تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور :17 نومبر/ میانمار فوج کے سربراہ نے کہاہے کہ بدھ مت کے پیروکاروں کے راضی ہونے تک بنگلادیش ہجرت کر جانے والے روہنگیا مسلمان واپس نہیں آسکتے، روہنگیائی افراد کی اپنے گھروں کی واپسی میانمار کے حقیقی باشندوں کی رضامندی سے ہوگی اور اس مقصدکے لیے سب سے پہلے بدھ پرستوں کو راضی کرنا پڑے گا ۔

نیوز نور :17 نومبر/ عراقی فوج اور سیکورٹی فورس نے مغربی صوبے الانبار کے شہر راوہ کو بھی تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے قبضے سے آزاد کرا لیاہے۔

نیوز نور :17 نومبر/ ترکی کے صدر نے مغربی ممالک پر شامی کردوں کی حمایت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن ممالک نے داعش کو تشکیل دیا تھا وہی آج شام کے کردوں کو مسلح کررہے ہیں۔

نیوز نور :17 نومبر/ تہران کےخطیب جمعہ نے خطے کے حساس شرائط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاہےکہ  مسلمانوں کو باہمی اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ دشمنوں کے منصوبوں کو ناکام بنانا چاہیے۔

نیوز نور :17 نومبر/ جرمن وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یورپی ممالک سعودی اقدامات اور مہم جوئی پر کسی بھی صورت میں خاموش نہیں رہیں گے۔

  فهرست  
   
     
 
    
اسرائیل ہیوم؛
قطر کے ساتھ سعودی عرب کا سلوک اس کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے /ایران کے خلاف عربوں کا اتحاد اسرائیل کے لیے سنہری موقعہ ہے

نیوزنور:صہیونی حکومت کے ایک سابقہ سے پہلے عہدیدار نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ قطر کے ساتھ سعودی عرب کا برتاو اس کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے ، اس امید کا اظہار کیا کہ خلیج فارس کے عرب ملک ایران کے خلاف متحدہ محاذ بنا لیں گے ۔

استکباری دنیا صارفین۵۴۸ : // تفصیل

اسرائیل ہیوم؛

قطر کے ساتھ سعودی عرب کا سلوک اس کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے /ایران کے خلاف عربوں کا اتحاد اسرائیل کے لیے سنہری موقعہ ہے

نیوزنور:صہیونی حکومت کے ایک سابقہ سے پہلے عہدیدار نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ قطر کے ساتھ سعودی عرب کا برتاو اس کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے ، اس امید کا اظہار کیا کہ خلیج فارس کے عرب ملک ایران کے خلاف متحدہ محاذ بنا لیں گے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی صہیونی ویبسایٹ ، اسرائیل ہیوم ، نے ایک مضمون میں ، جو اس حکومت کے سابقہ عہدیداروں میں سے ایک ریٹائرڈ جنرل یاکوف عامیڈور  کے قلم سے ہے ، خلیج فارس تعاون کونسل کے ملکوں میں پڑنے والی دراڑ کو کمزوری کی علامت قرار دیا ہے اور لکھا ہے : خلیج فارس کے کچھ ملکوں کا قطر سے سیاسی  روابطہ توڑنے کا فیصلہ جہان عرب اور علاقے کے سنی ملکوں میں ایک واقعی رہبر نہ ہونے کی وجہ سے علاقے میں ایک گہرے بحران کی نشاندہی کرتا ہے ۔

لکھنے والے نے اس موقعے سے اسرائیل کے فائدہ اٹھانے کے لیے اس کو ایک مناسب موقعہ قرار دیتے ہوئے لکھا ہے : سعودی عرب ، بحرین ، امارات ، مصر اور یمن اور دوسرے ملکوں نے جو قطر سے روابط منقطع کیے ہیں ، یہ کمزوری کی دلیل ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اس بات پر قادر نہیں ہیں کہ اپنے بنیادی طرز عمل کو جزیرے کے ایک چھوٹے امیر نشین پر تھوپ سکیں ، اور جہان عرب میں گہرے بحران اور رہبریت کے فقدان کی علامت ہے ۔

لکھنے والے نے قطر کی پالیسیوں  اور سعودی عرب کی رہبری والے عربی بلاک کے ایران کے طاقت پکڑنے سے خوفزدہ ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے  کے  لکھا ہے: قطر اپنے ہمسایوں کے برخلاف اپنی مستقل سیاست پر چل رہا ہے ۔ قطر ایسی حالت میں کہ علاقے میں سب سے بڑے امریکی فوجی مرکز کا میزبان ہے ، ایران کے ساتھ کہ جو علاقے میں امریکہ کا سب سے بڑا رقیب ہے گرم اور صمیمی روابط رکھتا ہے ۔

اس رپورٹ میں آگے آیا ہے : قطر اسرائیل کے مقابلے میں دوغلی پالیسی رکھتا ہے۔ ایک طرف اسرائیلیوں کو یہ موقعہ فراہم کرتا ہے  کہ وہ اس ملک کا دورہ کریں اور اس ملک کے ہوائی راستوں سے پرواز کریں ، حالانکہ دوسری طرف وہ حماس کے گروہوں کا میزبان ہے جو دوحہ کو اسرائیل کے خلاف کاروائی کے مرکز کے طور پر استعمال کرتا ہے ۔

لکھنے والے نے لکھا ہے : سنیوں کے جوئے کی کامیابی اور ایران کے ساتھ قطر کے روابط معلق ہونے کی صورت میں ، اخوان المسلمین اور شاید حماس کی حمایت میں کمی ، الجزیرہ نیوز چینل پر شدید پابندیاں عاید کرنا اور جہان عرب میں موجود دہشت گردوں کے ساتھ دوستانہ سلوک کو روکنا ، ریاض کا علاقے کے سنیوں کا ایک مشترکہ خیمہ ایجاد کرنے میں مثبت اقدام ہو سکتا ہے ۔

اس  نے  لکھا ہے کہ علاقے میں ایران کی آرزووں پر لگام کسنے کے لیے عرب ملکوں کا ایک ایسا اتحاد حیاتی نوعیت کا ہے ، اور ایک موئثر سنی رہبری کا وجود مشرق وسطی میں اہم تبدیلیاں پیدا کرے گا ۔

اس مضمون کے آخر میں آیا ہے : اس بات کی ضرورت ہے کہ اسرائیل کو ایسا راستہ مل جائے کہ وہ اتحاد کا تعاون کرے اور جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ اس اتحاد اور اسرائیل کو مشترکہ دشمن کا سامنا ہے اور یہ تل ابیب کے لیے مناسب موقعہ ہے کہ اس اتحاد کے اندر نفوذ کرے ۔

اسرائیل کو اس مجموعے کا تعاون کرنے کا راستہ تلاش کرنا چاہیے ، اس اتحاد اور اسرائیل کو مشترکہ دشمن کا سامنا بھی ہے اور اس سے اسرائیل کو موقعہ بھی ملتا ہے ، ایسا موقعہ  کہ جس سے ان چند ملکوں پر کہ جو اب تک اکٹھا ہوئے ہیں دباو ڈالنےکے لیے استفادہ کیا جا سکتا ہے ۔   

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر