تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور: روسی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں دفاع اور امن کی کمیٹی کے سربراہ کے نے کہا ہے کہ اس بات کا امکان 100% کے قریب ہے کہ داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی موت واقع ہو چکی ہے۔

نیوزنور:ایران کے نائب وزیر خارجہ نے سعودی عرب پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب نے جو خطرناک کھیل شروع کر دیا ہے اس میں اسے بری طرح سے شکست ہو گی۔

نیوزنور:ترکی کے وزیر دفاع نے قطر میں فوجی اڈے ختم کرنے کی خلیج فارس تعاون کونسل کی درخواست کو ترکی کے امور میں مداخلت قرار دیا ہے۔

نیوزنور:سعودی عرب کی مسلسل گرتی ہوئی اقتصادی صورتحال کی بدولت آل سعود نے خاندان کو اپنے ساتھ رکھنے والے غیر ملکی شہریوں کو فی فرد کے حساب سے ایک سو ریال ماہانہ ٹیکس سعودی حکومت کو ادا کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

نیوز نور:امریکہ کے ایک سینئر سینیٹر نے شام کی سرکاری فوج پر  امریکی فضائی حملوں کی پرزورالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں غیر قانونی اوربین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قراردیا۔

  فهرست  
   
     
 
    
یورپی کمیٹی کی روابط خارجہ کے مجلے میں "جولیان بارنس" کی تحریر:
امریکہ کو شام کے مشرق میں ایران سے الجھنے سے پرہیز کیوں؟

نیوزنور:اس علاقے میں مغربی گٹھ بندھن کی فوجوں کی کسی بھی طرح کی پیش قدمی اس بات پر منتہی ہو گی کہ وہ خود کو شام کی فوج اور ایران کی حمایت یافتہ فوجوں کے دو طرفہ محاصرے میں پائیں گے جنہوں نے طے کر لیا ہے کہ علاقے کو امریکہ کے ہر طرح کے عمل دخل سے پاک کر دیں گے ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکہ کے لیے اس علاقے کو لمبی مدت تک اپنے کنٹرول میں رکھنے اور مقامی فوج کو تقویت پہنچانے کا کوئی بھی موقعہ موجود نہیں ہے ۔

استکباری دنیا صارفین۸۵۵ : // تفصیل

یورپی کمیٹی کی روابط خارجہ کے مجلے میں "جولیان بارنس" کی تحریر:

امریکہ کو شام کے مشرق میں ایران سے الجھنے سے پرہیز کیوں؟

نیوزنور:اس علاقے میں مغربی گٹھ بندھن کی فوجوں کی کسی بھی طرح کی پیش قدمی اس بات پر منتہی ہو گی کہ وہ خود کو شام کی فوج اور ایران کی حمایت یافتہ فوجوں کے دو طرفہ محاصرے میں پائیں گے جنہوں نے طے کر لیا ہے کہ علاقے کو امریکہ کے ہر طرح کے عمل دخل سے پاک کر دیں گے ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکہ کے لیے اس علاقے کو لمبی مدت تک اپنے کنٹرول میں رکھنے اور مقامی فوج کو تقویت پہنچانے کا کوئی بھی موقعہ موجود نہیں ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق یورپی کمیٹی کی روابط خارجہ کے مجلے میں "جولیان بارنس" نے لکھا ہے کہ: حالیہ ہفتوں میں شام کی اندرونی جنگ میں ایک اور محاذ کھل گیا ہے ۔ شام کا مشرقی صحراء جو اس وقت داعش کے افراد کے کنٹرول میں ہے اور عراق کی سرحد اور شام میں دیر الزور کے علاقے کے درمیان میں واقع ہے ، اور اس سے پہلے شام کی جنگ کے بہت سارے کھلاڑیوں کی زیادہ آبادی والے علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے  اس پر نظر نہیں پڑی تھی ، وہ اس وقت ایران کی حمایت یافتہ شام کی سرکاری فوج اور امریکی فوج اور اس ملک کے اتحاد کی فوج کے مقابلے کے میدان میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ اور کچھ جگہوں سے ان فوجوں کے  درمیان جھڑپوں کی خبریں بھی موصول ہوئی ہیں ۔

جھڑپوں کی ایک وجہ ایران کی حمایت والی اور شام کی فوجوں کا ایک ایسی سرنگ کی طرف  آگے بڑھنا ہے کہ جو بحر مدیترانہ تک رسائی  کو ممکن بناتی ہے ۔  بعض لوگ واشنگٹن میں امیدوار ہیں کہ امریکہ کہ جو ڈونالڈ ٹرامپ کی حکومت میں ، ایران کو پسپا کرنے کی انتھک کوشش کر رہا  ہے وہ اس راستے کو ایران کے لیے کاٹ دے گا ۔

اس کے باوجود ایران نے اس علاقے میں پہلے ہی کاروائی کا آغاز کر دیا ہے ، اور اس نے اردن اور شام کی سرحد پر اور التنف میں ایک امریکی فوجی ٹھکانے کو حلقہ میں لے لیا ہے تاکہ عراق اور شام کی سرحد تک اپنی براہ راست رسائی کو شمال کی طرف سے ممکن بنا سکے۔

ان حالات میں یورپ والے کوشش میں ہیں کہ ٹرامپ کی حکومت کو کہ جو ابھی تک اس علاقے میں اپنی حکمت عملی تیار کر رہی ہے قایل کرے کہ اپنے منابع اور اپنی فوج کو شام میں کسی اور مقام پر مستقر کرے ۔ اس لیے کہ ایران کی حمایت والی فوج کے ساتھ شام کے مشرق میں ایک بھی جھڑپ میں ان کی شکست حتمی ہے اور اس کی وجہ سے  اہمیت والے دوسرے علاقوں میں بھی ان کے استقرار پر اثر پڑ سکتا ہے ، اسی طرح اس کی وجہ سے ایران اور امریکہ کے مابین جنگ کا ایک نیا محاذ کھل سکتا ہے ، جس سے داعش کی نابودی کا مسئلہ طاق نسیاں میں چلا جائے گا اور شام میں اور  عراق میں صلح کی کوششیں بے کار ہو جائیں گی ۔

اگر امریکہ شام میں سرمایہ گذاری کے پیچھے ہے تو اسے یہ کام شمالی اور جنوبی علاقوں میں کرنا چاہیے کہ جو حکومت کی فوج سے خالی ہیں اور اس بات کی اجازت نہ دے کہ اس ملک کی سیاسی جغرافیائی بلند پروازیاں اسے مشرق کی جانب کھینچ لے جائیں ۔ اس لیے کہ شام کی حکومت نے اس ملک کے رہائشی علاقوں پر اپنے کنٹرول کو مضبوط کرنے کے بعد خاص کر دمشق اور حلب میں ، اب اس نے اپنی توجہ اس علاقے پر مبذول کر رکھی ہے ۔

بشار اسد کی نظر میں مشرق کے اقتصادی لحاظ سے اہمیت والے علاقے پر کنٹرول سے مخالف فوجوں کا شمالی اور جنوبی علاقوں پر کنٹرول زیادہ دیر تک نہیں  رہے گا ۔ اسد اور اس کی حامی فوجیں اس بات کو لے کر پریشان ہیں کہ امریکہ ایک ایسے مقصد کے پیچھے ہے کہ وہ کردوں کی فوج اور عرب کے شام مخالف اتحاد کے ذریعے مشرق پر اپنے کنٹرول کو مضبوط کرنے کی کوشش کرے گا ۔

  اس کے باوجود ایسی حالت میں کہ ٹرامپ کی حکومت نے اپنے ایران مخالف روپ کو حالیہ مہینوں میں  مزید نکھارا ہے ، گویا وہ اس علاقے میں اپنی حکمت عملی اختیار کرنے میں حساس ہے ۔ حالیہ ہفتوں میں شام کی سرکاری فوج پر کئی بار امریکی گٹھ بندھن والی فوج نے حملہ کیا ہے ، لیکن امریکہ نے تاکید کی ہے کہ یہ حملے حفاظتی اور دفاعی نوعیت کے تھے اور اس کا مطلب ایران اور شام کی حکومت کے خلاف ایک نیا محاذ کھولنا نہیں ہے۔

لیکن اس کے باوجود امریکی فوجوں نے ایرانی اور شام کی فوجوں کو عراق اور شام کی سرحد تک پہنچنے سے التنف کے علاقے میں روکنے کی  کوئی کوشش نہیں کی ہے ۔ حالانکہ امریکی فوجیں اس وقت ظاہرا التنف کے شمال مشرق کی طرف پیشقدمی کر رہی ہیں اور انہوں نے ایک راکٹ سسٹم کو بھی اس علاقے میں منتقل کردیا ہے اس نے شام کی فوج کے اس علاقے میں پیش قدمی کو روکنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے ۔

اس بنا پر اگر اس بات کی تائیید ہو جاتی ہے تو یہ امریکی فوجوں کی طرف سے ایک عاقلانہ حرکت شمار ہو گی اور ایسا موقف ہے کہ یورپ والوں کو شدت کے ساتھ اس کی تقویت کرنا چاہیے ۔ ایران اور شام کے ، مشرق کے علاقے کو کنٹرول میں رکھنے کے عہد کے پیش نظر اس علاقے میں نفوذ پیدا کرنے کی امریکہ کی ہر طرح کی کوشش ناکام ہو جائے گی ۔

ایسے حالات میں اس علاقے میں مغربی گٹھ بندھن کی فوجوں کی کسی بھی طرح کی پیش قدمی اس بات پر منتہی ہو گی کہ وہ خود کو شام کی فوج اور ایران کی حمایت یافتہ فوجوں کے دو طرفہ محاصرے میں پائیں گے جنہوں نے طے کر لیا ہے کہ علاقے کو امریکہ کے ہر طرح کے عمل دخل سے پاک کر دیں گے ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکہ کے لیے اس علاقے کو لمبی مدت تک اپنے کنٹرول میں رکھنے اور مقامی فوج کو تقویت پہنچانے کا کوئی بھی موقعہ موجود نہیں ہے ۔

ایسا کرنا مشرق کے علاقے میں نہ ختم ہونے والی جنگ چھڑنے کا باعث بنے گا ، جو ایران اور امریکہ کے مابین ایک خطر ناک جغرافی سیاسی مقابلے پر منتہی ہو گی ، اور عراق تک بھی پھیلے گی اور روس بھی اس جنگ میں کود سکتا ہے ۔

مشرق کے علاقے پر تسلط پانے کی کوشش کرنے کے بجائے امریکہ اور مغربی اور یورپی فوجوں کو ایسے علاقوں کو کنٹرول میں لینے کی کوشش کرنی چاہیے کہ جو اس وقت حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہیں اور شمال اور جنوب میں ہیں یہ مسئلہ خاص کر شام کے لیے داعش کے بعد اور رقہ میں حالات پر قابو کرنے کے بعد بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔

دیرالزور میں جنگ بہت اہمیت رکھتی ہے ۔لیکن ایسی حالت میں کہ حکومت کی فوجیں اس شہر میں موجود ہیں اور داعش کے محاصرے کے مقابلے میں ایک لاکھ سے زیادہ شہریوں کا دفاع کر رہی ہیں عقلمدی کا تقاضا یہ ہے کہ اس شہر کے کنٹرول کو روس کی حمایت والی شام کی حکومتی  فوج کو واگذار کر دیں ۔

اس علاقے میں امریکہ اور ایران کی نفوذ پیدا کرنے کی کوششوں سے صرف  جنگ کے حالات پیچیدہ ہوں گے اور نتیجے میں زیادہ سے زیادہ علاقہ داعش کے قبضے میں چلا جائے گا ۔   


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر