تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور:ایرانی صدر کے معاون نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عالمی سطح پر غیر مہذبانہ رفتار امریکہ کے لئے شرم آور ہے جو دنیا میں سپر پاور ہونے کا مدعی ہے سعودی عرب ام الفساد اور دہشت گردی کے فروغ کا اصلی مرکز ہے جسے امریکی سرپرستی حاصل ہے۔

نیوزنور:روس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی سربراہی والا اتحاد دہشت گرد گروہ جبھۃ النصرہ کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

نیوزنور:بحرین کی تنظیم برائے انسانی حقوق کے صدر نے کہا ہے کہ آل خلیفہ کے ظلم وستم اور اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود بحرین میں انسانی حقوق کا کام بند نہیں کریں گے۔

نیوزنور:ایک امریکی روزنامے نے لکھا ہے کہ وائٹ ہاوس ایران پر حملہ کرنے کا بہانہ تلاش رہا ہے حالانکہ ٹرمپ کو ایرانی تاریخ سے عبرت حاصل کرنا چاہئے۔

نیوزنور:فلپائن کے صدرنے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکا کے دورے کی دعوت مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کبھی بھی امریکا نہیں جائیں گے۔

  فهرست  
   
     
 
    
گناہان کبیرہ کی علامتیں

نیوزنور:«اللَّهُمَّ لا تُؤَاخِذْنِي فِيهِ بِالْعَثَرَاتِ وَ أَقِلْنِي فِيهِ مِنَ الْخَطَايَا وَ الْهَفَوَاتِ وَ لا تَجْعَلْنِي فِيهِ غَرَضا لِلْبَلايَا وَ الْآفَاتِ بِعِزَّتِكَ يَا عِزَّ الْمُسْلِمِينَ».خدایا ! آج کے دن میری لغزشوں کی وجہ سے مجھ سے باز پرس نہ کر اور آج کے دن میری خطاوں اور سرمستیوں کو معاف فرما ، اور مجھے بلاوں اور خطروں کے نشانے پر قرار نہ دے اپنی عزت کے صدقے میں اے مسلمانوں کو عزت دینے والے !

اسلامی بیداری صارفین۱۰۶۶ : // تفصیل

گناہان کبیرہ کی علامتیں

نیوزنور:«اللَّهُمَّ لا تُؤَاخِذْنِي فِيهِ بِالْعَثَرَاتِ وَ أَقِلْنِي فِيهِ مِنَ الْخَطَايَا وَ الْهَفَوَاتِ وَ لا تَجْعَلْنِي فِيهِ غَرَضا لِلْبَلايَا وَ الْآفَاتِ بِعِزَّتِكَ يَا عِزَّ الْمُسْلِمِينَ».خدایا ! آج کے دن میری لغزشوں کی وجہ سے مجھ سے باز پرس نہ کر اور آج کے دن میری خطاوں اور سرمستیوں کو معاف فرما ، اور مجھے بلاوں اور خطروں کے نشانے پر قرار نہ دے اپنی عزت کے صدقے میں اے مسلمانوں کو عزت دینے والے !

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنورمومنین کی طاعات اور عبادات کی قبولیت کی آرزو کے ساتھ ، حوزہءعلمیہ قم کے سیاسی  ،اجتماعی دفتر کے مسئول حجۃ الاسلام و المسلیمن محمد حسن زمانی کا رمضان المبارک کے چودہویں دن کی دعا کی تشریح کو حوزہ نیوز نے منتشر کیا ہے نیوزنور نے جس کا ترجمہ  کرنے کا شرف حاصل کیا  ہے  ۔

"اللَّهُمَّ لا تُؤَاخِذْنِي فِيهِ بِالْعَثَرَاتِ وَ أَقِلْنِي فِيهِ مِنَ الْخَطَايَا وَ الْهَفَوَاتِ وَ لا تَجْعَلْنِي فِيهِ غَرَضا لِلْبَلايَا وَ الْآفَاتِ بِعِزَّتِكَ يَا عِزَّ الْمُسْلِمِينَ" خدایا ! آج کے دن میری لغزشوں کی وجہ سے مجھ سے باز پرس نہ کر اور آج کے دن میری خطاوں اور سرمستیوں کو معاف فرما ، اور مجھے بلاوں اور خطروں کے نشانے پر قرار نہ دے اپنی عزت کے صدقے میں اے مسلمانوں کو عزت دینے والے !

روزہ دار انسان اس دعا میں خدا سے تین چیزیں مانگتا ہے ۔

اس دعا کے پہلے اقتباس میں آیا ہے :" اللَّهُمَّ لا تُؤَاخِذْنِي فِيهِ بِالْعَثَرَاتِ " آج کے دن میری لغزشوں کی وجہ سے مجھ سے باز پرس نہ کر۔

اگر چہ سورہء زلزال کی آیت نمبر ۷ اور ۸ کی بنیاد پر خدا کی عدالت کا تقاضا ہے کہ جب وہ ایک ذرہ کے برابر نیک عمل کی جزا دیتا ہے ، تو اسے ایک ذرہ کے برابر برے عمل کی سزا بھی دینا چاہیے" فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَرَهُ * وَ مَنْ يَعْمَلْ مِثْقالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ" پس  جوبھی ایک ذرہ کے برابر نیک کام کرے گا وہ اس کو دیکھے گا اور جو کوئی ذرہ کے برابر برا کام کرے گا وہ بھی اس کو دیکھے گا ، لیکن کیا ہم معتقد ہیں کہ خدا اپنے وعدوں پر عمل کرے گا یا نہیں ؟ تو اس کا جواب ہاں بھی ہے اور نہیں بھی ۔

ہاں میں اس کا جواب حضرت حق کے ان مثبت وعدوں کے بارے میں کہ جن پر وہ عمل کرے گا کہ جن کے بارے میں فرمایا ہے :" إِنَّ اللَّهَ لَا يخْلِفُ الْمِيعَادَ " بیشک اللہ اپنے وعدوں کی مخالفت نہیں کرتا، اور وعدوں پر عمل کرنے کے سلسلے میں منفی جواب کے بارے میں ہم بتا دیں کہ خدا خود پر لازمی نہیں سمجھتا کہ وہ جو ڈراوے اس نے دیے ہیں ان پر عمل کرے بلکہ وہ ایسا طریقہ نکالتا ہے کہ تا کہ اپنی حکمت کی بنا پر گناہ اور لغزش کو معاف کر دے اور جن چیزوں سے ڈرایا ہے ان پر عمل  نہ کرے ، لیکن اس بات کی ضرورت ہے کہ گنہگار اپنے اندر بخشش کی لیاقت کو ایجاد کرے ۔

عثرات کا مطلب لغزشیں ہیں اور لغزشوں کا شمار کبیرہ گناہوں میں  نہیں ہوتا  بلکہ یہ اس کے عرض میں ہوتی ہیں کبیرہ گناہوں کو لغزش نہیں کہتے ، بلکہ صغیرہ گناہوں کو لغزش کہتے ہیں لہذا خدا سے بے جا توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ ہمارے کبیرہ گناہوں پر بھی ہمیں سزا نہیں دے گا ،لیکن لغزشوں اور کوتاہیوں کی بخشش کی درخواست قدرے آسان ہے ، اس لیے کہ قرآن نے ہمیں راستہ دکھا دیا ہے ۔

اس سلسلے میں تین نکتے قابل غور ہیں :

پہلا نکتہ : یہ ہے کہ خدا نے وعدہ کیا ہے کہ اگر انسان کبیرہ گناہوں سے بچیں گے تو وہ صغیرہ گناہوں اور لغزشوں کو معاف کر دے گا ۔

سورہء نسا آیت نمبر ۲۱  میں آیا ہے :" إِنْ تَجْتَنِبُوا کَبائِرَ ما تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَيِّئاتِکُمْ وَ نُدْخِلْکُمْ مُدْخَلاً کَريماً " اگر ان کبیرہ گناہوں سے کہ جن سے منع کیا گیا ہے دوری اختیار کرو گے تو تمہارے چھوٹے گناہوں کو معاف کر دیں گے اور تمہیں با عزت مقام پر رکھیں گے ، (گناہوں کا صغیرہ یا کبیرہ ہونا ان کی اجتماعی یا انفرادی خرابیوں سے مربوط ہے ، لیکن جہاں تک خدا کی نافرمانی کا تعلق ہے تو سبھی گناہ کبیرہ ہیں )

یا سورہء نجم آیت نمبر ۳۲ میں ارشاد ہوا ہے :" الَّذينَ يَجْتَنِبُونَ کَبائِرَ الْإِثْمِ وَ الْفَواحِشَ إِلاَّ اللَّمَمَ إِنَّ رَبَّکَ واسِعُ الْمَغْفِرَةِ ... " یقینا جو لوگ دنیا میں کبیرہ گناہوں سے کہ دنیا میں جن کی تعزیر ہے اور آخرت میں جن پردوزخ کا وعدہ ہے ، اور برائیوں سے کہ اسلام میں جن پر کوئی حد معین نہیں کی گئی ہے ، دوری اختیار کرتے ہیں ان چھوٹے اور اچانک سر زد ہونے والے گناہوں کو چھوڑ کر تو یقینا تمہارے پروردگار کی مغفرت وسیع ہے ۔

دوسرا نکتہ جو قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ کبھی خدا ایک درجہ اوپر جاتا ہے اور اگر ہم اپنے اندر لیاقت پیدا کر لیں تو وہ ان لغزشوں اور چھوٹے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے ۔

خدا وند عالم نے سورہء فرقان کی آیت نمبر ۷۰ میں فرمایا ہے :" إِلاَّ مَنْ تابَ وَ آمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلاً صالِحاً فَأُوْلئِکَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ وَ کانَ اللَّهُ غَفُوراً رَحيماً " مگر وہ لوگ کہ جو توبہ کرتے ہیں اور ایمان لے آتے ہیں اور نیک عمل انجام دیتے ہیں ، یہی وہ لوگ ہیں کہ خدا جن کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے (یعنی توفیق دیتا ہے کہ آیندہ ان گناہوں کے بدلے میں نیک اعمال انجام دیتے ہیں ، یا ان کے ماضی کے جو گناہ ہوتے ہیں انہیں محو کر کے ان کی جگہ نیکیاں لکھتا ہے ) اور یاد رکھو کہ خدا بہت بخشنے والا اور مہربان ہے ۔

گناہان کبیرہ کی علامتیں ،

تیسرا نکتہ کہ جس کی طرف اشارہ کر دیں یہ ہے کہ کبیرہ گناہ کیا ہیں کہ جن سے ہم پرہیز کریں ؟

روایات میں ان کی بہت ساری علامتیں بیان ہوئی ہیں ؛

·         ۱ ۔ وہ گناہ کہ جن پر عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے کبیرہ گناہ ہیں ۔

·         ۲ ۔ چھوٹے گناہ کی تکرار سے وہ کبیرہ ہو جاتا ہے ۔

·         ۳ ۔ گناہ کے ترک کرنے کی نیت نہ کرنا اس کے کبیرہ ہونے کا باعث بن جاتا ہے ۔

·         ۴ ۔ چھوٹے گناہ کو چھوٹا سمجھنا اسے کبیرہ گناہ میں بدل دیتا ہے ۔

اس دعا کے دوسرے اقتباس میں آیا ہے :" وَ أَقِلْنِي فِيهِ مِنَ الْخَطَايَا وَ الْهَفَوَاتِ " اور اس روز مجھے خطاوں اور اشتباہات سے دور رکھ ،

اقل باب افعال سے امر کا صیغہ ہے : اقال ، یقیل ، اقالہ ،

اقالہ کا استعمال تجارت اور فقہ اقتصادی میں ہوا ہے اور اس کا مطلب معاملے کو توڑ کر پھر سے شروع کرنا ہے ۔ لیکن یہاں پر اقالہ ، یعنی خدایا مجھ سے درگذر فرما اور مجھے تلافی کی مہلت عنایت فرما ۔ کیا ممکن ہے کہ انسان اقالہ کرے اور خدا اسے قبول کر لے ؟ اس کا جواب ہاں بھی ہے اور نہیں بھی ۔

خدا کہاں انسان کی توبہ کو قبول نہیں کرتا ؟

چند مقامات پر خدا توبہ قبول نہیں کرتا :

۱ ۔ اس قسم کے اقالے کہ جو احتضار اور قبض روح کے وقت انجام پاتے ہیں : فرعون جب ڈوب رہا تھا تو بولا ،میں موسی اور ہارون کے خدا پر ایمان لاتا ہوں ، خدا نے جواب میں فرمایا :" آلْآنَ وَ قَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَ کُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدينَ " اس سے کہا گیا ، اب ! جبکہ توبہ کا وقت گذر چکا ہے  جب کہ اس سے پہلے تو نے نافرمانی اور تباہی مچائی تھی ۔

۲ ۔ قبر کی پہلی رات کے اقالے : خدا نے سورہء مومنون کی آیت نمبر ۹۹ اور ۱۰۰ میں فرمایا ہے :" حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَ‌بِّ ارْ‌جِعُونِ * لَعَلِّی أَعْمَلُ صَالِحًا فِیمَا تَرَ‌کْتُ کَلَّا إِنَّهَا کَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِن وَرَ‌ائِهِم بَرْ‌زَخٌ إِلَى یَوْمِ یُبْعَثُونَ " جب ان میں سے کسی کی موت آتی ہے  تو کہتا ہے خدایا مجھے واپس بھیج دے تا کہ جو کچھ میں پیچھے چھوڑا ہے اس کے بدلے میں نیک عمل انجام دوں ۔ ہر گز نہیں یہ صرف اس کی زبانی بات ہے ، اس کے بعد تو وہ قیامت تک برزخ میں رہے گا ۔

لیکن اگر انسان واقعی توبہ اور اقالہ کرے تو خدا اس کو بخش دیتا ہے ۔ لیکن واقعی توبہ کے چار رکن بتائے گئے ہیں ۔ گذشتہ عمل کے انجام پر پشیمانی ، گناہ کے ترک کا پختہ ارادہ ، کیے گئے گناہ کی تلافی ، اور خدا سے توبہ کی درخواست ،

رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانچویں وصی حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے ایک روایت میں فرمایا :" التائِبُ من الذَّنب كَمَن لا ذَنبَ له و المُقیم على الذّنب و هو مستغفِرٌ منه كالمُستَهز " گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو اور جو گناہ میں مبتلا ہو اور اس سے توبہ بھی کرے وہ مذاق کرنے والے کی مانند ہے ۔

اس دعا کے تیسرے اقتباس میں آیا ہے : " وَ لا تَجْعَلْنِي فِيهِ غَرَضا لِلْبَلايَا وَ الْآفَاتِ" اور مجھے بلاوں اور آفتوں کا نشانہ قرار نہ دے ۔

دنیا میں بلائیں اور آفتیں جیسے ایکسیڈینٹ ، سیلاب ، بیماریاں ، بے عزتیاں ، مالی نقصانات ، اور حیثیت اور وقار پر چوٹ وغیرہ ہیں ، اب ہم کیا کریں کہ یہ دعا قبول ہو جائے ؟ اور بلاوں سے بچنے کا طریقہ کیا ہے ؟

بلاوں سے بچنے کے اسباب احادیث گنوائے گئے ہیں  جن میں دعا ، صدقہ ، ، توسل ،تدبیر وغیرہ بلاوں سے بچنے کے اسباب ہیں ۔   

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر