تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور :17 نومبر/ میانمار فوج کے سربراہ نے کہاہے کہ بدھ مت کے پیروکاروں کے راضی ہونے تک بنگلادیش ہجرت کر جانے والے روہنگیا مسلمان واپس نہیں آسکتے، روہنگیائی افراد کی اپنے گھروں کی واپسی میانمار کے حقیقی باشندوں کی رضامندی سے ہوگی اور اس مقصدکے لیے سب سے پہلے بدھ پرستوں کو راضی کرنا پڑے گا ۔

نیوز نور :17 نومبر/ عراقی فوج اور سیکورٹی فورس نے مغربی صوبے الانبار کے شہر راوہ کو بھی تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے قبضے سے آزاد کرا لیاہے۔

نیوز نور :17 نومبر/ ترکی کے صدر نے مغربی ممالک پر شامی کردوں کی حمایت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن ممالک نے داعش کو تشکیل دیا تھا وہی آج شام کے کردوں کو مسلح کررہے ہیں۔

نیوز نور :17 نومبر/ تہران کےخطیب جمعہ نے خطے کے حساس شرائط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاہےکہ  مسلمانوں کو باہمی اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ دشمنوں کے منصوبوں کو ناکام بنانا چاہیے۔

نیوز نور :17 نومبر/ جرمن وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یورپی ممالک سعودی اقدامات اور مہم جوئی پر کسی بھی صورت میں خاموش نہیں رہیں گے۔

  فهرست  
   
     
 
    
اسلامی بیداری اور امت کے اتحاد میں امام خمینی رہ کا کردار

نیوزنور: حضرت امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ عالم  اسلام کے اتحاد اور اسلامی بیداری کے عظیم معلم تھے ، کہ جنہوں نے اپنے مبارزے کی مدت اور اپنی رہبری کے دوران ، اپنے بیانات اور ہدایات کے ذریعے دنیا کی قوموں کی آزادی اور بیداری کے مختلف پہلووں کو اجا گر کیا ۔

اسلامی بیداری صارفین۱۵۷۳ : // تفصیل

اسلامی بیداری اور امت کے اتحاد میں امام خمینی رہ کا کردار

نیوزنور: حضرت امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ عالم  اسلام کے اتحاد اور اسلامی بیداری کے عظیم معلم تھے ، کہ جنہوں نے اپنے مبارزے کی مدت اور اپنی رہبری کے دوران ، اپنے بیانات اور ہدایات کے ذریعے دنیا کی قوموں کی آزادی اور بیداری کے مختلف پہلووں کو اجا گر کیا ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کی رحلت جانگداز کی سالگرہ کے موقعے پر عالم اسلام کی بیداری میں امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کے کردار کو اجاگر کیا ۔

حضرت امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کا قیام اور ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی نے دینی اقدار اور مذہبی ایمان  کو جو طاق نسیاں کے سپرد کر دیا گیا تھا ، اس کے مقابلے میں نئے حالات پیدا کیے کہ جو دنیا کے پہلے اور عصری   ادوار سے مختلف دور میں  ممتاز دینی اور معنوی خصوصیات کے ساتھ داخل ہو نے کی حکایت کرتے ہیں ۔

امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ اور دنیا میں دین کا احیاء ،

عالمی سطح پر مذہب کا احیا اس بات پر دلات نہیں کرتا کہ عالمی سیاست کی معنوی روح کا احیا غیر سیاسی ہے ، بلکہ اس کے بر عکس  مذہب اور ایک نئے اور وسیع تال میل کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ اس طرح اسلام کا احیا دین اور سماج کے سیاسی ہونے پر منتہی ہو گا ۔ اس تعلق سے سیاسی اسلام اور جدیدیت میں کوئی تعارض نہیں ہے ، اسلامی احیا کا اصلی محور  نسبیت پسندی ، مغرب پرستی ، فرد پسندی اور مصرف کے رجحان کا مقابلہ کرنا ہے (۱) کہ یہ چیزیں ماڈرنیزم کا مظہر ہیں، اس لباس میں کہ جس میں اسلام پسندی کا احیا ، اور اسی طرح سیاسی اسلام ، شہر نشینی کے جلووں ، صنعت و حرفت ، ترقی ، علم وغیرہ جدیدیت کے قالب کے ساتھ سازگار ہیں اسلام ان کی تائیید کرتا ہے (۲) دوسرے لفظوں میں اسلام کا یہ احیا ، ماڈرنزم اور مغرب پسندی کے مقابلے میں  ہے ، اور یہ دنیائے اسلام کے مغربی ہو جانے کے نظریے کی تنقید کرتا ہے ۔ اسلام کا احیا مختلف سطوح پر نئے انسان کی ضرورتوں کا جوابگو ہے (۳) ایک طرف ان لوگوں کی جذباتی اور اجتماعی ضرورتیں کہ جو اپنی بنیادوں سے جدا رہ گئے ہیں پھر سے پوری کرتا ہے تو دوسری طرف ان کو منظم تنظیموں اور میدانوں میں تیار کرتا ہے (۴) پس پہلے مرحلے میں مسلمانوں کی اصلی ترین ضرورت کو ان کی پہچان کے قالب میں ان کی تعمیر نو کو سمجھنا چاہیے جو ان کو ان کی پہچان اور ان کے عقیدے کی بنیادوں کے ساتھ جوڑتی ہیں (۵) اس روش میں احیا کرنے والے نہ صرف نئے نمونوں سے استفادہ کرتے ہیں بلکہ ان کو ایسا عمل پسند سمجھنا چاہیے کہ جو ایک خیالی امر کا مقابلہ کرنے کے در پے ہیں (۶) یعنی ان کی نظر میں ماڈرنزم کے تمام جلوے یعنی مغرب پسندی ، فرد پسندی اور مصرف پسندی ایسے موضوعات ہیں جن کو غیر مطلوب اور انتزاعی قرار دیا گیا ہے  کہ جن کا مقابلہ کیا جا نا چاہیے ۔اس بنیاد پر وہ اس مقصد کے تحقق کے لیے عمل پسندی کو فعال بنانے کی ضرورت پر تاکید کرتے ہیں ۔ بعد کے مرحلے میں بھی پہچان کی نئی صف بندیاں شروع ہوں گی کہ جن کی پہچان بے جہت اور مبہم نہیں ہو سکتی ۔ پس اسلامی احیا گر ایسی تاریخ خلق کرنے کے در پے ہیں کہ جس میں انسانوں کے کردار  کا مطلب اور مقام لازمی  ہوتا ہے (۷) اس بنا پر حضرت امام خمینی رہ اسلام کے دینی تاریخی افکار کی اصلاح اور ان کے احیا کے میدان میں سب کے سردار ہیں ۔ (۸) اور انقلاب اسلامی کی کامیابی ، معاشرے کی اصلاح اور دیانت کے احیا  کے میدان میں ان کی دسیوں سال کی جہادی اور فکری جدو جہد کا اہم ترین نتیجہ ہے (۹)

امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ اور اسلام کی عالمگیر تحریک

اسلامی اقدار کی حیات نو ، مسلمانوں اور خاص کر جوان نسل کا اسلامی تفکر کی طرف رجحان ، اسلامی ملکوں کی میونسپلٹیوں اور پارلیمنٹوں کے انتخابات میں اسلام پسندوں کا کامیاب ہونا ، اسلامی اقدار اور مقاصد رکھنے والی حکومتوں کا تشکیل پانا ، اور مذہبی محافل میں مسلمانوں کا بھاری تعداد میں حاضر ہو نا ، مسلمانوں کی خود پر یقین رکھنے والی روح کے صرف کچھ آثار ہیں کہ جس کو حضرت امام خمینی رہ نے اپنے نفس مسیحائی سے نیم جان اسلامی معاشروں کے پیکر میں پھونکا ہے (۱۰) جیسا کہ مقام معظم رہبری حضرت امام خامنہ ای نے فرمایا ہے : امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ نے اس انقلاب کے ذریعے مسلمانوں کو شادابی بخشی اور اسلام کو زندہ کر دیا ، چنانچہ آج اسلام ، نسل جوان ، تجربہ کار ، اور روشن فکر  کی امید اور آرزو ہے (۱۱)  

حضرت امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کے اتحاد پسند نظریات اس نقطہء قوت کے حامل ہیں کہ جن کے عملی جامہ پہننے کا امکان پیدا ہو گیا ہے ۔ امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ  نے بھی ایک آئیڈیالوجسٹ اور نظریہ پرداز ہونے کے اعتبار سے بھی اور اسلامی حکومت کے رہنما ہونے کے اعتبار سے بھی بہت سارے نظریات کو عملی جامہ پہنانے میں کامیابی حاصل کی ۔آپ کے نزدیک اسلامی ممالک کی سب سے بڑی کمزوری ان کے درمیان تفرقہ اور پرگندگی ہے اور اسلامی تمدن کی کمزوری کا ایک اصلی سبب بھی یہی چیز ہے ۔ اس لحاظ سے امام رہ کے اتحاد پسند نظریات کو دنیائے اسلام کے ساتھ تعاون کے عنوان سے بھی بیان کیا جا سکتا ہے ۔ امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کے پیش نظر جو تعاون تھا ، وہ ایک لمبی مدت کے منصوبے کے عنوان سے ، سیاسی تعاون بھی تھا کہ جس میں ملک اور حکومت کے اداروں اور اس کے ڈھانچوں کے درمیان تعاون بھی مد نظر تھا ، اور ایک درمیانی مدت کے منصوبے کے تحت اجتماعی میدان میں تعاون بھی کہ جو زیادہ تر ارتباطات کے نظریہ پردازوں کے مد نظر ہوتا ہے ۔ اس نظریے میں علاقوں کی حد تک گوناگوں ارتباطات کی توسیع مد نظر ہے ۔ اس نظریے کی بنیاد پر کسی علاقے میں اجتماعی مبادلات اور ارتباطات  کی توسیع مشترکہ احساسات اور ایک دوسرے کے مفادات کی تقویت اور اس کی ایجاد میں مدد کرتی ہے اور سیاسی سطح پر تعاون کی رفتار میں تیزی پیدا کرے گی ۔ (۱۲)

انقلاب اسلامی ایران کا صدور ،

امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ صدور انقلاب کے بارے میں فرماتے ہیں : ہمیں پوری شدت کے ساتھ  اپنے انقلاب کو دنیا میں صادر کرنا ہو گا ، اور اس طرز فکر کو کہ ہم صدور انقلاب پر قادر نہیں ہیں ہمیں ترک کرنا ہو گا اس لیے کہ اسلام ، اسلامی ملکوں کے درمیان فرق کا قائیل نہیں ہے ۔ ہم تمام محرومین کے حامی ہیں تمام بڑی طاقتیں اور ساری حکومتیں ہمیں مٹانے کے لیے اٹھ  کھڑی ہوئی ہیں ، اگر ہم ایک محدود فضا میں باقی رہے تو قطعا ہمیں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا (۱۳)

البتہ آپ نے صدور انقلاب کے معنی اور اس سے منفی نتائج اخذ کر کے ان سے  نا جائز فائدہ اٹھانے کے بارے میں یاد دلایا : یہ جو ہم کہتے ہیں کہ ہمارے انقلاب کو ہر جگہ صادر ہونا چاہیے  اس سے کوئی غلط نتیجہ نہ نکالے کہ ہم ملکوں کو فتح کرنا چاہتے ہیں ۔ تمام ملکوں کو اپنی اپنی جگہ پر باقی رہنا چاہیے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ  یہ چیز جو ایران میں رونما ہوئی ہے ، اور انہوں نے خود بڑی طاقتوں سے دوری اختیار کر لی ہے ، اپنے خزانوں سے ان کو دور کر دیا ہے یہی چیز تمام ملتوں اور تمام حکومتوں میں ہو ۔ انقلاب کے صدور کا مطلب یہ ہے کہ تمام ملتیں اور تمام حکومتیں بیدار ہو جائیں اور خود کو اس پریشانی سے نجات دلائیں ۔

اسی طرح دنیا میں اسلامی اور آزادی بخش تحریکوں پر امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کی رہبری کے ظاہر اور نمایاں اثرات انکار نا پذیر ہیں ۔ ایسے دور میں کہ جب اکثر تحریکیں  اور مبارزات بائیں بازو کے مارکسسی نظریات کی حامل تھیں اور اجتماعی اور سیاسی میدان میں لوگ دین کی تاثیر کے قائل نہیں تھے ۔ اچانک ان کو اس حقیقت کا سامنا ہوا کہ ایک  مکمل دینی تحریک ایک دینی مرجعیت کی رہبری میں کامیاب ہو گئی ۔ اس توفیق نے ان کے تعجب کو بھی بڑھا دیا اور دین پر ان کے اعتماد میں بھی اضافہ کیا ۔ وہ لوگ کہ جو بائیں بازو کی اور مارکسسی آئیڈیالوجی  کی طاقت سے خوفناک تھے ، ایک بار پھر اس یقین تک پہنچ گئے کہ حقیقی اسلام اصلاح بھی لا سکتا ہے اور انقلاب بھی (۱۴)

 امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ اور اسلامی بیداری ۔

بہت سارے صاحبان نظر دور حاضر کی اسلامی تحریکوں کے وجودمیں آنے کے بارے میں معتقد ہیں کہ  انقلاب اسلامی ایران مسلمانوں میں بیداری اور آگاہی کی رفتار کو آگے بڑھانے اور اسلامی اور عربی ملکوں میں موئثر فعالیت میں اضافہ کرنے میں ایک انتہائی اہم عامل اور سبب رہا ہے ۔ اسلامی ملکوں کا انقلاب سے اثر پذیر ہو نے کا نظریہ ، آزادی کی تحریکوں کے رہنماوں کے اقوال اور انقلان ایران سے ان کے سبق حاصل کرنے اور ان تبدیلیوں اور واقعات کے مطالعے پر مبنی ہے کہ جو اسلامی ملکوں میں رونما ہوئی ہیں (۱۵) حضرت امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ خود اس بات سے واقف تھے اور اس پر فخر کرتے تھے ۔

اس بات پر توجہ کہ امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کی حرکت کا روڈ میپ ،فرامین الہی کے سلسلے میں ذمہ داری کو پورا کرنا ہے ، اسی لیے یہ ذمہ داری کسی زمانے اور مکان سے مخصوص  اور محدود نہیں ہے۔ حضرت امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : جو ملک اغیار کے تسلط میں ہیں ان کی آزادی اور ان کے استقلال کی واپسی میں ہم ان کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور ان سے کھل کر کہتے ہیں کہ حق کو چھین کر لیا جاتا ہے ۔ اٹھ کھڑے ہوں اور بڑی طاقتوں  کوتاریخ اور زمانے کے منظر نامے سے محو کر دیں ۔ میں نے بارہا کہا ہے اور اب بھی خبر دار کرتا ہوں کہ اگر ستم رسیدہ مشرق اور افریقہ خود پر بھروسہ نہیں کریں گے تو ہمیشہ کے لیے گرفتار رہیں گے (۱۶)            

 حوالہ جات:

 

·         [1] _ ماهنامه فرهنگ توسعه، ش4 ، سال 74،

·         [2] - ماهنامه اسلام و غرب،شماره 30 و 31،سال سوم،صفحه 26،بهمن و اسفند ماه 1378 هـ.ش

·         [3] _ ماهنامه موعود، ماهنامه فرهنگي، اعتقادي و اجتماعي، سال هشتم، شماره 44، خرداد 1383

·         [4] _ میلاني محسن ، شکل‌گیری انقلاب اسلامی، ترجمه عطار زاده، تهران، گام نو 1378،

·         [5] _ مسجد جامعی محمد ، 1361 ، ایدئولوژی و انقلاب ، بی م ، بی نا.

·         [6] _ مجید محمدی، آسیب شناسی دینی، تهران، نشر تفکر، 1376،

·         [7] _ ابراهيم متقي ، رويارويي غرب معاصر جهان اسلام ، قم ، پژوهشگاه فرهنگ و انديشه اسلامي ، 1387 ، ص 294 الي 297.

·         [8] - امام خمینی(ره) صحیفه امام، تهران، نشر وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامی، 1380، مراجعه به مطالب جلد های 3، 4 و 6

·         [9]  -  سلیمانی زاده ، داوود ، انقلاب اسلامی و احیای هویت دینی شیعیان لبنان ، تهران ، مرکز اسناد انقلاب اسلامی ، 1387، ص 123 و 124.

·         [10] _ حمید عنایت (انقلاب ایران، سال 79، نقش ایدئولوژی شیعه در پیروزی انقلاب ایران)، ترجمه  معین منتظر لطف ، ماهنامه فرهنگ توسعه، ش4 ، سال 74،

·         [11] _ به نقل از پایگاه اطلاع رسانی حوزه، به آدرس اینترنتی :   www.hawzah.net

·         [12] -  حکومت از دیدگاه مذاهب اسلامی،مجمع جهانی تقریب مذاهب اسلامی-1377- ص 304، مقاله جهان اسلام، کلیدهای همگرایی و دامانی واگرایی، رضا سیمبر ، به نقل از :    http://mazaheb.ir

·         [13] -  امام خمینی(ره)،1361، صحیفه نور، تهران ، انتشارات وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامی

·         [14] - مقاله جهان اسلام، کلیدهای همگرایی و دامانی واگرایی، رضا سیمبر ، حاجتی، میر احمد رضا، امام خمینی و خیزش جهانی اسلام،بر گرفته از کتاب عصر امام خمینی،1385

·         [15] _ در جست وجوى راه از كلام امام (تهران، اميركبير1363) دفتر هفدهم و بيستم،

·         [16] - پیام حضرت امام خمینی(ره) به مناسبت سالروز پیروزى انقلاب، 22/12/1358


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر