تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور22فروری/اسلامی تحریک مقاومت حماس کے ترجمان نےکہا ہے کہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں نیکی ہیلی کے خطاب سے فلسطینی قوم کے تئیں ان کی دشمنی جھلک رہی تھی۔

نیوزنور22فروری/ایک صیہونی عہدے دار نے کہا ہے کہ امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد فلسطین میں اسرائیلی ریاست کے مظالم اور توسیع پسندانہ اقدامات کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے یہودیوں کی آمد میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔

نیوزنور22فروری/اقوام متحدہ میں تعینات روسی مندوب اقوام متحدہ میں ایران مخالف امریکی قرارداد کی کڑی الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے جھوٹ کا پلندہ قراردیا ہے ۔

نیوزنور22فروری/تحریک اُمت لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ عراق کے تمام طبقات کے درمیان وحدت نے اس ملک کی تقسیم کی سازش کو ناکام بنا دیا ہے اور اس وقت جو کچھ بھی عالم اسلام اور عرب دنیا میں ہورہا ہے اسکا اصلی ہدف فلسطین کے مسئلے کو فراموش کروایا جانا ہے۔

نیوزنور22فروری/جماعت اسلامی پاکستان کے مزکزی امیر نے کہا ہے کہ معاشرے میں دین کی دوری کی وجہ سے ماں باپ، اساتذہ اور بڑوں کی عزت نہیں کی جاتی ہے معاشرے میں عدم برداشت کے رویہ کے خاتمے کیلئے علماء کرام، محراب و منبر سے اسلام کی صحیح تعلیمات کو عام کریں کیونکہ اسلام انسانیت کا درس دیتا ہے اور انسانی حرمت کے تقاضے بھی بڑے واضع ہیں اور دین کو صحیح معنوں میں اپنی زندگیوں کا نصب العین بنائے بغیر معاشرتی برائیوں کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔

  فهرست  
   
     
 
    
ایک روسی فوجی ماہر؛
ایرانی بحری گشت کشتیاں اپنے سواحل میں، امریکی کشتیاں وہاں کیا کر رہی ہیں

نیوزنور:روس کے ایک فوجی تجربہ کار نے اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے کہا : خلیج فارس میں امریکہ کے اقدامات بین الاقوامی سمندری قوانین کی روشنی میں بالکل غیر قانونی ہیں ۔

اسلامی بیداری صارفین۱۸۷۵ : // تفصیل

ایک روسی فوجی ماہر؛

ایرانی بحری گشت کشتیاں اپنے سواحل  میں، امریکی کشتیاں وہاں کیا کر رہی ہیں

نیوزنور:روس کے ایک فوجی تجربہ کار نے اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے کہا : خلیج فارس میں امریکہ کے اقدامات بین الاقوامی سمندری قوانین کی روشنی میں بالکل غیر قانونی ہیں ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق روس کے ایک فوجی ماہر نے انگریزی نیوز ایجنسی اسپوٹنیک کے ساتھ گفتگو میں تاکید کی کہ خلیج فارس امریکی فوجوں کے رہنے کی جگہ نہیں ہے ۔

ناخدا سوم اور روس کے فوجی ماہرکیپنٹ ڈیمیٹری لیٹوکین  نے اس خبری چینل کے ساتھ گفتگو میں بتایا : خلیج فارس امریکہ کی سمندری قلمرو سے بہت دور ہے ، اس کے باوجود منگلوار کے واقعے میں یہ امریکہ کی کشتی تھی جس نے گولی چلائی ، ایران خلیج فارس کے سمندر کے کنارے پر ہے اور وہاں اس کا ایک پر امن علاقہ ہے کہ جو اس کے کنٹرول میں ہے ۔ جو کچھ امریکہ کی سمندری فوج خلیج فارس میں کر رہی ہے وہ خود ایک بڑا سوال ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکیوں کے اس علاقے میں کئی ایک بڑے ٹھکانے ہیں جہاں سے وہ خلیج فارس کے تیل کی سپلائی کو کنٹرول کرتے ہیں ۔

لیٹوکین نے آگے بتایا خلیج فارس میں امریکیوں کے اقدامات بین الاقوامی سمندری قوانین کے لحاظ سے بالکل غیر قانونی ہیں ۔ وہ وہاں کیا کر رہے ہیں ؟ امریکی عراق میں فوجی کاروائی میں مشغول ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ شام پر جمہوریت کو زبر دستی لادیں ۔

روس کے فوجی تجربہ کار نے کہا امریکہ دنیا کے دوسرے کے حصوں میں بھی ایسا ہی کچھ کر رہا ہے ۔

لیٹوکین نے اس سلسلے میں کہا : مجھے یاد ہے کہ کس طرح ایک روسی جنگی طیارے نے بلیک سمندر میں ایک امریکی کشتی  شکن کے اوپر سے نچلی سطح پر پرواز کرتے ہوئے ، اپنے الیکٹرانیک مائیکروفون کو آن کر کے امریکیوں کو انتہائی تیزی کے ساتھ پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا تھا ۔ ایسا اس وقت ہوا  کہ جب امریکی کشتہ ہمارے ساحل کے نزدیک ہونے والی تھی ، ہمارے طیارے نے امریکی سمندر کے ساحل کی طرف پرواز نہیں کی تھی ۔ یہاں مسئلہ یہ ہے کہ کون اپنی سرزمین میں ہے اور کون اپنی سر زمین سے باہر ہے ۔

دو امریکی عہدیداروں نے منگلوار کے دن دعوی کیا  کہ امریکہ کی ایک سمندری کشتی نے خلیج فارس کے شمالی ساحل پر گشت لگاتی ہوئی ایک ایرانی کشتی پر گولیاں چلائیں ۔

پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے دعوی کیا کہ وہ کشتی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی سے متعلق تھی ۔ ۔پینٹاگون کے عہدیداروں نے دعوی کیا ہے کہ ایرانی کشتی ، امریکی کشتی یو ایس ایس ٹینڈر بولٹ  سے ۱۵۰ یارڈ یعنی تقریبا ۱۴۰ میٹر نزدیک آ گئی تھی ۔

اس خبر کے منتشر ہونے کے بعد سپاہ کی سمندری فوج کے تیسرے علاقے کے روابط عمومی نے ایک بیان کے ذریعے اعلان کیا کہ منگلوار کی صبح کو خلیج فارس کے شمال میں امریکہ کی ایک جنگی کشتی نے ہماری سمندری کشتی کی جانب اس وقت کہ جب وہ بین الاقوامی ایریے میں گشت کر رہی تھی ، بھڑکانے اور خوف پیدا کرنے کے لیے ہوا میں دو گولیاں چلائیں ۔

 اس بیان میں آیا ہے : سپاہ کی کشتی نے ان کی اس غیر پیشہ ورانہ اور بحرکانے والی حرکت پر دھیان دیے بغیر اپنی ڈیوٹی کی انجام دہی کو جاری رکھا ، اور کچھ ہی دیر بعد امریکہ کی کشتی وہاں سے چلی گئی ۔   

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر