تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور :17 نومبر/ میانمار فوج کے سربراہ نے کہاہے کہ بدھ مت کے پیروکاروں کے راضی ہونے تک بنگلادیش ہجرت کر جانے والے روہنگیا مسلمان واپس نہیں آسکتے، روہنگیائی افراد کی اپنے گھروں کی واپسی میانمار کے حقیقی باشندوں کی رضامندی سے ہوگی اور اس مقصدکے لیے سب سے پہلے بدھ پرستوں کو راضی کرنا پڑے گا ۔

نیوز نور :17 نومبر/ عراقی فوج اور سیکورٹی فورس نے مغربی صوبے الانبار کے شہر راوہ کو بھی تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے قبضے سے آزاد کرا لیاہے۔

نیوز نور :17 نومبر/ ترکی کے صدر نے مغربی ممالک پر شامی کردوں کی حمایت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن ممالک نے داعش کو تشکیل دیا تھا وہی آج شام کے کردوں کو مسلح کررہے ہیں۔

نیوز نور :17 نومبر/ تہران کےخطیب جمعہ نے خطے کے حساس شرائط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاہےکہ  مسلمانوں کو باہمی اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ دشمنوں کے منصوبوں کو ناکام بنانا چاہیے۔

نیوز نور :17 نومبر/ جرمن وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یورپی ممالک سعودی اقدامات اور مہم جوئی پر کسی بھی صورت میں خاموش نہیں رہیں گے۔

  فهرست  
   
     
 
    
امریکی عربی ٹی وی "پی بی ایس "کے ساتھ ایک انٹرویو میں ؛
علاقے کے مسائل کے بارے میں قطر کے وزیر اعظم کا اختلافی بیان؛قطر نے امریکہ نے اور سبھی نے شام میں غلطی کی

نیوزنور:قطر کے سابقہ وزیر اعظم نے" پی بی ایس" کے چارلی رز پروگرام کے ساتھ گفتگو میں اعتراف کیا کہ امریکہ اور خلیج فارس کے عرب ملکوں نے شام میں غلطی کی ہے ۔

اسلامی بیداری صارفین۱۶۱۵ : // تفصیل

امریکی عربی ٹی وی "پی بی ایس "کے ساتھ ایک انٹرویو میں ؛

علاقے کے مسائل کے بارے میں قطر کے وزیر اعظم کا اختلافی بیان؛قطر نے امریکہ نے اور سبھی نے شام میں غلطی کی

نیوزنور:قطر کے سابقہ وزیر اعظم نے" پی بی ایس" کے چارلی رز پروگرام کے ساتھ گفتگو میں اعتراف کیا کہ امریکہ اور خلیج فارس کے عرب ملکوں نے شام میں غلطی کی ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ، قطر کے سابق وزیر اعظم شیخ حمد بن جاسم آل ثانی نے چارلی رز پروگرام کے ساتھ گفتگو میں سعودی عرب اور  خلیج فارس کے بعض عرب ملکوں کے قطر سے تعلقات ختم کرنے کے بارے میں کہا : ہمیں ان ملکوں کے تعلقات منقطع کرنے پر حیرت ہوئی ہے ۔ ہمارے امیر اس کانفرنس یعنی ریاض کے اجلاس میں گئے تھے ۔ میرے خیال میں  اس کی امریکہ کے صدر کے ساتھ ملاقات اچھی رہی تھی ، اسی طرح دونوں ملکوں اور دوسرے ملکوں کے بارے میں کچھ موضوعات کے بارے میں بات  ہوئی تھی ۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھی ؛ اس وقت وہ کہتے ہیں کہ ہم ایران کے ساتھ ہمدردی کا احساس اور خصوصی روابط رکھتے ہیں ، اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ ہم دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی مالی مدد کرتے ہیں ۔ پہلی فرصت میں ہم ایران کے بارے میں بتا دیں کہ تجارتی تعلقات کے سلسلے میں قطر کی ایران کے ساتھ تجارت دوسرے ملکوں کے ہزارویں حصے کے برابر ہے ۔

قطر ایران کے ساتھ اچھے اور معمول کے روابط رکھنے کے لیے کوشش جاری رکھے گا ،

حمد بن جاسم آل ثانی نے وضاحت کی : شام کے مسئلے میں اور شام کی جنگ کو لے کر  اختلاف رکھتے ہیں، جی ہاں ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ اچھے اور نارمل تعلقات رکھیں ، اس لیے کہ ہم دو ہمسایہ ملک ہیں اور ہم نے مشترکہ طور پر گیس کا ایک میدان بنایا ہے اور یہ ایک قانونی اور معمولی مسئلہ ہے ۔

قطر کے سابقہ وزیر اعظم نے آگے کہا : صرف  خلیج فارس تعاون کونسل ، جی سی سی کے ملک نہیں ہیں کہ جو ایک دوسرے کے ساتھ اچھے روابط رکھتے ہیں ، لیکن یہ کہ ہم خلیج فارس کے تعاون ملکوں کے اپنے بھائیوں کے اتحاد  کے خلاف جا کر ایران کے ساتھ خاص تعلقات رکھتے ہیں ، یہ بالکل اشتباہ ہے ۔

انہوں نے اس کے بعد قطر کے اوپر دہشت گردوں کا تعاون کرنے کے الزام کی جانب اشارہ کیا اور کہا : اگر دہشت گردی کی بحث چھیڑیں تو ۱۱ ستمبر کے حملوں کے بعد قطر امریکہ کا ایک شریک شمار ہوتا ہے ۔ امریکہ نے جب اپنی فوج قطر کی سر زمین پر اتاری تو اس نے اپنے ٹھکانے بنانے سے پہلے ہمارے تمام ٹھکانوں کو استعمال کیا ۔ جب وہ سعودی عرب سے قطر آئے تھے تو ہم نے راتوں رات ان کو مسلح کر دیا تھا ۔ اگر آپ کو یاد ہو کہ بن لادن نے اس زمانے میں کہا تھا کہ کوئی بھی اسلامی ملک امریکی فوج کا استقبال نہ کرے ۔ ہم نے اس زمانے میں آپ کی فوج کو جگہ دی اور سارے گناہ اپنی گردن پر لے لیے ۔

قطر کے اس ڈیپلومیٹ نے تصریح کی : اس زمانے سے قطر  افغانستان ، یمن ،اور شام وغیرہ کی جنگ میں تمہارے شریک میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ ہم نے تمہاری فوجوں کی جو ہمارے ملک میں تھیں مکمل حفاظت کی اور ان برسوں میں ہم آپ کے میزبان تھے ، یہی وجہ ہے کہ جب ہم نے یہ سنا کہ ہم پر دہشت گردی کی  حمایت کا الزام لگایا گیا ہے تو ہمیں بہت تعجب ہوا ۔ ہم کس دہشت گردی کی حمایت کر رہے ہیں ؟

انہوں نے قطر پر لگائے گئے الزامات منجملہ اس ملک کی  جانب سے اخوان المسلمیں ،حماس اورایران کی طرف اشارہ کیا اور کہا : خلیج فارس کے ملکوں میں سے کون ساا یسا ملک ہے جس نے ایران کو الگ تھلگ کیا ہے ؟  ہم نے یہ کام نہیں کیا ہے انہوں نے ایران سے سیاسی تعلقات توڑے  اور خلیج فارس تعاون کونسل سے درخواست کی لیکن  ہم نے اس کی مخالفت کی ، انہوں نے ایران میں اپنے سفارتخانوں کو بند کرنے یا اپنے ملکوں میں ایران کے سفارتخانوں کو بند کرنے کے مسئلے کوخلیج فارس تعاون کونسل میں نہیں رکھا یہاں تک کہ اس کے بارے میں سوچا بھی نہیں گیا لیکن انہوں نے قطر کے ساتھ ایسا کیا ۔

لوگوں نے اخوان المسلمین کو ووٹ دے کر منتخب کیا فوج نے ان کو بر طرف کر دیا ،

حمد بن جاسم آل ثانی نے مصر کے اخوان المسلمین کے بارے میں بات کی اور کہا : اخوان المسلمین ایک بڑا نام ہے جس کی مختلف قسمیں ہیں ۔ ان میں سے کچھ تو دنیا کے ہر ملک کا ایک حصہ ہیں ، بعض ملکوں میں وہ پارلیمنٹ کا ایک حصہ شمار ہوتے ہیں ، ان میں سے کچھ تہاجم کے در پے ہیں جن کے ہم خلاف ہیں ۔ ان میں سے کچھ صلح پسند ہیں ۔ ہمیں تشخیص دینا ہو گی کہ ہمارا مقابلہ کس نوعیت کے اخوان المسلمین کے ساتھ ہے ۔ مصر میں اس ملک کے لوگوں نے اخوان المسلمیں کو منتخب کیا ، مگر مصر کی فوج اور السیسی نے ان کو بر طرف کیا ۔ لیکن امیر قطر پہلا شخص تھا کہ جب السیسی بر سر اقتدار آیا تو اس نے اس کی حمایت کی ۔

اس نے بات آگے بڑھائی : مصر کے اندر داخلی مشکلات زیادہ ہیں ، ان کو ایسے شخص کی ضرورت ہے جو انہیں قصور وار ٹھہرائے ۔ کیا آپ یہ سوچتے ہیں کہ قطر ایسا کرنے کی طاقت رکھتا ہے کہ وہ مصر کے موجودہ اقتصادی حالات کو بدل دے ؟ اربوں ڈالر کے باوجود کہ جو ہمسایہ ملک سے اس ملک کو مل رہے ہیں ، مصر کو اپنے ملک کے اندر زیادہ اقدامات کرنا چاہییں ۔ میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ مصر دنیا میں ایک طاقتور ملک بن کر ابھرے اس لیے کہ مصر ایک بڑا عربی ملک ہے ۔

اس قطری ڈیپلومیٹ نے تصریح کی : ٹیونس میں بھی تبدیلی ہوئی ہے ایک اسلامی حکومت برسر اقتدار تھی جس کو ہٹا دیا گیا ایک اور حکومت سامنے آئی ، لیکن دیکھیے کہ ہم دوسری حکومتوں کے ساتھ کہ جو اخوان المسلمین نہیں ہیں ، کس طرح تعاون کر رہے ہیں ۔ ہم اس وقت  ٹیونس کی مالی امداد کر رہے ہیں ۔ وہ اخوان المسلمین نہیں ہیں پھر بھی ہم ان کی حمایت کر رہے ہیں ۔ ہم حقیقت میں ہر اس ملک کے ثبات میں کہ جو ہم سے مدد کی درخواست کرتا ہے حمایت کرتے ہیں ۔

انہوں نے ایک سوال پوچھا : قطر کو علاقے کے اخوان المسلمین یا دوسرے ملک کے ذریعے افراتفری کا شکار ہونے سے کیا فائدہ ہو گا ؟

شام میں ہم سب سے حتی امریکہ سے غلطی ہوئی ہے ۔

قطر کےسابقہ وزیر اعظم نے ایک سوال میں شام میں بعض گروہوں کی حمایت کے بارے میں کہا : شام میں سب نے غلطی کی ہے ۔ جب شام میں انقلاب آیا ہم کاروائیوں کے دو دھڑوں کی صورت میں سرگرم عمل ہوئے ۔ ایک اردن میں اور دوسرا ترکی میں۔ کاروائی کا پہلا دھڑا اردن میں تھا کہ کچھ ملک ان کے درمیان میں جیسے خلیج فارس کونسل کے ملک منجملہ سعودی عرب ، امارات ، قطر دکھائی دیتے ہیں امریکہ اور دوسرے ملکوں کے ساتھ مل کر وہاں سے کاروائی کر رہے تھے ۔ اور ہم سبھی ایک گروہ کی حمایت کر رہے تھے ۔ ترکی میں بھی ہم وہی کام کر رہے تھے ۔ وقت گذرنے کے ساتھ ہم متوجہ ہوئے کہ جن گروہوں کی ہم حمایت کر رہے ہیں ان کا پروگرام کچھ اور ہی ہے اور جس وقت ہمیں اپنے دوستوں کے ذریعے پتہ چلا کہ یہ گروہ جو شام میں ہیں یہ اچھے لوگ نہیں ہیں تو ہم نے ایک ایک کر کے ان کو الگ کر دیا ۔

اس نے امریکہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا : آپ نے بھی ایک زمانے میں غلط گروہوں کی حمایت کی تھی ۔ لیکن کچھ مدت کے بعد ان کی حمایت روک دی ۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم وہاں اشتباہ کے مرتکب نہیں ہوئے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کیا ہم نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے ؟ نہیں یہ درست نہیں ہے ۔

قطر کے اس ڈیپلومیٹ نے تصریح کی : اگر شام میں دہشت گردوں کا کام تمام ہو جائے تو وہ کیا کریں گے ۔ وہ قطعا ہماری طرف آئیں گے ۔ یہ بالکل طبیعی ہے ۔ کیا ہم خطرے کی زد پر نہیں ہیں ؟ ہم خطرے کی زد پر ہیں ۔

ایران کے ساتھ فکری جنگ کے لیے ہمیں زیادہ ہوشمند بننا پڑے گا ،

انہوں نے ریاض اور ایران کے درمیان علاقائی مشکلات کے بارے میں کہا : علاقے میں بہت کم مشکلات ہیں ایک مشکل یہ ہے کہ ایران کا طرز عمل علاقے میں درست نہیں ہے ۔ میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ ایران شام ،یمن ،لبنان اور عراق میں جو کر رہا ہے اس سے وہ پورے علاقے کے امن کو متزلزل کر رہا ہے ، اور اگر ہم ایران کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں زیادہ ہوشیار ہونا پڑے گا ۔ البتہ میری مراد ہتھیار کی جنگ نہیں ہے بلکہ فکری جنگ ہے ۔

حمد بن جاسم آل ثانی نے توضیح کی : ہماری مشکل یہ ہے کہ خلیج فارس تعاون کونسل میں ہمارے پاس جنگ کے طریقہء کار کی کوئی حکمت عملی نہیں ہے ۔ ہم بعض اوقات ایسے کام کرتے ہیں کہ تا کہ حملوں کا مقابلہ کریں ۔ مشکل ہمارے ذہن کی بے ثباتی ہے ، لہذا ہمیں ایران کے حملوں کا مقابلہ کرنے اور اسی طرح علاقے میں مداخلت نہ کرنے کا راستہ تلاش کرنا چاہیے لیکن کیا آپ قطر کو الگ تھلگ کر کے ایسا کر سکتے ہو ؟

قطر کے خلاف الزامات کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے ،

قطر کی حاکمیت اور ملکی سالمیت اس ملک کا سب سے اہم مسئلہ ہے ، اور ہم آخری دم تک اس کا دفاع کریں گے ۔ قطر پر لگائے گئے حالیہ کسی بھی الزام کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے ۔ کیا قطر پر پابندی لگانا اچھا کام ہے ؟ تو پھر بین الاقوامی قوانین کہا گئے ؟ انہوں نے قطر پر غذائی پابندی لگائی ہے سمندری اور ہوائی راستوں کو بند کر دیا ہے ، انہوں نے اس سے پہلے غزہ کے خلاف بھی ایسا اقدام کیا تھا، اور سب نے اور آپ امریکہ والوں نے کہا تھا کہ یہ غلط اقدام ہے ۔

قطر کے خلاف اقدامات نے بتا دیا ہے کہ خلیج فارس تعاون کونسل کے ملکوں کے قوانین میں کوئی ثبات نہیں ہے ۔

اس نے قطر کے خلاف ریاض اور خلیج فارس کےدوسرے ملکوں کے اقدامات کے بارے میں کہا : ان اقدامات نے خلیج فارس تعاون کونسل میں بہت ساری چیزوں کو بدل دیا ہے ، اس صورت میں کہ اس کونسل کے ارکان میں سے کوئی بھی کسی بھی وجہ سے یا بغیر کسی وجہ کے نیند سے اٹھیں اور کہیں کہ وہ ایک ملک سے اپنا رابطہ توڑنا چاہتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ خلیج فارس تعاون کونسل کے جو یہ چھ ملک ہیں ان کے قوانین میں کوئی ثبات نہیں ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ نہیں ہیں۔

قطر کے اس عہدیدار نے ایک مثال کے ذریعے وضاحت کی : سوچیے کہ یورپ کے دو ملکوں کے درمیان مشکل پیدا ہو جائے تو کیا وہ سرحدوں کو ایک دوسرے پر بند کر دیں گے یا یہ کہ مسئلہ کو یورپین یونین میں لے جائیں گے ؟

قطر اور سعودی عرب کے درمیان اختلاف کے سلسلے میں امریکہ کا موقف شفاف نہیں ہے ۔

قطر کے اس ڈیپلومیٹ نے اس مشکل سے نمٹنے کے سلسلے میں جو قطر اور خلیج فارس کے دوسرے عرب ملکوں کے درمیان پیدا ہوئی ہے  امریکہ کے موقف کی طرف اشارہ کیا اور کہا : امریکہ کہ جو سعودی عرب اور قطر دونوں ملکوں کا حلیف ہے اس نے قطر اور ریاض کے درمیان مشکل کو حل کرنے میں شفاف عمل نہیں کیا ہے ۔ امریکہ کو اس مشکل سے نمٹنے میں انصاف سے کام لینا چاہیے تھا اور اسے دیکھنا چاہیے تھا کہ کس طرح اس مشکل کو حل کیا جائے ۔

اس نے اس سوال کے جواب میں کہ آیا سعودیہ والے اس کے پیچھے ہیں ، کہا : یہ وہ چیز نہیں ہے کہ جس کا میں عقیدہ رکھوں ۔ انہوں نے خود اس چیز کا اعلان کیا ہے ۔ انہوں نے خود اعلان کیا ہے اور امارات والوں نے خود بھی اس کا اعلان کیا ہے ۔ جتنا بڑا قدم انہوں نے قطر کے خلاف اٹھایا ہے اس کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔

امریکہ کو زیادہ احتیاط کے ساتھ موقف  اختیار کرنا چاہیے ،

اس قطری ڈیپلومیٹ نے  اس مسئلے کے سلسلے میں امریکہ کے موقف پر رد عمل دکھاتے ہوئے کہا : کسی بھی طرح کی ثالثی جب تک صحیح گواہ نہ مل جائیں فریقین کے درمیان متنازعہ مسئلے کے سلسلے میں غیر جانبدارانہ ہو نا چاہیے ۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ  ٹرامپ کہ جس کا میں احترام کرتا ہوں ، میرا خیال ہے کہ اس نے اصلی  اسناد و مدارک کو دیکھے بغیر قطر کے خلاف موقف اپنایا ہے ، میں سوچتا ہوں کہ امریکہ کو ایک بڑے ملک کے عنوان سے اور سپر پاور ہونے کے اعتبار سے زیادہ احتیاط کے ساتھ موقف اختیار کرنا چاہیے ۔

اس نے اپنی بات جاری رکھی : میں امریکہ پر تنقید کرتا ہوں اس لیے کہ وہ ہمارا حلیف ہے ، اور ہمیں ان سے توقع ہے کہ وہ منصفانہ موقف اختیار کریں ۔ہمیں توقع  نہیں ہے کہ وہ ہماری مدد کریں بلکہ وہ منصفانہ موقف اپنائیں ۔

اس قطری ڈیپلومیٹ نے وضاحت کی : مجھے اطمئنان ہے کہ امریکہ آخر میں صحیح قدم اٹھائے گا ، اس لیے کے ان کے یہاں ایسے ادارے ہیں جو اس مسئلے کے بارے میں تحقیق کریں گے اور سمجھ جائیں گے کہ یہ فرضیےاور تھیوریاں درست نہیں ہیں ۔

قطر کا ایران کی حمایت کرنا ایک بڑا مذاق ہے ،  

انہوں نے وضاحت کی : قطر کا ایران کی حمایت کرنا ایک بڑا لطیفہ ہے ۔ صرف ایک واقعے کو بتائیں کہ جس میں ہم نے ایران کی مدد کی ہو ۔ کوئی ایسا واقعہ نہیں ہے ۔ ہمارے درمیان معمول کے تعلقات ہیں لیکن ہمارے روابط اونچی سطح کے نہیں ہیں ۔ اگر ایران کے ساتھ ہمارے روابط اونچی سطح کے ہوتے ، تو شام میں ہم ان کے خلاف جنگ نہ کرتے ۔ یہ بالکل ایک مذاق ہے ۔

ہم اس بات کو نہیں مانیں گے کہ کوئی ملک ہمیں اپنی پالیسیاں سکھائے ،

اس قطری ڈیپلومیٹ نے اس چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ریاض کا دوسرے عرب ملکوں کے سا تھ جو مسئلہ ہے وہ قطر ایران کے مابین نہیں ہے  کہا : اگر ایران موضوع ہوتا تو ہم تیار تھے کہ ان کے ساتھ گفتگو شروع کریں ۔ لیکن جو مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ بعض ملک چاہتے ہیں اپنی پالیسیاں ہم پر تھوپیں لیکن ہم اس چیز کو نہیں مانتے ۔ ہم  آزاد ملک ہیں اور ہمیں حق ہے کہ اپنی پالیسیوں کو جب کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہیں آگے بڑھائیں ۔

خلیج فارس تعاون کونسل کے درمیان شگاف پڑ گیا ہے ،

اس نے خلیج فارس تعاون کونسل پر تنقید کرتے ہوئے کہا : یہ بحران سنجیدہ ہے اس لیے کہ خلیج فارس تعاون کونسل کے درمیان جو شگاف پڑا ہے ، مجھے نہیں معلوم کہ یہ کیسے بھرے گا ۔ امریکہ کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے  کہ وہ ثالثی کرنا چاہتے ہیں ۔ ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ وہ اگر ثالثی کرنا چاہتے ہیں تو کیا سامنے آتا ہے ۔امید وار ہوں کہ امریکہ اور اس کا تعاون اس نتیجے پر پہنچے اور مشخص ہو جائے کہ قطر پر تنقید کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔

خلیج فارس تعاون کونسل اس وقت ایک پٹھو گروہ ہے ،

اس نے تصریح کی : خلیج فارس تعاون کونسل کے تمام ملک امریکہ کے ساتھ خاص روابط رکھتے ہیں ، اور امریکہ کی مداخلت اگر صحیح جہت میں ہو تو کارساز ہو سکتی ہے ۔

اس قطری ڈیپلومیٹ نے درپیش مشکل کو حل کرنے کی کیفیت کے بارے میں کہا : خلیج فارس تعاون کونسل کو چاہیے کہ سرگرم عمل ہو جائے اس لیے کہ یہ کونسل اس وقت ایک پٹھو کونسل ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ امریکہ خلیج فارس کے تمام ملکوں کا حلیف ہونے کے اعتبار سے اس کو سب ملکوں کی مساوی حمایت کرنا چاہیے ۔ قطر اگر قصور وار ہوگا تو یقینا اس کا اعتراف کرے گا اور اس کی تلافی کرے گا ۔

اس نے غزہ کی حمایت کے بارے میں کہا : سبھی اس مسئلے سے واقف ہیں کہ ہم غزہ میں بجلی پہنچانے کے سلسلے میں مدد کر رہے ہیں وہ گھر جو ۲۰۰۵ میں تباہ ہو گئے تھے ہم نے ان کی دوبارہ تعمیر میں کچھ مدد کی ہے ۔ جب پہلی بار فلسطین میں انتخابات ہوئے تو امریکہ نے اس وقت ہمیں مجبور کیا کہ ہم قطر کے ساتھ گفتگو کریں اور ان کو اجازت دیں کہ وہ انتخابات میں شرکت کریں ۔ انہوں نے انتخابات میں شرکت کی ، کامیاب بھی ہوئے ، لیکن بعد میں ان کو برطرف کر دیا گیا ۔    


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر