تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور:ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ میانمار کی فوج نے روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام منظم منصوبہ بندی کے تحت کیا ہے۔

نیوزنور:ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی صدر نے اپنی حالیہ ایران مخالف تقریر سے پورے ایران کو متحد کر دیا اور یہ بات ہمارے لئے باعث خوشی ہے۔

نیوزنور:ترکی کے صدر نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے والے اپنی ایٹمی سرگرمیوں پر نظرڈالیں، ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کی حمایت صرف اسرائیل کررہا ہے۔

نیوزنور:اقوام متحدہ میں فلسطین کے مستقل مندوب نے کہا ہےکہ سلامتی کونسل نے اسرائیل کے سامنے خود کو مفلوج ثابت کیا ہے۔

نیوزنور:امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے خبردار کیا ہے کہ شمالی کوریا امریکہ کو جوہری میزائل سے نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کے قریب ہے۔


  فهرست  
   
     
 
    
از قلم: ابو فاطمہ موسوی عبدالحسینی؛
دور حاضر میں سنیوں کو شیعوں کی طرح اصول دین کو فروع دین پر مقدم سمجھتے ہوئے "ظہیر قین" اور "حر" کی تاریخ دوہرانی ہوگی

نیوزنور:تہران میں بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی قدس سرہ کے روضے اور مجلس شورای اسلامی (پارلمنٹ)ایران پر 7 جون کو ہوئے دولت اسلامی عراق و شامات (داعش)کی طرف سے دہشتگردانہ کاروائی سے  اگرچہ شہداء کی تعداد 15 نفوس سے تجاوز کر گئی اور 50 سے زائد زخمی ہوئے  لیکن یہ مسلم امر ہے کہ اس کاروائی سے دہشتگرد کسی بھی  مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں، بلکہ ایران میں حاکم اسلامی خودمختاری اور اسلامی خود اعتمادی کا معیار مزید بڑ گیا ہے۔

اسلامی بیداری صارفین۱۳۵۶ : // تفصیل

بسمہ تعالی

دور حاضر میں سنیوں کو شیعوں کی طرح اصول دین کو فروع دین پر مقدم سمجھتے ہوئے "ظہیر قین" اور "حر" کی تاریخ دوہرانی ہوگی

نیوزنور:تہران میں بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی قدس سرہ کے روضے اور مجلس شورای اسلامی (پارلمنٹ)ایران پر 7 جون کو ہوئے دولت اسلامی عراق و شامات (داعش)کی طرف سے دہشتگردانہ کاروائی سے  اگرچہ شہداء کی تعداد 15 نفوس سے تجاوز کر گئی اور 50 سے زائد زخمی ہوئے  لیکن یہ مسلم امر ہے کہ اس کاروائی سے دہشتگرد کسی بھی  مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں، بلکہ ایران میں حاکم اسلامی خودمختاری اور اسلامی خود اعتمادی کا معیار مزید بڑ گیا ہے۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق نیوزنور کے مدیر اعلی حجت الاسلام حاج آقای سید عبدالحسین موسوی (قلمی نام؛ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی)نے 7جون کو تہران میں ہوئے داعش کی کاروائی کا تجزیہ کرتے ہوئے اہلسنت مسلمانوں سے مخاطب ہو کر دور حاضر کی حساسیت اور اسلام کی اصالت کے پیش نظر ولایت فقیہ جھنڈے تلے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔

مقالہ نگار لکھتے ہیں: مسلمان رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے بعد قیادت کے حوالے سے تقسیم ہو کر آنحضور کے مانندمعصوم قائد اور قبیلہ سردار کے مانندغیر معصوم قائد کو اپنے دلائل کے ساتھ تسلیم کرکے دو گروہوں میں تقسیم ہوئے اور جو معصوم قائد کی قیادت کا معتقد ٹہرا اور قیادت و امامت جس کیلئے اصول دین میں شامل ہے اسے شیعہ کہتے ہیں اور جو غیر معصوم قائد کی قیادت کا معتقد ٹہرا اور قیادت و امامت جس کیلئے فروع دین میں شامل ہے اسے سنی کہتے ہیں۔اسطرح مسلمان دو گروہوں میں تقسیم ہوئے اگرچہ ان دو نوں گروہوں کے اندر اندرونی شاخوں اور فرقوں کی فہرست لمبی ہے۔

رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پچاس سال بعد ساٹھ ہجری میں اسلام ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑا ہوا کہ اسلام کی پہچان کرنا اپنوں اور غیروں  کیلئے مشکل امر بن گیا،کہ جب امیر شام نے اپنے بیٹے  یزید بن معاویہ علیہ ہاویہ کو امیرالمؤمین بنایا جس کے اندر ایمان بااللہ کو چھوڑ کر تمام تر خصلتیں جمع تھی اور شراب خواری و ہر نوع بدکاری کا مرتکب ہونا اس کا مشغلہ تھا  مگر پھر بھی خلیفہ تھا، مسلمانوں کا امام اور امیرالمؤمنین کہلایا تو ایسے میں رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے تیسرے وصی حضرت امام حسین علیہ السلام کو جب چند مٹھی بھر مسلمانوں نے اپنی بصیرت کا پیغام دیا کہ ہم رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین اور تحریفی اسلام کو پہچانتے ہیں اور  "امام نور" اور" امام نار" کے درمیان فرق کرنا جانتے ہیں تو امام حسین علیہ السلام اگرچہ نتائج کو بخوبی جانتے تھے کہ بصیرت کا دعوی کرنے والے اپنے اس دعوے پر کھرے نہیں اتریں گے لیکن صبح قیامت تک کیلئے "اصلی اسلام" کی حجت قائم کرنے کیلئے ان کے دعوت کو لبیک کہہ کر میدان میں آ گئے۔

کوفیوں کے اس دعوت کے پیش نظر کوفیوں کی بے وفائی تو عام کہاوت ہے لیکن اس زمانے میں کوفہ کیا تھا اور کوفے کی اکثریت کون تشکیل دیتے تھے اس کی طرف جانے انجانے میں اکثر لوگ اندیکھی کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ کوفہ ایک سرکاری علاقہ اور فوجی چھاونی تھی جہاں کے لوگ یا حکومت کے تنخواہ یا پنشن پر چلنے والے لوگ تھے۔جس کے بارے میں آج کی اصطلاح میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ وہاں یا تو اکثر بیوروکریٹ  یا فوجی آباد تھے اسلئے ان کی رنگین مزاجی کوئی عجیب امر نہ تھی ۔ جبکہ خود کوفے کے اصلی باشندے مؤمن اور دیانت کے حوالے سے اپنی مثال آپ تھے لیکن جن نا مرادوں نے ان کے چہرے کو مخدوش کردیا اس سے کوفی بے وفائی کی مثال بن کر آج تک یاد کئے جاتے ہیں۔کوفہ کے انہی رٹائر بیوروکریٹوں اور فوجی افسروں نے امام حسین علیہ السلام کو  خط لکھ کر کوفہ آنے کی دعوت دی تاکہ یہاں اسلامی حکومت کا قیام عمل میں لایا جاسکے گا اور یزید بن معاویہ کے نام نہاد اسلامی چہرے سے نقاب اتار کر اصلی اسلام کو سامنے لایا جائے گا۔اور جو وصی رسول اللہ علیہ السلام کوا پنا امام تسلیم کرے گا وہ بظاہر شیعہ کہلائے گا اسطرح اگر کہا جائے کہ امام حسین علیہ السلام کو کوفہ کے شیعوں نے کوفہ آنے کی دعوت دی بے جا نہ ہوگا۔لیکن امام حسین علیہ السلام اپنے کاروان کو شیعہ کاروان کے نام تک محدود نہیں رکھنا چاہتے تھے بلکہ وہ سنی مسلمانوں کو بھی اس کاروان میں شامل ہونے کی دعوت دیتے رہے نیز جن غیر مسلمانوں تک رسائی ممکن ہوئی ان کو بھی اپنے کاروان میں شامل کیا۔لیکن اس کاروان میں شامل ہونے کیلئے دو حضرات ("ظہیر قین بجلی" اور "حرّ ابن یزید ریاحی")کا کردار پوری تاریخ میں دعوت فکر دیتے آئے ہیں۔

 ایک ؛"ظہیر قین بجلی" کا کاروان  حسینی میں شامل ہونا جو کہ عقیدے کے اعتبار سے سنی تھے امامت کو اصول دین میں نہیں سمجھتے تھے نہ ہی حضرت امام علی علیہ السلام کو رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہلا وصی اور امام مانا تھا اور نہ ہی حضرت امام حسن علیہ السلام کو رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دوسرا وصی اور امام مانا تھا پھر بھی رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے تیسرے وصی حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے کاروان میں شامل ہونے کی  انہیں دعوت دی اور خود "ظہیر قین بجلی" کوفہ سے اسی نیت سے نکل پڑا تھا کہ جو خود سابقہ فوجی افسر رہا تھا اور پری میچور رٹائرمنٹ حاصل کرکے اپنے تجارت میں مصروف ہوا تھا اور جس کا موافق یا مخالف ہونا طبیعی امر تھا لیکن وہ اس انقلابی دور کے وجود میں آنے سے خود کو دور رکھ کر اسی تجارت میں سرگرم رہنے کیلئے نکل پڑا تھا۔ لیکن جب "ظہیر قین "کیلئے موضوع روشن ہو گیا کہ جس انقلاب کا رنگ بظاہر شیعہ سنی جنگ نظر آ رہا ہے ایسا نہیں ہے بلکہ بات اسلام کی حقیقت کی ہے رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کی ہے تو  امام حسین علیہ السلام کے قافلے میں اسطرح شامل ہو گیا گویا خود رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رکاب میں لڑنے کا شرف حاصل کر گیا۔

دوسرے؛ "حرّ ابن یزید ریاحی" جو کہ یزیدی فوج کا کمانڈر تھا اور امام حسین علیہ السلام  کے ساتھ پیش آنے والے ہر مظالم کا مقدمہ فراہم کرنے والا، کوفہ کا راستہ روکنے والا اور یہاں تک پانی بند کرنے والا، سنی راسخ العقیدہ تھا لیکن جب اپنا دل و دماغ استعمال میں لایا تو اندھی تقلید کو چھوڑ کر خود اصلی اسلام اور نقلی اسلام میں بآسانی پہچان کر گیا ۔اور امام حسین علیہ السلام کے ممتاز ساتھیوں میں شامل ہو گیا۔اور نہ امام حسین علیہ السلام نے ہی پوچھا تمہارا عقیدہ تو کچھ اور ہے اور مجھ پر مصائب کے پہاڑ ڈھانے والے تم ہی ہو اور تم میرے کاروان میں شامل نہیں ہو سکتے وغیرہ..۔ بلکہ گرم جوشی سے "حر" کا استقبال کیا۔ کیوں؟۔ کیونکہ نہ امام حسین علیہ السلام کیلئے مسلک کی بحث تھی نہ حر کیلئے بلکہ موضوع اسلام کا تھا ۔

اگر عالم اسلام کے حالات کی طرف آج نظریں دوڑائيں تو ساٹھ ہجری سے زیادہ مختلف نہیں ہے کیونکہ اسلام کی اصالت زیر سوال آ رہی ہے کہ صحیح اسلام کون سا ہے!۔کیونکہ قاتل بھی مسلمان اور مقتول بھی مسلمان ہے۔ قاتل قتل کرتے کرتے اسلام کی سربلندی اور سرفرازی کی دم بھرتا  دکھتاہے اور مقتول بھی ایسے میں قتل ہونے پر اسلام کی سر بلندی اور سرفرازی کا عقیدہ ظاہر کرتا نظر آتا ہے۔ ایک طرف قاتل مسلمان کو اپنے کیفر کردار تک پہنچاتے ہوئے قتل کیا جاتا ہے تو  ایک اور  مسلمان قاتل ،ایک اورقاتل بننے کیلئے سامنے آتا ہے اور دوسری طرف ایک مسلمان مقتول ہوتا ہے تو ایک اور مسلمان مقتول واقع ہونے کی آرزو کرتے ہوئے نظر آتا ہے! اور قاتل و مقتول کے اس کھیل میں نام شیعہ سنی عنوان کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ،جبکہ شیعہ سنی جنگ واختلاف علمی جنگ و اختلاف ہے جس کا ہتھیار قلم اور بیان ہے جس میں قتل و غارت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔شیعہ سنی اختلاف اسلام کی علمی فکری افقوں کا حصہ ہے کہ جس میں اتنے زاویوں سے قلم سے بیان سے تحلیل کرنے کی گنجائش ہے ۔شیعہ سنی اختلاف میں قلم و بیان کی جگہ خون ریزی اور دہشتگردی میں تبدیل کرنے میں بے شک شیعوں اور سنیوں کے مشترک دشمن یعنی اسلام و مسلمین کےمشترک دشمن کی سازشوں کا حصہ ہے کیونکہ وہی اسکے لئے میدان فراہم کرتے آئے ہیں ۔تو پھراکثرمسلمان خاموش تماشائی کیوں ہیں؟۔ مسلمانوں کو جب دو گروہوں  (شیعہ اور سنی) میں تقسیم کرکے دیکھتے ہیں تو شیعہ اقلیت میں ہیں اور اکثریت اہلسنت کی ہے اور دہشتگردی میں ملوث تمام جماعتیں اہلسنت سے منسوب ہیں اسلئے اہلسنت پر یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی خاموشی توڑ کر اسلام  کی اصالت کو بچانے کیلئے  "ظہیر قین"اور "حر" کے مانند بظاہر شیعوں کے ولایت فقہی پرچم تلے جو کہ وہی کربلا کا حسینی پرچم ہے  آکراعلان کریں کہ شیعہ موقف غلط ہے یا صحیح ہماری بحث نہیں لیکن اسوقت اسلام کی صحیح تصویر بچانے کیلئے اسی پرچم تلے رہنا ہوگا ۔

سنی شیعہ مسلمانوں کیلئےمسلکی علمی اختلافات کی قداست کی حفاظت کرتے ہوئے اسلام کے دشمنوں کی پہچان کرنا لازمی امر ہے کیونکہ جو اسلام کے دشمن ہیں ان کے لئے شیعہ سنی میں کوئی فرق نہیں ہے۔کیونکہ اسلام کے دشمن در واقع  رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن ہیں ۔ وہ نہیں چاہتےکہ بنی نوع انسان  تک یہ حقیقت آشکار ہو جائے کہ خالق نے اپنے مخلوق کے لئے اپنا  آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ رحمت بنا کے بھیجا ہے جو کہ صرف مسلمانوں کیلئے مخصوص نہیں بلکہ تمام بنی نوع انسان کیلئے ہیں اور جب رحمۃللعالمین کی رحمانی تعلیم عام ہو جائے انسان جوق در جوق اس دین میں داخل ہو جائيں گے جس سے استعمار اور استکبار کی بالا دستی ختم ہو جائے گی اس لئے اس اسلام کی شکل کو مسخ کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کرتے رہے ہیں ۔

اب یہ جو امریکہ بہادر نے سعودی عرب کی پیٹ تھپ تھپاکر ایران کے خلاف عرب نیٹو نامی عسکری محاذ کھڑا  کردیا ہے۔ کیا اس کے پیچھے مسلمانوں کو آپس میں شیعہ اور سنی کے نام سے دست بہ گریبان کرنا ہے؟ جی نہیں۔ جو جنگ بظاہر شیعہ اور سنی کے نام پر ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے در حقیقت شیعہ سنی جنگ نہیں  بلکہ ہر اس مسلمان ملک یا مسلمان جماعت کے خلاف جنگ ہے جو  اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی کوشش کرکے خود مختاری اور خود اعتمادی کی زندگی بسر کرنے کا فیصلہ کرے۔ اور مسلمان کی خودمختاری اور خود اعتمادی یعنی استعماری و استکباری طاقتوں خاص کر امریکہ اور اسرائيل کی تجارت و  بالا دستی کا زوال کیونکہ ابھی تک استعماری و استکباری طاقتیں اس لئے طاقت بن کر ابھرتے رہے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو صرف اپنا کنزیومر بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں،اسلئے مسلمانوں کی خودمختاری و خود اعتمادی  کو کسی بھی حال میں تسلیم نہیں کر سکتے ہیں۔ ایران کے ساتھ دشمنی اسلئے ہے کہ یہ ملک ان کے کنزیمومر لیسٹ سے خارج ہو گیا اور دوسرے ممالک کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی ترغیب دے کر خودمختاری و خود اعتمادی کا راستہ دکھا   رہا ہے،اسلئے دہشتگرد ہے۔اگر واپس سعودی عرب اور ان کے اتحادیوں کی طرح کنزیمر لیسٹ میں شامل ہو جاتا ہے تو امن پسند اور ترقی پسند ملک کے نام سے یاد کیا جائے گا۔

استعماری و استکباری طاقتیں ابتداء سے اسلام کے دشمن رہے ہیں اور چونکہ اصلی شکل میں اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ دشمنی کرنے سے ہمیشہ شکست کھائے ہیں اس لئے اسلام اور مسلمانی لباس میں آکر اسلام اور مسلمان کی بیخ کنی کرنے میں مصروف عمل رہے ہیں اور تاریخ میں اس اسلام کا پتہ "آل زیاد" اور" آل مروان" وغیرہ کے ناموں سے  ملتا ہے اور دور حاضر میں بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی قدس سرہ نے اسی اسلام کو امریکی اسلام سے موسوم کیا تھا جس کو سمجھتے ہی مسلمان میں بیداری کی لہر وجود میں آتی ہے ۔امریکی اسلام یعنی کہنے کیلئے اسلام تو ہو لیکن رہنے کیلئےکفر والحاد کی بالادستی و رفاہی ضمانت فراہم کرنے کیلئے ہو۔جب ایران میں آل سعود اور دیگر آمر مسلمان حکمرانوں  کی طرح شاہ حاکم تھا جو آل سعود اور آل خلیفہ کے مانند استعماری و استکباری طاقتوں کا کنزیومر لیسٹ میں شامل تھا تو ایران کے شیعہ ہونے پر کسی کو کوئی تکلیف نہیں تھی اور شیعت کی تکفیر نہیں کی جاتی تھی ٹھیک اسی طرح جس طرح آج کل آذربایجان کے حوالے سے استعماری طاقتوں کی سیاست ہے۔اگر ایران میں 98فیصد لوگ شیعہ آبادہیں تو   آذربایجان اس سے کچھ کم نہیں ہے وہاں 94فیصد لوگ شیعہ آباد ہیں ، لیکن آذربایجان کے شیعوں کے ساتھ کسی کو کوئي بیر نہیں ۔ کیوں؟ کیونکہ وہ استعماری طاقتوں کے کنزیمر  لسٹ میں شامل ہے،خودمختاری اور خود اعتمادی اس کے لئے معنی نہیں رکھتا ۔یہاں کےحکمران استعماری طاقتوں کے سایے تلے مست آرمیدہ  خاطر اور عوام خواب غفلت میں سوئی ہوئی ہے۔بحرین میں تو آذربایجان سے بھی کم صرف 80فیصد  شیعہ آباد  ہیں یہاں بیر ہے ۔کیوں؟ کیونکہ یہاں اگر حکمران  استعماری طاقتوں کے سایہ تلےمست آرمیدہ خاطر ہے لیکن عوام بیدار ہوئی ہے۔اسلئے آذربایجان کسی کو یاد نہیں لیکن بحرین میں عوام کو کچلنے کیلئے آئے دن حربے آزمائے جا رہے ہیں جس کیلئےآل سعودی کی سربراہی میں پوری مغربی دنیا  پیٹ تھپ تھپا رہی ہے۔یعنی مذہب و مسلک کے ساتھ دشمنی نہیں ہے بلکہ بیداری کے ساتھ دشمنی ہے۔

ابھی قطر کے ساتھ سعودی عرب نے  امریکی ایما پر اپنے سفارتی تعلقات ختم کر دیے جبکہ قطر میں 78فیصد سنی حنبلی ہیں جبکہ سعودی عرب میں 75فیصد سنی حنبلی/سلفی ہیں۔اگر مسلکی عنصر کار فرما ہوتا تو ان کے درمیان نہیں ٹھن جاتی۔اسلئے ٹھن گئی کہ امریکہ نے جو نقشہ سعودی عرب کے ذریعہ کھینچا ہے اس میں قطر نے اس طرح رنگ نہیں بھری جس طرح کہ امریکہ کو امید تھی   کیونکہ قطر میں امریکہ کی سب سے بڑی ملٹری ائير بیس موجود ہے اسلئے امریکہ کو توقع نہیں تھی کہ قطر اپنی موجودگی ظاہر کرے۔

یمن جہاں 99 فیصد سنی شافعی اورزیدی آباد ہیں سعودی عرب امریکی ایما پر ان سب کو شیعہ کے نام پر قریب تین سالوں سے تباہ و برباد کرنے پر تلا ہوا ہے ۔ کم و بیش یہی حال دیگر اسلامی ممالک کا ہے۔

فقہی اعتبار سے جب عالم اسلام میں پانچ اسلامی مسالک کو دیکھنا چاہیں تو مسلمان ممالک کی شماریاتی تکرار کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ  18 ممالک مالکی، 12ممالک حنفی،7ممالک شافعی،5ممالک جعفری اور 2ممالک حنبلی ہیں۔مگر ان5 مسالک کو چھوڑ کر اسلام کے مرکز  حرمین شریفین پر ایک وہابی/سلفی گروہ کی حاکمیت ہے جسے نہ سنی اپنا مسلک تسلیم کرتے ہیں نہ شیعہ لیکن اس کے باوجود سبھی اسلام دشمن استعماری طاقتیں وہابی سلفیت کو ہی صحیح اور مکمل اسلام تسلیم کرتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ وہابیت اسلام کے لبادے میں اسلام کی شبیہ بگاڑنے میں کامیاب ہے ۔ایسے میں نئی نسل اور غیر مسلمانوں کیلئے صحیح اسلام کو سمجھنا مشکل امر بن کر رہ جاتا ہے۔لیکن ایسے میں جعفری مسلک نے جو ولایت فقیہ نامی حسینی پرچم کو بلند کرکے جس طرح  اسلام کی اصالت کی نشاندہی کی اور اسلام دشمن عناصر کے چہرے سے امام حسین علیہ السلام کی طرح نقلی اسلام سے نقاب اتار دیا  اور "لا شرقیه ولا غربیه اسلامیه اسلامیه "اور "لا سنیه و لا شیعه اسلامیه اسلامیه" کا نعرہ بلند کرکے مغربی امریکی جھنڈے اورمشرقی سویت یونین کے جھنڈے کو للکارتے ہوئے اپنا خودمختاری اور خوداعتمادی کا  اسلامی جھنڈا بلند کیا اور خطے میں سپر پاور کا مقام حاصل کر لیا ، کیونکہ فقہی شناخت کے بجائے اصلی دینی شناخت کو پیش کیا کہ  جس میں زمانے کے ظہیر قین اور حر جیسے سنی حسینی کاروان میں اکثر خاموشی کے ساتھ وہابیت اور سلفی ازم کو سنی مسالک سے جدا کرکے شامل ہوئے ہیں لیکن اس شمولیت کو اپنی شناخت پر آنچ لائے بغیر نمایاں طور پر سامنے آنے کی ضرورت ہے اور یہ دیکھنا ہو گا کہ   18 مالکی ممالک میں کتنے ظہیر قین اور حر پیدا ہوتے ہیں جن کے لئے فروع دین سے بڑ کر اصول دین کی اہمیت ہے ، 12 حنفی ممالک میں کتنے ظہیر قین اور حر پیدا ہوتے ہیں جن کے لئے فروع دین سے بڑ کر اصول دین کی اہمیت ہے ،7 شافعی ممالک میں کتنے ظہیر قین اور حر پیدا ہوتے ہیں جن کے لئے فروع دین سے بڑ کر اصول دین کی اہمیت ہے  اور 2 حنبلی ممالک میں کتنے ظہیر قین اور حر پیدا ہوتے ہیں جن کے لئے فروع دین سے بڑ کر اصول دین کی اہمیت ہے ہیں۔جعفری مسلک نے اپنے کردار کو ہر سطح پر  واضح کر دیا ہے کہ وہ اصول دین کو فروع دین پر مقدم سمجھتے ہیں اسی لئے فلسطین میں،شام میں، عراق  وغیرہ میں  اہلسنت کے شانہ بشانہ اپنی جانی مالی قربانی پیش کرتے نظر آ رہے ہیں تاکہ اسلام کی اصالت پر آنچ نہ آنے پائے۔

تہران میں بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی قدس سرہ کے روضے اور مجلس شورای اسلامی (پارلمنٹ)ایران پر 7 جون کو ہوئے دولت اسلامی عراق و شامات (داعش)کی طرف سے دہشتگردانہ کاروائی سے  اگرچہ شہداء کی تعداد 15 نفوس سے تجاوز کر گئی اور 50 سے زائد زخمی ہوئے  لیکن یہ مسلم امر ہے کہ اس کاروائی سے دہشتگرد کسی بھی  مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں، بلکہ ایران میں حاکم اسلامی خودمختاری اور اسلامی خود اعتمادی کا معیار مزید بڑ گیا ہے۔

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر