تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور: روسی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں دفاع اور امن کی کمیٹی کے سربراہ کے نے کہا ہے کہ اس بات کا امکان 100% کے قریب ہے کہ داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی موت واقع ہو چکی ہے۔

نیوزنور:ایران کے نائب وزیر خارجہ نے سعودی عرب پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب نے جو خطرناک کھیل شروع کر دیا ہے اس میں اسے بری طرح سے شکست ہو گی۔

نیوزنور:ترکی کے وزیر دفاع نے قطر میں فوجی اڈے ختم کرنے کی خلیج فارس تعاون کونسل کی درخواست کو ترکی کے امور میں مداخلت قرار دیا ہے۔

نیوزنور:سعودی عرب کی مسلسل گرتی ہوئی اقتصادی صورتحال کی بدولت آل سعود نے خاندان کو اپنے ساتھ رکھنے والے غیر ملکی شہریوں کو فی فرد کے حساب سے ایک سو ریال ماہانہ ٹیکس سعودی حکومت کو ادا کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

نیوز نور:امریکہ کے ایک سینئر سینیٹر نے شام کی سرکاری فوج پر  امریکی فضائی حملوں کی پرزورالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں غیر قانونی اوربین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قراردیا۔

  فهرست  
   
     
 
    
مغربی مشرق میں سیاسی اور امنیتی تازہ ترین تبدیلیاں ؛
شام کے کردوں کو امریکی ہتھیاروں کی ترسیل کا آغاز /حماس کی بڑی کاروائی کرنے کی تیاری /کویت کی ایران سے مدد کی درخواست

نیوزنور:گذشتہ تین دنوں میں مغربی مشرق[ مشرق وسطی] میں بڑی اتھل پتھل دیکھنے کو ملی ہے ۔ اسی دوران عراق ،شام اور یمن کی تبدیلیوں کی طرف بھی اشارہ کر دیں اسی سلسلے میں امریکی وزارت دفاع کے دو افراد کا کہنا ہے کہ اس ملک کی فوج نے شام کی آزاد فوج سے وابستہ کردوں کے لیے ہتھیار اور سازو سامان ارسال کرنے کا کام شروع کر دیا ہے ۔دونوں عہدیداروں میں سے کسی نے بھی ہتھیاروں کی ترسیل کی جزئیات کی طرف اشارہ نہیں کیا ہے ۔

اسلامی بیداری صارفین۱۲۸۴ : // تفصیل

مغربی مشرق میں سیاسی اور امنیتی تازہ ترین تبدیلیاں ؛

شام کے کردوں کو امریکی ہتھیاروں کی ترسیل کا آغاز /حماس کی بڑی کاروائی کرنے کی تیاری /کویت کی ایران سے مدد کی درخواست

نیوزنور:گذشتہ تین دنوں میں مغربی مشرق[ مشرق وسطی] میں بڑی اتھل پتھل دیکھنے کو ملی ہے ۔ اسی دوران عراق ،شام اور یمن کی تبدیلیوں کی طرف بھی اشارہ کر دیں اسی سلسلے میں امریکی وزارت دفاع کے دو افراد کا کہنا ہے کہ اس ملک کی فوج نے شام کی آزاد فوج سے وابستہ کردوں کے لیے ہتھیار اور سازو سامان ارسال کرنے کا کام شروع کر دیا ہے ۔دونوں عہدیداروں میں سے کسی نے بھی ہتھیاروں کی ترسیل کی جزئیات کی طرف اشارہ نہیں کیا ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارےنیوزنورکی رپورٹ کے مطابق کہ جو شام کے تحولات کے بارے میں ہے  حال ہی میں امریکی فوج کے دو افسروں نے کہا تھا کہ اس ملک کی فوج نے شام کی آزاد فوج سے وابستہ کردوں کے لیے ہتھیار اور سازو سامان کی ترسیل کا کام شروع کر دیا ہے ۔

قابل ذکر ہے  کہ شام کی آزاد فوج داعش کے دہشت گردوں کے مقابلے میں امریکہ کی کلیدی اتحادی شمار ہوتی ہے ۔

امریکہ کے ان دو فوجی افسروں میں سے ایک کے بیان کے مطابق ۲۴ گھنٹے پہلے انہوں نے فوجی سازو سامان کی ترسیل کا کام شروع کیا ہے ۔

ان دو افسروں میں سے کسی نے بھی آزاد فوج کے لیے ارسال شدہ ہتھیاروں کی نوعیت اور تحویل کی کیفیت کے بارے میں جزئیات کا ذکر نہیں کیا ہے ۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ اس سے پہلے امریکہ کی فوج نے اعلان کیا تھا کہ شام کی آزاد فوج کو وہ ، بھاری سازو سامان ہتھیار ، جنگی وسایل ریڈیو ، بلڈوزر ، وسایل نقلیہ اور انجینیری کے آلات مہیا کریں گے ۔

امریکہ کی وزارت دفاع نے اس سے پہلے اعلان کیا تھا کہ شام کی آزاد فوج نے ، شہر رقہ کی واپسی کی کوششوں میں کہ جس پر ۲۰۱۴  میں داعش کے تکفیری دہشت گردوں کا قبضہ ہو گیا تھا اہم کردار ادا کیا ہے ۔

پینٹاگون کے ترجمان ڈینا وائٹ نے اس مہینے کے شروع میں ایک بیان صادر کر کے اعلان کیا تھا : شام کی آزاد فوج ہی وہ فوج ہے کہ جو امریکہ کی حمایت  اور اتحادی فوجوں کی مدد سے مستقبل قریب میں شہر رقہ کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہیں ۔

قابل ذکر ہے کہ اس مہینے کے شروع میں امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرامپ کی ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ ملاقات میں دونوں فریقوں نے شام کے کردوں کو ہتھیار دینے کے امریکہ کے منصوبوں کے بارے میں بحث و گفتگو کی تھی ۔

چونکہ ترکی شام کی آزاد فوج کو دہشت گرد گروہوں میں شمار کرتا ہے لہذا امریکہ کا اس فوج کو ہتھیار دینے کا اقدام آنکارا کے حکام کے لیے ہمیشہ پریشانی کا باعث بنا رہتا ہے ۔

پیشمرگہ کی فوج نینوا کے آزاد شدہ علاقے سے پیچھے نہیں ہٹے گی ۔

پیشمرگہ کی فوج کی کمان نے اعلان کیا ہے کہ یہ فوج کسی بھی قیمت پر کیسے بھی حالات میں جن علاقوں کو اس نے نینوا کی آزادی کی کاروائی میں آزاد کروایا ہے ان سے پیچھے نہیں ہٹیں گی ۔

المیادین کی رپورٹ کے مطابق عراق کی پیشمرگہ نے موصل میں آزاد شدہ علاقوں کو عراق کی حکومت کو واگذار نہ کرنے کی خبر دی ہے ۔

اسی سلسلے میں عراق کی پیشمرگہ کی کمان نے اعلان کیا ہے کہ یہ فوج کسی بھی قیمت پر کیسے بھی حالات میں جن علاقوں کو اس نے نینوا کی آزادی کی کاروائی میں آزاد کروایا ہے ان سے پیچھے نہیں ہٹیں گی ۔

اس سے پہلے عراق کے وزیر اعظم نے تاکید کی تھی کہ عراق کی مسلح فوجیں ایک ہی کمان کے تحت ہیں ہم ان علاقوں کے لیے کہ جن پر مشترکہ کنٹرول ہے بنیادی منصوبہ بنا رہے ہیں ۔

جبہہء مقاومت کی فوجیں شہر المسکنہ سے دو کیلو میٹر کے فاصلےپر ہیں ،

صوبہء حلب سے میدانی جنگ کی تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ شام کی فوج اور مزاحمتی تحریک کی فوجیں شہر المسکنہ کی جانب اپنی پیشقدمی کو جاری رکھتے ہوئے العلوہ نام کے چھوٹے شہر کو داعش کے دہشت گردوں کے ناپاک وجود سے پاک کرنے میں کامیاب ہو گئی ہیں ۔

یہ چھوٹا شہر شہر المسکنہ کے شمال میں واقع ہے شام کی فوج اور مزاحمتی تحریک کی فوج شمال کی طرف سے شہر المسکنہ سے صرف دو کیلو میٹر کے فاصلے پر ہیں ۔

ایک چھوٹا شہر رسم الغزل شہر المسکنہ کے شمال میں داعش کے دہشت گردوں کا آخری ٹھکانہ بچا ہے اور اس کو پاک کرنے کا کام شروع کر دیا گیا ہے ۔

گذشتہ روز بھی شمال کے محور پر الوضحہ ، حایط اور خان الشعر نام کے چھوٹے شہروں کو آزاد کروا لیا گیا تھا ۔ مشرق کی رپورٹ کے مطابق مغرب کی جانب سے شہر المسکنہ سے فاصلہ صرف ایک کیلو میٹر رہ گیا ہے ۔

حماس ایک بڑی کاروائی کی تیاری کر رہی ہے ،

ریڈیو اسرائیل کے نامہ نگار نے دعوی کیا کہ حماس مغربی کنارے اور ۱۹۴۸ کے مقبوضہ فلسطین کے علاقے میں بڑی کاروائی کرنے کی تیاری کر رہا ہے ۔

ریڈیو اسرائیل کے خبر نگار گال بر گر نے دعوی کیا کہ یہ تحریک ۱۹۴۸ کی مقبوضہ سر زمینوں اور مغربی کنارے میں صہیونی حکومت کی فوج کے خلاف بڑی کاروائی کرنے کی تیاری کر رہی ہے ۔

مذکورہ رپورٹ کی بنیاد پر بر گر نے آگے تصریح کی : حماس اس کاروائی کو حماس کی فوجی شاخ القسام بریگیڈیر کے کمانڈر مازن فقہاء کے قتل کے انتقام میں انجام دینے والی ہے ۔

اس نے اس کے بعد دعوی کیا : حماس کو اس وقت معلوم ہے کہ غزہ کی سر حد پر کوئی بھی کاروائی اس تحریک کے لیے مشکل پیدا کرے گی اسی وجہ سے وہ مغربی کنارے اور مقبوضہ قدس میں کاروائی کو بہتر سمجھ رہی ہے ۔

بر گر نے آخر میں اعلان کیا کہ حماس کے ارکان کا عقیدہ ہے کہ مغربی کنارے میں کسی بھی کاروائی سے غزہ کی پٹی میں جنگ نہیں چھڑے گی ۔

ستھر لاکھ یمنیوں کو قحط کا خطرہ ،

یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی فرستادہ اسماعیل ولد شیخ نے منگلوار کی شب میں سلامتی کونسل کی بیٹھک میں کہ جو یمن کی تازہ ترین سیاسی اور انسانی تبدیلیوں کے بارے میں منعقد ہوئی تھی اعلان کیا :ستھر لاکھ یمنیوں کو قحط کا خطرہ لاحق ہے ۔

ولد شیخ نے تاکید کی : یمن میں کشیدگی کا جاری رہنا ملت یمن کے رنج والم میں اضافے کا باعث ہو گا اقوام متحدہ کے خصوصی فرستادہ نے اس چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ جھڑپیں مغربی ساحل پر صوبہء تعز میں ہو رہی ہیں ،اظہار کیا : سعودی عرب کے ساتھ سرحدی صوبوں حجہ اور سرحدی علاقوں میں جارحیت کا سلسلہ چل رہا ہے اور عربی اتحاد کے ہوائی جہاز یمن کے مختلف علاقوں پر بمباری کر رہے ہیں ۔

اس بین الاقوامی  مسئول کے بیان میں آگے آیا ہے : ماہ مبارک کے شروع ہوتے ہی ہم یہاں اعلان کرتے ہیں کہ اگر جنگ نہ رکی تو سات میلیوں یمنیوں کو قحط کی مشکل سے جھوجھنا پڑے گا ۔ یمنیوں کی ایک تعداد اپنی غذائی ضرورت کی ابتدائی چیزیں مہیا کرنے سے عاجز ہیں ، اسی طرح آدھے یمنی اس بات پر قادر نہیں ہیں کہ اپنے لیے پینے کا پانی مہیا کر سکیں اور صفائی کے ابتدائی ترین لوازم مہیا کرنے سے ناتوان ہیں اور اس چیز کی وجہ سے متعدی بیماریاں پھیل سکتی ہیں ۔

یمن میں بیماری کا پھیلنا اس طرح ہے کہ اس ملک میں وبا ۵۰۰ سے زیادہ آدمیوں کی جان لے چکی ہے اور ہزاروں افراد کے بارے میں شک ہے کہ وہ بیماری میں مبتلا ہیں ۔

ولد شیخ نے اپنی تقریر کے دوسرے حصے میں کہا : اب تک ہم کامیاب ہوئے ہیں کہ صوبہء الحدیدہ میں فوجی کاروائی نہ ہونے دیں ، چونکہ جنگ کے اس شہر کے اندر جانے سے یمنیوں کا بہت بڑا جانی نقصان ہو سکتا ہے ، بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی ہو سکتی ہے اور اس بندرگاہ سے یمن میں دوا بھی نہیں پہنچ سکتی تھی اور یہ سب حالات مل کر یمن والوں کی زندگی کو اجیرن کر دیتے ۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے یمن کی عورتوں کی طرف سے اس ملک کے بحران کو حل کرنے میں بے انتہا کوششوں کی اور اس ملک میں پایدار صلح اور قومی آشتی لانے کی کوششوں کی قدر دانی کی اور کہا : یمنی عورتوں کی طرف سے یہ اقدامات ایسی حالت میں ہو رہے ہیں کہ جب یمن میں سیاسی جارحیت اپنے عروج پر ہے ۔ 

ولد شیخ نے آگے بتایا : سلامتی کونسل کے ارکان سے  ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ یمن میں جنگ میں ملوث فریقوں کو یمن میں جنگ بندی  کے لیے اور خونریزی کے سلسلے کو روکنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ گفتگو کریں اور اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون کو جاری رکھیں ۔ انسانی بحران اور قحط انسان کی پیداوار ہے اور اس کو روکا جا سکتا ہے ۔ لیکن یمن میں جو لوگ لڑ رہے ہیں وہ ملک کو زیادہ سے زیادہ تباہی کی طرف لے جارہے ہیں اور ان کو پتہ بھی نہیں کہ ہزاروں یمنی اس جنگ میں اپنی زندگی سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری کے معاون اسٹیفن اوبراین نے بھی اس بیٹھک کے آغاز میں یمن میں موجودہ جنگ کے سلسلے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ۔

عراق کے صوبہء الانبار میں خود کش دھماکے میں ۱۳ شہید اور ۲۲ زخمی ،

ایک منبع نے کہ جس نے اپنا نام فاش نہیں کیا اس سلسلے میں بتایا : سیکیوریٹی فوجوں نے حادثے کی جگہ کا محاصرہ کر لیا ہے ، اور اس نے ضروری اقدامات کر لیے ہیں ۔

عراق کی سومریہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق اس منبع نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ اس دھماکے میں ۱۳ شہید اور ۲۲ زخمی ہوئے ہیں ، مزید کہا : ایک خود کش حملہ آور کہ جس نے دھماکے دار بیلٹ باندھی ہوئی تھی ، صوبہء الانبار کے مرکز میں شہر الرمادی کے مغرب میں ، شہر ھیت کے مرکز میں مدرسہء الشیماء کے نزدیک خود کو دھماکے سے اڑا دیا کہ جس کی وجہ بھاری جانی نقصان ہوا ۔

 ایک منبع نے کہ جس نے اپنا نام فاش نہیں کیا اس سلسلے میں بتایا : سیکیوریٹی فوجوں نے حادثے کی جگہ کا محاصرہ کر لیا ہے ، اور اس نے ضروری اقدامات کر لیے ہیں ۔

 دشہت گرد گروہ داعش کہ جو عراق میں اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہا ہے اس کوشش میں ہے کہ ان علاقوں جو اس کے قبضے سے نکل چکے ہیں خود کش حملے کر کے موصل سے عراقی فوج کی توجہ کو ہٹائے کہ جو شہر کو دہشت گردوں کے وجود سے پاک کرنے میں لگی ہوئی ہے اور اس حربے کے ذریعے وہ عراق کی فوج کی پیش قدمی روک دے ۔

اسی طرح دہشت گرد گروہ داعش نے گذشتہ سوموار کی رات کو ایک خود کش حملے میں ایک تجارتی مرکز کے نزدیک بغداد کے محلہء الکرادہ میں ۱۵ کو شہید اور ۵۵ کو زخمی کر دیا ۔

کویت کی ایران سے مدد کی درخواست ،

کویت کے وزیر امور خارجہ نے اس ملک میں بہت سارے بیرونی سفیروں منجملہ ایران کے سفیر کے ساتھ ملاقات میں ان سے درخواست کی کہ وہ سلامتی کونسل میں غیر دائمی رکنیت کے لیے اس کی مدد کریں ۔

الحدث النور ویب سایٹ کی رپورٹ کے مطابق کویت کے وزیر امور خارجہ نے  اس ملک میں کچھ سفیروں کے ساتھ ، منجملہ جمہوریء اسلامیء ایران کے سفیر علی رضا عنایتی سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ کویت نے جو سلامتی کونسل کی رکنیت کے لیے درخواست دی ہے اس کی حمایت کریں ۔

قابل ذکر ہے کہ کویت نے سال ۱۹۷۸ میں اقوام متحدہ کی غیر دائمی رکنیت حاصل کی تھی ، اور اب اس کی کوشش ہے کہ مشرق وسطی کے علاقے میں غیر جانبدارانہ سیاست پر عمل کر کے اور بین الاقوامی روابط کو مضبوط کر کے اور ملکوں کی حمایت حاصل کر کے ۲۰۱۸ اور ۲۰۱۹ میں اس اسمبلی کی رکنیت دوبارہ حاصل کرے ۔   


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر