تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور:1932 ء میں سعودی عرب کے قیام کے بعد سے آل سعود نے بادشاہت کے متضاد سیاسی ،سماجی اورمذہبی ڈھانچے کے چلینجز سے نمٹنے کیلئے وہابیت کا استعمال کیا ہے اوروہابیت کے نظرئے نے مذہبی طورپر آل سعود خاندان کی طاقت تاج اورحکومت کو جائز ٹھہرایا ہے۔

نیوز نور : بولویا کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کو وینزوئلا میں مداخلت کا خیال ترک کرنا چاہئے کیونکہ دنیا بھر میں امریکی سامراجیت دم توڑ چکی ہے۔

نیوز نور:ایران کے ایک سینئر قانون ساز نے کہاہےکہ امریکہ کی طرف سے روس اورایران پر  بیک وقت پابندیوں کو عائد کئے جانے کا مقصد دوعلاقائی اتحادیوں کے درمیان تعلقات میں شگاف پیدا کرنا تھا۔

نیوز نور:لبنان کی اسلامی تحریک مقاومت حزب اللہ کی سیکورٹی کونسل کےچیئرمین نے کہاہے کہ شام میں سرگرم تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے خلاف جنگ آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

نیوز نور : لبنان کے پارلیمانی نمائندے نے کہا ہے کہ  شام فلسطین اور بیت المقدس کی حمایت کا علمبردار ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
ایک عراقی فوجی تجزیہ نگار :
قطر کے سعودی عرب کو جھٹکا دینے کا راز کہ جس نے سعودیوں کی خوشیوں کا گلا گھونٹ دیا ہے

نیوزنور:عراق کے سابقہ قومی سلامتی کے مشیر اور فوجی تجزیہ نگار نے ایک تحلیل میں قطر اور چند عرب ملکوں کے درمیان حال ہی میں جو کشیدگی پیدا ہوئی ہے اس کے بارے میں لکھا ہے کہ سعودی محاذ ضعیف تر ہو گیا ہے اور امیر قطر ا سکو اچھی طرح جانتا ہے ۔

اسلامی بیداری صارفین۱۱۹۴ : // تفصیل

ایک عراقی  فوجی تجزیہ نگار :

قطر کے سعودی عرب کو جھٹکا دینے کا راز کہ جس نے سعودیوں کی خوشیوں کا گلا گھونٹ دیا ہے

نیوزنور:عراق کے سابقہ قومی سلامتی کے مشیر اور فوجی تجزیہ نگار نے ایک تحلیل میں قطر اور چند عرب ملکوں کے درمیان حال ہی میں جو کشیدگی پیدا ہوئی ہے اس کے بارے میں لکھا ہے کہ سعودی محاذ ضعیف تر ہو گیا ہے اور امیر قطر ا سکو اچھی طرح جانتا ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق عراق کی حکومت کے سابقہ قومی سلامتی کے مشیر وفیق السامرائی کا عقیدہ ہے کہ بغداد کی حکومت علاقے میں جنگ اور سیاست کے کھیل کو سمجھ نہیں پا رہی ہے ، اور امیر قطر کے حالیہ بیان نے بھی ٹرامپ کے علاقے کے دورے کے بعد سعودیوں کی خوشیوں کا گلا گھونٹ دیا ہے ۔

سامرائی کے مضمون کا متن کہ جو اس کے فیس بک کے صفحے پر، قطر کے کودتا کا پنہانی تانا بانا   کہ جس نے علاقے کے توازن کو بگاڑ دیا ہے اور سعودیوں کے حلقوم میں خوشی کے ذائقے کو تلخ کر دیا ہے ،کے عنوان کے تحت لکھا ہے سعودی عرب کا اسٹریٹیجیک اشتباہ یہ تھا کہ اس نے علاقے کی عدالت میں دہشت گردی کے حامی ملکوں پر چلنے والے   کیس سے بری ہونے کے لیے صرف ٹرامپ سے امید وابستہ کر رکھی تھی جس کے نتیجے میں وہ گرداب میں پھنس  چکا ہے ۔

 اس نے مزید کہا کہ انقلاب اسلامیء ایران کے رہبر کی آل سعود پر شدید تنقید اور فوج کے اعلی کمانڈروں کا موصل کے مغرب میں جانبحق  ہو نا اتفاقی نہیں ہے ، جو لوگ صرف قطر کی نیوز ایجینسی کے ہیک ہونے پر دھیان دے رہے ہیں  ، اور سعودی عرب اور امارات کے  ذرائع ابلاغ کے فوری رد عمل سے غافل ہیں ، یہ ان لوگوں کی سادگی ہے ۔

عراق کا یہ فوجی تجزیہ نگار امیر قطر کے ایران کے صدر کے ساتھ ایک ہفتے میں فون پر دو بار رابطے کو کہ جس میں اس نے دوستی اور اسٹریٹیجیک اتحاد جیسے الفاظ استعمال کیے ہیں اتفاقی نہیں سمجھتا ، جیسا کہ اردوغان نے جو اپنے حساب کتاب میں نظر ثانی کی ہے اور  حاشیے کے تین ملکوں ایران ، عراق اور شام کے بارے میں اپنے موقف میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے، اس کو اور اس کی مشرقی اور جنوبی سرحدوں پر جو خطرے موجود ہیں ان کو اتفاقی نہیں سمجھتا ۔

اس کے بقول ہر چیز قطر کے کودتا کے ساتھ کہ جس میں سعودی عرب اور امارات کو نشانہ بنایا گیا ہے دگر گون ہو چکی ہے اور بے جا نہیں ہے کہ دمشق اس وقت بغداد کے مقابلے میں زیادہ پر امن ہو ۔

السامرائی نے اس چیز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ مصر والے اس وقت لیبیا اور سیناء میں سرگرم عمل ہیں ، اور وہ یمن اور ریاض جیسے موضوعات کو چھیڑنے کی فرصت نہیں رکھتے ، تاکید کی ہے کہ تمام اسلامی اور عربی ملک کہ جو ٹرامپ اور سلمان کے اجلاس میں شریک تھے وہ ٹرامپ کے اسلامی اتحاد پر دھیان نہیں دیں گے اس لیے کہ حالات بدل چکے ہیں ۔

اس نے یہ اشارہ بھی کیا کہ عراق کے وزیر خارجہ ابراہیم الجعفری نےاس ملک کے موقف کو صراحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے کہ عراق ایران کے مخالف محاذ پر نہیں ہو گا ، اور ٹرامپ بھی اکیلے ، ان نظریات اور دولت کے بل بوتے پر اس کام کے کرنے پر قادر نہیں ہے اس لیے کہ امریکہ اپنے بلند پایہ متحدین سے الگ ہو چکا ہے ۔

السامرائی نے یہ تاکید بھی کی کہ سعودی محاذ ضعیف تر ہو چکا ہے اور ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امیر قطر  بھاری پیمانے پر جاسوسوں کے  اور ماہرین کے تعاون سے بہرہ مند ہے کہ اس کے ہمسائے اور دشمن جن کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے ۔

اس نے آخر میں یہ سوال پوچھا ہے کہ کیا بغداد کی حکومت علاقے کی جنگ اور سیاست کے کھیل کو سمجھ رہی ہے ؟ میرا خیال ہے کہ ، نہیں ۔

السامرائی نے دو روز پہلے بھی امیر قطر کی جنجالی تقریر کے رد عمل میں کہ جو سعودی عرب ، ایران اور علاقے کے بارے میں تھی ، کہا تھا کہ دوحہ کی سرزنش صحیح نہیں ہے ، چونکہ اس ملک کو سعودی عرب کی طرف سے اپنے وجود کا خطرہ لاحق ہے ۔     

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر