تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور:ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ میانمار کی فوج نے روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام منظم منصوبہ بندی کے تحت کیا ہے۔

نیوزنور:ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی صدر نے اپنی حالیہ ایران مخالف تقریر سے پورے ایران کو متحد کر دیا اور یہ بات ہمارے لئے باعث خوشی ہے۔

نیوزنور:ترکی کے صدر نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے والے اپنی ایٹمی سرگرمیوں پر نظرڈالیں، ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کی حمایت صرف اسرائیل کررہا ہے۔

نیوزنور:اقوام متحدہ میں فلسطین کے مستقل مندوب نے کہا ہےکہ سلامتی کونسل نے اسرائیل کے سامنے خود کو مفلوج ثابت کیا ہے۔

نیوزنور:امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے خبردار کیا ہے کہ شمالی کوریا امریکہ کو جوہری میزائل سے نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کے قریب ہے۔


  فهرست  
   
     
 
    
حضرت آیۃ اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی:
زبان اور دل کی تطہیر اور ان کو پاک کرنے کے راستے /قرآن کے آئینے میں نیکوں کی تصویر

نیوزنور: استغفار گناہوں کی میل کو دھونے کا نام ہے اس لیے کہ دل کو گناہ کی وجہ سے زنگ لگ جاتا ہے اس لیے انسان کو استغفار کے پانی سے اس زنگ کو صاف کرنا چاہیے ، اور جب استغفار کے ذریعے دل کا زنگ صاف ہو جاتا ہے تو دل خدا کی جانب پرواز اور اس کی بارگاہ میں توبہ کے لیے تیار ہو جاتا ہے ۔

اسلامی بیداری صارفین۹۲۵ : // تفصیل

زبان اور دل  کی تطہیر اور  ان کو پاک کرنے  کے راستے /قرآن کے آئینے میں نیکوں کی تصویر

نیوزنور: استغفار گناہوں کی میل کو دھونے کا نام ہے اس لیے کہ دل کو گناہ کی وجہ سے زنگ لگ جاتا ہے اس لیے انسان کو استغفار کے پانی سے اس زنگ کو صاف کرنا چاہیے ، اور جب استغفار کے ذریعے دل کا زنگ صاف ہو جاتا ہے تو دل خدا کی جانب پرواز اور اس کی بارگاہ میں توبہ کے لیے تیار ہو جاتا ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے ایران کے مذہبی شہر قم المقدسہ میں مقیم عالم تشیع کے ایک جلیل القدر فقیہ حضرت آیۃ اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی  کے دفتر کی ویب سائيٹ کی تحریریہ کمیٹی کے معاون نے ایک مضمون شائع کیا ہے،نیوزنور نے جس کے ترجمے کا اہتمام کیا ہے اس میں مضمون نگار نے آیت اللہ موصوف کی نظر میں ماہ مبارک رمضان کے تیرہویں دن کی دعا کی شرح میں لکھا ہے کہ :

ماہ مبارک رمضان کے تیرہویں دن کی دعا : «أَللَّهُمَّ طَهِّرْنِى‏ فيهِ مِنَ الدَّنَسِ وَالْأَقْذارِ، وَصَبِّرْنى فيهِ عَلى‏ كائناتِ الْأقْدارِ، وَوَفِّقْنى‏ فيهِ لِلتُّقى وَ صُحْبَةِ الْابْرارِ، بِعَوْنِكَ يا قُرَّةَ عَيْنِ الْمَساكين»خدایا اس مہینے میں مجھے پلیدیوں اور آلودگیوں سے پاک فرما اور تقدیر پر صبر کرنے کی توفیق عطا کر اور مجھے پرہیزگاری اور نیکوں کی ہمنشینی پر کامیابی دے اپنی مدد کے ذریعے ، اے وہ کہ جو مسکینوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے (۱)

 ماہ رمضان ؛ روح و جان کی طہارت کا سنہری موقعہ ،

ماہ رمضان کے تیرہویں دن کی دعا کے پہلے اقتباس میں  آیا ہے : «أَللَّهُمَّ طَهِّرْنِى‏ فيهِ مِنَ الدَّنَسِ وَالْأَقْذارِ» اے خدا اس مہینے میں مجھے پلیدیوں اور ناپاکیوں سے پاک فرما (۲)

اس اقتباس کی تشریح میں یہ بتا دیں کہ  جس طرح انسان کے جسم  کو تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد پانی کی ضرورت ہوتی ہے کہ جس کے ذریعے خود کو دھوئے اور میل کچیل اور ناپاکی کو اپنے بدن اپنے ہاتھ پاوں اور اپنے چہرے سے  صاف کرے ، اسی طرح آدمی کی روح کو بھی صفائی کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ اس سے وہ گناہ کی آلودگی کو دور کرے (۳) اس لیے کہ گناہ دل پر اس طرح اثر انداز ہوتا ہے کہ رفتہ رفتہ وہ اس کی عادت بن جاتا ہے (۴) انسان کی روح میں گناہ کے آثار (۵) اور انسان کی زندگی میں اس کا اثر (۶) اور گناہ کا اخروی اثر (۷) کہ جس کو استغفار اور توبہ کے ذریعے دھویا جاتا ہے وہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اچھے خلق و خو اپنا سکے (۸)

اس امر کے تحقق کے لیے عبادت پر مبنی اعمال جیسے نماز کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے کہ جو گناہوں کے محو ہونے اور خدا کی مغفرت اور بخشش کا وسیلہ ہے اس لیے کہ نماز لا محالہ انسان کو توبہ اور اپنے ماضی کی اصلاح کی دعوت دیتی ہے (۹)

اسی لیے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کو گرم پانی کے چشمے سے تشبیہ دی ہے کہ جو انسان کے گھر کے دروازے پر ہو اور وہ شب و روز میں پانچ بار اپنے آپ کو اس سے دھوئے کہ جس کے بعد اس کے بدن پر میل کچیل نام کی کوئی چیز نہیں رہے گی ، پانچ وقت کی نماز بھی انسان کے قلب اور اس کی روح کو صاف کرتی ہے اور گناہ کا کوئی اثر اس میں باقی نہیں رہنے دیتی (۱۰)

اسلامی روایات میں دستور دیا گیا ہے کہ لوگ لغزشوں اور گناہوں کے بعد فورا توبہ کریں یعنی توبہ کے پانی سے اس کے آثار کو دل و جان سے صاف کریں کہیں ایسا نہ ہو  کہ گناہ کی تکرار ہو اور وہ ایک بری خصلت میں تبدیل ہو جائے (۱۱) اس لیے کہ طہارت شرک و گناہ کے آثار روح کی صفائی ، اور آلودگی اور کثافت کے آثار سے جسم کی صفائی کو کہا جاتا ہے (۱۲)

اسی طرح یہ بھی جان لینا چاہیے کہ مکمل توبہ وہ ہے کہ جو گناہ کے آثار اور میل کچیل کو مکمل طور پر انسان کی جان و روح سے صاف کر دے اور اس کامعمولی سا اثر بھی دل میں باقی نہ رہے (۱۳)   یہ جو خدا وند عالم قرآن کریم میں فرماتا ہے  کہ کچھ لوگوں کو ہم ان کے جرم و گناہ کی سزا دیں گے  تو اس بات کی دلیل ہے ، کہ معافی پانے والا گروہ وہ ہے کہ جنہوں نے توبہ کے پانی کے ذریعے جرم و گناہ کے آثار کو اپنے وجود سے مٹا دیا ہے (۱۴)

پس استغفار اور توبہ دو چیزیں ہیں استغفار گناہوں کے زنگ کو صاف کرنا ہے اس لیے کہ دل پر گناہ کے نتیجے میں زنگ لگ جاتا ہے اس لیے توبہ کے ذریعے اس کے زنگ کو صاف کرنا چاہیے ، استغفار کے ذریعے دل کے زنگ کو صاف کرنے کے بعد ، دل خدا کی طرف حرکت اور اس کی بارگاہ میں توبہ کے لیے تیار ہو جاتا ہے ۔ خلاصہ یہ کہ پہلے دل کے زنگ کو صاف کریں اور اس کے بعد صفحہء قلب پر خدا کا نام لکھ دیں ۔ ساتھ ہی اس بات پر بھی توجہ رکھنی چاہیے کہ توبہ صرف زبان سے نہیں ہوتی ،بلکہ گناہ کے ترک پر دل کا پختہ ارادہ ، اور گناہ سے رابطہ توڑنا ، اور آیندہ  نیک اعمال کے ذریعے گذشتہ گناہ کی تلافی کرنا ہے (۱۵)

قلب و زبان کی تطہیر اور ان کے تزکیےکے طریقے ،

اس میں کوئی شک نہیں کہ ذہن کو نفسانی کثافتوں سے خالی کرنا چاہیے اور اس کے لیے ناک اور دہن اور قلب و روح کو کثافتوں سے پاک کرنا چاہیے ۔ دل کو کہ جو حروف و کلمات کا مخرج ہے پاک کرنا چاہیے  تا کہ خدا کی راہ کے علاوہ کوئی حرف اور کلمہ اس سے خارج نہ ہو ۔ اس کو اتنا پاک کرنا چاہیے کہ دل میں صرف اللہ کے حروف جاری ہوں اور بس ۔ (۱۶)

پس وہ دہن کہ جس میں مشکوک اور حرام غذا جاتی ہے ، وہ دہن کہ جو بڑے گناہوں جیسے جھوٹ تہمت ، اور غیبت کا مرتکب ہوتا ہے ، وہ دہن کہ جو دردمندوں کا دل توڑتا ہے ، وہ دہن کہ مسلمان جس  کے شر سے ہمیشہ ڈرے رہتے ہیں ، وہ آیات  قرآنی کے تلفظ کا مقام کیسے بن سکتا ہے؟ (۱۷)

اس بنا پر ہم کہتے ہیں کہ دل کے چہرے اور اس کی صورت کو نفسانی کدورتوں سے پاک کرو تا کہ محبوب کے نزدیک آبرو پا سکو ، جب بدن اور لباس کا نجاستوں سے پاک ہونا ضروری ہے تو کیا دل اس قابل نہیں ہے کہ وہ پاک ہو ؟ جب بدن کی نزدیکی کھال اور پوست اور دور کی کھال اور پوست یعنی جامد کی تطہیر واجب ہے تو دل اور اندر کی تطہیر اوجب ہو گی ۔(۱۸) 

 اس لیے کہ باطنی طہارت جیسا کہ بعض اہل عرفان نے کہا ہے : نفس کو پست اور نیچ کاموں اور اخلاقی رذائل سے پاک کرنا ، اور قلب کو تباہ کن افکار سے اور جو چیز گمراہی اور گمراہ کرنے کا باعث بنتی ہے اس سے پاک  کرنا ہے ، نیز باطنی طہارت غیروں پر نظر ڈالنے سے اپنے اندر کو پاک کرنا اور تمام اعضاء کو  ایسے کاموں سے کہ جو عقلا اور شرعا نا پسندیدہ ہیں پاک کرنا ہے (۱۹)

جو قضا و قدر پر غالب آ جائے وہ صبر ہے ،

دعا کے دوسرے اقتباس میں آیا ہے : «وَ صَبِّرْنِی فِیهِ عَلَی کَائِنَاتِ الْأَقْدَارِ»اور تقدیر کے مقابلے میں مجھے صبر عطا فرما (۲۰)

لازمی ہے کہ انسان جذبات کے سیلاب کو روکے (۲۱) اور ناشکری میں زبان نہ کھولے ، اور بے تابی نہ کرے اور ایسی باتیں نہ کرے جو تقدیر الہی پر راضی نہ ہونے کی دلیل ہیں تا کہ خدا کی طرف سے اسے اجر و ثواب ملے ، اور خود پر کنٹرول کی اپنی صلاحیت  کو ثابت کرے (۲۲)

در واقع  ، صبر کرنے والے ، خدا کی تقدیر اور اس کی خوشنودی کے سامنے سر تسلیم خم رہتے ہیں ۔اور اس تسلیم و رضا کے بدلے میں ان کو ثواب ملتا ہے ۔ یہ ثواب ممکن ہے کہ دنیاوی ہو اور اس چیز کے برابر ہو کہ جو اس کے ہاتھ سے گئی ہے ۔یا اس سے بہتر ہو ۔ اور ممکن ہے کہ وہ اخروی ثواب ہو ۔ کبھی خدا دونوں طرح کے ثواب انسان کو دے دیتا ہے ۔ جیسا کہ ہم حضرت ایوب علیہ السلام کی داستان میں پڑھتے ہیں کہ اس قدر صبر و شکیبائی کے بعد خدا وند عالم نے مال ، اولاد میں سے جو کچھ ان سے چھینا تھا  وہ انہیں واپس دے دیا اور انہیں صابرین کا بلند و بالا مقام عطا کیا (۲۳)

اسلامی روایات میں آیا ہے کہ اگر انسان مصیبت کے وقت صبر و شکر سے کام لے تو خدا اسے جزا دیتا ہے اور اگر ناشکری اور بے تابی دکھائے تو اس کو کوئی ثواب نہیں ملتا ۔ جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام نے اشعث ابن قیس کو اس کے بیٹے کی موت پر تسلیت دیتے ہوئے فرمایا تھا : «إنْ صَبَرْتَ جَرى‏ عَلَيْكَ الْقَدَرُ وَأنْتَ مَأْجوُرٌ، وَانْ جَزِعْتَ جَرى‏ عَلَيْكَ الْقَدَرُ وَأنْتَ مَأْزورٌ» اگر صبر کروگے تو تم پر تقدیر جاری ہو گی اور تمہیں ثواب ملے گا اور اگر بے تابی کرو گے تب بھی تقدیر جاری ہو گی اور تم گنہگار کہلاو گے (۲۴)

البتہ عزیزوں کی موت پر گریہ اور عزاداری اسلام میں ممنوع نہیں ہے ، اس لیے کہ اس کا تعلق جذبات اور مہربانی سے ہے اور اسلام نے لوگوں کے جذبات سے ہر گز مبارزہ نہیں کیا ہے ممنوع بے تابی اور ناشکری کا اظہار ہے اور ایسی حرکتیں اور باتیں ممنوع ہیں کہ جو خدا کی تقدیر پر شکایت کی دلیل ہوں (۲۵)

امام حسین علیہ السلام کے صبر کا مقام ،

اس سلسلے میں رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے تیسرے وصی حضرت امام حسین علیہ السلام کی آخری مناجات کی شان کی طرف جو زندگی کے آخری لمحات میں آپ نے خدا سے کی تھی اشارہ کرنا چاہیے جس میں آپ نے عرض کی (۲۶) «... صَبْراً عَلى‏ قَضائِكَ يا رَبِّ ...، صَبْراً عَلى‏ حُكْمِكَ يا غِياثَ مَنْ لا غِياثَ لَهُ..»پالنے والے ! میں تیری قضا و قدر پر صبر کرتا ہوں تیرے حکم پر صبر کرتا ہوں ، اے اس کی فریاد سننے والے جس کا کوئی فریاد رس نہیں ہے (۲۸)

سچ مچ کس قدر خوبصورت اور پر مغز ہے اور کس قدر سبق آموز ہے یہ مناجات  کہ جو امام حسین علیہ السلام کی عمر مبارک کے آخری  لمحات میں ، خونی اور زخمی بدن کے ساتھ اپنے عزیزوں اور دوستوں کی جدائی  کے گہرے غم میں ڈوبے ہوئے ، اور اپنے اہل حرم اور بچیوں کے مستقبل کے بارے میں بے انتہا پریشانی کے عالم میں حضرت کی زبان مبارک پر جاری ہوئی (۲۹)

الہی معارف اور تسلیم و رضا کے بلند ترین درجات اس میں موجزن ہیں ، نہ شکوہ ، نہ بے تابی ، نہ عجز ونا توانی کا اظہار ، نہ نا امیدی اور ناراضگی کا بیان ، اس مناجات میں بالکل دکھائی نہیں دیتا ۔ ہر جگہ خدا وند متعال اور خدا وند لا یزال کے سامنے  صبر و شکیبائی اور تسلیم و رضا کی بات ہے ۔ آفرین اور ہزار آفرین ہو آپ پر خدا کی جانب سے اے آزادی کے متوالوں کے پیشوا ! (۳۰)

قرآن کے آئینے میں نیکوں کی تصویر ،

ماہ مبارک رمضان کے تیرہویں دن کی دعا کے اس اقتباس میں آیا ہے : «وَوَفِّقْنِی فِیهِ لِلتُّقَی وَصُحْبَةِ الْأَبْرَارِ»  اور اس میں ہمیں پرہیزگاری اور نیکوں کی ہمنشینی کی توفیق عطا فرما ۔

قرآن کی مختلف آیات میں ابرار اور ان کے مقام کا ذکر ہے ؛ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے : « إِنَّ الْابْرَارَ لَفِى نَعِيم»؛ (۳۱) نیک لوگ بہت ساری نعمتوں میں گھرے ہوں گے ، یا ایک اور آیت میں ملتا ہے : « إِنَّ كِتَابَ الْابْرَارِ لَفِى عِلِّيِّينَ‏» نیکوں کا نامہء اعمال علیین میں ہو گا (۳۲، ۳۳)

یہ مقام اس قدر بلند ہے کہ صاحبان عقل و خرد اس پر رشک کرتے ہیں اور خدا سے اس مقام کی درخواست کرتے ہیں (۳۴) اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ ابرار سے مراد یہاں پر معمولی افراد نہیں ہیں (۳۵) لہذا یہ کہنا چاہیے کہ حضرت علی علیہ السلام اور فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور ان کے معصوم فرزند (علیہم السلام) ابرار اور نیکوں کے سب سے بڑے مصداق ہیں ۔ (۳۶)

اب رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چوتھے وصی حضرت  امام زین العابدین علیہ السلام کی تعبیر کے مطابق کہ جس میں آپ نے فرمایا ہے : نیکوں کی مجالست انسان کو نیکی کی دعوت دیتی ہے ، اس بات پر تاکید کرنا چاہیے کہ آئمہ معصومین علیہم السلام کی  ہم نشینی نے بہت سارے انسانوں کو بزرگی سے نوازا ہے ۔ مثال کے طور پر فضہ جو حضرت زہرا علیہا السلام کی خادمہ تھیں اور مستجاب الدعوات ہو گئیں اور بیس سال تک صرف قرآن کی آیات کے ذریعے بات کرتی رہیں ، یا قنبر کہ جو حضرت علی علیہ السلام کے ہمنشین ہوئے تو اعلی ترین مقام تک پہنچے ، پس کہنا پڑتا ہے کہ ہمنشینی نادانستہ طور پر بھی انسان پر اثر انداز ہوتی ہے (۳۷)

آخری بات ،

اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ہم اسلام کی معنوی بنیادوں کا دامن تھام لیں اور اس کے جامع الاطراف اور حرکت آفرین دستور کے ساتھ چلیں تو ہم تیزی کے ساتھ خدا کی مدد سے اپنی کمزوریوں اور اپنی ضرورتوں کی تلافی کر سکتے ہیں اور مشکلات پر فائز ہو سکتے ہیں اور اپنے انقلاب کو تیزی کے ساتھ آگے بڑھا سکتے ہیں (۳۸)

لہذا ہم خدا کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ، بِعَوْنِکَ یا قُرَّةَ عَینِ الْمَسَاکِین؛تیری مدد سے اے مسکینوں کی آنکھوں کو ٹھنڈک دینے والے ! (۳۹) اس سے پتہ چلتا ہے کہ اگر کوئی خود کو خدا کے حوالے کر دے اور اس کی راہ میں قدم بڑھائے تو خدا بہترین انداز میں اس کی نصرت اور مدد کرتا ہے (۴۰) 

حوالہ جات:

·          ۱ ۔ کلیات مفاتیح نوین ؛ ۸۱۴ ،

·          ۲ ۔ وہی ،

·          ۳ ۔ وہی ، ص ۹۹۹ ،

·          ۴ ۔ اخلاق در قرآن ؛ ج۱ ؛ ص ۲۰۶ ،

·          ۵ ۔ انوار ہدایت ص ۵۸ ،

·          ۶ ۔ وہی ، ص ۵۹ ،

·          ۷ وہی ،

·          ۸ ۔ اخلاق در قرآن ؛ ج۱ ص ۲۰۶ ،

·          ۹ ۔ تفسیر نمونہ ؛ ج۱۶ ؛ ص ۲۹۰ ،

·          ۱۰ ۔ پیام امام امیر المومنین ع ؛ ج۷ ؛ ص ۷۲۴ ،

·          ۱۱ ۔ اخلاق در قرآن ؛ ج۱ ؛ ص ۱۹۴ ،

·          ۱۲ ۔ چہرہء منافقان در قرآن ؛ص ۱۳۴ ،

·          ۱۳ ۔ اخلاق در قرآن ؛ ج۱ ؛ ص ۲۰۳ ،

·          ۱۴ ۔ چہرہء منافقان در قرآن ؛ص ۷۸ ،

·          ۱۵ ۔ داستان یاران : ص ۲۳۰ ،

·          ۱۶ ۔ اخلاق اسلامی در نہج البلاغہ ؛ ج۱ ؛ ص ۴۱۴ ،

·          ۱۷ ۔ گفتار معصومین (ع) ، ج۱ ص ۱۱۶ ،

·          ۱۸ ۔ اخلاق  اسلامی در نہج البلاغہ ، خطبہ متقین ج۱ ص ۴۱۵ ،

·          ۱۹ ۔ وہی ،

·          ۲۰ ۔ کلیات مفاتیح نوین ؛ ص ۸۱۴ ،

·          ۲۱ ۔ پیام امام امیر المومنین ؛ ج۱۴ ص ۴۱۵ ،

·          ۲۲ ۔ وہی ، ص ۴۱۶ ،

·          ۲۳ ۔ وہی ،

·          ۲۴ ۔ بحار الانوار ، ج ۶۸ ص ۹۲ ،

·          ۲۵ ۔ پیام امام امیر المومنین ع ج۱۳ ص ۱۷۳ ،

·          ۲۶ ۔ عاشورا ریشہ ھا انگیزہ ھا رویدادھا پیامدھا ص ۵۳۰ ،

·          ۲۷ ۔ وہی ص ۵۳۰ ،

·          ۲۸ ۔ مقتل الحسین مقرم ص ۲۸۲ ۔ ۲۸۳ ،

·          ۳۰ ۔ وہی ،

·          ۳۱ ۔ سورہء انفطار ؛آیات ۱۳ ۔ ۱۴ ،

·          ۳۲ ۔ سورہء مطففین ، آیہ ،۱۸ ،

·          ۳۳ ۔ اخلاق اسلامی در نہج البلاغہ ، ج۲ ص ۷۳ ،

·          ۳۴ ۔ وہی ،ص ۷۵ ،

·          ۳۵ ۔ پیام قرآن ج۹ ص ۲۶۲ ،

·          ۳۶ ۔ آیات ولایت در قرآن ؛ ص ۲۳۴

·          ۳۷ ۔ گفتار معصومین ع ج۱ ص ۱۶۹

·          ۳۸ ۔ مدیریت و فرماندہی در اسلام ، ص ۱۳ ،

·          ۳۹ ۔ کلیات مفاتیح نوین ؛ص ۸۱۴ ،

·          ۴۰ ۔ داستان یاران ، ص ۳۳ ،     

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر