تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور :معروف پاکستانی اہلسنت عالم دین اورچیئرمین تحریک لبیک یارسول اللہ (ص)نےلاہور میں سالانہ فکر امام حسینؑ کانفرنس سے خطاب کے دوران حضرت امام حسینؑ کی قربانی کو قیامت تک اہل اسلام کیلئے مشعل راہ قرار دہتے ہوئے کہا ہے کہ آپؑ کے سیرت و کردار سے اُمت مسلمہ کے قلوب قیامت تک منور ہوتے رہیں گے۔

نیوز نور : امریکہ میں قائم عالمی اسلامی مرکز کے سربراہ نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے پر ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر تنقید کرتے ہوئے اس سمجھوتے کو عالمی امن کی مزید مضبوطی کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں ایک امریکی شہری کی حیثیت سے اپنے صدر سے بالکل مایوس ہوچکا ہوں

نیوز نور : اسلامی جمہوریہ ایران کے ایک ممتاز شیعہ عالم دین اور حوزہ علمیہ کےاستاد نے نمازکو بحرانوں کی مینجمنٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عاشورا کا ایک اہم پیغام اورعاشورائی طرززندگی کی ایک اہم صفت نمازکو اول وقت پڑھنا ہے۔

نیوز نور : لبنان کے صدر نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے لبنان کے اندرونی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں اور اس مسئلے کا دعوی کرنے والے اپنے دعوے کے حوالے سے ثبوت بھی پیش نہیں کرسکتے۔

نیوز نور : پاکستان کے نامور اہلسنت عالم دین اور سنی تحریک کے سربراہ نے کہا ہے کہ امام عالمی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام نے ظالم و جابر کے سامنے ڈٹ جانے اور مظلوموں کیلئے آواز بلند کرنے کا درس دیا۔

  فهرست  
   
     
 
    
علاقے میں ایران دشمن گٹھ بندھن ٹکڑوں میں بٹا

نیوزنور: تھرزامی کی کوشش تھی کہ برطانیہ کے یورپین یونین سے نکل جانے کی وجہ سے جو اقتصادی مشکلات پیدا ہوئی ہیں ان سے نمٹنے کے لیے منفعت کسب کرنے کی خاطر ، اور عرب ملکوں کے ساتھ اپنے استعماری ماضی کے پیش نظر روابط کو بڑھا کر ایران کی مخالف حکومتوں کو مقاومت کے محور کے خلاف متحد اور آپس میں نزدیک کرے۔

اسلامی بیداری صارفین۱۴۹۲ : // تفصیل

علاقے میں ایران دشمن گٹھ بندھن ٹکڑوں میں بٹا

نیوزنور: تھرزامی کی کوشش تھی کہ برطانیہ کے یورپین یونین سے نکل جانے کی وجہ سے جو اقتصادی مشکلات پیدا ہوئی ہیں ان سے نمٹنے کے لیے منفعت کسب کرنے کی خاطر ، اور عرب ملکوں کے ساتھ اپنے استعماری ماضی کے پیش نظر روابط کو بڑھا کر ایران کی مخالف حکومتوں کو مقاومت کے محور کے خلاف متحد اور آپس میں نزدیک کرے۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ڈونالڈ ٹرامپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد عملی طور پرمغربی ایشیاء[ مشرق وسطی ]میں واشنگٹن ریاض اور لندن کے درمیان ایران اور مقاومتی تحریک کا مقابلہ کرنے  کے لیے ایک گٹھ جوڑ وجود میں آیا تھا ، لیکن حالیہ ہفتوں میں کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں کہ جن کی وجہ سے یہ گٹھ جوڑ مشکلات کا شکار ہو کر ٹکڑوں میں بٹنے کے دہانے پر ہے ۔ان میں سے کچھ مشکلات عرب ملکوں کی قطر کے ساتھ کشیدگی اور برطانیہ کے حالیہ انتخابات میں محافظہ کار پارٹی کی شکست ہیں ۔

سعودی عرب اور امارات کی قطر کے ساتھ کشیدگی ،

سب سے پہلا واقعہ قطر کے سعودی عرب اور امارات کے ساتھ روابط کا بحران اور کویت اور عمان جیسے ملکوں کا غیر جانبدار رہنا ہے ۔یہ چیز باعث بنی ہے کہ عملی طور پر عرب ملک چند گروہوں میں تقسیم ہو چکے ہیں ۔

اس سلسلے میں بتایا گیا ہے کہ پیدا شدہ اختلافات کی اصلی وجہ امیر قطر کی تقریر ہےکہ جس میں اس نے دوحہ کے ایران کے ساتھ روابط کی تعریف کی تھی اور تاکید کی تھی کہ حماس اور حزب اللہ مقاومتی تحریکیں ہیں ۔

 امیر قطر کے اس بیان کی وجہ سے دوحہ کے سعودی عرب ، امارات اور چند دوسرے عرب ملکوں کے روابط میں کشیدگی پیدا ہو گئی تھی ۔ البتہ ان ملکوں کے مفادات کا ٹکراو ایک تاریخی امر ہے اور اس کی جڑیں ماضی میں ہیں اس لیے کہ قطر کے اخوانی آئیڈیالوجی کےحامی ہونے ، اور آل سعود کے تسلط کے خلاف ہونے ، اور سرحدی اختلافات کی بنا پر بارہا الجزیرہ چینل کی سعودی عرب اور امارات کے ساتھ لفظی نوک جھونک ہوتی رہی ہے ، لیکن عرب ملکوں کے روابط کبھی بھی اس حد تک بحرانی نہیں ہوئے ۔

اس وقت تک بھی قطر نے یہ دکھایا ہے کہ وہ سعودی عرب کے آگے جھکنے کے لیے تیار نہیں ہے ، اسی چیز نے اختلافات کے حل و فصل کو کم سے کم اتنی جلدی ناممکن بنا دیا ہے۔

انتخابات میں تھرزامی کی شکست اور ایک ٹوٹی پھوٹی حکومت کی تشکیل،

دوسری وجہ برطانیہ کی پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے میں محافظہ کار پارٹی کی ناکامی ہے ۔گذشتہ جمعرات کے انتخابات میں تھرزامی کو محافظہ کار پارٹی کے رہنما کے عنوان سے ۳۱۸ سیٹیں ملیں جب کہ ۲۰۱۵ کے انتخابات میں اس کو ۳۳۰ سیٹیں ملی تھیں کہ جن سے اس وقت ۱۲ سیٹیں کم ہیں ۔

اسی دوران تھرزامی نے حکومت کی تشکیل کے لیے کسی بھی پارٹی سے اتحاد نہیں کیا ہے۔ بلکہ دائیں بازو کی ایر لینڈ یونین ڈیموکریٹیک پارٹی کی اصولی موافقت کسب کرنے اور اقلیت کی حکومت تشکیل دینے پر اکتفا کی ہے ۔

اس وقت محافظہ کار پارٹی کے بہت سارے ارکان نے لمبی مدت تک حکومت چلانے کی تھرزامی کی صلاحیت پر انگلی اٹھائی ہے ۔ دوسری طرف جرمی کوریین کارگر پارٹی کے رہنما نے اس کے استعفی کا مطالبہ کیا ہے ، اور پیش گوئی کی ہے کہ تھرزامی کی حکومت چند دنوں یا چند مہینوں میں گر جائے گی ، اور کارگر پارٹی آیندہ عام انتخابات میں کامیاب ہو گی اور وہ برطانیہ کا وزیر اعظم ہو گا ۔

اس پیش گوئی سے ہٹ کر یہ کہنا ہوگا کہ اس وقت تھرزامی ایسی شخصیت ہے جو کافی حد تک اپنی طاقت کھو چکی ہے ، ایک اقلیت کی حکومت کو اپنے دن گننا چاہییں اور ہمیشہ پارلیمنٹ کی اہم آراء سے پریشان رہنا چاہیے ۔

اس بنیاد پر توقع کی جا رہی ہے کہ یہ ٹوٹی پھوٹی حکومت اختلافات کو حل کرنے والی پہلے والی طاقت نہیں رکھتی ہو گی ۔ دونوں پارٹیوں کے اختلاف کی ایک وجہ ، ٹرامپ کے ساتھ ان کے تعاون کی نوعیت ، اورمغربی ایشیاء[ مشرق وسطی] کے ملکوں کے مقابلے میں مغربی مشرق اور اس کی سیاست پر ان کی نگاہ ہے ۔

جرمی کوربین کی رہبری والی پارٹی حزب کارگر امریکہ کی حکومت اور ڈونالڈ ٹرامپ سے دوری اختیار کرنے کی خواہاں ہے ۔اس صورت میں اس پارٹی کی ہر طرح کی تقویت لندن اور واشنگٹن کے درمیان فاصلہ پڑنے اور نتیجے میں مغربی مشرق  میں ایک سیاست کو آگے بڑھانے میں شکست پر منتہی ہو گی ۔

اسی سلسلے میں جب گارڈین نے ایک رپورٹ میں اعلان کیا کہ امریکہ کے صدر نے ٹیلیفون پر برطانیہ کے وزیر اعظم سے کہا ہے کہ ابھی وہ لندن کے دورے پر مایل نہیں ہے تو کوربین نے اس کا استقبال کیا جب کہ ٹرزامی کے دفتر نے اس کی تکذیب کی ۔ ۔ مجموعی طور جرمی کوربین ٹرامپ کو امریکی صدر کی کرسی کے لیے مناسب نہیں مانتا ۔

دوسری جانب کوربین نے ہمیشہ کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتے کی حمایت کرتا ہے اور اس نے تھرزامی کی حکومت پر شدت پسند گروہوں کو دی گئی مالی امداد کی رپورٹ منتشر کرنے سے انکار پر  سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ برطانیہ کو چاہیے کہ سعودی عرب کے ساتھ اس کی شدت پسندوں کی حمایت  کرنے کی بنا پر سختی سے پیش آئے ۔

لیکن تھرزامی اس ملک کو زیادہ سے زیادہ ہتھیار فروخت کرنے کے لیے اس سے نزدیکی چاہتی ہے ۔ تھرزامی نے علاقے میں ایران کے نفوذ کو ٹرامپ کے ساتھ ملاقات میں ایک بد کردار کا نفوذ بتایا ، اور سعودی عرب سے ایسے ملک کے عنوان سے کہ جس نے خود دہشت گردانہ حملوں کا تجربہ کیا ہے ، اور ان میں بہت سارے افراد اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں یاد کیا ۔

تھرزامی کی کوشش تھی کہ برطانیہ کے یورپین یونین سے نکل جانے کی وجہ سے جو اقتصادی مشکلات پیدا ہوئی ہیں ان سے نمٹنے کے لیے منفعت کسب کرنے کی خاطر ، اور عرب ملکوں کے ساتھ اپنے استعماری ماضی کے پیش نظر روابط کو بڑھا کر ایران کی مخالف حکومتوں کو مقاومت کے محور کے خلاف متحد اور آپس میں نزدیک کرے ۔ یہ مسائل مغرب کی ایران ہراسی کی سازش کے ساتھ مل کر باعث بنے کہ خلیج فارس تعاون کونسل نے بھی مختلف میدانوں میں برطانیہ کے ساتھ روابط مضبوط کرنے کا استقبال کیا ۔

آخر میں یہ کہنا ہو گا کہ جو واقعات رونما ہوئے ہیں ان کے چلتے عملی طور پر عربی نیٹو کی ایجاد  کا منصوبہ پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا ۔ طے تھا کہ مغربی ایشیا پر حکومت کرنے کے لیے صہیونی حکومت کی سربراہی میں عربی نیٹو بنایا جائے اور امریکہ اور برطانیہ جیسے ملک بھی اس کی پشت پناہی اور حمایت کریں ۔   

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر