تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور:عراقی وزیراعظم نے کہا ہے کہ نام نہادداعشی خلافت کی مذہبی علامت سمجھی جانے والی جامع مسجد النوری کی دھماکے میں شہادت دہشت گرد گروپ داعش کا اعتراف شکست ہے۔

نیوزنور:ایک صیہونی روزنامےنے اپنے ایک  مقالے میں لکھا ہے کہ سعودی شہزادے محمد بن سلمان جو اپنے والد کے خصوصی حکم پر سعودی عرب کے نئے ولیعہد منتخب ہوئے ہیں نے اپنا نیا عہدہ سنبھالنے سے قبل اعلی صیہونی حکام سے ملاقات کی ۔

نیوزنور:یمن کی تحریک انصاراللہ کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ صیہونی حکومت کے ساتھ مل کر علاقے پر تسلط جمانے کی کوشش کر رہا ہے-

نیوزنور:ایران کے ایک بزرگ شیعہ عالم دین نے ایک بیان میں داعش پر سپاہ کے جوابی حملے کو بہترین اور مضبوط دفاع قرار دیتے ہوئے کہا ہےکہ یوم القدس کی ریلی میں شرکت کرنا ملک اور عالم اسلام کی سلامتی کی ضامن ہے۔

نیوز نور: یمن کےسابق صدر  نے اپنے ایک بیان میں  تحریک انصاراللہ کےساتھ اتحاد جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہےکہ سعودی جنگی اتحاد کے خلاف یمنی عوام کی حتمی فتح یقینی ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
مشرق میں جنگ کا آغاز ؛ التنف سے پچاس کیلومیٹر اوپر؛
شام کی سرحد پر ہاتھ ملانے کا ماجرا؟

نیوزنور:شام کے مشرق میں سیاسی اور فوجی حالت کی پیچیدگی کا آغاز ہو گیا ہے ، اس مسئلے کی سنجیدہ شروعات التنف کی کشیدگی سے ہوئی تھی ۔ وہ مقام کہ جہاں امریکی فوجوں کے مستقر سے ۵۰ کیلومیٹر اوپر مقاومتی تحریک کی فوجیں عراق کی سرحد تک پہنچ چکی ہیں ۔

اسلامی بیداری صارفین۱۷۶۰ : // تفصیل

مشرق میں جنگ کا آغاز ؛ التنف سے پچاس کیلومیٹر  اوپر؛

شام کی سرحد پر ہاتھ ملانے کا ماجرا؟

نیوزنور:شام کے مشرق میں سیاسی اور فوجی حالت کی پیچیدگی کا آغاز ہو گیا ہے ، اس مسئلے کی سنجیدہ شروعات التنف کی کشیدگی سے ہوئی تھی ۔ وہ مقام کہ جہاں امریکی فوجوں کے مستقر سے ۵۰ کیلومیٹر اوپر مقاومتی تحریک کی فوجیں عراق کی سرحد تک پہنچ چکی ہیں ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق شام و عراق کے سیاسی عسکری امور کے ایک بین الاقوامی تجزیہ نگاروحید صمدی  نے شام ،عراق اور اردن کی مشترکہ  سرحد پر مقاومتی تحریک کی فو جیں پہنچنے کی پیشرفت کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ؛جمعہ9جون کے دن سے کہ جب مقاومتی تحریک کی فوجیں شام ،عراق اور اردن کی سرحدی تکون سے ۵۰ کیلومیٹر اوپر سرحد تک پہنچی ہیں بہت ساری تحلیلیں اور خبریں منتشر ہوئی ہیں کہ جو اس اہم  کامیابی پر خوشحالی کا باعث بنی ہیں ۔

لیکن ایک مسئلہ غلط طور پر منعکس ہوا ہے ، اور مجھے پتہ نہیں ہے کہ ایسا سہوا ہوا ہے یا جان بوجھ کر ، اور وہ یہ تھا کہ شام اور عراق کی فوجیں سر حد پر پہنچ چکی ہیں اور انہوں نے آپس میں ہاتھ ملائے ہیں ۔

یہ خبر ابھی درست نہیں ہے۔ مقاومت کی شامی فوجیں صوبہء حمص کے جنوب مشرق کی طرف سے عراق کی سرحد تک پہنچ چکی ہیں لیکن سرحد کے دوسری طرف کہ جو ابھی داعش کے وجود سے آلودہ ہے ابھی تک عراقی فوجیں نہیں پہنچی ہیں تا کہ ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملائیں (نقشہ نمبر ۳ ) یہ وہ چیز ہے کہ جو الحشد الشعبی کی رطبہ سے شام کی سرحد کی طرف پیشقدمی کے بعد امید ہے کہ جلد ہی وجود میں آئے گی ۔ (نقشہ نمبر ۴ ) بہتر ہے کہ عراق اور شام کی سرحد پر فوجوں کے ہاتھ ملانے اور ایران ،عراق شام اور لبنان کی سرحد  پر زمینی کوریڈور ایجاد کرنے کی تحلیل کو کسی اور وقت پر موکول کریں اور اس چیز کی پیشگی تحلیل نہ کریں کہ جو ابھی واقع نہیں ہوئی ہے ۔


بہتر ہے کہ اس سوال کا جواب دیا جائے کہ کیوں اچانک عراق اور شام کی سرحد اہمیت کی حامل ہو گئی ہے ۔ کیوں امریکہ نے التنف کی سرحدی گذر گاہ (عراق اور اردن کی سرحد ) پر فوج مستقر کی ہے ؟

مقاومتی تحریک اور شام کی فوج کے حلب سے فارغ ہونے کے بعد ، امریکہ نے شام کی تقسیم کا جو منصوبہ بنایا تھا مشرق میں اس کا مقابلہ کرنے کو ترجیح حاصل ہو گئی ۔ امریکہ نے جب سے کوبانی یعنی عین العرب میں اپنے قدم رکھے ہیں تو اس نے شام کے کردوں کے پتوں کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیا ہے ۔

امریکہ کا مقصد یہ تھا کہ شام کے کردوں کی حمایت کر کے شام کی شمالی پٹی کو اپنے کنٹرول میں کر لے اور اتنا آگے جائے کہ میڈیٹیرین کے ساحل تک پہنچ جائے ، اور کردوں کے مستقل ملک کی تشکیل یا کردوں کی مستقل موجودگی کا راستہ ہموار ہو جائے (نقشہ نمبر ۵) یہ وہ منصوبہ ہے کہ جس نے سب سے زیادہ ترکی کو وحشت زدہ کیا ہے ، اور سبب بنا کہ وہ مسلح گروہوں کے ساتھ مل کر صوبہء حلب کے اندر پیشقدمی کرے اور مشرق کے امریکہ کے حمایت یافتہ کردوں کو مغرب کی طرف بڑھنے سے روک دے (نقشہ نمبر ۶)

شام کی شمالی سر حد پر امریکہ کی مشرق سے مغرب کی جانب حرکت کے توقف کے بعد فورا ہی رقہ کی باری آئی ، اور کردوں نے تین طرف سے رقہ کا محاصرہ کر لیا تا کہ داعش کی خلافت کے پایتخت کا قصہ تمام کر دیں ۔ اس وقت صوبہء ادلب اور صوبہء حلب کے شمال کا کچھ حصہ ترکی یعنی اخوانی گروہوں جیسے احرار الشام کے کنٹرول میں ہے ۔ شہر حلب اور صوبہء حلب کا کچھ حصہ ، صوبہء حماۃ ، حمص ، لاذقیہ ، طرطوس اور دمشق کا زیادہ تر حصہ شام کی حکومت اور اس کے اتحادیوں کے قبضے میں ہے ۔ شام کی کردوں والی شمالی پٹی یعنی حسکہ اور احتمالا جلدی ہی صوبہ اور شہر رقہ ، امریکہ کے اختیار میں ہوں گے ۔ چنانچہ یہ مسئلہ خود بخود شام کی تقسیم کی کہانی بیان کر رہا ہے کہ جس نے ملک کو مغربی اور مشرقی دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے ۔

ایسی حالت میں اب وقت آ گیا ہے کہ ہر کھلاڑی اپنے منصوبے کو مکمل کرے ۔ اس بنا پر امریکہ کا شاید یہ مقصد ہے کہ شمال مشرقی حصے کو کہ جسے اس نے کردوں کے ساتھ مل کر ہتھیایا ہے ، جنوب مشرق کے ساتھ متصل کرے لہذا اس نے التنف میں نقل و حرکت کو تیز کر دیا ہے ۔ اور اس کے اطراف میں چند مقامات پر فوج مستقر کر دی ہے ۔

شام اور  مقاومتی  تحریک کی فوج نے بھی حلب اور اس کے مشرق کے بعد چند مقامات سے مشرق کی جانب پیشقدمی کا آغاز کر دیا ہے ۔  ایک مقام صوبہء حلب کے جنوب مشرق میں ہے کہ جو حماۃ اور رقہ میں داخل ہونے کا راستہ ہے وہاں سے ان کا مقصد احتمالا تدمر کے شمال مشرق میں سخنہ تک پہنچنا ہے ، اور اس کے بعد دیر الزور تک پہنچنا ہے (نقشہ نمبر ۱ )

دوسرا محور صوبہء دمشق کے مشرق کی جانب سے حرکت کر کے التنف کی گذر گاہ تک جانا تھا (نقشہ نمبر ۲ ) جس کو امریکہ کی طرف سے کئی دھکیاں ملیں اور امریکہ نے شام اور  مقاومتی  تحریک کی فوجوں کے آگے تقریبا ایک ۵۰ کیلو میٹر لمبی ڈیڈ لائن کھینچ دی ۔

اس کے مقابلے میں شام اور  مقاومتی  تحریک کا منصوبہ کہ جسے مکمل ہونا تھا وہ عراق کی سر حد پر کنٹرول کرنا تھا چاہے جنوب کی طرف سے ہو یا مشرق کی جانب سے ۔ لہذا  مقاومتی  تحریک کے محور نے فیصلہ کیا کہ عراق کے ساتھ شام کی جنوبی سرحد پر پہنچے چنانچہ الحشد الشعبی صوبہء نینوی کے مغرب کی طرف سے شام کی سرحد پر پہنچ گئی (نقشہ نمبر ۷ )    

امریکہ کہ جس نے تقریبا ۲۰۰ سپاہی تنف میں مستقر کر رکھے تھے ، سرخ لائن کھینچ کر اس نے  مقاومتی  تحریک کی فوجوں کو خبر دار کیا لیکن  مقاومتی  تحریک کی فوج نے اپنا فیصلہ کر لیا تھا ۔ اس نے امریکہ کی سرخ لائن کو پاوں تلے روند ڈالا ۔ امریکہ نے ان فوجوں کو نشانہ بنایا ، لیکن وہ فوجیں منصرف نہیں ہوئیں اور ایک طرح کی نرمی سے امریکہ کی سرخ لائن کو روند ڈالا اور آخر کار تنف سے ۵۰ کیلو میٹر اوپر کی طرف سے خود کو سر حد تک پہنچا دیا (نقشہ نمبر ۳ ) باخبر حضرات چاہے میری ان باتوں پر کوئی بھی نقطہ چینی کریں لیکن میں پھر بھی یہی کہوں گا کہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آخر کار ان فوجوں نے اپنا جھنڈا سرحد پر گاڑھ دیا ۔

ایک اور نکتہ کہ جو یہاں قابل بیان ہے وہ یہ ہے کہ کیا امریکہ کا ارادہ سر حد پر قبضہ کرنے کا ہے ؟ جواب یہ ہے کہ امریکہ کا مقصد لازمی طور پر یہ نہیں ہے بلکیہ شاید اس کا مقصد سرحد کے نزدیک چند نقاط پر کنٹرول حاصل کرنا ہو  کہ جن کے ذریعے وہ اردن میں تربیت یافتہ فوجوں کی حمایت کر سکے ۔ ہم یاد دلا دیں کہ ڈونالڈ ٹرامپ نے ریاض میں اعلان کیا کہ اب وہ وقت بیت چکا ہے کہ امریکہ اتحادیوں کے ساتھ لڑ ے بلکہ وہ اب  ان کی حمایت کرے گا۔

امریکہ کے کئی بار خبردار کرنے کے باوجود اس وقت کی صورتحال یہ ہے کہ امریکی فوجیں  مقاومتی  تحریک کے خلاف کوئی اقدام نہیں کرتیں ، اور جانتی ہیں کہ براہ راست اقدام براہ راست مقابلے پر منتہی ہو گا ، اس کے بعد کوئی ضمانت نہیں ہے کہ نتف میں جو امریکیوں کا ٹھکانہ ہے اس پر شام کے فوجیوں کے زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کی بارش نہ ہو ۔

لیکن ایران ، مقاومتی  تحریک اور شام کی فوج کا مقصد کیا ہے ؟ دو آشکارا مقاصد بالکل نمایاں ہیں پہلا شام اور عراق کی سرحد پر داعش کو پیچھے ہٹانا بلکہ بالکل نابود کرنا ہے ۔ علاقے میں ایران کے رقیبوں کے ذرائع ابلاغ کے پروپیگنڈوں سے ہٹ کر ، سبھی جانتے ہیں کہ جو داعش کی مکمل نابودی کے قصد سے اس کے خلاف بر سر پیکار ہے وہ ایران ہے ۔ دوسرا مقصد کہ جس کا ذکر ہو چکا ، امریکہ کو شام کے ٹکڑے کرنے میں اور مشرق کو اس سے الگ کرنے میں ناکام بنانا ہے ۔ نتیجے میں جو انہوں نے ایک فوجی کوریڈور ایران سے میڈیٹیرین تک بنانے کا ارادہ کیا ہے وہ بھی اس مقصد کا ایک حصہ ہے ۔

البتہ یہ کہنا ہو گا کہ جس طرح امریکہ مشرق وسطی میں اپنی قومی سلامتی کی بات کرتا ہے ، اسی طرح ایران کا بھی یہ قدرتی حق ہے کہ شام کی تقسیم کو اپنی قومی سلا متی کے خلاف قرار دے ، اور یہی وہ کر رہا ہے ۔امریکہ جانتا ہے کہ جب  مقاومتی  تحریک کے محور نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ  شام عالمی ٹائپ کی اس جنگ کے مقابلے میں ہزیمت سے دوچار نہ  ہو تو وہ اپنے ارادے پر قائم رہے گا ، اور اب جو اس نے ارادہ کیا ہے کہ وہ سرحد پر قبضہ کرے گا تو وہ یہ کام کر کے رہے گا ۔ لہذا سرحد پر براہ راست جنگ اگر چہ بالکل منتفی نہیں ہے لیکن بعید ہے کہ امریکہ اس راہ پر چلے گا ۔

امریکہ اور اس کے اتحادی جیسے سعودی عرب ، آیا اس انتظار میں ہیں کہ عربی نیٹو کو اسلامی فوجی گٹھ بندھن کے نام کے تحت داعش کے خلاف جنگ کے عنوان سے ایران کے خلاف تشکیل دیں اور تہران خاموش رہے ؟ جیسا کہ ۳۴ ہزار فوجیوں کا پہلا دستہ کہ ریاض میں جس کی تشکیل کا اعلان ہوا تھا جیسے ہی درعا کے نزدیک پہنچا تو اسے کچل دیا گیا ایسے ہی امریکیوں کی ہر نقل و حرکت جو  مقاومتی  تحریک کے نقصان میں طاقت کے توازن کو بگاڑنے کی کوشش کرے گی اس کا سختی سے جواب دیا جائے گا ۔

شام کے مشرق میں پیچیدگی تازہ تازہ شروع ہوئی ہے اور آگے پر فرازو نشیب دن اس کے انتظار میں ہیں ۔     

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر