تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور :معروف پاکستانی اہلسنت عالم دین اورچیئرمین تحریک لبیک یارسول اللہ (ص)نےلاہور میں سالانہ فکر امام حسینؑ کانفرنس سے خطاب کے دوران حضرت امام حسینؑ کی قربانی کو قیامت تک اہل اسلام کیلئے مشعل راہ قرار دہتے ہوئے کہا ہے کہ آپؑ کے سیرت و کردار سے اُمت مسلمہ کے قلوب قیامت تک منور ہوتے رہیں گے۔

نیوز نور : امریکہ میں قائم عالمی اسلامی مرکز کے سربراہ نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے پر ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر تنقید کرتے ہوئے اس سمجھوتے کو عالمی امن کی مزید مضبوطی کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں ایک امریکی شہری کی حیثیت سے اپنے صدر سے بالکل مایوس ہوچکا ہوں

نیوز نور : اسلامی جمہوریہ ایران کے ایک ممتاز شیعہ عالم دین اور حوزہ علمیہ کےاستاد نے نمازکو بحرانوں کی مینجمنٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عاشورا کا ایک اہم پیغام اورعاشورائی طرززندگی کی ایک اہم صفت نمازکو اول وقت پڑھنا ہے۔

نیوز نور : لبنان کے صدر نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے لبنان کے اندرونی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں اور اس مسئلے کا دعوی کرنے والے اپنے دعوے کے حوالے سے ثبوت بھی پیش نہیں کرسکتے۔

نیوز نور : پاکستان کے نامور اہلسنت عالم دین اور سنی تحریک کے سربراہ نے کہا ہے کہ امام عالمی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام نے ظالم و جابر کے سامنے ڈٹ جانے اور مظلوموں کیلئے آواز بلند کرنے کا درس دیا۔

  فهرست  
   
     
 
    
معروف ترک تجزیہ کار:
قطر کے بعد امریکہ کا اگلا ہدف ترکی ہے

نیوز نور:ترکی کے ایک معروف سیاسی مبصراورمشرق وسطیٰ امور کے ماہر نے  بحران قطرپر انقرہ کے موقف اوراس سفارتی تنازعے میں  بیرونی ممالک کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاہےکہ حکومت انقرہ نے واضح کردیا ہےکہ  خلیجی ممالک کے درمیان تنازعے میں وہ قطر کےساتھ کھڑا ہے۔

استکباری دنیا صارفین۵۱۲ : // تفصیل

معروف ترک تجزیہ کار:

قطر کے بعد امریکہ کا اگلا ہدف ترکی ہے

نیوز نور:ترکی کے ایک معروف سیاسی مبصراورمشرق وسطیٰ امور کے ماہر نے  بحران قطرپر انقرہ کے موقف اوراس سفارتی تنازعے میں  بیرونی ممالک کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاہےکہ حکومت انقرہ نے واضح کردیا ہےکہ  خلیجی ممالک کے درمیان تنازعے میں وہ قطر کےساتھ کھڑا ہے۔

عالمی اردوخبررساں ادارے’’نیوز نور‘‘کی رپورٹ کے مطابق  غیر ملکی ذرائع ابلاغ کےساتھ انٹرویو میں ’’سمیر صالحہ ‘‘نے  بحران قطرپر انقرہ کے موقف اوراس سفارتی تنازعے میں  بیرونی ممالک کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت انقرہ نے واضح کردیا ہےکہ  خلیجی ممالک کے درمیان تنازعے میں وہ قطر کےساتھ کھڑا ہے۔

انہوں نے کہاکہ حالیہ سالوں میں قطر اورترکی کے تعلقات  مستحکم ہوئے ہیں اس لئے دونوں ممالک کے  مشترکہ سیاسی واقتصادی مفادات کو  محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ  ترکی قطر  کو سیاسی حمایت  دیتا آرہاہے خاصکر گذشتہ سال ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کی دوحہ نے  پرزورالفاظ میں مذمت کی تھی۔

انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے بڑھتے تعلقات ہی اس بات کا سبب بنا ہےکہ  ترکی قطر میں فوجی اڈہ قائم کرنے جارہاہے۔

دریں اثنا انہوں نے تاکید کےساتھ کہاکہ سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کےساتھ تعلقات قائم کرنا انقرہ کیلئے انتہائی اہم ہے ۔

انہوں نے کہاکہ خلیج میں جو بحران پیدا ہوا ہے اورانقرہ نے  جو پوزیشن اپنائی ہوئی ہے یہ رجب طیب اردغان کے حکومت کیلئے  مسئلہ کھڑا کرسکتا ہے۔

انہوں نے تاکید کےساتھ کہاکہ قطری بحران کو اسلامی جمہوریہ ایران اورترکی جیسے  اہم علاقائی طاقتوں کی ثالثی کے بغیر حل کرنا ناممکن ہے۔

انہوں نے کہاکہ تمام اطراف کو قطر اوردیگر خلیجی ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو ایک فوجی تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنے کیلئے کردارادا کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہاکہ ترکی کو خوراک کی سپلائی اور اس ملک میں اپنے فوجیں تعینات کرنا  ایک اہم فیصلہ ہے تاہم ایران ،فرانس اورجرمنی ایسے دیگر ممالک ہیں جنہوں نے اس موجودہ بحران میں قطر کا ساتھ دیا ہیں۔

موجودہ خلیجی بحران کے ترکی پر مضر اثرات کے بارے میں انہوں نے کہاکہ ترکی کا عقیدہ ہےکہ قطر کے بعد  رجب طیب اردغان کی حکومت امریکہ کا اگلا ہدف ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ ترک قیادت اورماہرین کا ماننا ہیں کہ خلیجی ممالک امریکہ کی قیادت میں قطر کے بعد ترکی کو نشانہ بنانے والے ہیں جو ٹرمپ کےدورہ ریاض  کے بعد پوری طرح واضح ہوا ۔

تجزیہ نگار نےکہاکہ  ٹرمپ انتظامیہ علاقائی حکومتوں کو ضعیف  کرنے کے منصوبے  پر عمل پیرا ہے اوریہ ایک ایسا منصوبہ جس کی ترکی اورایران مخالفت کررہے ہیں۔

سمیر صالحہ نے کہاکہ بحران قطر کو صرف اورصرف خلیجی ریاستوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیاجاسکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ میرے خیال میں اس تنازعے میں ترکی اورایران کے ملوث ہونے سے یہ بحران مزید پیچیدہ ہوگا اس لئے  ترک وزیر خارجہ کو جتنا ہوسکے اتنا جلد ریاض اوردوبئی کا دورہ کرنا چاہئے۔


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر