تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور:ایرانی صدر کے معاون نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عالمی سطح پر غیر مہذبانہ رفتار امریکہ کے لئے شرم آور ہے جو دنیا میں سپر پاور ہونے کا مدعی ہے سعودی عرب ام الفساد اور دہشت گردی کے فروغ کا اصلی مرکز ہے جسے امریکی سرپرستی حاصل ہے۔

نیوزنور:روس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی سربراہی والا اتحاد دہشت گرد گروہ جبھۃ النصرہ کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

نیوزنور:بحرین کی تنظیم برائے انسانی حقوق کے صدر نے کہا ہے کہ آل خلیفہ کے ظلم وستم اور اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود بحرین میں انسانی حقوق کا کام بند نہیں کریں گے۔

نیوزنور:ایک امریکی روزنامے نے لکھا ہے کہ وائٹ ہاوس ایران پر حملہ کرنے کا بہانہ تلاش رہا ہے حالانکہ ٹرمپ کو ایرانی تاریخ سے عبرت حاصل کرنا چاہئے۔

نیوزنور:فلپائن کے صدرنے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکا کے دورے کی دعوت مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کبھی بھی امریکا نہیں جائیں گے۔

  فهرست  
   
     
 
    
معروف ترک تجزیہ کار:
قطر کے بعد امریکہ کا اگلا ہدف ترکی ہے

نیوز نور:ترکی کے ایک معروف سیاسی مبصراورمشرق وسطیٰ امور کے ماہر نے  بحران قطرپر انقرہ کے موقف اوراس سفارتی تنازعے میں  بیرونی ممالک کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاہےکہ حکومت انقرہ نے واضح کردیا ہےکہ  خلیجی ممالک کے درمیان تنازعے میں وہ قطر کےساتھ کھڑا ہے۔

استکباری دنیا صارفین۴۸۹ : // تفصیل

معروف ترک تجزیہ کار:

قطر کے بعد امریکہ کا اگلا ہدف ترکی ہے

نیوز نور:ترکی کے ایک معروف سیاسی مبصراورمشرق وسطیٰ امور کے ماہر نے  بحران قطرپر انقرہ کے موقف اوراس سفارتی تنازعے میں  بیرونی ممالک کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاہےکہ حکومت انقرہ نے واضح کردیا ہےکہ  خلیجی ممالک کے درمیان تنازعے میں وہ قطر کےساتھ کھڑا ہے۔

عالمی اردوخبررساں ادارے’’نیوز نور‘‘کی رپورٹ کے مطابق  غیر ملکی ذرائع ابلاغ کےساتھ انٹرویو میں ’’سمیر صالحہ ‘‘نے  بحران قطرپر انقرہ کے موقف اوراس سفارتی تنازعے میں  بیرونی ممالک کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت انقرہ نے واضح کردیا ہےکہ  خلیجی ممالک کے درمیان تنازعے میں وہ قطر کےساتھ کھڑا ہے۔

انہوں نے کہاکہ حالیہ سالوں میں قطر اورترکی کے تعلقات  مستحکم ہوئے ہیں اس لئے دونوں ممالک کے  مشترکہ سیاسی واقتصادی مفادات کو  محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ  ترکی قطر  کو سیاسی حمایت  دیتا آرہاہے خاصکر گذشتہ سال ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کی دوحہ نے  پرزورالفاظ میں مذمت کی تھی۔

انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے بڑھتے تعلقات ہی اس بات کا سبب بنا ہےکہ  ترکی قطر میں فوجی اڈہ قائم کرنے جارہاہے۔

دریں اثنا انہوں نے تاکید کےساتھ کہاکہ سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کےساتھ تعلقات قائم کرنا انقرہ کیلئے انتہائی اہم ہے ۔

انہوں نے کہاکہ خلیج میں جو بحران پیدا ہوا ہے اورانقرہ نے  جو پوزیشن اپنائی ہوئی ہے یہ رجب طیب اردغان کے حکومت کیلئے  مسئلہ کھڑا کرسکتا ہے۔

انہوں نے تاکید کےساتھ کہاکہ قطری بحران کو اسلامی جمہوریہ ایران اورترکی جیسے  اہم علاقائی طاقتوں کی ثالثی کے بغیر حل کرنا ناممکن ہے۔

انہوں نے کہاکہ تمام اطراف کو قطر اوردیگر خلیجی ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو ایک فوجی تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنے کیلئے کردارادا کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہاکہ ترکی کو خوراک کی سپلائی اور اس ملک میں اپنے فوجیں تعینات کرنا  ایک اہم فیصلہ ہے تاہم ایران ،فرانس اورجرمنی ایسے دیگر ممالک ہیں جنہوں نے اس موجودہ بحران میں قطر کا ساتھ دیا ہیں۔

موجودہ خلیجی بحران کے ترکی پر مضر اثرات کے بارے میں انہوں نے کہاکہ ترکی کا عقیدہ ہےکہ قطر کے بعد  رجب طیب اردغان کی حکومت امریکہ کا اگلا ہدف ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ ترک قیادت اورماہرین کا ماننا ہیں کہ خلیجی ممالک امریکہ کی قیادت میں قطر کے بعد ترکی کو نشانہ بنانے والے ہیں جو ٹرمپ کےدورہ ریاض  کے بعد پوری طرح واضح ہوا ۔

تجزیہ نگار نےکہاکہ  ٹرمپ انتظامیہ علاقائی حکومتوں کو ضعیف  کرنے کے منصوبے  پر عمل پیرا ہے اوریہ ایک ایسا منصوبہ جس کی ترکی اورایران مخالفت کررہے ہیں۔

سمیر صالحہ نے کہاکہ بحران قطر کو صرف اورصرف خلیجی ریاستوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیاجاسکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ میرے خیال میں اس تنازعے میں ترکی اورایران کے ملوث ہونے سے یہ بحران مزید پیچیدہ ہوگا اس لئے  ترک وزیر خارجہ کو جتنا ہوسکے اتنا جلد ریاض اوردوبئی کا دورہ کرنا چاہئے۔


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر