تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور:عراقی وزیراعظم نے کہا ہے کہ نام نہادداعشی خلافت کی مذہبی علامت سمجھی جانے والی جامع مسجد النوری کی دھماکے میں شہادت دہشت گرد گروپ داعش کا اعتراف شکست ہے۔

نیوزنور:ایک صیہونی روزنامےنے اپنے ایک  مقالے میں لکھا ہے کہ سعودی شہزادے محمد بن سلمان جو اپنے والد کے خصوصی حکم پر سعودی عرب کے نئے ولیعہد منتخب ہوئے ہیں نے اپنا نیا عہدہ سنبھالنے سے قبل اعلی صیہونی حکام سے ملاقات کی ۔

نیوزنور:یمن کی تحریک انصاراللہ کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ صیہونی حکومت کے ساتھ مل کر علاقے پر تسلط جمانے کی کوشش کر رہا ہے-

نیوزنور:ایران کے ایک بزرگ شیعہ عالم دین نے ایک بیان میں داعش پر سپاہ کے جوابی حملے کو بہترین اور مضبوط دفاع قرار دیتے ہوئے کہا ہےکہ یوم القدس کی ریلی میں شرکت کرنا ملک اور عالم اسلام کی سلامتی کی ضامن ہے۔

نیوز نور: یمن کےسابق صدر  نے اپنے ایک بیان میں  تحریک انصاراللہ کےساتھ اتحاد جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہےکہ سعودی جنگی اتحاد کے خلاف یمنی عوام کی حتمی فتح یقینی ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
مسئلہ شام و عراق پر ایران پر الزام لگانے والے خود مسئلہ کشمیر کی ماہیت سے بے خبر؛
گیلانی صاحب کے نام عبدالحسین کا کھلا خط

نیوزنور: "حاسِبُوا اَنْفُسَکُم قبلَ اَن تُحاسَبُوا" کے پیش نظر گیلانی صاحب سیاست سے اپنی علیحدگی کا اعلان کریں اور مزید اپنی دنیا و آخر ت خراب نہ کریں۔

اسلامی بیداری صارفین۹۸۶ : // تفصیل

بسمہ تعالی

مسئلہ شام و عراق پر ایران پر الزام لگانے والے خود مسئلہ کشمیر کی ماہیت سے بے خبر؛

گیلانی صاحب کے نام عبدالحسین کا کھلا خط

نیوزنور: "حاسِبُوا اَنْفُسَکُم قبلَ اَن تُحاسَبُوا" کے پیش نظر گیلانی صاحب سیاست سے اپنی علیحدگی کا اعلان کریں اور مزید اپنی دنیا و آخر ت خراب نہ کریں۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق 7 جون کو بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کے مرقد شریف اور مجلس شورای اسلامی(پارلمنٹ) ایران  پر دولت اسلامی عراق و شامات (داعش) نامی بین الاقوامی دہشتگرد تنظیم کی طرف سے کئے گئے حملوں کے حوالے سے کشمیر کے نامی گرامی لیڈر سید علی شاہ گیلانی صاحب نے ایران پر دنیا بھر میں مظلوموں خاص کر سنیوں کی حمایت کرنے کی پاداش میں دہشتگردی کا شکار بنائے جانے پر ہمدردی اور شکریہ کا اظہار کرنے کےبجائے اسرائیلی اور امریکی سرکاری بیان کے مانند حملوں میں مارے جانے والوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے داعش کی کاروائی کو ایران کی شام اور عراق کی مداخلت کا نتیجہ قرار دیا۔جس کے پیش نظر نیوزنور کے مدیر اعلی حجت الاسلام حاج آقای سید عبدالحسین موسوی [ قلمی نام؛ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی]نے سید علی شاہ گیلانی صاحب کے نام کھلا خط لکھا جس میں موصوف کو بڑے مسائل جن کی رہبری ولی امر مسلمین حضرت امام خامنہ ای مدظلہ العالی کرتے ہیں کے بارے میں رائے زنی کرنے کے بجائے خود مسئلہ کشمیر کی ماہیت کی سمجھنے کی کوشش کریں جس سے وہ ناواقف ہیں پر  پھربھی اس کی سربراہی کے مدعی ہے۔

کشمیر کے نامی گرامی مورخوں اور قلمکاروں نے اس خط کو ایک تاریخی مسودہ قرار دیا اور اس کی تشہیر کی سفارش کی اور چونکہ کشمیر میں روزناموں نے اس خط کو شائع کرنے سے انکار کیا اسلئے نیوزنور پر اسے شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔

خط کی عین عبارت مندرجہ ذیل ہے :

 

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ(الذاريات/55)

به کشمیر اعتقاد درست است                        ولی ایمان براهش سخت سست است  (قدسی)

برادر گرامی سید علی شاہ گیلانی صاحب

سلام علیکم

آج15رمضان المبارک 1438ھ مطابق 10جون 2017 ء رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوسرے وصی حضرت امام حسن بن علی علیہما السلام کے میلاد مسعود پر 7جون 2017کو اسلامی جمہوری ایران پر دولت اسلامی عراق و شامت(داعش) کے یزیدی دہشتگردوں کی طرف سے بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی قدس سرہ کے مرقد اور مجلس شورای اسلامی (پارلمنٹ) ایران پر  حملے کے کو دبے الفاظوں میں جایز ٹہرانے کے پیش نظر آپ سے آپ کے نام کے احترام میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مکاتبہ کروں کیونکہ لگتا ہے  خود آپ  مسئلہ کشمیر کی حقیقت سے بے خبر ہیں  پھر بھی مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے مدعی اور رہنما ہیں۔"أَفَمَنْ يهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَنْ يتَّبَعَ أَمَّنْ لَا يهِدِّي إِلَّا أَنْ يهْدَى فَمَا لَكُمْ كَيفَ تَحْكُمُونَ"(يونس/35)

شام و عراق کے حوالے دیے گئے آپ کے بیان کے پیش نظر آپ کس حد تک عالم اسلام کے حالات سے باخبر ہیں اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے۔اور آپ جلاد کو شہید اور شہید کو جلاد سمجھتے ہیں ایسے میں آپ جمہوری اسلامی ایران اور ولایت فقیہ کی سیاست کو  کس حد تک سمجھنے اور جاننے کی صلاحیت رکھتے ہیں یہ بھی عیاں ہو گیا۔آپ نے اپنے بیان سے امیر معاویہ کی یاد تازہ کرنی چاہی کہ جب شام میں شاہ ولایت کی شہادت کی خبر پہنچی کہ امام علی (علیہ السلام) مسجد میں شہید کئے گئے، تو مین سٹریم میڈیا سے متاثر لوگوں نے سوال کیا کہ وہ مسجد میں کیا کرتے تھے، کیا علی (علیہ السلام) نماز پڑھتے تھے!۔ وہ زمانہ گذر گیا  کہ نفس رسول علیہ السلام کو بے نماز ی ثابت کیا جائے اورجمعہ خطبوں میں"سب و شتم"پڑھا جائے گا اور نمازی خاموش تماشائی بن کے بیٹھیں یہ ولایت فقیہ کا دور اسلام کی حاکمیت کا دور ہے جس میں جلاد کو شہید اور شہید کو جلاد ثابت نہیں کیا جاسکتا ہے جسطرح آپ نے ولی فقیہ کو ظالم اور داعش کو مظلوم بتانا چاہا ہے۔البتہ  کشمیر میں قحط الرجال ہے اس لئے آپ جیسے حضرات کو  عالم دین، سیاستمدار اور تجربہ کار مرد میدان کہنا پڑتا ہے۔البتہ آپ ایک بہترین ادیب اور سخنور ہیں اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔اور میں  جماعت اسلامی کے احترام میں آپ سے مخاطب ہو کر کشمیرسے تعلق رکھنے والے ہر فرد کیلئے بالعموم اور کشمیری عوام کیلئے بالخصوص " رنجنامہ" تحریر کررہا ہوں۔

اسلئے میں پہلے سورہ زاریات کی آیت 55 سے متبرک ہوتے ہوئے کشمیر کی ماہیت کے بارے میں مقدمے کے طور پر سرسری یاد دہانی کرنا چاہوں گا۔ شاید اس آیہ مبارکہ کے کلمہ " تَنْفَعُ " جو کہ صرف قرآن میں تین جگہ تین آیات میں اللہ سبحان و تعالی نے بیان فرمایا ہے جس سے دنیا سے آخرت تک انسان کیلئے نا امیدی کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔اور اسی امید کے ساتھ کہ بعض گتھیوں کو سلجھانے یا سمجھانے کیلئے خیالات کا تبادلہ کروں جس میں دنیا و آخرت کی سعادت یقینی ہو۔

تاریخی پس منظر

کشمیری قوم بہت ہی نجیب قوم ہے اس قوم کو انبیاء سے نسبت ملتی ہے

کشمیرایک تاریخی مذہبی سرزمین ہے، صاحب تاریخ مراۃ الاولیاء کے بقول حضرت آدم و حضرت حوا علیہما السلام کے توبہ قبولی کے بعد سرزمین کشمیر پر آپ دونوں کا ملن ہوا،نیز کئی انبیاء علیہم السلام کا یہاں سے گزر ہوا ہے  البتہ یہاں کی مذہبی تاریخ ابھی تک مدون نہیں کی گئی ہے جبکہ یہاں کی سیاسی تاریخ قبل از میلاد مسیح علیہ السلام تین ہزار سال سے زائد عرصے پر مشتمل کم نظیر تاریخ موجود ہے۔اور1282 ق م میں حضرت سلیمان علیہ السلام کہ جسے سنسکرت مورخوں نے"سندیمان" کے نام سے یاد کیا ہے کا یہاں آنا اور کشمیری  حاکم"راجہ اندر" کا نبی زمان کے سامنے سرتعظیم خم کرکے حکومت کو ٹھوکر مارکر حضرت سلیمان علیہ السلام کی صحبت اختیار کرنے کو بڑی حکمرانی سمجھ کر  آپ کے ساتھ چلا جانا اور اس کے عوض حضرت سلیمان علیہ السلام کا دو ترک شہزادوں کو جو آپ کے ہمراہ تھے کو کشمیر میں حکومت سنبھالنے پر معمور کرنا نیز "للتہ دت" کو بعض مورخین کے مطابق "ذوالقرنین"جاننا، بجائے خود ایک بڑی نوید ہے جو ہندوستان، چین اور روس کی تہذیبوں میں کشمیر کی تہذیب و تمدن کو نمایاں کردیتی ہے۔اگرچہ اس پہلو پر جانے انجانے میں ابھی تک پردہ پوشی ہو رہی ہے۔اگرچہ کشمیر کی ما قبل اسلام تاریخ کو صرف ہندو"بت پرست" تاریخ سے یاد کیا جاتا ہے جبکہ ایسے علمی اور میدانی شواہد موجود ہیں جو کشمیر کو ہندوستانی تاریخ  وتہذیب سے ممتاز کرکے یہاں پر  فلسطین کی طرح توحیدی عقیدے کی موجودگی بیان کرتی ہے۔اور کشمیریوں میں منطق و استدلال کے سامنے لجبازی نہ کرکے حقیقت کے سامنے سرتعظیم خم کرنا اسی توحیدی جوہر کا بین ثبوت ہے۔ اور اس جوہر کو ختم یا بے اثر کرنے کیلئے تاریخی ادوار کے ساتھ مسلسل جاری رہا ہے جو کہ  میرے نزدیک کشمیر کے خلاف تہذیبی جارحیت کا کلیدی پہلو ہے۔

کشمیر امن و صداقت کا گہوارہ

تاریخ میں ہمیں یہ بھی ملتا ہے کہ دنیا کے آزاد اندیش افراد جب اپنے وطن میں خرافات کو دیکھ دیکھ کر ذہنی کوفت محسوس کرتے تو کشمیر کا رخ کرتے ۔اس میں تبت کے والی "راجہ بضین" کے برادر زادہ "رنچن" جو اپنے چچا کے خرافات سے تنگ آکر بدھ مت سے بیزار ہوا تھا سر فہرست ہیں۔نیز "شاہ میر" نامی مسلمان جو کہ بعض مورخین کے بقول  مشہور پانڈو کی نسل "ارجن داس" کی اولاد میں سے تھے اور چند پشت قبل مسلمان ہوئے تھے  چند نام نہاد مسلمان حاکموں کے مظالم دیکھ کر کشمیر ہجرت کرکے بارہ مولا میں سکونت اختیار کی اور اسی طرح "لنگر چک" نامی پہلوان نے بھی اپنا وطن ترک کرکے کشمیر میں سکونت اختیار کی۔اور یہ وہ زمانہ تھا جب "راجہ سہدیو" (1308ء الی 1324ء)کشمیر کا  حکمران تھا اور کشمیر خرافات میں ڈوب چکا تھا اور حکمرانی کے زوال کے تمام شرایط پورے ہو چکے تھے کہ "ذوالقدر خان" کہ جسے "ذولچو" بھی کہتے ہیں نے کشمیر پر حملہ کرکے یہاں قیامت برپا کی اور ان تین مہاجروں "رنچن"،"شاہ میر" اور "لنگر چک" نے جو آخر کار رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسب اور امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے نسل سے تین عارفوں حضرات میر سیّد عبدالرحمن شرف الدین موسوی بلبل شاہ قلندر ، میر سیّد علی حسینی ہمدانی اور میرسیّد محمد موسوی شمس الدین عراقی /اراکی رضوان اللہ تعالی علیہم کے مسالک کے سرکردہ داعی بنے  اس سرزمین کے ساتھ وفاداری کا بھر پور حق ادا کیا اور کشمیر سنبھل گیا۔

رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتویں وصی حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے حسب و نسب سے ایک عارف سیّد بنام میر سیّدعبدالرحمن شرف الدین موسوی بلبل شاہ قلندر رحمت اللہ علیہ کے ہاتھ پر "رنچن /صدرالدین" نے اسلام لایا اور بر صغیر کے قرب و جوار میں رائج حنفی مسلک کو رواج بخشا اورپھر "شاہ میر"کے خاندان  کے دور میں رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تیسرے وصی حضرت امام حسین علیہ السلام کے حسب و نسب سے ایک اور عارف سید بنام میر سید علی حسینی ہمدا نی رحمت اللہ علیہ نے اسی مسلک کو مزید استحکام بخشا  اور "لنگر چک " کے خاندان نے رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتویں وصی حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے حسب و نسب سے ایک اورعارف سیّد بنام میر سید محمد شمس الدین موسوی عراقی/اراکی تعلیم و تربیت میں ہندو عقیدے  میں" کلکی اوتار" کو رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارہویں اور آخری وصی امام زمان(عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) تبین کرکے جعفری مسلک کو رواج بخشا۔اسطرح یہ تین کشمیری مہاجر کشمیر کی نئی تہذیب  وتمدن کے بانی قرار پائے۔اور فتنہ گر اسے کوئی اور رنگ دیتے رہے جو کہ انتہائي غور طلب اور سنجیدہ مسئلہ ہے جس کے حوالے سے ہم سب کو روز قیامت سوال کیا جائے گا۔فتنہ گروں کو اگر نہ سمجھا جائے ہماری دنیا بھی خراب اور آخرت بھی۔فتنہ گروں کا کام ہی حقیقت کو مسخ کرکے پیش کرنا ہوتا ہے ۔فتنہ گروں نے نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نہیں چھوڑا جسے اللہ یوں بیان فرماتا ہے"لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَقَلَّبُوا لَكَ الْأُمُورَ" (التوبة/48) ہماری تو بات ہی نہیں۔ اور "قَلَّبُوا لَكَ الْأُمُورَ"کے خطرے سے باخبر رہنا ہمیں اپنا سرلوحہ قرار دینا چاہئے، کہ کنہی ہمیں الٹی تصویر تو نہیں دکھائي جا رہی ہے۔اور کشمیر کی نئی تہذیب نے جس نے کشمیرکی پانچ ہزار سالہ  تاریخ میں نئی روح پھونک دی جس میں ہر ہندو، ہر بودھ جوق جوق داخل ہو کر اسلام کو اپنی گمشدہ تہذیب سمجھ کر گلے لگا یا  ۔یہاں پر بھی اسے کچھ اور "قَلَّبُوا لَكَ الْأُمُورَ" ثابت کیا جا رہا ہے ۔مثلا کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں نے یہاں زبردستی اسلام حاکم کردیا،یہاں کے مندروں کو مسمار کردیا وغیرہ۔ جبکہ حقیقت کچھ اور ہے  مسلمانوں نے اسلام کو بیان کیا اور کشمیری عوام جوق در جوق اس دین کے پروانے بن گئے۔ مندروں کو مسمار خود کشمیری پنڈتوں نے کرایا جسے بعد میں جب الزام مسلمانوں پر آیا  تو مسلمان علماء  نے ایسا کرنے سے منع کیا ۔کشمیر میں مندروں کی مسماری کا کام کسی بادشاہ یا  بلوائی نے نہیں بلکہ  ایک نامی گرامی، عالم فاضل صاحب قدرت پنڈت نے جس کا نام "ملک سہہ بٹ" تھا کہ جس نے اسلام قبول کرنے کے بعد مندروں کو  مسلمان سماج میں غیر ضروری قرار دیتے ہوئے حکومت سے مندروں کو مسمار کرنے کی سفارش کی اسطرح اکثر مندروں کو مسمار کیا گیا۔

کشمیریت یعنی  غیرت و جوانمردی

ایک زمانہ وہ بھی تھا جب کشمیری حاکم "راجہ جے سنگھ" نے" چنگیز خان" کو اپنی  شہامت و مردانگی دکھائی اور جنگیز خان کو ہوش کے ناخن لینے پر مجبور کرکے جنگ لڑے بغیر میدان چھوڑنے پر مجبور کرکے کشمیریت کا مظاہرہ کیا پھر اسی چنگیز خان کی نسل "مغلوں" نے  ہندوستان میں مذہبی رواداری کا جھنڈا لہراتے ہوئے کشمیر میں مسلکی منافرت پھیلاکر کشمیری شیعہ مسلمانوں کا اس جرم میں کہ وہ کیوں امامت کو اصول دین میں سمجھتے ہیں خون بہاکر  کشمیر کی ملکی سالمیت کو داغدار کرکے  ایسے مرض میں مبتلا کرکے زمین گیر کرکے چھوڑ دیا جس کا علاج ابھی تک نہیں ہو پا رہا ہے، جو  بہشت برین کشمیر کو مسئلہ کشمیر بنانے کی اصلی جڑ ہے کہ کشمیریوں سے دین کے ساتھ ساتھ غیرت و جوانمردی بھی چھین لی گئی۔ اگرچہ اس میں اکابرین اہلسنت جیسے حضرت  یعقوب صرفی رحمت اللہ علیہ کا دانستہ یا نادانستہ عمل دخل رہا ہے اور  کشمیر ملک سے ملکیت میں تبدیل ہوگیا اور پھر جب سلطنت مغلیہ کمزور پڑ گئی افغانوں نے کشمیر کو اپنی ملکیت بنانے کی ٹھان لی مگر افسوس کا عالم کہ یہاں پر بھی اس کا میدان اہلسنت اکابرین جیسے خواجہ ظہیرد یدہ مری  نے فراہم کیا  اور دونوں حضرات کی مہربانیوں سے مغل دور اور افغان دور میں کشمیر شیعوں کے قتل گاہ میں تبدیل کیا گیا کہ جس میں سب بڑے سانحوں کی تعداد تاریخ میں دس شیعہ تاراج کے نام سے مشہور ہوئے جبکہ ان کی تعداد اس سے بھی بہت زیادہ ہے۔اور جب  افغان زوال کی دہلیز پر آ پہنچے تو  ایک اور نا عاقبت اندیش اہلسنت سیاستمدار وزیر فتح محمد خان نے 1824ء میں پنجاب کے مہاراجہ رنجیت سنگھ سے امداد  کی درخواست کرکے کشمیر پر فوج کشی کردی اور مہاراجہ کو آٹھ لاکھ روپیہ سالانہ خراج دینے کا وعدہ کیا جسے بعد میں پورا نہیں کیا جا سکا اور سکھوں  کوکشمیر پر اپنی ملکیت جتانے کا موقعہ فراہم ہوا اب کشمیر نہ شیعوں کی رہی نہ سنیوں کی اور 1820ء میں پنجاب کے  سکھ یہاں کے مسلمانوں کے حاکم بنے اور جب ان کا بھی زوال آ گیا  تو  سکھوں نے کشمیر کو انگریزوں کو بیچ کھایا وہ یوں کہ انگریزوں نے جب باپت مصارف جنگ سکھوں سے ایک کروڑ  روپیہ طلب کیا اور مہاراجہ دلیپ سنگھ کیلئے ایسا کرنے سے بہتر  ایک کروڑ روپیہ کے عوض صوبہ کشمیر و ہزارہ معہ علاقہ کوہستانی بطور دوام بنام کمپنی بہادر تفویض کردینا بہتر لگا  اور 10 مارچ 1846ء مطابق 10 ربیع الاول 1262ھ کو اس کا عہدنامہ لکھا گیا اور پانچ دن بعد انگریزوں نے اس پورے رقبے سے کشمیر کا سودا کرلیا اور 15مارچ 1846ء کو والی جموں راجہ گلاب سنگھ کوحکومت پنجاب کے رائج الوقت پچھتر لاکھ نانک شاہی سکوں کے عوض بیچ دیا نیز جموں کے والی کو مسلمانوں پر حکمرانی کرنے کیلئے مہاراجہ کا لقب بھی دیا گیا   جبکہ حقیقت میں انگریزوں نے  اسے اپنی ہی ملکیت ٹھہرایا اور اسے ایک مہرے کی طور پر زخیرہ کرکے بظاہر اس سے جان چھڑائی ، بقول کشمیری مورخین کے اسوقت انگریزوں کو روپیہ کی سخت ضرورت تھی اور اسطرح  دو غیر مسلمانوں نے غیر قانونی اورغیر اخلاقی معاملہ انجام دیا جو  "بیعنامہ امرتسر" سے مشہور ہوا اور اسے "شرعی قبالہ" کا نام دے کر شریعت کی بھر پور توہین کی ۔

مسئلہ کشمیر اور سیاسی بیداری کی تحریک کا آغاز

 انگریزوں نے  کشمیر کو "گلاب سنگ ڈوگرا" کو قبالے میں دے دیا اور کشمیری مسلمان علماء شیعہ سنی تعصب کے آگ میں جلتے رہے۔ہوش کے ناخن لینے میں تقریبا ایک صدی گذر گئی اور  قرآن اور اذان کی برکت سے 13 جولائی 1931 ء کو کشمیری مسلمانوں کی بیداری کی تحریک نے جنم لیا لیکن اس بیداری کو سماج سے الگ کرکے کتابخانوں کے پنوں میں قید کیا گیا جسے باہر نکالنے کیلئے ابھی تک کوئی عملی اقدام عمل میں نہیں آیا۔

جبکہ برطانیہ کے خلاف ہندوستانیوں کا انقلاب رنگلانے لگا اور ہندوستان برطانوی استعماری چنگل سے آزاد ہو ہی رہا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی حاکمیت کو ہمیشہ کیلئے مخدوش کرنے کیلئے ہندوستان کے مسلمانوں کو تقسیم کیا گیا اور پاکستان نامی ملک وجود میں لایا گیا جو کہ بظاہر اسلام کے نام سے وجود میں لایا گیا لیکن اس میں اسلام کا رنگ و مزاج کسی اعتبار سے دیکھنے کو نہیں ملتا اسی لئے بے گناہ  کشمیری عوام  کا خون نا حق بہایا گیا۔جبکہ اگر اسلامی ملک قائم کرنے کے دعوے میں ذرہ برابر اسلامی جذبہ کار فرما ہوتا تو  ہندوستان کے ہمسایہ ملک کشمیر کو  جہاں اکثریت بھی مسلمانوں کی اور قریب تین صدیوں تک  مسلمان ہی حاکم رہے ہیں اور ہندوستان کے زیر نگین آنے کی صورت میں بھی 1650ء میں لاہور سے کشمیر (پاکستان سے کشمیر)تک ایک حاکم حکمرانی کرتا تھا اسی مصداق کو زندہ کیا جاتا ۔یا شاہ ہمدان صاحب کی تحریک کو زندہ کیا جاتا کہ جب کشمیر نے ہندوستان پر چڑھائی کر دی تو میر سید علی ہمدانی رحمت اللہ علیہ نے ہی مصالحت کرائی جو عہدنامہ775ھ مطابق 1373ءمیں  لکھا گیا کہ سر ہند سے کشمیر تک کا تمام علاقہ کشمیری حاکم کے قبضہ تصرف میں رہے گا اور باقی ہندوستانی حاکم کے زیر حکومت تصور کیا جائے۔یعنی ہندوستان کو کشمیر کی سرحدوں اور کشمیر کو ہندوستانی سرحدوں کا احترام کرنا ایک دینی اور سیاسی مسئلے کے طور پر قبول کیا گیا تھا۔   اور اسطرح پاکستان بنانے کے بجائے حقیقی اسلامی ملک کی نشاط ثانی حاصل ہوتی اور کشمیریوں کے ساتھ انصاف اور  بر صغیر کے مسلمانوں کو اپنی میراث بحال و محفوظ کرنے کی فرصت فراہم کی جاتی  اور اسطرح نہ کسی قسم کی کدورت اور  نہ ہی نفرت کی فضا بر صغیر میں حاکم  ہونے پاتی،جس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کو وجود میں لانا برطانوی سامراج کی سازش(1832ء میں ڈاکٹر جاکمن کا کشمیر آنا اور اس سے پہلے 1823ء میں مور کرافٹ کا کشمیر میں مرازا حیدر کے مقبرے کی بازسازی کرکے کتیبہ نصب کرنا اور پھر 1846ء میں بیعنامہ امرتسر کا قبالہ شرعی کے عنوان کے تحت تاریخ رقم کرنا اور آخر 1880ء میں بسکو سکول تاسیس کرنا وغیرہ) کا ہی حصہ تھا نہ کہ اس میں اسلام کا جذبہ و عنصر کارفرما رہا  ہے۔موضوع کا ایک اور پہلو ایک اور حقیقت بیان کررہی ہے کہ پاکستان کے بدلے کشمیر اسلامی ملک قرار پانا اس لئے زیر بحث نہیں آیا کیونکہ کشمیر ہندوستان کے راجواڑوں میں شامل نہیں تھا کہ ہو نہ ہو اسے انڈین یونین میں شامل ہونا تھا یا پاکستان کے ساتھ جانا  تھا  ۔اور نہ ہی کشمیری عوام انگریزوں کے خلاف نبرد آزما تھے اور نہ ہی ہندوستان کی آزادی میں کسی طرح کے شریک تھے ۔لیکن تقسیم ہندوستان اور پاکستان کے ایجنڈے کی تکمیل کو کشمیر ہی قرار دیا جا رہا ہے!جبکہ "کشمیر مغل دور کا مسئلہ" ہے کہ جب آپ کی طرح ایک عالم دین سیاستداں نے غلط فیصلہ لیا اور مسلکی تعصب کے بنا پر اقوام و ملت کیلئے ذلت کا سامان فراہم کیا اور کشمیر ایک پرانی تہذیب ایک تاریخی ملک کے بدلے ایک تجارتی مال بن گیا۔ اسطرح ایک صاحب نے "مغلوں" کو بیچ دیا تو دوسرے نے "ابدالیوں" کو اور تیسرے نے" سکھوں" کو اور سکھوں نے "انگریزوں" کو انگریزوں نے "ڈوگروں" کو لیکن وقت آگیا اور  قرآن اور اذان کی برکت سے 13 جولائی 1931ء کو کشمیری مسلمانوں کی بیداری کی تحریک نے جنم لیا،جسے 1331 (13جولائی1931)کی تحریک کہنا بہتر ہوگا جو قرآن اور اذان کی برکت سے وجود میں آئی  اگلے سال1932ء میں "مسلم کانفرنس " تشکیل پائي لیکن اس تحریک میں  قرآن اور اذان کا رنگ پھیکا رہا اور سات سال بعد 1939ء میں اس کا نام تبدیل کرکے "نیشنل کانفرنس "رکھا گیا  اور جس ذاویے سے میں اس تبدیلی کو محسوس کرتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ "مسلم کانفرنس" کو "نیشنل کانفرنس"  میں تبدیل کرنا بظاہر دانشمندی بھی اور مسلمانی بھی تھی کیونکہ اس وقت مسلمانوں سے مذہبی رنگ چھن گیا تھا اور خلافت زوال پذیر ہوئی تھی اور ترکی میں "مصطفی کمال اتاکرک" کے ہاتھوں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کرکے نیشنلزم  اور سیکولرازم کی علم بلند ہوچکی تھی اور مسلم کانفرنس کے بانی کا ہیرو بھی یہی اتاترک صاحب تھے  اور ہندوستان کے تقسیم ہونے  سے انگریزوں نے 1823ء سے 1880ء کے جاسوسی مطالعہ کے پیش نظر کشمیر کارڈ بروی کار لایا  جس طرح  گلاب سنگھ کو کشمیر کا قبضہ دینے کیلئے رتبہ بھی بڑھاکر راجہ سے مہاراجہ کا لقب دیا  اور جب گلاب سنگھ کے مقابلے میں آخری افغان صوبیدار نے مزاحمت ظاہر کی تو انگریزوں نے گلاب سنگھ کیلئے  کرنیل لارنس صاحب ریذیڈنٹ اور لیفٹنٹ ایڈورڈ صاحب کمان افسر فوج  کشمیر روانہ کی اور پورے اطمینان خاطر کے ساتھ کشمیر کو ڈوگروں کی جھولی میں ڈالدیا اور اب اس کارڈ کو استعمال میں لانے کا وقت آن پہنچا تو پاکستانی مسلمانوں کو کشمیر پر حملہ کرنے کیلئے اکسایا گیا(جسے عام طور پر "قبائلی حملہ" کہتے ہیں اور میں اسے" دوسرا ذوالچو حملہ "کہتا ہوں) اور جموں کے ڈوگروں کو(وزیر فتح محمد خان کے 1824ء میں پنجاب کے مہاراجہ رنجیت سنگھ سے امداد  کی درخواست کی طرح) ہندوستان سے فوجی مدد  حاصل کرکے کشمیر کو  بظاہر پاکستانی حملوں سے بچانے کا مشورہ دیا اور ضرورت آنے پر  اس کارڈ کو ایک کے بدلے تین حصوں میں تقسیم  کردیا پہلے جتنا پاکستان کے ہاتھ میں آ گیا اس کو وہی پر روک دیا بیچ میں چین نے کشمیر کی سرزمین پر قبضہ کرلیا اس پر بھی پاکستان کو چب سادھ  لینے کا مشورہ دے کر پھر محفوظ کردیا  ۔اور ایسے ماحول کے پیش نظر مسلم کانفرنس کو   بھی بڑا فیصلہ لینے کا فیصلہ لینا تھا اور بڑا فیصلہ لیا گیا وہ یہ کہ مسلم کانفرنس کو نیشنل کانفرنس  میں تبدیل کیا گيا ۔ چونکہ بظاہر جمہوریت کا دور دورہ شروع ہوا تھا  اور کشمیر پر ہندوستان قابض ہوچکا تھا کشمیر کی حقیقت سے آنکھیں چرانے کا فیصلہ لیا جا چکا تھا اور اب کشمیر کو مال التجارہ کا معیار روپیہ پیسہ کے بجاے الحاق(پاکستان/ہندوستان) رکھا گیا ۔نیشنل کانفرنس کو بھی کوئی ایک سودا اختیار کرنا تھا تو اس نے الحاق ہندوستان کا سودا کردیا لیکن حضرات یعقوب صرفی  ، خواجہ ظہیرد یدہ مری اور وزیر فتح محمد خان سے بہتر سودا کیا  وہ اسلئے کہ  سودا اپنا کیا اپنے ملک کا نہیں ملک کشمیر کیلئے ہندوستان کے آئين میں دفعہ  370 عنوان سے کہ جس کی کو ثبت و ضبط کرکے 1331تحریک کی بھر پور حفاظت کی جس کیلئے نیشنل کانفرنس کے بانی کے نسبت کشمیری عوام کو ہمیشہ فخر کے ساتھ یاد کرنے کا حق بنتا ہے۔ کیونکہ  ہندوستان کے آئين دفعہ 370 میں ہندوستان زیر انتظام کشمیر کو دبے الفاظوں میں ایک خود مختار ملک تسلیم کیا ہے جو کہ مندرجہ ذیل نکات میں بخوبی بیان کیا گیا ہے:

  • ہندوستان زیر انتظام کشمیر(جموں و کشمیر) کے عوام کو دوہری(کشمیر اور ہندوستان) شہریت حاصل ہے ۔
  • (2)ہندوستان زیر انتظام کشمیر ( جموں و کشمیر) کےدو قومی  پرچم(ایک کشمیر کا اور دوسرا ہندوستان کا ) ہیں۔
  • ہندوستان زیر انتظام کشمیر ( جموں و کشمیر) میں ہندوستانی قومی پرچم لہرانے کیلئے ریاستی حکومت سے  پیشگی اجازت حاصل کرنا لازمی ہے نیز ہندوستانی قومی پرچم کے ساتھ ریاستی پرچم کا لہرایا جانا بھی ضروری ہے۔
  • ہندوستان زیر انتظام کشمیر ( جموں و کشمیر) میں آئین ساز اسمبلی کونسل کی مدت 6سال ہے جبکہ ہندوستان بھر میں یہ مدت صرف5سال مقرر ہے۔
  • ہندوستان زیر انتظام کشمیر ( جموں و کشمیر) میں ہندوستانی قومی علامتوں کی توہین قابل سماعت جرم نہیں ہے۔
  • (6)حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہندوستان زیر انتظام کشمیر ( جموں و کشمیر) میں ہندوستانی قومی پرچم کو نذر آتش کرنا بھی قابل سماعت جرم نہیں ہے۔
  • (7)حکومت ہندوستان زیر انتظام کشمیر ( جموں و کشمیر)کی رضا مندی کے بغیر حکومت ہند کسی بھی قانون کو نافذ کرنے کی مجاز نہیں۔
  • (8) حکومت ہند دفاعی،خارجی اور مواصلاتی شعبوں کے بغیر ہندوستان زیر انتظام کشمیر ( جموں و کشمیر) میں اپنی پالیساں نافذ نہیں کر سکتی۔
  • (9) سپریم کورٹ ہند کے احکامات کا ہندوستان زیر انتظام کشمیر ( جموں و کشمیر) میں اطلاق نہیں ہوتا ہے۔
  • (10)اگر کوئی خاتون ہندوستانی شہری سے شادی کرے تو وہ اپنے ہندوستان زیر انتظام کشمیر ( جموں و کشمیر) کے جملہ شہری حقوق سےمحروم ہو جاتی ہے لیکن اگر کوئی خاتون پاکستانی شہری سے شادی کرے تو وہ ہندوستان زیر انتظام کشمیر ( جموں و کشمیر)کی شہریت سے محروم نہیں ہو جاتی ہے۔
  • (11) ہندوستانی حق اطلاعات اور سی اے جی(CAG) کا ہندوستان زیر انتظام کشمیر ( جموں و کشمیر) میں نافذ العمل نہیں ہے۔
  • (12) ہندوستان زیر انتظام کشمیر ( جموں و کشمیر) کی خواتین شرعی قانون کے دائرے اختیار میں آتی ہیں۔
  • (13) ہندوستان زیر انتظام کشمیر ( جموں و کشمیر) میں ہندوستانی پنچایت راج کا نفاذ نہیں۔
  • (14)ہندوستانی باشندے ہندوستان زیر انتظام کشمیر ( جموں و کشمیر)  میں نہ ہی ووٹ ڈال سکتے ہیں اور نہ ہی حق مالکیت پیدا کرسکتے ہیں ۔
  • (15) ہندوستان زیر انتظام کشمیر ( جموں و کشمیر) کے باشندے ہندوستان کے شہری ہیں جبکہ ہندوستان کا کوئی باشندہ ہندوستان زیر انتظام کشمیر ( جموں و کشمیر)کا شہری نہیں بن سکتا۔
  • (16) پاکستانی شہری اگر ہندوستان زیر انتظام کشمیر ( جموں و کشمیر)کی لڑکی سے شادی کرے تو ہندوستان کی شہریت کا حقدار بن سکتا ہے۔

مذکورہ قانونی فتح کے ساتھ نیشنل کانفرنس نے 1947 ء میں الحاق ہندوستان کی حامی بھر لی۔لیکن مسلم کانفرنس کے  دوسرے بانی شریک نے اسے سازش قرار دے کر نیشنل کانفرنس سے علیحدگی کا اعلان کرکے اپنی سابقہ جماعت مسلم کانفرنس  کو زندہ کرکے 1947ء میں الحاق پاکستان کی حامی بھر لی۔اسطرح ہندوستان زیر انتظام کشمیر میں مسلم کانفرنس نے نیشنل کانفرنس کے نام سے حکومت سنبھال لی اور پاکستان زیر انتظام کشمیر میں مسلم کانفرنس کے نام سے حکومت سنبھال لی۔

اسطرح 1331 تحریک جو آمریت اور ظالمانہ غاصبیت کے خلاف خالص سنجیدہ مقدس کشمیری عوامی تحریک تھی  پاکستان نوازمسلم کانفرنس اور ہندوستان نواز نیشنل کانفرنس کے قیام کے عنوان سے دفنائی گئی اور ایسا حادثاتی طور پر نہیں ہوا بلکہ شواہد و قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ جنہوں نے بظاہر کشمیر کا سودا 75لاکھ نانک شاہی سکوں میں کیا اور اپنی مشنریاں یہاں پر قائم کی انہوں نے اپنا کردا رادا کرکے ایسا میدان فراہم کیا جس سے   اب کشمیر کی نئی تاریخ رقم ہونی شروع ہوگئی جس میں پانچ ہزار سالہ قدیم تہذیب  رکھنے والے ملک  کہ ایک  زمانے میں جس کی وسعت ترکستان سے ملتان تک پھیلی ہوئی تھی اور اس کے علاوہ جس نے ہندوستان ، کابل ، قندھار، تبت، ترکستان اور چین کے بادشاہوں کو اپنا  باجگذار بنایا تھا  اب پوری طرح سکڑ کر رکھ دیا گیا اور ہندوستان اور اس سے جدا ہوئے ایک حصے پاکستان کا باجگذار بنایا گیا۔

ہندوستان کے انقلاب  اور قیام پاکستان نے ایک نئی تحریک کو جنم دیا اور پاکستان میں  1941ءمیں جماعت اسلامی نامی  اسلامی تحریک وجود میں آئي اور خود پاکستا ن میں 1957 میں جس کا دستور العمل نافذ العمل ہوا لیکن الحمدللہ ہندوستان زیر انتظام کشمیر کے علماء اس کام میں پیشقدم نظر آئے اوریہاں 1953ء میں ہی جماعت اسلامی نامی جماعت کو وجود میں لایا گیا اور اس کا دستور العمل بھی اسی سال نافذ العمل ہوا جو بظاہر جماعت اسلامی پاکستان سے صرف الہام حاصل کرچکی تھی باقی وہ یہاں کی خود جوش تحریک تھی جس نے ہندوستان اور پاکستان سے بھی آگے قدم بڑھاکر کشمیرکو اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت حل کرنے کا مطالبہ کیا لیکن ساتھ ہی الحاق پاکستان کی حامی بھر لی جو کہ ایک تاریخی غلطی تھی کیونکہ بظاہر نہ ہی اقوام متحدہ کی قراردادوں کو سمجھنے کی کوشش کی تھی نہ ہی اقوام متحدہ کی طرف سے 9 ممالک کے 39 نمایندوں کی طرف توجہ تھی جو  1949ء سے کشمیر کے دونوں حصوں میں موجود ہے اور نہ ہی کشمیر کی اپنی اصالت کو ملحوظ نظر رکھا بلکہ غیر شعوری طور وہی ماضی کے کوتاہ اندیش بزرگوں کی سیرت کو ملحوظ نظر رکھا جنہوں نے اپنی کوتاہ نظری سے کشمیر کو دوسروں کی جھولی میں ڈالدیا اور کشمیر مال التجارہ بن کر رہ گیا، لیکن میدانی طور اس کے برعکس اپنے موقف کو جمہوری اصولوں کے تحت ثابت کرنے کیلئے 1972ء میں اسمبلی الیکشن میں حصہ لیا اور پانچ سیٹیں حاصل کی اور اگلے دور 1977ء میں صرف ایک سیٹ حاصل کی۔اور یہاں پر بعض قرائن کے مطابق جماعت اسلامی کشمیر نے اپنے سیاسی تجربے کے پیش نظر تحریک میں وسعت لانے کو محسوس کیا اور ایک متحدہ محاذ کی ضرورت محسوس ہوئی اور جماعت اسلامی کے بزرگوں کی کاوشوں سے مسلم متحدہ محاذ(مسلم یونائيٹڈ فرنٹ)1987ء میں وجود میں آیا اور الیکشن میں حصہ لیا  اور43سیٹوں پر اپنے نمایندے کھڑے کئے اور 20 سیٹوں پر نمایاں برتری عیاں تھی اور کشمیر کا چپہ چپہ متحدہ محاذ کا ترجمان نظر آنے لگا لیکن جب ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی تو صرف چار اسمبلی سیٹیوں پر محاذ کی برتری بتائی گئی اور انقلاب برپا ہو گیا ۔اور یہ  دور کشمیر کی سیاست میں نقطہ عطف قرار پانا چاہئے کہ جو 1331 تحریک کو  قبر سے نکال سکتا ہے،نہیں تو اسےکھرنڈر میں تبدیل کرنے کے مترادف ثابت ہوگا اگر نہ اس تاریخی نکتے کی طرف واپس نہ لوٹا جائے۔ کیوں؟

کیونکہ 1987ءکے الیکشن کے بارے میں جو کچھ بھی بتایا جا رہا ہے وہ سکے کا  نیم رخ ہے جبکہ حقیقت حال کچھ اور ہے ۔یہ کہا یا بتایا جا رہا ہے کہ اسی وجہ سے کشمیر میں عسکری تحریک  وجود میں آئي حقیقت سے بعید ہے۔اگر کشمیر میں متحدہ محاذ اسمبلی میں اکثریت بھی حاصل کرتی پھر بھی کشمیر میں عسکریت کا دور دورہ کسی نہ کسی شکل میں شروع ہوجاتا۔کیوں؟

کیونکہ  اب خطے میں کھلاڑی بدل گیا تھا اب برطانیہ نہیں بلکہ امریکہ میدان میں آیا تھا جو سویت یونین کی سپرمیسی کو ختم کرنے کیلئے مسلمانوں کو استعمال میں لانے کا منصوبہ بروی کار لاچکا تھا۔جو لوگ ضیاءالحق مرحوم پر الزام لگاتے ہیں کہ اس نے عسکری دور شروع کیا شاید اس کی روح کو بھی خبر نہیں ہوگی کہ وہ کوئی اسلامی تحریک نہیں بلکہ  نادانستہ امریکی ایجنڈے  کو پورا کررہا ہے۔شاید اس بات سے بے خبر کہ خلافت عثمانیہ ختم کرکے  مصطفی کمال اتاترک کو برسر اقتدار میں لاکر عرب دنیا میں جمال عبدالناصر کی سیاسی-اجتماعی تفکرات سے ماخوذ آئيڈیولوجی(ناصرازم) کا مقابلہ کرنے کیلئے 1960ء میں امریکہ نے  جوسعودی انتہا پسندوں کو وجود میں لاکر انکی بھر پور حمایت کرنے سے اسکے مطلوب مقاصد حاصل ہوگئے تو امریکہ نے اسی نسخے کو سویت یونین کے خلاف استعمال میں لانے کا تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا  اور 1980ء کی دہائی میں ریاض نے واشنگٹن کے تعاون سے انتہا پسندی کو سویت یونین کے خلاف استعمال میں لاکر نئے دور کا آغاز کیا  اور 1989ء میں افغانستان سویت یونین کے چنگل سے آزاد ہو گیا اور اب یہاں کے انتہاپسند عسکریت پسندوں کے لئے نئے محاذ کھولنے کیلئے میدان تلاشنے کی کوشش کی گئی جس سے پاکستان میں عسکری سرگرمی شروع ہوئی جس کا بانی مرحوم ضیاء الحق قرار پا گیا۔مسلم کانفرنس سے نیشنل کانفرنس کا وجود میں آنے اوران دو سیاسی جماعتوں کے بعد ایک اور جماعت جماعت اسلامی کے وجود میں آنے کے بعد کشمیر میں ایک اور سیاسی جماعت کے وجود میں آنے کےبجاے اب برلنگم  برطانیہ میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نامی جماعت کا وجود میں آنا اور پھر 1988ء میں اس کا  پاکستان میں سرگرم ہوکر عسکری کاروائی میں پیشقدم ہونا بجائے خود ایک سوال ہے    اور دیکھتے ہی دیکھتے عسکری تنظیموں کی لمبی فہرست تیار ہوگئی۔اور اب اس کشمیر کی عسکریت فضا میں ایک اور باب سرگرم کرنے کیلئے ہندوستان اور پاکستان میں سفارتکاری کی خدمات انجام دینے والے سابقہ امریکی سفیرروبرٹ آوکلے نے امریکی تھنک ٹیک ادارے "یوایس آئی پی" میں ایک نسخہ تیار کیا جو آخر کار 1993ء میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے نام سے مورد وجود میں آگئی۔جو تمام تر نقائص اور سازشی عوامل کے بدولت وجود میں آنے کا باوجود" متحدہ محاذ"سے زیادہ معیاری اور منظم محاذ اور کشمیر کی عوامی تحریک کو صحیح سمت لینے کیلئے مناسب قدم تھا جس کی قیادت  میرے نزدیک یا مرحوم آیت اللہ آغا سید مصطفی موسوی صدر انجمن شرعی شیعیان کو مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے نقشہ رکھنے کے پیش نظر جو انہوں نے سال 1990 ء میں ہفت روزہ نگہبان سرینگر کو دیے گئے انٹرویو میں بیان کیا تھا یا سیاسی تجربے اور سابقہ جدوجہد  کے پیش نظر آپ کو سنبھالنی تھی جو آپ نے نہیں سنبھالی یا آپ کو سنبھالنے نہیں دی گئی۔ یا شبیر احمد شاہ کوعلیحدگی پسندگی کےپیش نظر مسلسل زندانوں کی سلاخوں کے پیچھے گذارنے کے پیش نظر سنبھالنی چاہئے تھی۔بہرحال آپ نے جذباتی سیاست کے پیش نظر کمسن جوان کی قیادت قبول کی لیکن جب وہ کم سن جوان با تجربہ مرد میدان بن گیااس کی قیادت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور اس محاذ کو توڑ پھوڑ دیا اور اب اسی کے شانہ بہ شانہ کھڑے نظر آتے ہیں۔

شکوہ شکایت

اس مقدمے کے ساتھ کشمیر کی تاریخی ،تہذیبی ،  مذہبی اور سیاسی پس منظر کا ایک خاکہ پیش کرنے کا مقصدمندرجہ ذیل کشمیر کے تاریخی، تہذیبی، مذہبی اور سیاسی استحکام کیلئے بعض نکات مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

(1)۔پہلی بات یہ کہ ہر وہ عمل جو اللہ کی رضایت کی نیت سے انجام دی جائے وہ عمل لافانی عمل ہے جس کا ثمرہ انسان دنیا اور آخرت میں حاصل کرنے کا مستحق قرار پاتا ہے ۔ مَا عِنْدَكُمْ ينْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاق (النحل/96) ۔

(2)۔ ہم میں ہر کسی کو اپنے اپنے اعمال کا حساب خود ہی دینا ہے ۔ ارشاد ہوگا:"اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيوْمَ عَلَيكَ حَسِيبًا"(الإسراء/14)۔اسی لئے نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے :"حاسِبُوا اَنْفُسَکُم قبلَ اَن تُحاسَبُوا"اور جب بزرگوں سے لغزش سرزد ہوگی وہ بڑی لغزش ہے" زَلَّة الکبیر، زلَّةٌ کبیرة

اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تھوڑا اپنا محاسبہ کریں کہ ہم نے کیا کیا اور کس کے لئے کیا !ہم نے کیا پایا اور کس کے لئے پایا!۔

مسئلہ کشمیر بین الاقوامی سازشوں یا اپنی غفلت کا شکار

اس بات کو مان کے چلنا پڑے گا کہ کشمیری قیادت دانستہ یا نادانستہ طور پر بین الاقوامی سازش کا شکار رہی ہے اور عسکریت پسندی کو تحریک آزادی کشمیر میں شامل کرنا انتہاہی  غلط فیصلہ تھا اور آزادی حاصل کرنے کیلئے صرف جماعت اسلامی کا موقف تھوڑی اصلاح(جماعت اسلامی کو صرف ایک مخصوص مسلک اور افراد تک محدود رکھنا ) کے ساتھ موزون اور منصفانہ تھا ۔جبکہ کشمیر کی تمام تر سیاسی جماعتیں چاہے وہ پاکستان نواز ہوں یا ہندوستان نواز سب کے پاس مسئلہ کشمیر کی طرف متوجہ کرانے کا موقف موجود ہے لیکن سیاسی سوجھ بوجھ اور نقش راہ کے پیش نظر جماعت اسلامی  کے پاس دوسری سیاسی  جماعتوں کے بنسبت  کہنے کو بہت کچھ ہے بشرطیکہ وہ اس میں اسلامی رنگ کی تعریف واضح کریں کہ اسلام صرف کسی ایک مسلک و مذہب کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اسلام ہر انسان کا بنیادی دین ہے چاہے بظاہر اسے قبول کرے یا نہ کرے کیونکہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ نے تمام انسانوں کے لئے بھیجا ہے ۔اسلئے آزادی کی جنگ عسکریت سے نہیں بلکہ سیاست ،درایت اور جمہوری قواعد کے ساتھ لڑنی جانی چاہئے،چونکہ عسکری تحریک نے قبائلی حملے کی طرح ایک بار پھر کشمیر کی منزل  کو بہت  دور کر دیا ہے اور تحریک آزادی کشمیر کیلئے "مسلم کانفرنس" وجود میں آئي تھی وہ "نیشنل کانفرنس" بن گئی اور بظاہر اعلان کیا گیا کہ اسلام میں غیر مسلمانوں کیلئے کوئي جگہ نہیں اسلئے قومیت کو اسلام پر فوقیت دے کر کامیابی کے جھنڈے گھاڑے گئے لیکن ساتھ ہی جماعت اسلامی وجود میں آئي جس نے مسلم کانفرنس اور نیشنل کانفرنس سے بہتر  طریقہ کار رکھنے کا دعوی کیا لیکن چونکہ مسلم کانفرنس اور نیشنل کانفرنس کی طرح الحاق کو تسلیم کیا ان سے بہتر ثابت نہ ہو سکی ۔ اسلئے اب ہمت،صبرو حوصلے کے ساتھ اسکی اصلاح کے ساتھ ساتھ سب کو ساتھ چلنے کا طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا جس طرح مرحوم آیت اللہ آغا سید مصطفی موسوی صاحب نے راہ حل پیش کیا تھا جسے ہر طرح سے ٹھکرایا گیا اور 1990ء کے اس انٹرویو کے بعد کبھی ان سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کوئي انٹرویو نہیں لیا گیا یا رائے مشورہ نہیں لیا گیا ، البتہ آپ  ایک دن ان  سے ملنے آئے اور  شکایت کی کہ آپ کیوں ایک بیٹے کو حریت میں نمایندگی کرنے اور دوسرے بیٹے کو الیکشن لڑنے پر رضامند ہیں تو انہوں نے دونوں محاذوں کو لازم و ملزوم قرار دیا جو آپ کو پسند نہیں آیا۔آپ کی یاد تازہ کرنے کیلئے یہاں پر میں اس انٹرویو کو نقل کررہا ہوں تاکہ آپ کے لئے مزید تصویر صاف ہو جائے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سال 1990 ء میں ہفت روزہ نگہبان سرینگر کے مدیر مسؤل ڈاکٹر عبدالرحمن وار صاحب کا صدر انجمن شرعی  شیعیان کشمیر ابو شہیدین مرحوم آیت اللہ آغا سید مصطفی موسوی طاب ثراہ کے ساتھ تاریخی مکالمہ

سوال: محترم آغا صاحب چنانچہ آپ مسلمانوں کے ایک طبقے کی سربراہی کررہے ہیں ہم آپ کی خدمت میں چند علمی سوالات کا استفادہ کرنا چاہتے ہیں؟

جواب:بسم اللہ کیجئے بڑی اچھی بات ہے کہ آپ نے علماء کی طرف رجوع کیا۔

سوال : مولانا محترم آپ سے جاننا چاہتے ہیں کہ امت کا علماء اور علماء کا امت کا ساتھ کیا رشتہ ہے ؟

جواب:رشتہ اسلام، اسکے سوا اور کوئي رشتہ نہیں ہے۔

سوال: مگر کیا علماء اور امت کو ایکدوسرے کے ساتھ جڑا ہوا ہونا چاہئے؟

جواب: امت اور عالم کا رشتہ احیائے اسلام کے لئے ناگزیر ہے۔

سوال: لیکن عالم اور عام انسان کے درمیان ایک خلیج سی کیوں پیدا ہوگئی ہے؟

جواب: یہ در اصل سامراجی قوتوں کی ایک سازش ہے۔

سوال: اچھا امت بھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ خود گروہوں میں بٹی ہوئی ہے اس کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں؟

جواب: یہ آج ہی نہیں بلکہ حضور پاک(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی رحلت کے بعد سے ہی شروع ہوگئی تھی ، اور ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کی امتوں کے ساتھ یہی کچھ پیش آیا ہے اور اس کے پیچھے ہمیشہ سامراجی قوتیں کارفرما رہی ہیں۔ ان کی سازشوں سے امت کو ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہئے ۔ آپ بیت المقدس کی ہی مثال لیجئے یہ بھی سازش اور ہماری غفلت کے نتیجہ میں ہمارے ہاتھوں سے چھین چکا ہے اسوقت بھی ہم متحد نہ ہوسکے، اور اب سامراجی طاقتیں سعودی عرب کے پیچھے پڑ گئی ہیں اور ہمارا کعبہ صہیونیت کے شکنجے میں جا رہا ہے ۔

سوال:اس صورتحال کا کیسے تدارک کیا جاسکتا ہے؟

جواب: یہ تو آپ نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ ایسی ہر صورتحال کا تدارک کرنے کے لئے چوکنا رہیں۔

سوال : یہ ذمہ داری در اصل علمائے اسلام کی ہے لیکن وہ بدقسمتی سے بٹے ہوئے ہیں ان میں نہ تو وحدت فکر اور نہی ہی وحدت عمل موجود ہے؟ بہرحال مولانا کیا آپ یہ بتانا چاہیں گے کہ امت میں اتنے سارے مکاتب فکر کیوں وجود میں آئے ہیں؟

جواب: دیکھئے اختلاف در اصل تعبیر میں ہیں اصول میں نہیں، حنفی، شافعی، حنبلی اور جعفری مسلک در اصل ایک ہی اسلام کی مختلف تعبیریں ہیں، بنیاد تو مشترک ہے۔ کعبہ ، قرآن، پیغمبر یہ تو ہم سب کی قدر مشترک ہیں ، جنکے تحفظ کے لئے ہم سب صغیر وکبیر کو ایک ہونا چاہئے۔

سوال: مگر ایک ہوں تو کس کے ہاتھ پر ایک ہوں؟

جواب:اس لئے تو ہم ولایت فقیہ کی امامت پر زور دیتے ہیں جس پر کہ حضرت امام (آیت اللہ خمینی روح اللہ خمینی)، مولانا مودودی ، سید جمال الدین افغانی اور دوسرے ائمہ کا بھی اتفاق ہے یعنی ایک دینی اور روحانی پیشوا کے ہاتھ پر۔

سوال:باریش لیڈر شپ اور بے ریش لیڈر شپ دونوں میں امت کے لئے کونسی قیادت فائدہ مند ہے یہ تو باعث نزاع بنی ہوئی ہے۔ آپ گویا باریش قیادت کی وکالت کررہے ہیں؟

جواب:خدائے بزرگ نے یہ فیصلہ قرآن پاک کی آیت " إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ"سے طے کر دیا ہے،لہذا با ریش قیادت ہی امت کے مفاد میں ہے اور یہی ایک قیادت نظریاتی انقلاب لا سکتی ہے اس ضمن میں ایرانی علماء اور ائمہ کی مثال آپ کے سامنے ہے۔

سوال: کشمیر کی موجودہ مسلح تحریک کو کیا آپ کی نظر میں جہاد کہہ سکتے ہیں؟

جواب: ہم اسے دفاع کہہ سکتے ہیں جہاد نہیں۔ جہاد کی بہت سی قسمیں ہیں، جہاد بالنفس کو جہاد اکبر سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے اور آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جہاد کو ترجیح دی ہے،اس کے بعد جہاد اصغر  جہاد بالسیف کا نمبر آتا ہے۔ کشمیر میں ہر طرف تشدد اپنی انتہاکوچھو رہا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق پامال ہوگئے ہیں ، کوئی بھی گھر ایسا نہیں جو ظلم کی چکی میں نہ پسا ہو اس لئےاس کا دفاع شرعی رو سے واجب اور تو اور اب علماء کا قتل ہو رہا ہے ۔ مولانا فاروق شہید کردے گئے ہیں۔

سوال:آغا صاحب بعض سیاسی لیڈر جنہوں نے اپنی گذشتہ زندگی میں بقول جنگوؤں کے تحریک سے غداری کی ہے  کیا وہ تحریک کا حصہ بن سکتے ہیں؟

جواب: باب العلم اور باب التوبہ کھلا ہے۔

سوال:مولانا یہ آپ جس لہجے میں بول رہے ہیں لگتا ہے آپ نظام مصطفی کے قائل ہیں؟

جواب: نظام مصطفی کے لئے ایک قوت کی ضرورت ہے اور اس کے لئے امت کو اندرونی اور بیرونی لحاظ سے مضبوط کیا جانا چاہئے اور ملت کی اندر کی صفوں کو استوار کرنا پڑتا ہے۔

سوال: جماعت اسلامی کے ساتھ آپ کے اختلافات کس طرح کے ہیں؟

جواب: جماعت کے دو دھڑے ہوگئے ہیں۔

سوال: مثلا؟

جواب : ایک دھڑا الیکشن لڑنے کا قائل ہے اور دوسرا اسے ناجائز سمجھتا تھا۔

سوال: کیا اسلام اور سیاست آپ کی نظر میں دو چیزیں ہیں؟

جواب: اسلام میرے نزدیک ایک سیاست ہی ہے۔

سوال: اگر ریاست میں موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں اتحاد قائم کیا گيا تو آپ کا رد عمل کیا ہوگا ۔

جواب: ہم دل و جان سے اسکی تائيد کریں گے۔

سوال: محرم کا جلوس نکلتا تو پوری امت اتحاد کا کیا مظاہرہ کر سکتی تھی؟

جواب: جی ہاں ؛ اس کا قریبی امکان تھا لیکن اسے نکلنے نہیں دیا گیا کرفیو کی وجہ سے۔

سوال: غیرمسلموں کے حقوق کا کیا ہوگا؟

جواب:ان کے حقوق اسلام میں محفوظ ہیں۔ ذمیوں کے حقوق اسلام میں تلف نہیں ہوتے۔

سوال:برقعہ آپ قوم کی بہنوں کے لئے کون سا مناسب سمجھتے ہیں؟

جواب:ہر ملک میں پردے کا اپنا اپنا رواج ہے ہمارے ہاں اس کا اپنا رواج ہے ۔ ایرانی برقعہ نماز میں رعاعت کرنے کے مطابق پردہ ہے اور یہی پردہ کافی ہے اسلئے قوم کی بیٹیوں کے لئے وہی برقعہ مناسب ہے  جو نماز کے پردے کی طرح ہو۔

سوال: یعنی ایرانی برقعہ؟

جواب: جی ہاں؛ لیکن منہ بند ہو اور صرف آنکھیں کھلی رہیں۔

سوال: خلیج فارس کی صورت حال ہمارے لئے کافی تکلیف دہ ہے آپ بتا سکتے ہیں ہمارا دشمن کو ہے اور دوست کون ہے؟

جواب: امریکہ شیطان بزرگ مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن ہے وہی سعودی عرب کو اسلام دشمن سیاست کیلئے اکاساتا ہے۔.......(یہاں متن کٹ گئي ہے)

سوال: قوم کے نام آپ کوئی پیغام دینا چاہتے ہیں؟

جواب: آزادی۔ وحدت قوم و ملت سیما الکشمیر جدوجہد جاری رکھیں۔ الحمدللہ۔

مسئلہ کشمیر کیلئے آیت اللہ آغا سید مصطفی موسوی کا دیا گیا  یہ نقش راہ چونکہ اسلامی اور کشمیری ہے ، کوئی امریکی یا برطانوی نسخہ نہیں ہے  اسلئے اس سے اندیکھی کی گئی نیز اسلئے کہ یہ نقش راہ شیعہ نے دیا ہے ۔اور کشمیر میں شیعہ فوبیا اسقدر گہرا ہے کہ شاید دنیا بھر میں جس کی نظیر نہ  ہو ۔بے نظیر اسلئے کہ یہاں بظاہرسنی کیلئے شیعہ بھائی ہے لیکن اندر ہی اندر وہ اسے اپنا  سب سے بڑا دشمن سمجھتا ہے۔جبکہ دوسری جگہ ایسا نہیں ہے شیعہ کے بارے میں جو نظریہ دل میں ہے وہی زبان پر ہے ۔اس میں کشمیری اہلسنت کا کوئی قصور نہیں ہے انہیں مغل دور سے اسی تربیت میں پروان چڑھایا گیا ہے اور تمامتر درسی، مذہبی، سماجی،تاریخی کتابیں اس کینسر کے پھوڑے کو پالنے کے لئے اپنا خاموش کردار نبھاتے ہیں  اور یہ کشمیر پر تہذیبی جارحیت کا  ایک اور پہلو ہے جس کے خلاف میں نے جہاد کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام ہوا۔

تہذیبی ثقافتی اور سیاسی جارحیت کے خلاف جہاد

تہذیبی ثقافتی جہاد:

اگر یہاں شیعہ سنی اتحاد عملی شکل اختیار کرے گا تو 90 فیصد سے زائد مسائل خودبخود حل ہوں جائيں گے۔لیکن یہ بہت ہی دشوار مسئلہ ہے مگر یہ کہ آپ جیسے حضرات پہل کریں جو کہ آپ نہیں کرتے گفتار سے کچھ ہے اور رفتار کچھ اور۔ میں نے مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ میں حائل تہذیبی ثقافتی جارحیت (مذہبی منافرت)کو سمجھتے ہوئے اس کے خلاف جہاد کرنے کی ٹھان لی اور پہلے مرحلے میں شیعہ سنی اختلافات کو ختم کرنے کی کوشش کی لیکن سنیوں سے زیادہ شیعوں نے میری کوشش کو ناکام بنادیا اور مجھ پر طرح طرح کے الزامات لگائے۔جبکہ بہت سارے سنی حضرات بھی ناخوش تھے۔کیونکہ یہاں  ہم سب میں برداشت کا مادہ کم ہے ۔ میں کسی اور کی غیبت کئے بغیر آپ کی مثال دوں گا کہ آپ نے مجھ سے ایک دن پوچھا کہ میں نے مشرک نام کیوں رکھا ہے۔یعنی آپ نے میرے نام(عبدالحسین) سے مجھ پر تکفیر کا فتوی صادر کردیا جبکہ پہلے آپ نے مجھ سے پوچھ لینا چاہئے تھا کہ نام سے معنی و مراد کیا ہے وغیرہ پھر جہاں پر شرک نظر آتا وہاں شرک کی نشاندہی کرتے لیکن ایسا نہیں کیا  ، کیونکہ تکفیری سوچ کا کوئی اور طریقہ نہیں اگرچہ آپ خود کو تکفیریوں سے بیزار ثابت کرتے ہیں لیکن کبھی اندر کی بات زبان پر آ ہی جاتی ہے جس طرح داعش کے 7جون  تہران حملے کو  آپ نے دبے الفاظوں میں جایز ٹہراکر کیا ،جبکہ آپ کو اسلامی شیعہ سنی اختلاف کو بالعموم اور کشمیری شیعہ سنی اختلاف کو بالخصوص سمجھنا چاہئے، جسے مرحوم شیخ عبداللہ نے سمجھاتھا اورکامیاب رہا ۔

کشمیر میں شیعہ سنی اختلاف صدر اسلام کے اختلاف سے مربوط نہیں ہے بلکہ یہاں ہندوستان اور کشمیر کی سیاست پر اختلاف حاکم ہے۔وہ یوں کہ کشمیر کو تسخیر کرنے کی آرزو ہر ایک مقتدر پادشاہ نے کی ہے لیکن کسی ایک کی آرزو پوری نہیں ہوئی یہاں تک کہ مغل حکمرانوں نے مسلکی اختلاف کو ڈھال بناکر ہندوستان میں کشمیر میں شیعہ حاکم کے سنی سفیر جناب یعقوب صرفی کو جال میں پھنسا دیا اور کشمیر کی تاریخ  و تہذیب مسخ ہونی شروع ہوئی اور کشمیر کیلئے منحوس تاریخ رقم ہو گئی جو اب تک جاری و ساری ہے۔اگر ابھی تک کشمیر کی تاریخ اور تہذیب کا نام و نشان موجود ہے وہ شیعوں کے سیاسی تعصب کی وجہ سے ہے کہ انہوں نے جناب یعقوب صرفی کی دانستہ یا نادانستہ غلطی کو فراموش نہیں کیا مگر اس خیانت سے بڑکر یہاں کے اہلسنت مورخین نے دانستہ یا نادانستہ طور پر خیانت کا سلسلہ جاری و ساری رکھتے ہوئے  اس اختلاف سے توجہ ہٹانے کیلئےاس شیعہ سنی  اختلاف کو  خلافت و امامت کے حوالے سے شیعہ سنی کے درمیان فقہی اختلاف پر مصالحہ مرچی لگاکرتکفیری رنگ دیتے رہے اور  آئے دن شیعوں پر صحابہ کبار کی توہین کا الزام لگتا گیا اور شیعہ کشی کا بازار گرم رہا۔حقیقت سے بے خبر کہ یہاں شیعوں نے ہی اہلسنت فقہ کو رونق  اور رواج بخشا ہے ۔امیر سید عبدالرحمن موسوی بلبل شاہ قلندر رحمت اللہ علیہ شیعہ تھے لیکن سنی مسلک کو رواج بخشا ۔ امیر سید علی حسینی ہمدانی رحمت اللہ علیہ شیعہ تھے لیکن سنی مسلک کو رواج بخشا۔امیر سید محمد شمس الدین موسوی عراقی رحمت اللہ علیہ شیعہ تھے لیکن سنی مسلک کو رواج بخشا یہاں تک  کہ بابا علی نجار نے جعفری مسلک اختیار کیا اور میرشمس الدین عراقی/اراکی رحمت اللہ علیہ نے جب مکتب اہل بیت رسول اللہ کیلئے شرایط فراہم دیکھے تو انہوں نے تشیع کو رواج بخشا ۔اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چھٹے وصی حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی سیرت کے عین مطابق ہے ۔

امام جعفرصادق علیہ السلام کے تقریبا چار ہزار شاگرد تھے جن کی اکثریت قاطع اہل سنت کی تھی امام جعفر صادق علیہ السلام چاہتے تھے کہ سنی بھی ان کی شاگردی اختیار کریں ،یعنی آپ اپنی کلاس میں ایسی بحثیں پیش کیا کرتے تھے کہ سنی شاگرد آپ کی کلاس میں آتے تھے ایسا نہیں ہوا کہ کوئی شاگرد آپ کی کلاس میں ایک دن آیا ہو لیکن دوسرے دن نہ آیا ہو ۔ ان سنی شاگردوں نے کئی سال امام جعفر صادق علیہ السلام کی شاگردی اختیار کی۔حالانکہ اگر امام جعفر صادق علیہ السلام تفرقہ انگیز بحثیں چھیڑتے تو ان کے چار ہزار شاگرد اہل سنت میں سے نہیں ہو سکتے تھے ۔ بزرگ شیعہ علماء کی سیرت بھی یہی تھی۔وہ اہل سنت کی فقہ بھی پڑھاتے تھے ۔

یہی وجہ ہے کہ یہاں کے اہلسنت اہلبیت رسول اللہ علیہم صلوات اللہ کو شیعوں سے کم احترام نہیں کرتے اور ایسے مسلمانوں کو "متشیع" کہا جاتا ہے۔یعنی وہ غیر شیعہ جو شیعہ عقیدہ نہیں رکھتے،شیعہ نہیں کہلاتے لیکن اہلبیت رسول اللہ علیہم صلوات اللہ کے بارہ اماموں کے نسبت آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے زیادہ احترام کرتے ہیں"متشیع"کہلاتے ہیں۔اسطرح اگر کہا جائے کشمیر  کے مسلمان یا شیعہ ہیں یا متشیع تو مغالطہ نہ ہوگا۔

مغلوں کی طرف سے حیدر علی کاشغری کے ذریعہ یہاں شیعہ سنی منافرت پیدا کی گئی اور یہاں  ظالم ،جابر،شرابی اور بدکردار چنگیزی  مغلوں اور ابدالی بادشاہوں کے نام کا خطبہ پڑھنا جائز تو ٹھہرا لیکن بارہ اماموں کا نام  خطبے میں بیان ہونے پر شیعہ کشی ہوتی رہی،کیوں؟ کیونکہ یہاں کے شیعہ سنی اختلاف میں صدر اسلام کے اختلاف یا پانچ اسلامی مسلکوں کے فقہی علمی اختلاف کا عمل دخل نہیں تھا بلکہ مغلوں کی سیاسی شعبدہ کاری کا کرتب تھا کہ جس کو ہندوستان ابھی تک عملا رہا ہے اور برطانوی جاسوس" مور کرافٹ"نے1823ء میں کشمیر میں مرازا حیدر کے مقبرے کی بازسازی کرکے کتیبہ نصب کیا تھا تاکہ کشمیر میں شیعہ سنی اختلاف ہمیشہ کیلئے سلگتی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ہر طرح کی بے راہ روی اور گناہ کی محفلیں سجانے کے لئے کوئی روک تھام نہیں تھی لیکن رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تیسرے وصی حضرت سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی عزاداری قائم کرنے پر  کسی نہ کسی بہانے شیعہ قتل عام  کا بازار گرم کیا جاتا تھا اور مرحوم شیخ عبداللہ نے مرکزی عاشورا کے جلوس کو رات کے بدلے دن میں نکالنے کا انتظام کرکے نہ صرف شیعہ سنی منافرت کو ختم کرنے کی کوشش کی بلکہ اپنی کامیابی کی ضمانت بھی فراہم کی ۔چونکہ اختلافی باتوں کو پرکھنے کی کوئی کوشش نہیں ہوئی اسی لئے اہلسنت میں ابھی تک تعصب موجود ہے۔اگر تعصب دینی بنیادوں پر ہوتا تو اسکی بھی اپنی فضیلت تھی، کیونکہ ہر کسی کو اپنے اپنے امام کے ساتھ محشور کیا جائے گا" يوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ"(الإسراء/71)۔لیکن یہاں ایسا نہیں،بلکہ  ہندوستان کی استعماری سازشوں کی وجہ سے چاہے ہندوستان میں مسلمان حاکم رہا ہو یا غیر مسلمان کشمیر کے نسبت پالیسی ایک ہی رہی ہے وہ مذہبی اور مسلکی منافرت ہے۔

کیا آپ حضرات نے اس پر کبھی توجہ کی کہ یہاں شیعہ سنی منافرت کی سبب کو  حضرت میر سید محمد شمس الدین موسوی عراقی/اراکی  رحمت اللہ علیہ اور حضرت شیخ مخدوم صاحب رحمت اللہ علیہ کے درمیان اختلافات بیان کیا جاتا رہا ہے جبکہ حقیقت امر یہ ہے کہ جب حضرت میر شمس الدین عراقی نے وفات پائی مخدوم صاحب کمسن جوان تھے اور مخدوم صاحب نے میرشمس الدین عراقی کے زمانے کو درک نہیں کیا ہے۔مخدوم صاحب کی وفات 24صفر 984 کو  علی چک کے دور میں ہوئي ہے جبکہ میر شمس الدین عراقی کی وفات 3رمضان 932 کو ہوئی ہے۔ اور رہا سوال اہلسنت بھائيوں کے چہیتے صحابہ حضرات رضی اللہ عنہم کی توہین کرنا یہ بھی اسی طرح یہاں کے شیعوں پر بے بنیاد تہمت ہے۔آپ میرشمس الدین عراقی کے خاندان کے مجدد کی سیرت کو پڑھیں جو میر شمس الدین عراقی کی دینی تحریک کے علمبردار رہے ہیں  اور یہاں کے شیعوں کی مذہبی قیادت کرتے آئے  ہیں کو پڑھیں ،یعنی کشمیری شیعہ مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمی سید مھدی موسوی متوفی21رمضان 1309کی اس حوالے سے "مطفئة الحرقی"نامی کتاب جس کا اردو ترجمہ"امام مبین" ہے کو اٹھا کر دیکھ سکتے ہیں کہ شیعہ کس قدر"سب" و" توہین" بعض صحابہ کے  مخالف رہے ہیں اورقرآنی اصولوں کے قواعد و ضوابط کے ساتھ اپنے مسلک کو بیان کرتے ہیں۔اور مرحوم آغا صاحب مخدوم صاحب اور دیگر اہلسنت بزرگوں کے مزارات پر حاضری دیتے تھے اور میں نے اسی لئے آیت اللہ موصوف کی اسی سنت کو زندہ کرنے کیلئے آپ کے روز وفات  21 رمضان المبارک پر مخدوم صاحب جاکر حاضری دینے کا سلسلہ  شروع کیا تھا کہ میرے ہی بھائی کو ایسا کرنا پسند نہ آیا اور انہوں نے مانع تراشی شروع کردی....۔

اسی طرح نکاح کے بارے میں شیعوں پر الزامات کہ عقد نکاح کے وقت شیعہ  سنیوں کے چہیتے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توہین کرتے ہیں دیگر الزامات کے مانند ہیں۔ میں نے سنی علماء سے درخواست کی کہ آپ عقد نکاح کی محفل میں شرکت کریں ،بلکہ چھاپہ مار کر حقیقت سے آگاہ ہو جائيں لیکن اکثر حضرات نے دست تعاون نہیں دیا بجز ایک حضرت  کے انہوں نے ایک عقد نکاح تقریب میں اسی طرح رضاکارانہ شرکت کی جبکہ میں نے جن علماء حضرات کو وہاں شرکت کی دعوت دی تھی کہا تھا کہ آپ کو یہ دیکھنے کی ضرورت نہیں کہ کیا یہاں شیعہ حقیقت میں نکاح میں توہین کی رسم بجا لاتے ہیں کہ نہیں بلکہ آپ  وہاں صرف لوگوں کے چہر وں کو پڑھیں کہ اگر انہیں آپ کو دیکھ کر ناراضگی کے آثار ظاہر ہوئے تو ثابت ہوگا کہ آپ نے اپنی حاضری سے ان کے لئے کوئی مزاحمت ایجاد کی ہے اگر اس کے برخلاف پایا تو ثابت ہوگا جو آپ نے سنا وہ جھوٹے پروپگنڈے کے سوا کچھ نہیں۔انہوں  نے دیکھا کہ وہاں میرے آنے سے زیادہ لوگوں کو ایک سنی عالم کی شرکت سے خوشی ہوئی اور وہاں کا ماحول دیکھ کر انہیں بڑا تعجب ہوا۔معلوم ہوا کہ دل کے کسی گوشے میں انہیں بھی شک تھا کہ یہاں عقد نکاح میں کچھ اور ہو رہا ہے۔

اسی طرح لوکل ٹی وی پر اس حوالے سے مباحثہ شروع کرنے کی کوشش کی اور اس سلسلےمیں بعض اہلسنت دوستوں نے بڑا تعاون کیا انہوں نے جے کے چینل پر اس کے لئے وقت فراہم کیا اور صرف چند ایک علماء نے تعاون دیا اور اس مباحثے میں شرکت کی اور چار پانچ پروگرام کرنے کے بعد سبھی شیعہ سنی علماء نے بہانہ ظاہر کرتے ہوئے اس مباحثے میں شرکت کرنے سے پرہیز کیا جس سے یہ پروگرام بند کرنا پڑا جبکہ اس مباحثے کی عالمی سطح پر خوب پذیرائی ہوئی تھی۔

 سنی نماز جمعہ میں شرکت کرکے  اس مرض  کو  علاج کرنے کی پہل کی اور شیعہ سنی مسلکی رواداری کی ثقافت کو فروغ دینے کیلئے"تقریب"نامی ایک ہفت روزہ بھی شروع کیا لیکن میں چونکہ یہ کام ایک بین الاقومی پلیٹ فارم کی نمایندگی کی صورت میں کررہا تھا  اور میں تہران میں دائر عالم اسلام میں اسلامی مسالک کے درمیان رواداری اور قربت کی ثقافت کو فروغ دینے والے عالمی ادارے "مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی" کا نمایندہ  تھا اور شیعہ سنی روداری کی ثقافت کو فروغ دینے کی میری سرگرمی کو بین الاقوامی سطح پر اچھی خاصی پذیری حاصل ہوتی تھی  جس سے حسادت کی بیماری  میں مبتلا بعض حضرات نے میرے خلاف شکایات کا سلسلہ جو شروع کیا تھا اسے تیزی لائی گئی اور عالمی ادارے نے میری حمایت روک دی ۔اور میری نمایندگی بھی تمدید نہیں کی گئی نتیجتا میں نے اس ادارے سے استعفی دیا اور یہ کام ٹھپ ہوگیا۔(یہ بات اس لئے بیان کی کہ کشمیر میں کشمیر سے باہر دیکھنے والوں کے لئے لمحہ فکریہ ہو۔)

کشمیر میں شیعہ سنی رواداری کو فروغ دینا یہاں کے ہر شیعہ سنی کی دلی آرزو ہے  اور ایک عالمی ادارہ جو اسی ثقافت کو فروغ دینے کے لئے مورد وجود میں آیا ہے دونوں اس ثقافت کو فروغ پانے  سے روکنے کیلئے سرگرم عمل ہوئے اور کشمیر میں شیعہ سنی اختلافات کو ختم کرنے کی منظم کوشش کو بوریا بستر گول کرنے کیلئے مجبور کردیا گیا جبکہ یقینا یہاں سے عالمی ادارے کو شکایت کرنے والے اپنے اعتبار سے صحیح ہونگے اور مذکورہ عالمی ادارے نے بھی اپنے نمایندے کے نسبت موقف اختیار کرنے میں صحیح ہونگے لیکن نتیجہ کیا نکلا وہ غور طلب ہے۔

اگر میں نے مذکورہ عالمی ادارے پر انحصار کرنے کے بجائے خود یہاں کے عوام پر اعتماد کرکے ان کے لئے حقائق کو اجاگرکر نے کی کوشش شروع کی ہوتی اگرچہ عالمی ادارے سے وابسطہ رہنے سے جو کامیابی مجھے تین سالوں میں حاصل ہوئی وہ تیس سالوں میں ہوتی لیکن اس کے لئے زوال یا ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔

سیاسی جہاد:

جس طرح پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ عسکریت پسندی استعماری ہتھکنڈا ہے  جو کسی بھی اعتبار سے برصغیر میں بالعموم اور کشمیر میں بالخصوص کسی بھی اعتبار سے مسلمانوں کے لئے مفید ثابت نہیں ہو سکتی ہے۔ میں نے اپنی نوجوانی میں 1984ء میں "شیعہ سرفروش فیڈریشن"نامی تنظیم بنائي تھی اور جب یہاں عسکری دور شروع ہوا تو میں نے 1986ءمیں اس کا نام بدل کر"الکربلائی" رکھا اور 1989ء میں مرحوم والد کی نصیحتوں کے پیش نظر سمجھ گیا کہ عسکری تحریک ہی غلط راستہ ہے اور تنظیم کومنحل اور عسکری سرگرمی کو خیر باد کہہ دیا اور اسی سال "عسکریت تحریک آزادی کشمیر کے لئے مفید یا نقصاندہ ؟" کے زیر عنوان ایک مقالہ تحریر کیا  تھا اور 1989ء میں میری کم سنی اور کند ذہنی کے باوجود ہر ایک بات سچ ثابت ہوئی کہ عسکریت پسندی کشمیر اور آزادی دونوں کے لئے نقصاندہ ہے ۔لیکن پھر بھی میں عسکریت پسندی کو طلاق دینے کے باوجود سال 2000ء تک انتہائی جذباتی پاکستان نواز تھا۔اور سال 2000ء میں میرے قیام پاکستان کے دوران میرا نظریہ الحاق پاکستان  بدل گیا اور وہاں مرحوم امان اللہ خان نےاپنے دفتر پر دعوت دے کر اپنی تالیف "جہدمسلسل" دی اور ان کی تنظیم کے ساتھ تعاون کی اپیل کی جو کشمیر لوٹ کر  مجھے قابل عمل نہیں لگا اور 2001 ء میں ڈی ایل ایف میں شمولیت اختیار کرلی اور 2002 ء میں والد صاحب کی رحلت کے بعد چونکہ میرے والد کا بڑا بیٹا جانشین ہوا اور ان کا نظریہ والد صاحب مرحوم کے بالکل برعکس اور استثنائی ہے اور ایسے میں اس تنظیم میں کام نہیں کر سکتا تھا اسلئے اسے خیر باد کہا اور اپنے خاندانی امور میں مصروف ہو گیا یہاں تک کہ آپ نے  میرے والد کے اسی بیٹے کو استعمال کرکے حریت کو توڑ دیا اور میں نے آپ دونوں کی مخالفت کرتے ہوئے پہلی حریت کو حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا  اور حریت کو اپنی طرف سے"فورتھ آپشن"نامی ایک راہ حل پیش کیا اور حریت کے آئين کو اصلاح کا مشورہ دیا لیکن حریت رائے مشورے سے کم اور سرحد پار احکامات سے زیادہ چلتا ہے اسلئے کسی کو خاطر میں نہیں لایا جاتا ہے اس بیچ  جب آپ کے آلہ کار نے آپ کا ساتھ چھوڑ کر پہلی حریت میں واپس لوٹ آئے تو میں نے حریت کانفرنس کو تحریری استعفی روانہ کیا۔اور قلمی ثقافتی جہاد جاری رکھا اور مسلسل اس کوشش میں رہتا کہ اس بات کی نشاندہی کروں کہ عسکریت پسندی کو چھوڑ کر مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے بہت سارے آسان راستے موجود ہیں جن کو اپنانے کی ضرورت ہے ۔ اس بیچ سال 2008ء میں پاکستان کے صدر جمہوریہ وقت آصف علی زرداری صاحب نے عسکریت پسندی کو مسئلہ کشمیر سے خارج قرار دے دیا اور میں شاید اکلوتا کشمیری تھا کہ جس نے انکی بھر پور حمایت کی،اور کئي مقالات لکھے لیکن آپ سبھی حضرات نے جس طرح صدر زرداری کی مخالفت کی جس کے پیش نظر وہ اپنے بیان سے مکر گئے۔پھر میں  میں نے 2008ء میں "مسئلہ کشمیر اور انتخابات" کے عنوان سے اردو اور انگریزی میں مقالہ شائع کیا تھا کہ جس کا بڑا استقبال ہوا اور منطقی قرار دیا  گیا تھا لیکن حریت سے وابستہ کسی ایک فرد نے نہ تنقید کی نہ ہی تحلیل کیا۔یہاں تک 2014ء کے انتخابات بھی پہنچ گئے اور چند مہینوں کے اندر اندر پہلے پارلمنٹ اور پھر اسمبلی انتخابات منعقد ہونے کے فرصت پیش آئی جو کہ میرے نزدیک ایک نئے نعرے کیلئے ایک طلائی فرصت تھی۔اسلئے اس سلسلے میں میں نے ایک میدانی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا جس سے تحریک آزادی کشمیر کو اپنے اصالت کی طرف لوٹانے کی کوشش شروع کی جائے اور بہت سارے اہلسنت بزرگوں کو مشورہ دیا کہ کشمیر اپنی اصالت کے پیش نظر کوئی مذہبی یا سیاسی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک حقیقی اور حقوقی مسئلہ ہے جو اسے سیاسی بھی بناتا ہے اور مذہبی بھی اورچونکہ یہاں کی اکثریت مسلمان ہیں اس لئے اسلامی مسئلہ ہے لیکن اس کے مقاصد کو تحریف کیا گیا ہے اور منزل دور ہو چکی ہے اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے حقیقی اور حقوقی بنیادوں پر خدا اور عوام کے بغیر کسی اور پر تکیہ کئے بغیر اپنے بل بوتے پر لڑنا پڑے گا اور یہ حقیقی اور حقوقی  مسئلہ وہی بنیاد ہے جو مقدمے میں عرض کی کہ کشمیر ایک قدیم تہذیب اور تاریخی ملک ہے جس کا تقسیم ہند کے ساتھ کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں رہا ہے۔جس تک پہنچنے کیلئے 1331 کی تحریک زندہ کرنا ہوگی اور بیعنامہ امرتسر توڑ دو کشمیر ہمارا چھوڑ کا نعرہ ایک بار پھر دینا ہوگا۔ اور 1331 کو زندہ کرنے کیلئے مسلم کانفرنس اور نیشنل کانفرنس نے جہاں تحریک کو چھوڑا وہاں سے دوبارہ شروع کرکے کشمیر کی اصالت اور حقیقت  کو اجاگر کرکے اپنا حق حاصل کرنا ہوگا۔اور اس بات کو اجاگرکرنے کیلئے ہندوستان زیر انتظام کشمیر میں ہندوستانی پارلمنٹ کیلئے یہاں کی 8 نشستوں پر 8 امیدوار کھڑے کر کے اپنے کشمیری منشور کے ساتھ میدان میں آنا ہوگا اور اگر 8 نشستوں میں سے ایک بھی نشست پر کامیابی حاصل نہیں ہوگی پھر بھی  اس دور میں اس منشور کو وسیع تشہیر حاصل ہونے کی فرصت فراہم ہوگی جوکہ ہندوستان زیر انتظام کشمیر کی اسمبلی الیکشن  میں 87 نشستوں پر امیدوار کھڑے کرکے کم سے کم ایک سے 20 نشستوں کو حاصل کرنے کیلئے میدان فراہم کرے گا اور اس کے لئے 2014 ء کا الیکشن انتہائي مناسب ہے کیونکہ 2014 خود ہندوستان کے مرکزی انتخابات وہاں نئي تبدیلی کی نوید دے رہی ہے اور ہندوستان زیر انتظام کشمیر پر بھی اس کا بھر پور اثر رہے گا۔اس پر ان سبھی بزرگواروں نے ہاں میں ہاں بھر لی اور آخر الامر کہا کہ تم ہی الیکشن میں حصہ لو ۔ میں نے کہا کہ میں شیعہ ہوں میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ کشمیر میں جو کچھ کرنا ہے وہ اہلسنت کو کرنا ہوگا۔شیعہ بہرحال سنی کے شانہ بشانہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نہیں اب وہ بات نہیں رہی ہے شیعہ سنی کا کوئی تعصب یہاں نہیں ہے۔اور میں نے موضوع کی اہمیت کے پیش نظر اپنی قربانی پیش کرنے کو اپنا فریضہ سمجھا اور  میدان میں آنے کا فیصلہ کر لیا اور پارلمانی الیکشن میں با ضابطہ آنے کے بعد ہی ان اہلسنت بزرگوں نے منہ پھیر لیا اور میں اکیلا پڑ گیا اور مجبوراً آخری دو ہفتوں میں شیعہ رائے دہندگان کی طرف متوجہ ہوا تو تمام شیعہ علماء ، عوام و خواص نے میرے خلاف کمر کس لی حتی مراجع تقلید کو میرے خلاف لکھا  گیا اور کسی بھی حد کو پار کرنے سے دریغ نہیں کیا گیا  یہاں تک کہ آپ کے ساتھی اور میرے بھائی نے مجھے ہندوستانی ایجنسیوں کا آلہ کارہونے کا فتوی صادر کردیا کیونکہ وہ میرے نسبت روانی بیماری کے شکار ہیں  اور اپنی صداقت کو ثابت کرنے اور جوابی کاروائی  کر کے عوامی انتشار پیدا ہونے سے بچنے کیلئے  تمام الزامات اپنے سر لے کر کشمیر کا میدان ہی چھوڑ دیا اور ایران اپنی تعلیم جاری رکھنے کیلئے نکل پڑا ۔جبکہ مجھے امید قوی تھی کہ مجھ پر ہندوستانی ایجنیسوں کا آلہ کار ہونے کا فتوی آپ کی طرف سے صادر ہو گا  اور جس کے لئے میں پوری طرح تیار بھی تھا اور اسے موجودہ تحریک کو 1331تحریک بنانے کیلئے معاون و مددگار ثابت کردیتا  اور عوام میں کوئی انتشار بھی پیدا نہیں ہوتا بلکہ ایک اصلاح کی تحریک وجود میں آ جاتی، کیونکہ حریت کو بہرحال الیکشن مخالف رہنا پڑے گا کیونکہ اگر حریت الیکشن میں حصہ لیتی ہے تو ہندوستانی منصوبہ رنگ لائے گا۔

انتخابات اور مسئلہ کشمیر

   مسئلہ کشمیر کو حل کرانے کے حوالے سے چونکہ حادثاتی سیاست در پیش رکھی گئی ہے اسلئے کھوکھلے نعرہ بازی کا بازار گرم رہا ہے۔یہ کہنا کہ ہندوستان کے آئين کے تحت الیکشن میں حصہ لینا غداری ہے انتہائي غیر سنجیدہ نعرہ ہے کیونکہ جب تک کشمیر ہندوستان کے زیر انتظام ہے تب تک یہاں ہر کام ہندوستانی آئين کے تحت ہی انجام پائے گا تعلیم و تربیت سے لے کر لین دین تک سبھی امور ہندوستان کے آئين کے تحت ہی آئيں گے۔قائدانقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای مدظلہ العالی سے الیکشن میں شرکت کے حوالے سے یوں استفتاء کیا گیا ہے کہ :"سبھی ممالک میں الیکشن میں شرکت کرنے یا بائیکاٹ کرنے کا  شرعی حکم کیا ہے؟کیا اس حکم میں اسلامی اور غیر اسلامی ممالک میں فرق ہے نیز وسیع پیمانے پر رسمی الیکشن اور چھوٹے پیمانے پر غیر رسمی الیکشن  بھی کوئی فرق ہے ؟"۔ معظم لہ نے جواب میں فرمایا ہے :"کلی طور پر ایسے الیکشن میں شرکت کرنا جوفسادکو روکنے یا فساد کی راہ میں زیادہ رکاوٹیں ڈالنے کا باعث بنے یا شرکت نہ کرنے سے اسلام اور مسلمانوں کی تضعیف ہوتی ہو واجب ہے۔" اسلئے کشمیر اور کشمیری عوام کے خیر خواہوں کی کوشش یہی رہنی  چاہئے تھی کہ جماعت اسلامی کشمیر کی الیکشن سیاست کو ہی جاری رکھا جائے اور الیکشن میں شرکت کی مخالفت کے بجائے انہیں ان کی ذمہ داریوں کے حوالے سے مسلسل ان پر دباو بنائے رکھنے کی حکمت عملی در پیش رکھیں ،کیونکہ الیکشن میں حصہ لینے والوں پر یہ ذمہ دای عائدہ ہوتی ہے کہ وہ ہندوستان کو قانونی طور پر زیر سوال لائيں کہ ہندوستان سے جو علاقہ جدا ہوا(پاکستان) وہ آج بڑی طاقت کی شکل میں   ابھر چکا ہے اور ہندوستان نے جس خودمختار تاریخی ملک  اور قدیم تہذیب(کشمیر) کو یرغمال  بناکر اپنے زیر انتظام لایا ہے وہ اپنے بنیادی حقوق سے ابتک کیوں کر محروم ہے ۔۔۔وغیرہ۔

الیکشن کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے نقصاندہ جتلانے کے بجائے الیکشن کو مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کا معاون و مددگار ثابت کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ الیکشن میں حصہ لینے والے علاقائی جماعتوں  / افراد کو جو مسئلہ کشمیر کو حل طلب تسلیم کرتے ہیں کو مزاحمتی تحریک کا حصہ مان لیا  جائے اور حریت کو مقاومتی تحریک میں ابھر کر مسئلہ کشمیر  کو تاریخی اور عوامی امنگوں کی بنیادوں پر حل کرنے کی طرف رہبری کرنا ہوگی تاکہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے حوالے سے سب سے جمہوری راہ حل؛عوام، ہندوستان/پاکستان/چین اور بین الاقوامی اداروں کے سامنے پیش کرے۔اسطرح استصواب رائے کی بنیاد پڑ جائے گی اور عوام اپنا فیصلہ سنا سکیں گے کہ وہ غلام رہنا چاہتے ہیں کہ مختار و آزاد۔

حریت کو خود میں لچک نہیں بلکہ  خود میں خودی لانے کی ضرورت

حریت میں بڑی سیاسی لچک لانا ہلاکت خیز ثابت ہو سکتی ہے البتہ حریت کو پاکستان پر انحصار چھوڑ کر اپنے بل پر تحریک چلا کر جملہ عوامی حقوق کی بازیابی کیلئے وسیع بنیادوں پر تحریک کو گامزن کرنا ہوگا، جس کے لئے مسلم کانفرنس کے وجود میں آنے کے عوامل اور نیشنل کانفرنس کو وجود میں لانے کی ضرورت کا بھر پور ملاحظہ کرتے ہوئے شاہ ولایت حضرت علی علیہ السلام کے بتائے ہوئے اسلامی منشور کے پیش نظر کہ انسان دو طرح کے ہیں یا  تمہارے دینی بھائی ہیں یا تمہاری طرح انسان ہیں" اِمّا اخٌ لکَ فی الدّینِ، او نَظیرٌ لک فی الخَلق"کو اپنا منشور قرار دیکر وسعت قلب و نظر کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔نیشنل کانفرنس نے جو سیکولر نعرہ دیا "ہندو مسلم سیکھ اتحاد" یہ سیکولر نعرہ نہیں بلکہ  اسلام سے چرایا گیا نعرہ ہے ۔ صرف اسلام میں ہر مذہب و ملت کو ساتھ لے کے چلنے کی صلاحیت ہے ۔کیونکہ صرف اسلام انسانوں کو مساوات کا درجہ دیتا ہے نہ کہ سیکولرازم ، دور حاضر میں جس کا عملی نمونہ ایران میں دیکھنے کو ملتا ہے۔اور کشمیر مذہبی گہوارہ ہے جہاں مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلمان بھی خدا اور مرنے کے بعد کی زندگی کا عقیدہ رکھتے ہیں یعنی یہاں  (کلامی بحث سے ہٹ کر کہ کون حق دین پر ہے اور کون نہیں )سبھی لوگ دیندار ہیں۔اسلئے حریت کو یہاں سبھی مذاہب و ادیان کو تحریک 1331 میں شامل کرنے میں جٹ جانا چاہئے۔ اس لئے میں نے الیکشن میں حصہ لینے کے وقت باضابطہ حریت پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حریت کا مشن مقدس ہے لیکن حکمت عملی غلط ہے۔

حریت کی حکمت عملی غلط ہونے کی بہت ساری دلائل موجود ہیں از جملہ مندرجہ ذیل ہندوستان کی ایک معمولی کوشش کے مقابلے میں لاپرواہی ہے۔کشمیرکے بارے میں ہندوستان مندرجہ ذیل معلومات کے ساتھ ہندوستانی موقف کو ہر سطح پر پیش کرنے کے درپے ہے جس کا انگریزی عبارت سے میں یہاں عین عبارت کا ترجمہ کرکے آپ سے چند سوال کرنا چاہوں گا:

"ہندوستان زیر انتظام کشمیر (مساحتی اعتبار سے=101380 کلومیٹر مربع) وادی:15٪ ، جموں: 26٪ ،لداخ:59٪ ، 85000 کلومیٹر مربع میں غیر مسلمان آباد ۔ آبادی:1.25 کروڑ ۔وادی:69لاکھ(جن میں صرف 55لاکھ کشمیری زبان بولنے والے ہیں اور مابقی غیر کشمیری۔) جموں 53 لاکھ(ڈوگری، پنجابی اور ہندی)۔ لداخ:03لاکھ(لداخی زبان)اس میں 7.5لاکھ یہاں آباد لوگ شامل نہیں ہے کہ جن کے پاس شہریت نہیں ہے۔جموں و کشمیر 22 اضلاع پر مشتمل ہے جن میں صرف 5 اضلاع (سرینگر،اننت ناگ، بارہ مولا، کولگام اور پلوامہ)میں علیحدگی پسندوں کا اثر ہے۔ما بقی 17 اضلاع ہندوستان نواز ہیں۔اسطرح آبادی کے 15٪  پر  علیحدگی پسندوں کا اثر رسوخ ہے جہاں اہلسنت مسلمانوں کی اکثریت ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ 5 اضلاع پاکستانی سرحدوں /ایل او سی سے کافی دور ہیں۔یہاں  14سے زائد بڑی مذہبی/لسانی جماعتیں ہیں جو جموں و کشمیر کی 85٪آبادی کو تشکیل دیتے ہیں اور وہ سب ہندوستان نواز ہیں۔ جن میں شیعہ، ڈوگرا(راجپوت، برہمن اور مہاجن)،کشمیری پنڈت ، سیکھ ، بودھ(لداخی)، گوجر، بکروال، پہاری، بلتی، عیسائي اور کئی اور شامل ہیں۔جموں و کشمیر کی اکثریتی آبادی  کشمیری مادری زبان کے طور پر نہیں بولتے ۔یہ زبانیں ڈوگری ، گجراتی ، پنجابی ، لداخی ، پہاری وغیرہ ہیں۔صرف 33٪ آبادی کشمیری بولتے ہیں اور  اس جماعت کی حریت ، عسکریت پسند، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نمایندگي کرتی ہے۔اس 33٪ کا کنٹرول تجارت ، بیورکریسی  اور ذراعت پر ہے۔ یہ 33٪اہلسنت آبادی ہندوستان مخالف ہیں جبکہ جموں و کشمیر کی مسلمان آباد 69٪فیصد ہے۔شیعہ (12٪)، گوجر مسلمان (14٪)،پہاڑی مسلمان (8٪)، بودھ، پنڈت، صوفی، عیسائی اور جموں کے ہندو/ڈوگرا(تقریبا 45٪)یہ سب علیحدگی پسندی اور پاکستان کے مخالف ہیں۔پتھربازی،پاکستانی جھنڈا لہرانے والے اور ہندوستان مخالف مظاہرے وادی کے صرف 5 اضلاع میں ہوتا ہے۔باقی 17 اضلاع نے کبھی اس قسم کی سرگرمی میں حصہ نہیں لیا ہے۔پونچھ اور کرگل میں 90٪ سے زائد مسلمان آبادی ہیں۔ یہاں ان اضلاع میں کبھی بھی ہندوستان مخالف مظاہرے نہیں ہوے ہیں۔یہ سب قوم دشمن میڈیا اور ہندوستان مخالف طاقتیں ہیں جو اپنے مغرضانہ مقاصد کے پیش نظر ایک تاثر پیدا کیا ہے کہ "سارا جموں و کشمیر" ہندوستان مخالف ہے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف وادی کے 5 اضلاع میں رہنے والے  15٪ سنی مسلمانوں علیحدگی پسندی کی سرگرمی دیکھی جاتی ہے۔"

آخر میں لکھا گیا ہے کہ :

"مہربانی کرکے اس پیغام کواپنے ملک کی یکجہتی اور حاکمیت  کو بچانے اور پاکستان کے مذموم منصوبوں کو ناکام بنانے اور دہشتگردی کو ریشہ کن کرنے کیلئے  ہر ہندوستانی تک پہنچائيں۔"

·         اس مختصرہندوستانی پیغام کے پیش نظر آپ سے سوال کیا جاسکتا ہےکہ اب تک آپ نے اس کا جواب کیا دیا ہے؟ ۔

·         یا یہ کہ کیا آپ نے اسطرح مختصر اور جامع پیغام ابھی تک تحریر کرکے ہر ایک کشمیری باشندے تک پہنچانے کی کوشش کی ہے ؟۔

  • سبھی کشمیری باشندوں کو مسئلہ کشمیر کی حقیقت سے آگاہی فراہم کرنا تو بڑی بات ہے کیا آپ اطمنان سے کہہ سکتے ہیں کہ حریت نے اپنے ہر ایک باضابطہ رکن کو مسئلہ کشمیر کے نسبت اسطرح جان کاری فراہم کی ہے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں اور اپنی کمزوریوں کو سمجھیں؟
  • شیعوں کو سنیوں سے جدا کرنے کے حوالے سے آپ کا موقف صحیح ہے یا ہندوستان کا بیان صحیح ہے ؟

غرض اس ہندوستانی دعوی کے حوالے سے آپ سے بہت سارے سوالات کئے جاسکتے ہیں اور میں یہاں پر صرف شیعہ سنی کے حوالے سے بات کرنا چاہوں گا۔

کیا علیحدگی پسندوں کو امام حسین علیہ السلام کے ساتھ کوئی خاص قسم کی دشمنی ہے؟

یقینا بظاہر نہیں ہے! تو پھر ہندوستانی منصوبے کو توڑ کرنے کی کوئی پہل کیوں نہیں کی گئی ؟ جب 1990 ء میں ہندوستان نے شیعہ سنی کو ایکدوسرے کو جدا کرنے کیلئے سرینگر کے تاریخی عاشورا جلوس پر پابندی لگائی یہ کہہ کر کہ علیحدگی پسند اس میں شرکت کریں گے تو آپ حضرات نے بظاہر عید کیوں منائی چلو شیعوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پرسہ دینے کی رسم پر پابندی لگائي گئی ۔اگر ایسا نہیں توکشمیر بھر میں جہاں جہاں شیعوں کو عزاداری کے جلوس برآمد کرنے کی اجازت دی جاتی ہے آپ حضرات وہاں شرکت کیوں نہیں کرتے؟

میرا ماننا ہے کہ سرینگر میں عاشورا پر پابندی کا نسخہ ہندوستان کا نسخہ نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ وہ تو ہندوستان بھر میں عزاداری کے جلوس نکالنے کیلئے مثالی خدمات پیش کرتا ہے اسلئے لگتا ہے کہ یہ اسرائيل کا نسخہ ہے جس نے کشمیر میں علیحدگی پسند تحریک کا امتحان لینے کیلئے عائد کیا ہے تاکہ وہ اس تحریک کا نبض دیکھ سکیں کہ کیا اس میں امام حسین علیہ السلام کی قیادت یا رنگ شامل ہے کہ نہیں۔اور آپ حضرات نے 1990ء سے لیکر آج تک دانستہ یا نادانستہ طور ثابت کردیا کہ ہماری تحریک کیلئے امام حسین علیہ السلام کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔یہاں پر بہت ہی ظریف اور حساس نکات کو بیان کرنا ضروری ہے لیکن شیعہ سنی اتحاد کو کسی کیلئے نقصان پہچانے کا بہانہ نہ بن جائے اسلئے یہاں پر انہیں بیان کرنا نہیں چاہوں گا البتہ اگر  پوچھا گیا تو تفیصلات کے ساتھ جواب دے سکتا ہوں ۔بہر حال یہاں شیعہ سنی اتحاد کو عملی طور سرفہرست قرار دینا لازمی امر ہے جس کی اہمیت کے بارے میں شیعہ سنی اتحاد کے عظیم داعی لبنان کے جلیل القدر شیعہ فقیہ حضرت علّامہ سید عبدالحسین موسوی شرف الدین قدس سرہ شریف  کا قول نقل کرنا چاہوں گا کہ انہوں نے فرمایا: «فَرَّقَتْهُما السیاسة، فَلْتَجْمَعْهُما السیاسة»یعنی شیعہ اور سنی کو سیاست نے ایک دوسرے سے الگ کیا ہے اور اب سیاست ہی ان کو ایک دوسرے کے ساتھ متحد کرے گی۔

کشمیر کی مقاومتی اور مزاحمتی تحریک

کشمیر کی مقاومتی تحریک 1331 میں وجود میں آئي ہے کہ جس کا آخر کار مسلم کانفر نس نامی محاذ تشکیل پایا اور پھر جب مسلم کانفرنس میں مقاومت کا جوہر کم رنگ پڑ گیا تو مزاحمتی تحریک وجود میں آئي اور یہ مزاحمتی تحریک دو ومحاذوں میں تقسیم ہوئی الحاق پاکستان اور الحاق ہندوستان جبکہ صرف ہندوستان الحاق نواز نیشنل کانفرنس جانے انجانے میں وجود میں آ کر مزاحمتی تحریک بن گئی جس نے ہندوستان کے ساتھ دفعہ 370 ہندوستان کا آئين میں شامل کرکے "مزاحمت" کی تاریخ کی داغ بیل ڈالی اور پاکستان نواز مسلم کانفرنس نے مقاومت اور مزاحمت دونوں کو خیر باد کہہ دیا یہاں تک 1990 ء کی عسکری تحریک میں رونق آ گئی اور مزاحمتی تنظموں کی ایک لمبی فہرست تیار ہو گئی جس میں مسلم کانفرنس بھی نظر آ رہی ہے۔سال 1993ء میں حریت کانفرنس کے وجود میں آنے کے بعد مزاحمتی محاذ کا لقب حریت اور ہندوستان مخالف تنظیموں کیلئے مخصوص ہو گیا۔اور یہ بجائے خود ایک المیہ اور تنگ نظری  کی بڑی مثال ہے۔ نیز عوامی تحریک کی قیادت کا دعوی کرنے والے ابھی تک "مقاومت" اور" مزاحمت" میں فرق نہیں جان سکیں ہیں۔مقاومت یعنی صبر، یعنی ثابت قدمی، یعنی اپنے حق کو منوانے پر اسرار۔ جبکہ مزاحمت یعنی مزاحمت، یعنی مانع تراشی،یعنی رکاوٹ ایجاد کرنا۔ اسطرح ہر وہ فرد یا جماعت جو کشمیر کو متنازعہ تسلیم کرے وہ در حقیقت ہندوستان ، پاکستان اور چین کا کشمیر کی سرزمین پر قبضے کو تسلیم کرنے میں رکاوٹ ایجاد کرنے والے ہیں ۔ کشمیر میں ہر ایک سرگرم سیاسی جماعت مزاحمتی تحریک کا حصہ ہے چاہے وہ ہندوستان نواز ہیں یا پاکستان نواز۔جس تحریک کا فقدان ہے وہ مقاومتی تحریک کا ہے وہ 1331ء کی تحریک کا ہے۔اس تحریک کے ساتھ ہے جس کی بنیاد1373ءکا عہدنامہ ہے۔ کشمیر کی تاریخی، جغرافیایی ، سیاسی  حقیقت ہے۔نہ کہ 1947ء کا حادثہ،کہ جس کو بنیاد بنا کر الحاق ہندوستان اور الحاق پاکستان کی راگ الاپی جاتی ہے۔مسئلہ کشمیرکا تعلق اگر کشمیری عوام سے ہے تو اس میں میدانی صورتحال غالب رہنی چاہئے اور اپنے حریف پر ناروا تہمت لگا کر اور ہندوستانی ایجنسیوں کا آلہ کار اور پاکستانی ایجنسیوں کا آلہ کار  کی لیبل چسپاں کرنے کی تہذیبی جارحیت کا خاتمہ کرکے مسئلہ کشمیر کو متنازعہ تسلیم کرنے والے کو مزاحمتی تحریک کا حصہ اور مسئلہ کشمیر کو حقیقی بنیادوں پر حل کرانے والوں کو مقاومتی تحریک کا حصہ مان کر ایک دوسرے کو برداشت اور ایک دوسرے کا احترام تحریک کا سر فہرست نعرہ رہنا چاہئے۔مشترکات کی نشاندہی اور ان کا احترام کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔

حریت کی ہرتالی سیاست

حریت کی ہرتالی سیاست انتہائی نسنجیدہ سیاست ہے۔جو کہ میرے نزدیک ایک بڑے کارخانے کے مزدورں کی ہرتالی سیاست کے مانند ہے کہ جو کارخانہ دار کو اپنی اہمیت  یاد دلانے اوردنوں میں اپنے مطالبات منوانے کیلئے ہرتال کرتے ہیں۔ جبکہ مسئلہ کشمیر کا تعلق ایک قدیم تہذیب کیا بازیابی سے ہے ،ایک قدیم تاریخ کی بچاو سے ہے ، کہ جس کو مسخ کیا گیا ہے۔اور اس کی اصلی شکل و صورت کو زندہ کرنے کیلئے ہرتالی سیاست نہیں بلکہ مقاومتی سیاست درکار ہے ۔ یعنی حسینی رنگ میں رنگنا ہے۔ یعنی ہر سطح پر رنج و سختی تحمل کرتے ہوئے اپنے مطالبات کو انسانی احساس کے ساتھ زندہ رکھنا ہے۔ جس طرح شیعہ عزاداری کرکے رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ روا رکھے گئے مظالم کا پردہ چاک کرتے ہیں ۔سر و صورت اپنا پیٹتے ہیں، روتے بلکتے ہیں لیکن رسوا  رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےدشمن ہوتے ہیں۔

ہرتالی سیاست سے آپ حضرات جن گناہوں کے مرتکب ہو رہے ہیں شاید آپ کو اندازہ بھی نہیں۔کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ میرے بیٹے کے قاتل ہیں ؟ جی ہاں آپ نے میرے بیٹے کا قتل کر دیا ہے جبکہ آپ کے روح تک کو  اس کی خبر نہیں ۔وہ یوں کہ 6 جولائی 2008ء کو آپ نے ہرتال کی کال دی تھی اور میری اہلیہ کو درد زایمان شروع ہوا تو انہیں سرینگر اسپتال منتقل کیا گیا اور حیدر  پورہ پہنچ کر میری گاڑی پر پتھراو کیا گیا وہاں سے واپس لوٹ آئے بمنہ سے جانا چاہا ممکن نہ ہو سکا مجبور ہوئے کہ کل تک انتظار کریں اور دوسرے دن صبح جب اسپتال پہنچے ڈاکٹر نے میرے بیٹے کو مردہ پایا۔میں اس حادثے کو لے کر آپ حضرات کی طرح بڑی سیاست کر سکتا تھا لیکن اپنی سیاست میں قیامت کو ہمیشہ ملحوظ نظر رکھتا ہوں کہ وہاں پر اصلی جوابدہی ہے ۔یہ آپ حضرات کی ہرتالی سیاست کی ایک مثال ہے نہ جانے کتنی جانیں آپ کی نسنجیدہ سیاست کے جرائم کے شکار ہوئے ہونگے،مالی نقصانات کا کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کیونکہ قریب بیس سالوں میں صرف میری گاڑیوں کا ہرتالوں کے دوران قریب دو لاکھ کا نقصان ہوا ہے۔یہ ایک شہری کے جانی و مالی نقصان کا حال ہے تو کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وادی بھر میں کیا کچھ ہو رہا ہے ۔

ہرتال اور احتجاج مظلوم کی "آہ" کے مانند ہے۔ اللہ نے ہر قسم کے شور شرابے کو نا پسند قرار دیا ہے بجز ظلم کے خلاف " لَا يحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَنْ ظُلِمَ "(النساء/148)اس لئے اسے ظالمانہ انداز میں ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔ مسئلہ کشمیر مغلوں کی دین اور برطانیہ کی سامراجیت کی تخلیق ہے ۔ ہندوستان اور پاکستان کی شہہ رگ کا مسئلہ نہیں ہے جو کسی کے دھونس و دباو سے حل ہو جائے۔ آپ حضرات مسئلہ کشمیر کو تقسیم پاک/ ہند کے ساتھ جوڑ کر کشمیر کی تاریخ و تہذیب کی توہین  اور حقائق کو تحریف کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس کا حل نہیں نکل پا پا ہے۔جب تک کشمیری عوام اپنی تاریخی اور تہذیبی بنیادوں پر اپنے حقوق کی بازیابی کا مطالبہ کرنے کیلئے اٹھ کھڑی نہیں ہوتی تب تک کسی بھی عوامی تحریک کو کشمیر کی آزادی کی تحریک سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا ہے۔اس لئے مسئلہ کشمیر کے "دائمی حل" اور "خود مختار آزادی" کی راہ میں دنوں کو ملحوظ نظر رکھنے کے بجائے پیڈیوں کو مد نظر رکھنے کی ضرورت ہے،کہ ممکن ہے کہ "خودمختارآزادی" کی صبح اس پیڑی کو دیکھنا نصیب ہو گی یا اگلی پیڑی یا اس کے بعد کی۔اسطرح ذمہ داری کو خود نبھانا ہے اور نتیجہ اللہ پر چھوڑنا ہوگا۔

رہا سوال کیا پھر احتجاج کرنا ہی چھوڑ دیں ؟ جی نہیں۔ حکمت کے ساتھ عوام کو مسئلہ کشمیر اور ان کے حقوق کے بارے میں جان کاری دیتے ہوئے حوادث کے رونما ہونے کے انتظار میں بیٹھ کر ہرتال کی کال دینے کے بجائے روزانہ ہرتال اور احتجاج کو جاری و ساری رکھا جا سکتا ہے  ۔ اور اس کا م کیلئے کسی پیچیدہ منصوبے کو بنانے کی بھی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہندوستانی الیکشن کمیشن کے نقش راہ سے استفادہ کرتے ہوئے جس سے وہ یہاں منظم الیکشن کرانے میں کامیاب ہیں سے الہام لیتے ہوئے ہر ایک رائی دہی مرکز کو لے کر ایک پر امن انقلابی سلسلہ شروع  کریں ۔ روزانہ ایک علاقے میں کسی موزون وقت پر فرض کریں دوپہر کو نماز ظہر کے بعد  آدھے گھنٹے کیلئے مقاومتی تحریک کے سرکردہ رہنماؤں کی شرکت کے ساتھ علامتی ہرتال اور پر امن احتجاج کریں اور جس کی بھر پور تشہیر  دنیا بھر کی چند ایک زندہ زبانوں میں تشہیر کیا جاتا رہے ۔ جس سے تمام عوام دشمن عوامل کے دکان بند ہونگے اور عوام دوست عوامی خودمختار آزادی کی تحریک پروان چڑ جائے گی اور جانی و مالی نقصان کا احتمال بھی نہ ہونے کے برابر  پہنچ سکتا ہے۔اور" مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا " سے بچ کر " وَمَنْ أَحْياهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيا النَّاسَ جَمِيعًا " کی نوید لے کر " إِنَّ اللَّهَ لَا يغَيرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يغَيرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ "کا مصداق قرار پا سکتے ہیں۔اور یہی جہاد ہے اور جب ایسے جہاد پر چلنے نکلیں تو ارشاد باری تعالی ہوتا ہے" جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِينَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ"مگر میں بخوبی جانتا ہوں آپ لوگ اس قسم کی عوامی اور اصولی تحریک نہ چلائیں گے نہ چلنے دیں گے ، کیونکہ ایسے تحریک کیلئے باہر سے کوئی فنڈنگ نہیں کرے گا اور ساگ چاول پر ہی گذارہ کرنا پڑے گا جو آپ لوگ نہیں کر سکتے۔

"حاسِبُوا اَنْفُسَکُم قبلَ اَن تُحاسَبُوا" کے پیش نظر آپ سیاست سے اپنی علیحدگی کا اعلان کریں اور مزید اپنی دنیا و آخر ت خراب نہ کریں۔

وَمَا عَلَينَا إِلَّا الْبَلَاغُ

والسلام علیکم و رحمت اللہ

سید عبدالحسین موسوی

پردیسان قم المقدسہ جمہوری اسلامی ایران

‏پیر‏، 12‏ جون‏، 2017

ایمیل:agaabdulhussain@gmail.com


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر