تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور:1932 ء میں سعودی عرب کے قیام کے بعد سے آل سعود نے بادشاہت کے متضاد سیاسی ،سماجی اورمذہبی ڈھانچے کے چلینجز سے نمٹنے کیلئے وہابیت کا استعمال کیا ہے اوروہابیت کے نظرئے نے مذہبی طورپر آل سعود خاندان کی طاقت تاج اورحکومت کو جائز ٹھہرایا ہے۔

نیوز نور : بولویا کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کو وینزوئلا میں مداخلت کا خیال ترک کرنا چاہئے کیونکہ دنیا بھر میں امریکی سامراجیت دم توڑ چکی ہے۔

نیوز نور:ایران کے ایک سینئر قانون ساز نے کہاہےکہ امریکہ کی طرف سے روس اورایران پر  بیک وقت پابندیوں کو عائد کئے جانے کا مقصد دوعلاقائی اتحادیوں کے درمیان تعلقات میں شگاف پیدا کرنا تھا۔

نیوز نور:لبنان کی اسلامی تحریک مقاومت حزب اللہ کی سیکورٹی کونسل کےچیئرمین نے کہاہے کہ شام میں سرگرم تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے خلاف جنگ آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

نیوز نور : لبنان کے پارلیمانی نمائندے نے کہا ہے کہ  شام فلسطین اور بیت المقدس کی حمایت کا علمبردار ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
تہران میں دہشت گردانہ حملہ کرنے والی ٹیم کااصلی سرکردہ کون ہے ؟ /دہشگرد جماعت تہران کے 50 مقامات کو نشانہ بنانے والی تھی

تہران میں کل دوپہر کا حادثہ : یہ وہی تعبیر ہے جس کو بہت سارے لوگوں نے تہران کے قلب میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں کے لیے استعمال کیا ہے ۔

استکباری دنیا صارفین۱۳۱۸ : // تفصیل

تہران میں دہشت گردانہ حملہ کرنے والی ٹیم کااصلی سرکردہ کون ہے ؟ /دہشگرد جماعت تہران کے 50 مقامات کو نشانہ بنانے والی تھی

تہران میں کل دوپہر کا حادثہ : یہ وہی تعبیر ہے جس کو بہت سارے لوگوں نے تہران کے قلب میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں کے لیے استعمال کیا ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق 7 جون کو تہران میں داعش کے حملے کے بارے میں فارس نیوز ایجینسی نے اپنی رپورٹ شائع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ؛تہران میں کل(7جون) دوپہر کا حادثہ : یہ وہی تعبیر ہے جس کو بہت سارے لوگوں نے تہران کے قلب میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں کے لیے استعمال کیا ہے ۔ تہران کے لوگوں کے  لیے یہ ہنگامہ صبح دس بجے شروع ہوا ، اس وقت کہ جب چار مسلح دہشت گرد مجلس شورای اسلامی (پارلیمنٹ) میں مراجعہ کرنے والوں کے گیٹ سے داخل ہوئے اور کچھ لوگوں اور پاسداروں کو شہید کرنے کے بعد  پارلیمنٹ کی دفتری عمارت میں داخل ہو گئے ۔

وہ دہشت گرد کہ مجلس شورای اسلامی [خانہ ملت] کے پاسداروں کی مقاومت نے ان کو چکرا دیا تھا اور پارلیمنٹ کے صحن اجلاس میں جانے  اور وہاں ایک بڑا حادثہ رونما کرنے کے بجائے پارلیمنٹ کے نمایندوں کے دفاتر کی طرف چلے گئے اور محاصرے میں آ گئے ۔

نتیجے میں خود کشی اور ہلاکت دہشت گردوں کے کام کا انجام تھی ، ان کی دوسری ٹیم نے بھی امام خمینی رہ کے حرم میں کاروائی کی ، لیکن یہ ٹیم اتنی ہی نہیں ہے کہ جس نے کل کا حادثہ رونما کیا تھا ، بلکہ پروگرام یہ تھا کہ کل کا تہران کا حادثہ جو چند گھنٹوں میں ختم ہو گیا  اس کے اس سے زیادہ وسیع پہلو ہوں اور وہ پہلو دو مقامات پر ختم ہونے والے نہیں تھے بلکہ تہران کے پچاس مقامات کو شامل تھے ۔

تہران میں کاروائی داعش کے لیے اس قدر اہم تھی کہ اس نے کاروائی کے ماسٹر مائنڈ کو اپنی ٹیم کے ساتھ پچھلے سال تہران بھیج دیا تھا ۔ابو عایشہ الکردی ہی وہ ماسٹر مائنڈ تھا کہ اس کے  ناپاک پاوں کے تہران کی زمین کو چھونے سے پہلے ہی وہ  ملک کے مغرب میں سپاہ کے ایک شوٹر کی گولی سے واصل جہنم ہو گیا تھا ۔

قطعا اگر ابو عایشہ اور اس کی دہشت گرد ٹیم تہران پہنچ جاتی تو پھر کل کی کاروائی کو تہران کا آدھے دن کا واقعہ نہیں کہا جا سکتا تھا بلکہ یہ واقعہ ایک دو دن میں ختم نہ ہو پاتا ۔


آگے ہم اس داعشی قصاب کے شکار پر ایک نظر ڈالتے ہیں کہ جس کے سیاہ کارناموں کی فہرست میں لاتعداد جرائم خاص کر الرمادی میں  انجام دیے گئے اس کے جرائم درج ہیں :

تہران میں کاروائی ؛ الرمادی کے قصاب کی ایران روانگی ،

کچھ مہینوں کے بعد تکفیریوں کے نئے کمانڈر کے ایران میں داخلے  کی کاروائی کے پہلے مرحلے کا آغاز ہو گیا تھا ، اور وہ دہشت گردوں کی دو ٹیموں کے ہمراہ جداگانہ طور پر مغربی سر حد سے ملک میں داخل ہوجاتا ہے ، ظاہرا ان دو ٹیموں کے لیے سب کچھ اچھا ہو رہا تھا ۔

لیکن جب ایک ٹیم ملک میں داخل ہو رہی تھی کہ جس میں ابو عایشہ خود موجود نہیں  تھا تو کرمانشاہ کی فوج کی چھاونی کے افراد کی اس ٹیم کے ساتھ جھڑپ ہو گئی ، چنانچہ چھاونی کے فوجیوں نے ٹیم کے تمام افراد کو سرحد کے بالکل اوپر ہلاک کر دیا ۔

لیکن دوسری طرف ابو عایشہ ایک ٹیم کے ہمراہ دوسری جگہ سے ملک میں داخل ہوا اور بغیر کسی مشکل کے صوبہء کرمانشاہ کے ایک سرحدی شہر میں اپنی ٹیم کے ساتھ   روپوش ہو گیا۔

وہ لوگ اپنے سراغ مٹانے کے لیے مجبور تھے کہ چند دن تک اپنے پہلے ٹھکانے پر رہیں  تا کہ جب ماحول ٹھنڈا پڑ جائے تو اس کے بعد اپنے اصلی ٹھکانے پر جائیں ۔

صوبہء کرمانشاہ میں ایک سرحدی شہر میں  ابو عایشہ اور اس کے ساتھیوں کے مستقر ہونے کے بعد انہیں پتہ چلتا ہے کہ ان کے ٹھکانے کا راز فاش ہو چکا ہے اور وہ گھر سیکیوریٹی فورسز کے زیر نظر ہے ، کچھ ہی دیر بعد انہیں یقین ہوجاتا ہے کہ ان کا سراغ لگا لیا گیا ہے ۔

وہ بھاگنے کا فیصلہ کرتے ہیں لیکن ان کے گھر کا محاصرہ ہو چکا تھا مجبورا چونکہ ان کے پاس بھاری مقدار میں ہتھیار تھے وہ لڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں تا کہ شاید اس طرح وہ بھاگنے کا راستہ نکال سکیں ، یہاں تک کہ جھڑپوں کے دوران دہشت گردوں کی ٹیم کے ایک شخص نے دھماکہ خیز جیکٹ کے ساتھ خود کو اڑا دیا ۔

لیکن اس جھڑپ کے دوران دہشت گردوں کی ٹیم کے تمام افراد مارے گئے اور ایک شخص نے ایک گولی کے ذریعے اس شخص کو بھی کہ جو احتمالا داعش کے دہشت گرد گروہ کی کاروائی کی ٹیم کا معاون ابو عایشہ تھا ہلاک کر دیا ۔

اسی سلسلے میں کرمانشاہ کے ایک با خبر عہدیدار نے ، مرداد ۱۳۹۵ میں ابو عایشہ کی ٹیم کی کاروائی کے مقاصد کے بارے میں بتایا :  فوج ،پولیس اور سیکیوریٹی فورسز کی ایک کاروائی کے دوران تکفیری دہشت گردوں کے ساتھ کہ جو کرمانشاہ آئے تھے ، ابو عایشہ بھی مارا گیا ہے ۔

اس با خبر عہدیدار نے مزید بتایا : ابو عایشہ تکفیری دہشت گرد گروہ کی ایک ٹیم کے  سر پرست کے عنوان سے چند افراد کے ساتھ ملک میں تخریب کاری کرنے اور داعش کے پلید منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ملک میں داخل ہوا تھا اور اس کا مقصد ملک کے اندر تک دہشت گردی پھیلانا تھا لیکن امام زمانہ ع کے جان بر کف گمنام سپاہیوں  کی درایت اور ہوشیاری ، اور کرمانشاہ اور اس کے تابع ایک شہر کی پولیس ، فوج اور سیکیوریٹی فورسز نے  کسی بھی قسم کی کاروائی سے پہلے اس ٹیم کی شناخت کر کے ایک جھڑپ کے دوران ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔


اس باخبر عہدیدار نے باختر میں اظہار کیا : اس تکفیری گروہ کے پاس سے کچھ دھماکہ خیز مواد  ، ہتھیار  اور ایک دھماخیز بیلٹ ملی ہے ۔

ابو عایشہ کے جہنم واصل ہونے کے بعد  اس گروہ سے حاصل ہونے والی دستاویزوں سے پتہ چلا کہ انہوں نے پچاس مقامات پر کاروائی کرنے کا منصوبہ بنایا تھا گویا ان کا ارادہ پورے تہران میں آگ لگا دینے کا تھا ۔

نجف اشرف نام کی اطلاعاتی چوکی اور امام زمانہ ع کے گمنام سپاہیوں کی کاروائی میں داعش کے کاروائی کرنے والوں کے سرغنہ کے شکار سے  تہران میں کل کے واقعے جیسے مزید واقعات رونما ہونے کی روک تھام ہو گئی ۔           

 


نظرات داده شده
ڈاکٹر آغا سید محمد الموسوی
۷جون کےدشھتگرد کارواءی میں ملوث ایرانی افراد کے پورے خاندان کے افراد کو وہ سزا ملنی چاءیے کہ زندگی بھر آءیندہ کوءی بھی شخص ایسا کرنے کی جرات نہ کرسکے.
آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر