تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور:1932 ء میں سعودی عرب کے قیام کے بعد سے آل سعود نے بادشاہت کے متضاد سیاسی ،سماجی اورمذہبی ڈھانچے کے چلینجز سے نمٹنے کیلئے وہابیت کا استعمال کیا ہے اوروہابیت کے نظرئے نے مذہبی طورپر آل سعود خاندان کی طاقت تاج اورحکومت کو جائز ٹھہرایا ہے۔

نیوز نور : بولویا کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کو وینزوئلا میں مداخلت کا خیال ترک کرنا چاہئے کیونکہ دنیا بھر میں امریکی سامراجیت دم توڑ چکی ہے۔

نیوز نور:ایران کے ایک سینئر قانون ساز نے کہاہےکہ امریکہ کی طرف سے روس اورایران پر  بیک وقت پابندیوں کو عائد کئے جانے کا مقصد دوعلاقائی اتحادیوں کے درمیان تعلقات میں شگاف پیدا کرنا تھا۔

نیوز نور:لبنان کی اسلامی تحریک مقاومت حزب اللہ کی سیکورٹی کونسل کےچیئرمین نے کہاہے کہ شام میں سرگرم تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے خلاف جنگ آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

نیوز نور : لبنان کے پارلیمانی نمائندے نے کہا ہے کہ  شام فلسطین اور بیت المقدس کی حمایت کا علمبردار ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
لبنان کے روزنامے الاخبار کے مدیر کا تجزیہ ؛
ہلال مقاومت ، تہران سے فلسطین تک /مقاومت کے افراد کا اس ہلال کی تشکیل میں کیا کردار ہے ؟

نیوزنور:مغربی اور عربی محاذ ، شام کی جنگ کے آغاز سے ہی مقاومت کے محور کو نابود کرنے کے درپے تھا ، لیکن اب جب کہ شام کی قانونی حکومت کے سرنگوں ہونے کا خطرہ ٹل چکا ہے تو مقاومت کا یہ محور ایسے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش میں ہے کہ جنہوں نے امریکہ کے منصوبوں کو نقش بر آب کر دیا ہے ۔

اسلامی بیداری صارفین۱۵۵۷ : // تفصیل

لبنان کے روزنامے الاخبار کے مدیر کا تجزیہ ؛

ہلال مقاومت ، تہران سے فلسطین تک /مقاومت کے افراد کا اس ہلال کی تشکیل میں کیا کردار ہے ؟

نیوزنور:مغربی اور عربی محاذ ، شام کی جنگ کے آغاز سے ہی مقاومت کے محور کو نابود کرنے کے درپے تھا ، لیکن اب جب کہ شام کی قانونی حکومت کے سرنگوں ہونے کا خطرہ ٹل چکا ہے تو مقاومت کا یہ محور ایسے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش میں ہے کہ جنہوں نے امریکہ کے منصوبوں کو نقش بر آب کر دیا ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق  صہیونی حکومت کے توسط سے عربی سرزمینوں پر غاصبانہ قبضے اور مشرق وسطی کے علاقے میں امریکہ کے نفوذ کے مقابلے میں مقاومت نے نئے مرحلے کا آغاز کیا ہے ۔

اس مسئلے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کو اس علاقے کی ملتیں اپنے دستور کار سے بالکل خارج کر دیں ، لیکن ترجیحات کا کھیل باعث بنتا ہے کہ علاقے کے لوگ چاہے دیر سے ہی سہی اپنے مسائل کی طرف متوجہ ہوں ، اور اس بات کی طرف بھی کہ امریکہ ، مغرب اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے اچانک اور بڑے پیمانے پر ان کی حمایت ، اس مقدار میں کہ جو حکومتوں کی ماہیت اور رفتار  کو بدلنے کے لیے ہے اس کا مقصد لوگوں کی زندگی میں خوشحالی لانا ہر گز نہیں ہے ۔

اسی طرح ان ملکوں کا یہ بھی ارادہ نہیں ہے کہ وہ شہریوں کے حقوق میں اضافہ کریں ۔ بلکہ ان کا مقصد عالمی نظام کے مقابلے میں اٹھنے والی ہر طرح کی بغاوت کو دبانا ہے وہ نظام جو علاقے کی ملتوں کو لوٹ رہا ہے اور ان کی دولت کو ہڑپ کر رہا ہے ۔

لبنان کے ایک روزنامے الاخبار  کے چیف ایڈیٹر  ابراہیم الامین نے مذکورہ بالا مقدمے کے ساتھ شام کے بحران کے تازہ پہلووں کا جائزہ لیا ہے اور لکھا ہے ،۔ اس کے بغیر کہ ہم  شام میں جو موجودہ بحران ہے اس کے ماضی اور اس کی ماہیت کے بارے میں اور کسی حد تک عراق کے بارے میں  بات کرنا چاہیں ، ہمیں اس نکتے کی طرف اشارہ کر دینا چاہیے کہ اس جنگ میں مصروف زیادہ تر گروہوں کے درمیان مشترکہ مسئلہ ، اس علاقے کے کلیدی کردار اور مشرق وسطی کے علاقے میں عالمی نفوذ کے لیے نئے قوانین کی تعیین ہے ، صرف مشرق وسطی کے مستقبل کا خاکہ بنانا نہیں ، ،

۲۰۰۶ کی جنگ کے بعد اسرائیل اور امریکیوں کے ساتھ لڑائی میں تبدیلی کی واقعیت سے کوئی بھی انکا ر نہیں کر سکتا اس زمانے میں صرف امریکہ اور اسرائیل کا منصوبہ ہی ناکام نہیں ہوا بلکہ مقاومت نے جو طریقہءکار اختیار کیا تھا اس کا کارآمد ہونا بھی ثابت ہو گیا ۔ یہ مسئلہ بھی باعث بنا کہ محور مقاومت کے افراد اور ان کی حکومتیں منصوبہ بندی اور اقدام کے تازہ مرحلے میں داخل ہوں ۔ اسی لیے توقع کی جارہی تھی کہ دشمن بھی نئے مرحلے میں داخل ہو گا ۔ نتیجے میں قطعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ شام کی جنگ ہمیشہ ہلال مقاومت میں کلیدی کردار کو  مقصد قرار دیتی ہے اس لیے کہ یہ ملک لبنان اور فلسطین کی مقاومت کا واقعی میدان رہا ہے اور مقاومت کے محور کو آپس میں ملانے والا ہے کہ جو تہران سے لبنان کی حزب اللہ تک پھیلی ہوئی ہے ۔

اس بنا پر گذشتہ چھ سال میں ہم نے بہت سارے مسائل کا تجربہ کیا اور طبیعی تھا کہ محور مقاومت کے تمام فریق اس جنگ میں موجود رہیں ۔ یہ بھی طبیعی تھا کہ پوری طاقت سے فلسطین کی مقاومت کے افراد کو اس جنگ سے دور رکھا جائے ۔ لیکن کام کا نتیجہ یہ ہے کہ اس وقت سبھی شام کی حکومت کی سر نگونی کے مشکل ہونے پر یقین رکھتے ہیں ۔ ان تمام مسائل نے دشمن کو اس بات پر اکسایا کہ وہ اس مرحلے میں داخل ہو کہ مقاومت کی سطح پر اور علاقے میں شام کی حکومت کی کارکردگی کو مٹا سکے ۔ آخری مرحلے میں بھی توجہ اس بات پر تھی کہ شام کی فوج عراق کی سرحد سے دور رہے ۔ اس لیے کہ امریکی ، اسرائیل اور علاقے کے قدامت پرست ملک بھی یہ باور کرتے تھے کہ سرحدی علاقوں میں شام اور عراق کی فوج کا ملنا مقاومت کے ہلال کی طاقت کے توازن کو مضبوط کر سکتا ہے ؛ وہ ہلال کہ جو تہران سے شروع ہوتا ہے اور لبنان اور فلسطین تک بھی پہنچتا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ امریکہ کا نیا طریقہ حالیہ مہینوں میں یہ تھا کہ جہاں تک ممکن ہو وہ شام اور عراق کی سرحدوں پر مسلط رہے ۔ اسی لیے شام کے شمال کو کرد فوج کے حوالے کر دیا گیا اور امریکہ سے وابستہ دہشت گرد گروہوں اور جنوب مشرق میں الموکب نام کے کنٹرول روم کی بھی مدد کی گئی تا کہ وہ ایک علاقے پر قبضہ کر سکیں کہ جو جنوب سے التنف کی گزر گاہ تک جاتا ہے ۔ یہ مسئلہ جنوب کے علاقے میں حزب اللہ اور شام کی فوج کی پیش قدمی کا مقابلہ کرنے کے لیے ، امریکہ کی دہشت گرد گروہوں کی روشن اور براہ راست حمایت کے ہمراہ تھا ۔ واشنگٹن نے اسی طرح یہ بھی کیا کہ عوامی رضا کاروں یعنی الحشد الشعبی کی فوج موصل کی جنگ میں شریک نہ ہو سکے ، بلکہ اس نے ان کے لیے تلعفر اور مغرب کی طرف پیش قدمی کے سرخ خط کھینچ دیے تھے ۔

لیکن جو کچھ آج عملا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ الحشد الشعبی کی فوج اس ملک کی سرحد پر   سنجاب کے پہاڑی سلسلے کے جنوب اور قیروان کے مغرب میں ام جریص کے علاقے تک پہنچ چکی ہے ، اور عملی طور پر امریکہ کی تمام حدوں کو پار کردیا ہے جس سے ایک نیا توازن وجود میں آئے گا کہ جس کے تحت امریکہ کی مرضی کے بغیر شام اور عراق کی سرحدوں کو کنٹرول کیا جائے گا ۔

اگر مقاومت یعنی الحشد الشعبی ، شام کی فوج اور حزب  اللہ شام اور عراق کی زیادہ تر سرحدوں کو کنٹرول کر لیتے ہیں تا کہ سرحدوں کو بند کرنے کا امریکہ کا منصوبہ نقش بر آب ہو جائے تو واشنگٹن کا باقی سرحدوں پر قبضہ کرنا بے کار ہو جائے گا ۔

عملی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ۱۵ کیلو میٹر کی مسافت کے باوجود کہ جس کو عراق اور شام کی سرحد پر الحشد الشعبی کی فوج نے آزاد کروایا ہے ، سب سے پہلا کام محور مقاومت کو متصل کرنے والے جو زمینی راستے ہیں ان کو کھولا جائے ۔

اس کا مطلب بھی یہ ہو گا کہ عراق اور شام کی فوج کو ملنے سے روکنے کے امریکہ کے تمام حربے ناکام ہو گئے ہیں نتیجے میں دو ملکوں کی سرحد کے کچھ حصوں پر قبضہ ان تمام مسائل پر پانی پھیرنا ہے کہ شام کی جنگ میں جن پر خاص توجہ دی گئی ہے اور جس کا محور مقاومت کے محور سے شام کی حکومت کو الگ کرنا تھا ۔

آنے والے مرحلے میں جو پیشین گوئی کی جا رہی ہے ، اس میں بہت ساری غفلتیں ہو سکتی ہیں امریکہ کی فوج کے براہ راست مستقر ہونے کے باوجود شام کے جنوب میں جنگ ختم نہیں ہو گی اگر چہ شام کی فوج اور حزب اللہ التنف کی گزرگاہ کے ۸۰ کیلومیٹر تک پہنچ چکی ہیں ، اس سے قطع نظر داعش کو حمص کے صحرائی علاقوں میں ۹ ہزار کیلو میٹر کے رقبے سے باہر نکالنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت کافی تھا ۔

دوسری طرف شام کی فوج اور حزب اللہ بھی تدمر کے شمال مشرق میں السخنہ شہر کو واپس لینے کے لیے تیار ہو رہی ہیں ، اس جنگ سے یا دیر الزور کا محاصرہ ٹوٹ جائے گا یا شام کی طرف سے القائم گزرگاہ آزاد ہو جائے گی ۔ عراق میں بھی بحث صوبہء الانبار  کے مغرب میں فیصلہ کن جنگ  کے آغاز کے امکان پر ہو رہی ہے جس کے بعد عراق کی فوج خاص کر الحشد الشعبی القائم کی سمت سے مشترکہ سر حد تک پہنچ جائے گی ۔ یہ مسئلہ بھی امریکہ کے منصوبے کے بر عکس ہے ۔ وہ منصوبہ کہ جو شام اور عراق کے قبایل کے درمیان اتحاد پیدا کرنے پر مبنی ہے کہ جو سرحد کے دونوں طرف مستقر ہیں ۔

حقیقت میں مقاومت کی فوج کا جو شام کی حکومت کو گرنے سے بچانے کا مقصد تھا وہ پورا ہو چکا ہے اور دہشت گردوں کے محاصرے کا مقصد بھی دن بدن نزدیک ہے ۔عراق اور شام کی سر حد پر بڑے بڑے سوراخ ایجاد کرنے کا مقصد بھی عملی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے ، اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مقاومت کی فوج اس مسئلے کی توسیع ، تثبیت اور حمایت سے پیچھے ہٹنے والی ہے ۔ نتیجے میں یہ احتمال پایا جا رہا ہے کہ اگر امریکہ براہ راست دہشت گردوں کے ساتھ مل کر جنگ میں کودنے کی کوشش کرتا ہے ، تو ایک طرف شام اور اس کی اتحادی فوجوں اور دوسری طرف امریکی فوجوں کے درمیان آمنے سامنے کی جنگ ہو گی ۔  

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر