تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور:1932 ء میں سعودی عرب کے قیام کے بعد سے آل سعود نے بادشاہت کے متضاد سیاسی ،سماجی اورمذہبی ڈھانچے کے چلینجز سے نمٹنے کیلئے وہابیت کا استعمال کیا ہے اوروہابیت کے نظرئے نے مذہبی طورپر آل سعود خاندان کی طاقت تاج اورحکومت کو جائز ٹھہرایا ہے۔

نیوز نور : بولویا کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کو وینزوئلا میں مداخلت کا خیال ترک کرنا چاہئے کیونکہ دنیا بھر میں امریکی سامراجیت دم توڑ چکی ہے۔

نیوز نور:ایران کے ایک سینئر قانون ساز نے کہاہےکہ امریکہ کی طرف سے روس اورایران پر  بیک وقت پابندیوں کو عائد کئے جانے کا مقصد دوعلاقائی اتحادیوں کے درمیان تعلقات میں شگاف پیدا کرنا تھا۔

نیوز نور:لبنان کی اسلامی تحریک مقاومت حزب اللہ کی سیکورٹی کونسل کےچیئرمین نے کہاہے کہ شام میں سرگرم تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے خلاف جنگ آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

نیوز نور : لبنان کے پارلیمانی نمائندے نے کہا ہے کہ  شام فلسطین اور بیت المقدس کی حمایت کا علمبردار ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
ابو فاطمہ موسوی عبدالحسینی؛
انہدام جنت البقیع کی مناسبت سے احتجاج کرنا آل سعود کا اصلی چہرہ ظاہر کرنا ہے

نیوزنور: جو آج آل سعود کی طرف سے 1926ء میں جنت البقیع کو انہدام کرنے کے سلسلے میں احتجاج درج کیا جا رہا اس دن آل سعود نے نہ صرف جنت البقیع کو منہدم کیا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضے کو بھی منہدم کرنا چاہا تھا ۔

اسلامی بیداری صارفین۱۴۶۱ : // تفصیل

انہدام جنت البقیع کی مناسبت سے احتجاج کرنا آل سعود کا اصلی چہرہ ظاہر کرنا ہے

نیوزنور: جو آج آل سعود کی طرف سے 1926ء میں جنت البقیع کو انہدام کرنے کے سلسلے میں احتجاج درج کیا جا رہا اس دن آل سعود نے نہ صرف جنت البقیع کو منہدم کیا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضے کو بھی منہدم کرنا چاہا تھا ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنورکی رپورٹ کےمطابق لندن میں دائرہدایت ٹی کے "صبح ہدایت" پروگرام کے عالمی منظر  میں"یوم انہدام جنت البقیع " کے عنوان کے تحت میزبان سید علی مصطفی موسوی نے بین الاقوامی تجزیہ نگار اور نیوزنور کے بانی چیف ایڈیٹر حجت الاسلام حاج سید عبدالحسین موسوی [قلمی نام؛ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی] سےآنلاین مکالمے میں"8شوال انہدام جنت البقیع" کے حوالے آل سعود کے خلاف احتجاجوں لہر کے  سلسلے میں مندرجہ ذیل انٹرویو لیا جسے قارئين کے نذر کیا جا رہا ہے۔

س)  یوم انہدام جنت البقیع ہے کیا اور اس کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟

ج) بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. اللَّهُمَّ ‌و‌ أَنْطِقْنِي بِالْهُدَى ، ‌و‌ أَلْهِمْنِي التَّقْوَى ، ‌و‌ وَفِّقْنِي لِلَّتِي هِيَ أَزْكَى۔

اس مناسبت سے صاحب عزا امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہٗ شریف کی خدمت میں بالخصوص اور رسول مقبول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخلص امتیوں کی خدمت میں بالعموم تعزیت عرض کرتے ہوئے کہ آج جو 8 شوال المکرم کی مناسبت سے جوہمفرے[Hempher] کے شاگرد "عبدالعزیز بن سعود" جس کے اولاد آل سعود کے نام پر  ابھی حرمین شریفین پہ قابض ہیں۔اس سلسلے نے اگرچہ بظاہر وہی اسلام دشمن طاقتوں[برطانیہ] کے منصوبے کے تحت جس سے "عبدالعزیز بن سعود" کو کامیابی کے ساتھ اقتدار تک پہنچا کر حکومت ہاتھ میں  دی ۔لیکن اس کی جڑ وہی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بنیادی دشمنی ہے  کہ جن کفار نے ایمان نہیں لایا تھا بلکہ بظاہر اسلام کا لبادہ پہن کر جومنافقوں کا ٹولہ رہا ہے  جو اسلام سے اور آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنا انتقام لیتےآئے ہیں اور جس کی  واضح کڑی کربلا کی شکل میں دنیا نے دیکھا۔ اور جس کے بعددنیا کے پاس صرف اسلام کی دو تعریفیں سامنے آئی ایک حسینی اسلام جو رسول رحمت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسلام ہے اور دوسرا یزیدی اسلام جو منافقوں اور اسلام دشمن طاقتوں کا اسلام ہے۔  اور یہ جو8شوال 1344ھ ق مطابق 20اپریل 1926ء کو  آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پانچ اوصیاء(امام حسن مجتبی،امام زین العابدین، امام محمد باقر اور امام جعفر صادق) علیہم صلوات اللہ کے روضوں کو بلکہ تمام بزرگان اسلام  و صحابہ کبار  کے آثار کو مٹایا گیا ۔یعنی جس سے ایک واضح پیغام دیا گیا کہ وہ  آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام و نشان کو ہم مٹانا چاہتے ہیں ۔ یہ اُس شخص کے قول پر عمل ہے جس نے کہا تھا کہ مجھے اذان میں ’اشھد انّ محمد رسول اللہ ‘ سننے سے تکلیف ہوتی ہے جب تک میں اس نام کو زمین بوس کروں گا تب تک میں چین کی سانس نہیں لوں گا،وہ تو اپنے انجام کو پہنچا مگر وہ سلسلہ ابھی تک جاری و ساری ہے۔

س) یہ مشہور و معروف قول تو معاویہ بن ابو سفیان کا ہے ؟

ج) جی بالکل صحیح ۔

 اور اسی لئے دیکھئے کہ کبھی یہ لوگ اہلبیت رسول اللہ (علیہم صلوات اللہ) کے شیدائی بن کے سامنے آئے یعنی بنی عباس۔ اور کبھی تو بنی امیہ کی اپنی معاند شکل میں کہ جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے واضح دشمنی تھی مگر پھر بھی اسلام کے لبادے میں یہ ہم ان دونوں سلسلوں کے دیکھتے آئے ہیں۔ اور اگر آپ 8 شوال کے انہدام بقیع کی بات کریں گے وہ تو ہمارے زمانے کی بات ہے 1926ء کی بات ہے۔ اس مقدس مآب دہشتگردی کا سلسلہ پرانا ہے ۔ ان کیلئے جو پریشانی کا مسئلہ ہمیشہ رہا ہے وہ یہ کہ کسی نہ کسی طریقے سے اسلام کو تحریف کریں اورجو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات ہیں ان کا زاویہ بدل کر حقیقت کے نام و نشان کو مٹا سکیں اورچونکہ ائمہ معصومین(علیہم صلوات اللہ) کے مزارات اسلام اور اسلامی تعلیمات کا حقیقی اتہ پتہ کھونے نہیں دیتے ہیں جس میں جنت البقیع ایک بڑی علامت ہے(جہاں 5اوصیای رسول اللہ علیہم صلوات اللہ اور کئی دیگر عظیم المرتبت صحابہ کبار مدفون ہیں) ،جنہوں نے اسلام کو تحریف سے بچایا ہے اور ہمیں خدا کا پتہ دیتے آئےہیں اور اس کے اتہ پتہ کو کھونے نہیں دیا ہے اسلئے اس ایڈرس کو منہدم کرکے خدا کی بارگاہ اور توحید کے دائرے سے دور رکھنے کی کوشش ہے۔ تو اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ اسی سوچ نے اسی سازش  کے تحت دوسرے بنی عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تیسرے وصی حضرت سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے روضے کے ساتھ763ء میں  کیا کیا ۔ کس طرح ویران کیا ۔ کیونکہ اس وقت بھی یہی ڈر تھا کہ جہاں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آثار نمایاں ہوں یعنی جہاں حقیقی اسلام نمایاں ہو،اسے مٹایا جائے منہدم کریں ۔ اور اس راہ میں سب سے عظیم شخصیت تھی جس نے اسلام کو تحریف سے بچایا وہ امام حسین علیہ السلام ہیں  اور اس منبع ہدایت کو مٹاناچاہا اور ان ہی بنی عباسیوں نے 786ء میں پانچویں بنی عباسی خلیفہ ہارون رشید نے ایک بار پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تیسرے وصی حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضے کو نہ صرف ویران کیا بلکہ وہاں کے سدر کے درخت تک کو کاٹا تمام جو آثار تھے انہیں ویران کیا۔ اور پھر 850ء میں اسی سلسلہ خلافت عباسی کے پہلے خلیفہ جس نے شافعی مسلک اختیار کیا تھا اور اسی کو لیکے وہابی آج سبھی کو شرک وغیرہ کا فتوی لگا کر گلے کاٹتے ہیں یہ اسی سلسلے کی کڑی ہے ،اسی متوکل عباسی نے اپنے دور میں نہ صرف حرم امام حسین علیہ السلام کو زمین بوس کیا تھا زمین کے ساتھ یکسان کیا تھا بلکہ اُس پہ ہل چلایا گیا ، پانی پھیرا گیا۔ تاکہ وہاں کسی قسم کے کوئی آثار باقی نہ رہیں۔ مگر الحمد للہ عراق میں مسلمانوں نے خا ص کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخلص امتیوں شیعوں نے ان آثار کو مٹنے نہیں دیا ہر بار دوبارہ تعمیر کرتے رہے تو تبھی آج ہم دیکھتے ہیں   اربعین حسینی کی شکل میں دیکھ رہے ہیں  اور  عاشورہ کی شکل  میں دیکھ رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کی نسبت دنیا بیدار ہورہی ہے ۔  

سعودی عرب میں چونکہ ابھی آپ دیکھ رہے ہیں کہ وہاں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی ،مخلص امتی کس گھٹن میں رہ رہے ہیں۔ اور اس میں جو ہمیں گلا ہے وہ ہمارے اہلسنت بھائیوں سے ہے کہ وہ بھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شیدائی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ، اہلبیت ؑ کے چاہنے والےاپنے آپ کو کہتے ہیں۔ مگر وہ عملی طور پراپنی خاموشی سے یزیدی اسلام کی تائید کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ یزیدی وہابیت ابھی تک حرمین شریفین کے خادم کہلاکے اسلام کی توہین کر کے اسلام کے تمام آثار اور اصالت دین کو محو کرنے میں مشغول ہیں ۔مگر تمام شیعوں کی طرح وہ جو عملی  احتجاج ہے وہ  اہلسنت میں بھی  دیکھنے کو  ملنا چاہئے تھا کہ جو کہ ابھی دیکھنے کو نہیں ملتا ہے۔

س) مقبوضہ حجاز کے سفارتخانوں کے مقابلے میں کیوں احتجاج کیا جا رہا ہے؟

ج) یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخلص امتیوں کا وظیفہ ہے کہ وہ امت کو بیدار کریں کیونکہ ابھی بھی وہی یزید کا زمانہ ہے کہ جس میں لوگ یزید کو امیرالمومنین کہتے تھے اور امام حسین علیہ السلام کو واجب القتل قرار دیتے تھے اور مفتیوں نے فتویٰ دیا کہ امام حسین علیہ السلام واجب القتل ہے مگر یزید واجب تعظیم ہے اس کا فرمان خدا کا فرمان ہے۔ تو وہ مسلمان ابھی بھی ہیں۔ اور ایسے مسلمانوں کو بیدار کرنا ضروری ہے جو ان مفتیوں اور ان افکار کی ماہیت کو سمجھیں ۔اوراللہ نے اس بیداری کا علم شیعوں کے سپرد کیا ہے وہ حسین حسین کر کے امت کو بیدار کرینگے ان شاء اللہ ، تو یہ اسی کڑی کا ایک حصہ ہے کہ سعودی عرب کے سفارتخانوں کے مقابلے احتجاج کیا جاتا ہے  جسے نہ صرف سعودی عرب میں وہاں مسلمان بیدار ہوجائیں بلکہ دنیا کے ہر کونے میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخلص امتیوں کے ساتھ اہلسنت کے بھائی جو خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں وہ بھی اپنی خاموشی توڑ کر شامل ہوجائیں تاکہ یہ یزیدی چہرہ امت  کے چہرے سے اُتر جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا اصلی چہرہ دنیا کو دیکھنے کو ملے تاکہ دنیا فوج فوج اسلام میں داخل ہوجائے کیونکہ قرآن کا ایک وعدہ ابھی پورا نہیں ہوا کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے  کیا گیا کہ اسلام میں لوگ فوج فوج داخل ہونگے:" يدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا " ۔ یہ آل سعود اور ایسے عناصر اس راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخلص امتیوں  شیعوں کے ساتھ اہلسنت بھی اپنی آواز ملائے یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا بھی شامل حال ہوگی اور جنہوں نے اسلام کی شبیہ بگاڑ دی  ہے وہ اپنی اوقات سمجھ جائیں گے اور اسلام کا بول بالا ہوگا اور " يدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا "   کا مصداق حاصل ہوجائے گا۔

س)تو کیا سورہ قصص کی آیت 5 کا مصداق قریب پہنچا ہے اور مستضعفین کی حاکمیت کا دور شروع ہوا ہے کیا؟

ج)  جی؛آپ دیکھئے ہر قوم اور ہر قبیلے میں اور ہر دین و ادیان میں یہ عقیدہ  ملتا ہے کہ دنیا تباہ ہونے والی ہے اور ایک بچانے والا آئے گا ۔ آپ سائنسی زاویے سے دیکھیں ، آپ مذہبی زاویے سے دیکھیں یا آپ تجزیہ کے اعتبار سے دیکھئے سبھی ماہرین دنیا کے تباہ ہونے کا عندیہ دیتے آئے ہیں اور اس میں یہ بھی بتاتے ہیں کہ کوئی اس دنیا کو سنبھال سنبھال سکتا ہے البتہ  اس میں اکثر اتہ پتہ غلط ملتا ہے۔سبھی کوئی نہ کوئی  ایڈرس دیتے ہیں ۔جس طرح یہ وہابی اسلام کا اصلی  ایڈرس مٹا کر کچھ اور دینا چاہتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو کہ اہلبیت علیہم السلام  کا ایڈرس گما کے لوگوں کو گمراہ کرنے پہ تلے ہوئے ہیں ۔ اور یہی حال زمین پر مستضعفین کی حاکمیت کے حوالے کے ایڈرس کا ہے۔ اس کا صحیح ایڈرس   یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری وصی خاتم الوصیین اور بارہویں امام ہیں جو دنیا کو سنبھالیں گے اور عدل و انصاف کی حکومت قائم کریں گے جسے امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہٗ شریف کہتے ہیں۔ اور اُن کے ظہور سے ہر انسان تک صحیح اسلام پہنچےگا۔البتہ اس میں اگر چہ اہلسنت کابھی یہی عقیدہ ہے لیکن پیدا ہو چکے ہیں یا پیدا ہونگے کے بارے میں اختلاف رکھتے ہیں ۔ایسے میں الحمد اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخلص امتیوں شیعوں کے پاس اس کا بھر پور بالکل صحیح ایڈرس ہے وہ ہمیں وہاں مل رہا ہے جہاں حسین حسین کی صدا بلند ہے اور اس مظلوم کی مظلومیت کا انتقام لینے والا وہی بارہویں حجت ہیں ۔اس لئے جس کو امام حسین علیہ السلام کا ایڈرس ملا اسی کو بارہویں حجت کا ایڈرس ملے گا کہ مسلمان جب اس امام حسین علیہ السلام کے علم کے نیچے آجائیں گے یقیناً وہ مستضعفین کی حاکمیت کا دن بالکل نزدیک ہوگا کہ پورے دنیا میں اسلام کی حاکمیت ہوگی۔ شناخت اس کی یہی ہے کہ ہم امام حسین علیہ السلام کو پہچانیں۔ اگر ہم امام حسین علیہ السلامکو پہچانیں گے ،ہم یزید کو بھی پہچان جائیں گے اور جب ہم یزید کو پہچان جائیں گے ہمیں اپنا دشمن واضح طور پر کسی بھی  لباس میں ہو ہمیں وہ نظر آئے گا ، وہ نظر آنا ہی وہ زمانہ ہے جسے امام زمانہ عج کے ظہور کا زمانہ کہتے ہیں اور جس میں اسلام کی حاکمیت کا زمانہ ہے۔ اور اس کے لئے ہمارے لئے  ضروری ہے کہ ہم مسلمانوں میں منافق مسلمان اور اصلی مسلمان یعنی یزیدی مسلمان اور حسینی مسلمان کو پہچانیں اوراسی  دور میں اسلام کی حاکمیت ہوگی۔

س) تکفیری گروہ اپنی دہشتگردیوں سے بدنام ہوگئے مگر یہ آئیڈیالوجی آئی کہاں سے تقویت پاتی؟تکفیریوں اور آل سعود میں بنیادی کیا فرق ہیں؟

ج) جس طر ح میں نے اس کے بارے میں پہلے بھی اشارہ کیا کہ یہ وہی فکر اور وہی پہلی سرد جنگ ہے کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ فتح مکہ کے بعد شروع ہوئی ہے ۔اسلام دشمن عناصر نے اسلام کی حاکمیت اور قدرت دیکھ کر بظاہر اسلام قبول کیا، جبکہ اس سے پہلے یہ اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کھلے دشمن تھے اور آنحضور  کے مقابلے ہر قسم کی مزاحمت کرتے رہے اور ہر قسم کی تکلیف پہنچاتے رہے۔ لیکن فتح مکے کے وقت جب اسلام کی حاکمیت اور قدرت کو دیکھا تو انہوں نے پھر منافقت کا لباس پہن کر ظاہری اسلام لایا اور اسلام کی بیخ کنی کرنے کیلئے مصروف عمل رہے اور یہ لوگ ہر زمانے میں رہے ہیں۔

 اور الحمد اللہ آج کا زمانہ  وہ زمانہ ہے کہ جس میں کربلا والے میدان میں آئے ہیں اور ایک اسلامی سرزمین ایران میں وہ شعور پیدا ہوگیا ہے  کہ جو علم  کو کربلا میں منافقوں نے گرایا   تھا اسے تھام کر دوبارہ بلند کیا  ہے  کہ جسے اب نیچے گرنے نہیں دیا جا رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ شام میں تکفیریوں کو شکست فاش ہوئی کیونکہ وہاں زینب کے حرم کا دفاع کرنے والے میدان میں آئے ۔اور ثابت کر دکھایا کہ جو اسلام کے لبا س میں دہشتگرد ہیں وہ مسلمان نہیں ہیں۔عراق میں اسلام کے لباس میں داعش کے لباس میں آئے مگر یہی کربلا والے کربلا کی علم کے ساتھ میدان میں آئے اور منافقوں اور داعش دہشتگردوں کو اپنی اوقات  دکھائی۔ اسی لئے ضرورت اس بیداری کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جو مخلص امتی ہیں جنہیں شیعہ کہتے ہیں اُن کے ساتھ سبھی ہم صدا ہوجائیں تب کوئی یہ جرأت نہیں کرے گا کہ اسلام کے لباس میں آکے داعش اور آل سعود بن کر اسلام کی  شبیہ کو بگاڑ سکے۔

 ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم  سبھی کسی تعصب کے بغیر حسینی اسلامی کے پرچم تلے کھڑے ہوں کیونکہ عملی طور پر دیکھا جارہا ہے کہ  حسین حسین کرنے والے مقصد  میدان کو نہیں  چھوڑتے ہیں ۔

جو آج آل سعود کی طرف سے 1926ء میں جنت البقیع کو انہدام کرنے کے سلسلے میں احتجاج درج کیا جا رہا اس دن آل سعود نے نہ صرف جنت البقیع کو منہدم کیا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضے کو بھی منہدم کرنا چاہا تھا ۔

 اُس وقت پہلے یہاں ایران و عراق میں ہمارے علماء نے ایران کے  بادشاہ کو اس پر احتجاج کرنے کو کہا پھر ایران میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا اور اس کی لہر ہندوستان پہنچی ، برصغیر پہنچی اُس وقت پاکستان نہیں تھا پورے خطے میں احتجاج کیا گيا یہ تحریک بھی یہاں ایران سے شروع ہوئی اور ہندوستان سے پہنچی ہوئی اور پھر دیگر عرب ممالک میں چلی، تب جاکر آل سعود میں جرأ ت نہیں بنی ورنہ وہ روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی وہ ڈھا نے پر تلے ہوئے تھے ۔اور آج تک آل سعود کے خلاف مسلمان مقدس مقامات انہدام کرنے کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے ہم منافقوں کے خلاف اس تحریک کو زندہ رکھے ہوئے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آثار کو مٹانے نہیں دینگے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کو دنیا کے چپے چپے تک پہنچائیں گے اور یہی حسینیت ہے ۔اوریہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دین ہے اور اس کا حامی و ناصر رہنا ہر مسلمان کا وظیفہ ہے۔

س)    قبلہ کیا میں یہ کہنے پہ حق بجانب ہوں کہ اب تشیع کے اقتدار کا زمانہ شروع ہوا ہے جس طرح  قرآن کہہ رہا ہے کہ مستضعفین کو خدا قوت عطا کرے گا،جو امام حسین علیہ السلام کا پرچم پوری قوت کے ساتھ ابھرا اور لہر ا رہا ہے تو کیا یہی پرچم امام حسین علیہ السلام کے فرزند جناب امام زمانہ ارواحنا لہ الفداء کے انقلاب  سے جا ملے گا؟

ج) اس بات میں تردید کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔ کیونکہ  حضرت علی علیہ السلام کے بعد سے یہ پہلی مرتبہ ہے کہ شیعوں نے اس علم کو تھاما ہے۔ تاریخ شیعہ حاکم بہت گزرے ہیں ۔ صفوی دور میں بھی ایران میں شیعوں کی حکومت تھی ، رضا شاہ پہلوی بھی شیعہ تھا، حتیٰ  آذر بائیجان میں 94 فیصد جعفری شیعہ آباد ہیں اسی طرح بہت ساری مثالیں ہیں مگر یہ جو آج  کا دور ہے یہ ولایت فقیہ کا دور ہے یہ اسلام کے اقتدار کا دور ہے۔ یہ کربلا کے خون کی تلوار پر کامیابی کا تاج ہے یہ وہ دور ہے  کہ جس میں ایک عالم دین ، ایک قرآن کا ماہر مجتہد جامع الشرائط کی فرمانبرداری کا ہے جس کے بارے میں  اہلبیت علیہم السلام نے فرمایا ہے: اگر اس کی بات ٹھکراؤ گے میری بات کو ٹھکراؤ گے" الراد عليهم كالراد علينا" تو  یہ ایسا جانشین ہیں ۔امام زمانہ عج کا وہ نائب حاکم ہیں جس کے ہاتھ میں کربلا کی علم آئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے دیکھا کہ قرب چالیس سال ہورہے ہیں نہ صرف ایک میدان میں بلکہ  ہر میدان میں فتح و نصرت کے جھنڈے گھاڑتے ہیں  اور مظلوموں کا یاور ، نہ صرف  شیعوں کا بلکہ اگر کافر بھی کہیں مظلوم ہے  اس کے حق میں بھی یہی شیعہ اور کربلائی اُس کی حمایت میں نظر آتا ہے۔ شیعہ سنی کا تصور ہی نہیں ہے ۔سنیوں کیلئے یہ تو یہ کربلائی جان چھڑکتا ہے، چاہے وہ شام کا سنی  ہو، چاہے وہ فلسطین کا سنی ہو ،  چاہے وہ عراق کا سنی ہو یا یمن وغیرہ کا  یہی کربلائی شیعہ ان کے حقوق کا دفاع کرتا نظر آتا ہے کیونکہ اُس کے ہاتھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی علم ہے، کربلا کی علم ہے اور اس علم کے نیچے آنا یعنی انسانیت اور اسلام کا دفاع چاہتا ہے نہ کہ آل سعود  کی طرح جومیر ی بات مانے وہ صحیح ہے جو نہیں وہ کافر ہے۔ کیونکہ کربلا کی تعلم اسلام کی حقیقی تعلیمات پر مبنی ہے اسلئے یقیناً اس میں کوئی دورائے نہیں ہے اس کو وہی دور کہا جائے گا کہ جسطرح آپنے بجا فرمایا کہ شیعوں کے اقتدار کا دور ہے ۔شیعوں کے اقتدار کا دور یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخلص امتیوں مستضعفوں کے اقتدار  کا دور ہے اور یہی ان شاء اللہ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہٗ شریف کے ظہور کے انقلاب کے ساتھ متصل ہوکے رہے گا ان شاء اللہ۔


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر