تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور22فروری/اسلامی تحریک مقاومت حماس کے ترجمان نےکہا ہے کہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں نیکی ہیلی کے خطاب سے فلسطینی قوم کے تئیں ان کی دشمنی جھلک رہی تھی۔

نیوزنور22فروری/ایک صیہونی عہدے دار نے کہا ہے کہ امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد فلسطین میں اسرائیلی ریاست کے مظالم اور توسیع پسندانہ اقدامات کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے یہودیوں کی آمد میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔

نیوزنور22فروری/اقوام متحدہ میں تعینات روسی مندوب اقوام متحدہ میں ایران مخالف امریکی قرارداد کی کڑی الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے جھوٹ کا پلندہ قراردیا ہے ۔

نیوزنور22فروری/تحریک اُمت لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ عراق کے تمام طبقات کے درمیان وحدت نے اس ملک کی تقسیم کی سازش کو ناکام بنا دیا ہے اور اس وقت جو کچھ بھی عالم اسلام اور عرب دنیا میں ہورہا ہے اسکا اصلی ہدف فلسطین کے مسئلے کو فراموش کروایا جانا ہے۔

نیوزنور22فروری/جماعت اسلامی پاکستان کے مزکزی امیر نے کہا ہے کہ معاشرے میں دین کی دوری کی وجہ سے ماں باپ، اساتذہ اور بڑوں کی عزت نہیں کی جاتی ہے معاشرے میں عدم برداشت کے رویہ کے خاتمے کیلئے علماء کرام، محراب و منبر سے اسلام کی صحیح تعلیمات کو عام کریں کیونکہ اسلام انسانیت کا درس دیتا ہے اور انسانی حرمت کے تقاضے بھی بڑے واضع ہیں اور دین کو صحیح معنوں میں اپنی زندگیوں کا نصب العین بنائے بغیر معاشرتی برائیوں کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔

  فهرست  
   
     
 
    
آیۃ اللہ العظمی سیستانی نے قومی رواداری کی برقراری اور مذہبی فتنے کا مقابلہ کرنے کا کیا مطالبہ

نیوزنور:عراق کے جلیل القدر مرجع تقلید حضرت آیۃ اللہ العظمی سیستانی نے مطالبہ کیا کہ امن و آشتی اور اجتماعی رواداری کی حفاظت کی جائے اور اختلافات کو فتنے اور مذہبی جھڑپوں میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے ۔

اسلامی بیداری صارفین۱۵۸۵ : // تفصیل

آیۃ اللہ العظمی سیستانی نے قومی رواداری  کی برقراری اور مذہبی فتنے کا مقابلہ کرنے کا کیا مطالبہ

نیوزنور:عراق کے جلیل القدر مرجع تقلید حضرت آیۃ اللہ العظمی سیستانی نے مطالبہ کیا کہ امن و آشتی اور اجتماعی رواداری کی حفاظت کی جائے اور اختلافات کو فتنے اور مذہبی جھڑپوں میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق عراق کے جلیل القدرمرجع تقلید  کے نمایندہ عبد المہدی الکربلائی نے اس ہفتے نماز جمعہ کے خطبوں میں کہا : عراق میں بہت سارے شیعہ اور سنی زندگی بسر کرتے ہیں اور یہی مسئلہ اجتماعی اور اخلاقی تال میل کا طالب ہے تا کہ عراق کے لوگ خشونت اور لڑائی جھگڑے سے بچ سکیں ۔

انہوں نے مزید کہا : مشکلات کا مقابلہ کرنے اور ثبات کو تقویت پہنچانے کے لیے عراق میں فکری ، مذہبی اور سیاسی اجتماعی باہمی عہدو پیمان کی ضرورت ہے ۔ الکربلائی نے تاکید کی  کہ  مذاہب کے درمیان اختلافات کو حل کیا جائے اور انہیں اس طرح پیش نہ کیا جائے کہ جس سے فتنہ اور فساد پھیلے ۔

 انہوں نے مزید کہا : مختلف شعبوں کے درمیان مذاکرات فریق مخالف کے مسائل کے احترام کی بنیاد پر ہونا چاہییں تا کہ مشترکہ قومی روابط کی حفاظت ہو سکے اور مسلمانوں کے بلند مفادات کو بھی بچایا جا سکے ۔ الکربلائی نے کہا : ہر صاحب فکر اور رائے کو حق ہے کہ اپنا دفاع کرے ، لیکن اپنے مخالف کی کرامت کو نقصان نہ پہنچائے یا اس کے مقدسات کی توہین نہ کرے  ۔ پر امن باہمی زندگی کا مفہوم ان  اہم ترین مسائل میں سے ہے کہ اسلام نے جن پر توجہ دی ہے ۔

ایک اور خبر میں الاحرار کے پارلیمنٹ کے نمایندے ماجد الفراوی نے جو عراق کی مقتدی صدر کی پارٹی سے وابستہ ہے کہا ہے کہ وہ مذہب سے بالا تر رہ کر مختلف سیاسی پارٹیوں کا آنے والے الیکشن میں شرکت کرنے کے لیے ایک گٹھ بندھن کی تشکیل کا کام شروع کر چکے ہیں ۔

الفراوی نے مزید کہا : مقتدی صدر کی پارٹی اس طرح کا گٹھ بندھن بنانے کی تیاری کر رہی ہے ، اور بہت سارے سیاسی گروہوں جیسے ائتلاف الوطنیہ ،کہ جس کے صدر ایاد علاوی ہیں ، اور جریان مدنی ڈیموکریٹیک ، اور ائتلاف ، العراق ، اور کچھ نمایندوں اور مستقل سیاسی شخصیتوں نے اس میں شامل ہونے پر آمادگی کا اعلان کیا ہے ۔ عراق کی پارلیمنٹ میں مقتدی صدر کی پارٹی کے اس نمایندے نے اعلان کیا : اس منصوبے پر ابھی تحقیق ہو رہی ہے ، اور انتخابات کے قانوں کے پاس ہونے اور جلا وطن ہوجانے والے لوگوں کی وطن واپسی کا انتظار ہو رہا ہے ۔

دوسری جانب گذشتہ ۱۵ سال میں پہلی بار ، جدیدہ عر عر کا سرحدی راستہ کہ جو عراق کی جنوبی سرحد پر اور سعودی عرب کی شمالی سرحد پر ہے عراقیوں کے لیے کھلا ہے ۔ اس خبر کی بنیاد پر عراق کے حج کے بعثہ سے تعلق رکھنے والے ۸۲ کارکن ۸ بسوں کے ذریعے سعودی عرب میں داخل ہوئے ہیں ۔

ایسے حالات میں عراق کے نامور سیکیوریٹی کے عہدیداروں نے موصل کی آزادی کے بعد ۷۰۰ داعشیوں کی اس ملک میں موجودگی کی خبر دی ہے ۔ جب کہ خارجی روزنامے العرب نے دعوی کیا ہے کہ عراق کے صدر کے معاون نوری المالکی نے اپنے ملک میں روس کی فوجوں کو تعینات کرنے کی روس کے حکام کو پیش کش کی ہے ۔ 

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر