تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور : 11 دسمبر/ مقبوضہ فلسطین میں مظاہرین نے مسئلہ فلسطین کے بارے ميں سعودی عرب کے بادشاہ اور ولیعہد کی غداری اور خیانت کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان اور ولیعہد محمد بن سلمان کی تصویروں کو آگ لگا کر پاؤں تلے رگڑ دیا ہے۔

نیوز نور : 11 دسمبر/ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان بعض عرب ممالک  کی ہم آہنگی سے انجام پایا ہے جس کا مقصد عرب - اسرائیل کے تعلقات کو معمول پر لانا اور مسئلہ فلسطین کو سرد خانے میں ڈالنا ہے۔

نیوز نور 11 دسمبر/ فلسطینی وزیرخارجہ نےکہا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کئے جانے کے بعد اسرائیل دوسرے ممالک  پر القدس کو صہیونی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔

نیوز نور : 11 دسمبر/ سعودی عرب کے قریب سمجھے جانے والے پاکستانی اہلسنت عالم دین اور جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ  نے کہا ہے کہ اسلامی اتحادی افواج کا ڈھونگ رچانے والا شاہ سلمان اب بیت المقدس کو بچائیں۔

نیوز نور : 11 دسمبر/ امریکی یونیورسٹیوں کے ایک سو بیس یہودی اساتذہ نے ایک شکایت نامے پر دستخط کرکے بیت المقدس کے بارے میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
ایک روسی فوجی ماہر؛
ایرانی بحری گشت کشتیاں اپنے سواحل میں، امریکی کشتیاں وہاں کیا کر رہی ہیں

نیوزنور:روس کے ایک فوجی تجربہ کار نے اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے کہا : خلیج فارس میں امریکہ کے اقدامات بین الاقوامی سمندری قوانین کی روشنی میں بالکل غیر قانونی ہیں ۔

اسلامی بیداری صارفین۱۸۲۳ : // تفصیل

ایک روسی فوجی ماہر؛

ایرانی بحری گشت کشتیاں اپنے سواحل  میں، امریکی کشتیاں وہاں کیا کر رہی ہیں

نیوزنور:روس کے ایک فوجی تجربہ کار نے اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے کہا : خلیج فارس میں امریکہ کے اقدامات بین الاقوامی سمندری قوانین کی روشنی میں بالکل غیر قانونی ہیں ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق روس کے ایک فوجی ماہر نے انگریزی نیوز ایجنسی اسپوٹنیک کے ساتھ گفتگو میں تاکید کی کہ خلیج فارس امریکی فوجوں کے رہنے کی جگہ نہیں ہے ۔

ناخدا سوم اور روس کے فوجی ماہرکیپنٹ ڈیمیٹری لیٹوکین  نے اس خبری چینل کے ساتھ گفتگو میں بتایا : خلیج فارس امریکہ کی سمندری قلمرو سے بہت دور ہے ، اس کے باوجود منگلوار کے واقعے میں یہ امریکہ کی کشتی تھی جس نے گولی چلائی ، ایران خلیج فارس کے سمندر کے کنارے پر ہے اور وہاں اس کا ایک پر امن علاقہ ہے کہ جو اس کے کنٹرول میں ہے ۔ جو کچھ امریکہ کی سمندری فوج خلیج فارس میں کر رہی ہے وہ خود ایک بڑا سوال ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکیوں کے اس علاقے میں کئی ایک بڑے ٹھکانے ہیں جہاں سے وہ خلیج فارس کے تیل کی سپلائی کو کنٹرول کرتے ہیں ۔

لیٹوکین نے آگے بتایا خلیج فارس میں امریکیوں کے اقدامات بین الاقوامی سمندری قوانین کے لحاظ سے بالکل غیر قانونی ہیں ۔ وہ وہاں کیا کر رہے ہیں ؟ امریکی عراق میں فوجی کاروائی میں مشغول ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ شام پر جمہوریت کو زبر دستی لادیں ۔

روس کے فوجی تجربہ کار نے کہا امریکہ دنیا کے دوسرے کے حصوں میں بھی ایسا ہی کچھ کر رہا ہے ۔

لیٹوکین نے اس سلسلے میں کہا : مجھے یاد ہے کہ کس طرح ایک روسی جنگی طیارے نے بلیک سمندر میں ایک امریکی کشتی  شکن کے اوپر سے نچلی سطح پر پرواز کرتے ہوئے ، اپنے الیکٹرانیک مائیکروفون کو آن کر کے امریکیوں کو انتہائی تیزی کے ساتھ پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا تھا ۔ ایسا اس وقت ہوا  کہ جب امریکی کشتہ ہمارے ساحل کے نزدیک ہونے والی تھی ، ہمارے طیارے نے امریکی سمندر کے ساحل کی طرف پرواز نہیں کی تھی ۔ یہاں مسئلہ یہ ہے کہ کون اپنی سرزمین میں ہے اور کون اپنی سر زمین سے باہر ہے ۔

دو امریکی عہدیداروں نے منگلوار کے دن دعوی کیا  کہ امریکہ کی ایک سمندری کشتی نے خلیج فارس کے شمالی ساحل پر گشت لگاتی ہوئی ایک ایرانی کشتی پر گولیاں چلائیں ۔

پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے دعوی کیا کہ وہ کشتی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی سے متعلق تھی ۔ ۔پینٹاگون کے عہدیداروں نے دعوی کیا ہے کہ ایرانی کشتی ، امریکی کشتی یو ایس ایس ٹینڈر بولٹ  سے ۱۵۰ یارڈ یعنی تقریبا ۱۴۰ میٹر نزدیک آ گئی تھی ۔

اس خبر کے منتشر ہونے کے بعد سپاہ کی سمندری فوج کے تیسرے علاقے کے روابط عمومی نے ایک بیان کے ذریعے اعلان کیا کہ منگلوار کی صبح کو خلیج فارس کے شمال میں امریکہ کی ایک جنگی کشتی نے ہماری سمندری کشتی کی جانب اس وقت کہ جب وہ بین الاقوامی ایریے میں گشت کر رہی تھی ، بھڑکانے اور خوف پیدا کرنے کے لیے ہوا میں دو گولیاں چلائیں ۔

 اس بیان میں آیا ہے : سپاہ کی کشتی نے ان کی اس غیر پیشہ ورانہ اور بحرکانے والی حرکت پر دھیان دیے بغیر اپنی ڈیوٹی کی انجام دہی کو جاری رکھا ، اور کچھ ہی دیر بعد امریکہ کی کشتی وہاں سے چلی گئی ۔   

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر