تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور22جنوری/ ایک صہیونی تجزیہ نگار نےاسرائیلی انٹیلی جنس ادارہ موساد کو تین ہزار بے گناہ فلسطینیوں کا قاتل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ  ان افراد کو موساد کا نشانہ نہیں بننا چاہیے تھا کیونکہ ان میں سے اکثر بے گناہ تھے۔


نیوزنور22جنوری/ گذشتہ روز اسرائیلی فوج کی بھاری نفری نے قبلہ اول میں گھس کر وہاں پر موجود فلسطینی محکمہ اوقاف کے مقرر کردہ ایک محافظ کو حراست میں لے لیاجس کےنتیجے میں قبلہ اول میں سخت کشیدگی اور فلسطینیوں میں غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔

نیوز نور22جنوری/بحرین کے ممتاز شیعہ عالم دین آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم  کے نمائندے نے آل خلیفہ رژیم  کے وفد کے اسرائیل کے سرکاری دورے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دورے کا مقصد فلسطینیوں کی قاتل  حکومت کےساتھ تعلقات کو معمول پرلانا ہے ۔

نیوزنور22جنوری/اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں میں آباد کیے گئے یہودیوں کی تعداد 2017ء کے آخر میں 4 لاکھ 36 ہزار ہوگئی ہے۔

نیوزنور22جنوری/شام کے صدر نے کہا  ہےکہ ترکی اپنے مخالفین کو کچلنے اور شامی حکومت کے مخالفین کی مدد اور حمایت کرنے میں مصروف ہے۔
  فهرست  
   
     
 
    
جمہوریہ چک کے سینئر تجزیہ کار:
وہابیت کی ترویج اورفروغ میں آل سعود کا بنیادی کردار ہے

نیوز نور:جمہوریہ چک کے ایک  معروف سیاسی تجزیہ نگار نے سعودی عرب کو وہابی دہشتگردوں کا اصلی اسپانسر قراردیتے ہوئے کہاہےکہ سعودی عرب وہابی فکر کے ذریعے دنیا کے مختلف ممالک میں دہشتگردی پھیلا رہاہے۔

استکباری دنیا صارفین۵۸۳ : // تفصیل

جمہوریہ چک کے سینئر تجزیہ کار:

وہابیت کی ترویج اورفروغ میں  آل سعود کا بنیادی کردار ہے

نیوز نور:جمہوریہ چک کے ایک  معروف سیاسی تجزیہ نگار نے سعودی عرب کو وہابی دہشتگردوں کا اصلی اسپانسر قراردیتے ہوئے کہاہےکہ سعودی عرب وہابی فکر کے ذریعے دنیا کے مختلف ممالک میں دہشتگردی پھیلا رہاہے۔

عالمی اردوخبررساں ادارے’’نیوز نور‘‘کی رپورٹ کے مطابق دہشتگردوں کےساتھ ٹرمپ کی تجارت کے عنوان سے اپنے ایک مضمون کہ جسے سلواکیہ کے اخبار ’’ روزنامہ  پرودا‘‘ میں شائع کیاگیا ہے ’’پیٹر تکاک ‘‘نے سعودی عرب کو وہابی دہشتگردوں کا اصلی اسپانسر قراردیتے ہوئے کہاکہ سعودی عرب وہابی فکر کے ذریعے دنیا کے مختلف ممالک میں دہشتگردی پھیلا رہاہے۔

موصوف تجزیہ کار نے اپنے مضمون میں لکھاکہ سعودی عرب نے گذشتہ دوتین دہائیوں سے وہابی فکر کو دنیا کے مختلف علاقوں میں پھیلانے کیلئے 100 ارب ڈالر خرچ کئے ہے۔

انہوں نے کہاکہ آل سعود حکومت تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کو ناقابل یقین حد تک  حمایت پیش کرتی رہی ہے۔

انہوں نے لکھاکہ 1932 ءمیں آل سعود خاندان کے وجود میں آنے اورسعودی عرب میں تیل کی دریافت کے بعد امریکہ آل سعود خاندان کو اقتدار میں بنائےرکھنے کی جدوجہد کرتا رہاہے۔

 انہوں نے کہاکہ ٹرمپ حکومت کو سعودی عرب کہ جو تکفیری دہشتگردی کا حامی اوریمن میں عام شہریوں کا قتل عام کررہاہے کےساتھ تعلقات قائم کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

 انہوں نے ریاض دورے کے دوران طے پانے والے 350 ارب اسلحہ کے معاہدوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ بد قسمتی سے جب تک آل سعودکا خزانہ بھرا رہےگا امریکہ اس جابر حکومت کی پشت پناہی جاری رکھےگا۔

انہوں نے کہاکہ مغرب جو خلیجی رژیموں کےساتھ  سازشوں ، سیاسی جماعتوں اورجمہوریت کو دبانے میں مشغول ہے کو سیکولر اورجمہوری نہیں کہاجاسکتا ۔

قابل ذکر ہےکہ اس وقت سعودی عرب کے حمایت یافتہ دہشتگرد منجملہ داعش  اورالقاعدہ، افریقہ،ایشیا حتیٰ یورپ میں انصارالشریعہ  ،بوکوحرام اورالشباب کے ناموں کےساتھ سرگرم ہیں اوریہ عالمی سلامتی کیلئے  خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

اس بات پہ کوئی شک نہیں کہ اگر خطے کےدقیا نوسی عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اورمغربی ممالک کی حمایت اور مددنہ ہوتی تو دہشتگرد گروہ اپنے کاروائیوں کا دائرہ اس حد تک نہیں بڑھا سکتے  تکفیری دہشتگرد گروہ صرف عراق اورشام ہی نہیں بلکہ وہ شمالی افریقہ کے بہت سے ممالک مثلاً لیبیا ،مصر ،اورتیونس میں بھی سرگرم ہوچکے ہیں۔

دہشتگردی کی برآمد کو  تیل کے بعد سعودی عرب کی دوسری بڑی برآمد قراردیا جاسکتا ہے اورسعودی عرب تخریب کاری پر مبنی  اپنے اقدامات کی وجہ سے دنیا بھر میں دہشتگردانہ نظریات پروان چڑھانے  اوردہشتگردوں کی مددکرنے والے سب سے بڑے ملک میں تبدیل ہوچکا ہے۔


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر