی ذرائع ابلاغ میں چرچے کا موضوع تھا اور بہت سارے تجزیہ نگاروں نے اس کا ذکر کیا تھا وہ اس وقت دم توڑ رہا ہے ۔ اس کی وجہ اس کے لیے سیکیوریٹی کے طے شدہ سازو کار کا فقدان ، جو ملک اس نیٹو کا حصہ بننے والے تھے ان میں بڑی اور گہری آئیڈیالوجیک دراڑوں کی موجودگی ، اس مسئلے میں شامل ملکوں  میں سیکیوریٹی کی مشترکہ مشکلات کا فقدان ، اس کو پہچان دینے والے کسی عامل کا نہ ہونا اور مجموعی طور پر اس عربی نیٹو کے سربراہوں کے اندر اتحاد اور گٹھ بندھن کی صحیح شد بد کی عدم موجودگی وہ چیزیں ہیں جو اس نیٹو کے وجود کو عنقا  ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔

  شاہ سلمان  کے ایران کے خلاف  اس ڈوبتے ہوئے نیٹو کے لیے جو چیز تنکے کی صورت میں سہارا بن سکتی ہے وہ امریکہ کا ساتھ اور اسرائیل کی قربت ہے ۔ حقیقت میں یہ دو نقطے ہیں  جو علاقے میں خاندان آل سعود کی ایران کو کنٹرول کرنے کی  کوششوں کو تقویت دیتے ہیں ۔  البتہ یہ نقطے بالکل وہی نقطے ہیں  کہ جو سعودی عرب  اور ایران کے درمیان ٹکراو کی اصلی ماہیت کو اچھی طرح نمایاں کرتے ہیں ۔       

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر