تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور : لبنان میں تعینات شام کے سفیر نے دمشق اور بیروت کے درمیان روابط کو لازوال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے متحارب گروپوں کی حمایت کا خاتمہ ایک مثبت قدم ہے۔

نیوز نور: یمن کے ایک سینئر سیاستدان نے کہاہےکہ یمنی عوام کے خلاف دشمنوں نے  خوفناک جنگ چھیڑ رکھی ہے جس کا آغاز شیطان بزرگ امریکہ نے کیا ہے ۔

نیوز نور : قطر کے وزیر خارجہ کے مشیر نے کہا ہے کہ ان کا ملک سعودی قیادت کے محاصرے کے آگے گھٹنے نہیں ٹیک سکتا ہے۔

نیوز نور: بین الاقوامی امداد رسائی کی تنظیم اکسفام نے اپنے ایک بیان میں کہاہےکہ برطانیہ آل سعود کو ہتھیار فروخت کرکے  یمنی عوام کے خلاف جنگی جرائم  میں برابر کا شریک ہے۔

نیوز نور : ایرانی وزرات خارجہ کے ترجمان نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران خطے میں امن و امان اور استحکام کے حوالے سے ہر قسم کے اقدامات کا خیر مقدم کرتا ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
سعودی عرب اور قطر کے مابین کشیدگی اپنے عروج پر ؛
سعودی روزنامہ : قطر میں چھٹی بار کودتا بعید نہیں ہے

نیوزنور:ایک سعودی روزنامے نے ریاض اور دوحہ کے درمیان کشیدگی کے عروج پر پہنچ جانے کے بعد قطر کو کودتا کی دھمکی دی ہے اور لکھا ہے کہ اس ملک پر حکمران خاندان نے اس کے امیر سے بیزاری کا اعلان کر دیا ہے اور کودتا کا واقع ہونا بعید نہیں ہے۔

استکباری دنیا صارفین۱۶۶۳ : // تفصیل

سعودی عرب اور قطر کے مابین کشیدگی اپنے عروج پر ؛

سعودی روزنامہ : قطر میں چھٹی بار کودتا بعید نہیں ہے

نیوزنور:ایک سعودی روزنامے نے ریاض اور دوحہ کے درمیان کشیدگی کے عروج پر پہنچ جانے کے بعد قطر کو کودتا کی دھمکی دی ہے اور لکھا ہے کہ اس ملک پر حکمران خاندان نے اس کے امیر سے بیزاری کا اعلان کر دیا ہے اور کودتا کا واقع ہونا بعید نہیں ہے۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی  رپورٹ کے مطابق ، سعودی عرب اور قطر کے درمیان کشمکش اور جھڑپیں ان دنوں اپنے عروج کو پہنچ چکی ہیں ، اور توہین کی حد سے گذر کر دھمکی کی حد میں داخل ہو چکی ہیں ۔

ایک سعودی روزنامے "الریاض" نے ایک رپورٹ میں ۴۶ سال میں پانچ کودتا کے بعد چھٹا کودتا بعید نہیں ہے کے عنوان کے تحت قطر میں رونما ہو چکے کودتاوں کا ذکر کیا ہے اور امیر قطر کو برطرف کر دینے کی دھمکی دی ہے ۔

اس سعودی روزنامے نے لکھا ہے : آل ثانی کے خاندان  نے کہ جو قطر کے اصلی حکمران ہیں ، اور تمیم کے چچا زاد بھائیوں نے اپنے لا پرواہ امیر کے دستورات سے بیزاری کا اعلان کر دیا ہے اور یہ ان توہین آمیز کارٹونوں کی وجہ سے ہوا ہے کہ جن کو الجزیرہ چینل نے نشر کیا تھا ۔ الریاض کے بقول خاندان آل ثانی نے سعودی عرب کے بادشاہ  سلمان ابن عبد العزیز کو ایک خط لکھ کر اس بارے میں معافی مانگی ہے اور قطر پر حاکم خاندان سے بیزاری کا اعلان کیا ہے ۔

الریاض کے دعوے کے مطابق ، آل ثانی کے خاندان نے اس خط میں کہا ہے : قطر کے حاکم تمیم کی پالیسیوں کی مخالفت ان کے خاندان کی طرف سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ، اور اس سے پہلے کہ تمیم ابن حمد کے اقدامات کی وجہ سے  خاندان کی کشتی ڈوب جائے ، خاندان کے اعضاء نے اس پالیسی سے بیزاری کا اعلان کیا ہے ، اور خلیج فارس کے ملکوں کے سلسلے میں بھی تمیم کی پالیسیوں کے بارے میں غیظ و غضب کا  اظہار کیا ہے ۔

امیر قطر کی طرف منسوب تقریر کے نشر ہو جانے کے بعد کہ جو ٹرامپ کے سعودی عرب کے دورے اور عربی اور اسلامی ملکوں کے ساتھ جلسے  کے دو دن بعد سامنے آئی اور تمیم بن حمد نے ایران کے ساتھ کشیدگی کو بڑھانے سے اجتناب کی ضرورت پر تاکید کی اور حزب اللہ اور حماس کو مزاحمتی تحریکیں بتایا  تھا سعودی عرب اور قطر کے روابط میں کشیدگی آ گئی ہے ۔

روز نامہ الریاض نے قطر کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کھلی دھمکی دیتے ہوئے لکھا ہے کہ آل ثانی کے  خاندان کا یہ خط حکام قطر کے درمیان گہرے شگاف کا عکاس ہے اور انہوں نے بھی اعلان کر دیا ہے کہ تمیم کی پالیسیوں سے وہ عاجز آ چکے ہیں اور احتمال پایا جاتا ہے کہ قطر کی حکومت میں ایک نیا کودتا ہو گا جس کے بعد حکومت اصلی حکمران خاندان کے پا س چلی جائے گی۔ اس روزنامے نے آگے لکھا ہے کہ اس مسئلے سے پتہ چلتا ہے کہ تمیم کی پالیسیوں کی وجہ سے آل ثانی کے خاندان میں مختلف سطحوں پر کشیدگی پائی جاتی ہے ، اور اس بات کا خوف ہے کہ وہ عرب ملکوں خاص کر سعودی عرب کے اپنے روابط کے سلسلے کو کھو بیٹھیں گے ۔

الریاض کی رپورٹ کے مطابق جو شخص قطر کی آزادی سے لے کر کہ جو گذشتہ صدی میں ستر کی دہائی میں اس کو ملی تھی اب تک کی اس کی تاریخ سے واقف ہے وہ اچھی طرح اس ملک میں کودتا اور حکومت میں دراڑ سے واقف ہے سب سے پہلا کودتا خاندان احمد بن آل ثانی میں تمیم کے دادا خلیفہ بن حمد کے زمانے میں ہوا تھا ۔ وہ شخص کہ جس نے ۲۲ نومبر ۱۹۷۲ کے دن کودتا کیا تھا ، چنانچہ اس زمانے سے اب تک حکومت علی ابن احمد کے خاندان کو نہیں ملی ہے حقیقت میں  بن علی کے خاندان نے یہ خط بن سلمان کو بھیجا ہے ۔

اس رپورٹ کی بنیاد پر دنیا میں کوئی ماڈرن حکومت ایسی نہیں ہے کہ جو طاقت اور حکومت کی مسند تک پہنچنے کے لیے قطر کی طرح فریب اور خیانت میں غرق ہو ۔ وہ ملک کہ جس کی سیاسی عمر ایک آزاد ملک کی حیثیت سے ۴۶ سال سے زیادہ نہیں ہے ، اور اس کا رقبہ تقریبا ۱۱ ہزار مربع کیلو میٹر ہے  اس کی آبادی ۲۰ لاکھ بھی نہیں ہے اور ان میں بھی ہزاروں کی تعداد میں ہندوستانی اور پاکستانی ہیں ۔

الریاض میں قطر میں ہونے والے کودتاوں کو اس ترتیب سے بیان کیا گیا  ہے :

پہلا کودتا ،

۳ نومبر ۱۹۷۱ میں قطر کی حکومت کی بنیاد پڑنے کے بعد حکومت کی باگ ڈور احمد بن علی نے سنبھالی ، ۲۲ فروری ۱۹۷۲ کے دن آزادی کے بعد قطر کے پہلے حاکم احمد بن علی کے چچا زاد بھائی خلیفہ بن حمد  بن علی  نے کودتا کر کے حکومت اس سے چھین لی ۔

خلیفہ بن حمد  آل ثانی کے کودتا کی سازش رچانے والے ذہن نے اس کودتا میں اپنے چچا زاد کی حکومت کو سر نگوں کر دیا ۔ ۔ قطر نے جب ۱۹۷۱ میں انگریزوں سے آزادی پائی تھی تو اس کے بعد سے اس پر حکومت شیخ احمد بن علی آل ثانی کے ہاتھ میں تھی جس کو اس کے چچا زاد نے کودتا کے ذریعے  سر نگوں کر دیا ، اس کے بعد خلیفہ نے بھی بڑے بڑے عہدے اپنے فرزندوں کو دیے اور اپنی حکومت کو مضبوط کر لیا ، لیکن اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ اپنے بیٹے یعنی حمد کے ہاتھوں چوٹ کھانے والا ہے ۔

دوسرا کودتا ،

۱۹۹۵ میں حمد بن خلیفہ نے اپنے باپ کے خلاف اپنے بیوی موزہ المسند کے اکسانے پر نرم کودتا انجام دیا اور حکومت کی باگ  ڈور اپنے ہاتھ میں لے لی اور اجازت نہیں دی کہ اس کا باپ کچھ برسوں تک قطر واپس لوٹے  ۔ یہاں تک کہ سال ۲۰۰۴ میں وہ اپنے ملک واپس لوٹا ۔

تیسرا کودتا ،

حمد بن خلیفہ آل ثانی کے بڑے بیٹے فہد بن حمد نے  ۱۹۹۶ میں حکومت کو اپنے باپ کی بیوی موزہ المسند  سے چھین کر اس عورت سے اپنے دادا کا انتقام لے لیا ؛ وہ شخص کہ جس کے ہاتھ میں حمد کے اپنے باپ کے خلاف کودتا کی باگ ڈور تھی ،  مگر اسے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا بلکہ اسے قطر سے جلا وطن کر دیا گیا ۔

چوتھا کودتا،

موزہ المسند نے حمد کے دو بڑے بیٹوں ، مشعل اور فہد کوکہ جو اس کی پہلی بیوی سے تھے قطر سے جلا وطن کروانے میں کامیابی حاصل کر لی تھی ، اور اس طرح اس نے ولی عہدی کو اپنے بیٹوں جاسم اور تمیم کے لیے محفوظ کر لیا ۔

اس کے بعد موزہ نے جاسم کو ولی عہد بنایا ، لیکن وہ کھلے عام ، اور سنت شکنی کرنے ، اور اجنبی لوگوں سے باتیں کرنے میں ماں کے خلاف تھا اسی لیے ماں نے اس کو حکومت سے دور کر دیا ۔

ان تمام سازشوں  اور خیانتوں کے بعد قطر کی حکومت تمیم بن حمد کے ہاتھ لگی تھی کہ جو اس زمانے میں ۲۳ سال کا جوان تھا ، اور کئی سال گذرنے کے بعد اپنی ماں کی مدد سے اپنے قریبی اور مخلص افراد کو اہم عہدوں پر فائز کرنے میں کامیاب ہوا ۔

پانچواں کودتا ،

سال ۲۰۱۳ میں حمد کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ حکومت سے کنارہ کش ہو جائے اور حکومت کو اپنے بیٹے تمیم کے  سپرد کر دے ، وہ تمیم کہ جس نے اپنی ماں  موزہ المسند کی مدد سے نرم کودتا انجام دیا ۔

ان کودتاوں ، سازشوں اور خیانتوں  کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ درج ذیل منظر ناموں کے تحت قطر میں چھٹا کودتا رونما ہو گا :

پہلا منظر نامہ ،

چار سال تک حکومت کرنے کے باوجود تمیم کا کوئی دوست نہیں بن پایا ہے بلکہ اس نے دشمن ہی بنائے ہیں ، لہذا پہلا خطرہ جو اس کو لاحق ہے وہ احمد بن علی کے خاندان کی طرف سے ہے کہ جو انتقام لینا چاہتے ہیں ، اس لیے کہ قطر کی حکومت کے اصلی اور قانونی حقدار وہی ہیں ۔ خلاصہ یہ کہ سعودی عرب کو پیغام بھیجنا اور تمیم کی پالیسیوں کے سلسلے میں معافی مانگنا ، حمد کے خاندان کو قابو کرنے اور اس سے حکومت واپس لینے کے حوالے  سے ایک اہم پیغام ہے ۔

دوسرا منظر نامہ ،

دوسرا خطرہ جو تمیم کو لاحق ہے وہ اس کے باپ حمد بن خلیفہ آل ثانی اور اس کے بیٹے مشعل کی طرف سے ہے ۔ یہ وہ شخص ہے کہ جس کو موزہ نے تمیم کی خاطر حکومت سے دور کر دیا تھا ، جس کا اب مشعل بدلہ لینا چاہتا ہے ۔              

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر