تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور:1932 ء میں سعودی عرب کے قیام کے بعد سے آل سعود نے بادشاہت کے متضاد سیاسی ،سماجی اورمذہبی ڈھانچے کے چلینجز سے نمٹنے کیلئے وہابیت کا استعمال کیا ہے اوروہابیت کے نظرئے نے مذہبی طورپر آل سعود خاندان کی طاقت تاج اورحکومت کو جائز ٹھہرایا ہے۔

نیوز نور : بولویا کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کو وینزوئلا میں مداخلت کا خیال ترک کرنا چاہئے کیونکہ دنیا بھر میں امریکی سامراجیت دم توڑ چکی ہے۔

نیوز نور:ایران کے ایک سینئر قانون ساز نے کہاہےکہ امریکہ کی طرف سے روس اورایران پر  بیک وقت پابندیوں کو عائد کئے جانے کا مقصد دوعلاقائی اتحادیوں کے درمیان تعلقات میں شگاف پیدا کرنا تھا۔

نیوز نور:لبنان کی اسلامی تحریک مقاومت حزب اللہ کی سیکورٹی کونسل کےچیئرمین نے کہاہے کہ شام میں سرگرم تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے خلاف جنگ آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

نیوز نور : لبنان کے پارلیمانی نمائندے نے کہا ہے کہ  شام فلسطین اور بیت المقدس کی حمایت کا علمبردار ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
ایران کے خلاف امریکہ کی تازہ نقل و حرکت کے چلتے ، ایک راز پر نظر ثانی ؛
امریکہ کیوں تیل کی وافر مقدار ہونے کے باوجود مشرق وسطی کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتا ہے ؟

نیوزنور:ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ  مشرق وسطی کے تیل سے یورپ ،چین اور جاپان کے ملک فائدہ اٹھاتے ہیں ، اگر ہم مشرق وسطی اور تیل کو کنٹڑول کر لیں تو حقیقت میں ہم اپنے سب سے بڑے رقیبوں چین ، جاپان اور یورپ پر قابو پا لیں گے ۔

استکباری دنیا صارفین۱۲۱۸ : // تفصیل

ایران کے خلاف امریکہ کی تازہ نقل و حرکت کے چلتے ، ایک راز پر نظر ثانی ؛

امریکہ کیوں تیل کی وافر مقدار ہونے کے باوجود مشرق وسطی کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتا ہے ؟

نیوزنور:ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ  مشرق وسطی کے تیل سے یورپ ،چین اور جاپان کے ملک فائدہ اٹھاتے ہیں ، اگر ہم مشرق وسطی اور تیل کو کنٹڑول کر لیں تو حقیقت میں ہم اپنے سب سے بڑے رقیبوں چین ، جاپان اور یورپ پر قابو پا لیں گے ۔

مشرق وسطی میں ایران کے خلاف امریکہ کی تازہ نقل و حرکت اور علاقے میں کشیدگی کی ایجاد سے یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ امریکہ کون سے دراز مدت اور خارجی منصوبے کے تحت مشرق وسطی میں موجود رہنا چاہتا ہے ؟ یہ وہ سوال ہے کہ جس کا دس سال پہلے امریکی جاسوسی ایجینسی کا سرگرم رکن ہونے کے ایک دعویدار نے جواب دیا تھا ، لیکن اب ضرورت ہے کہ اس جواب پر نظر ثانی کی جائے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق کچے تیل کے کشف اور استخراج کے بعد کہ جس سے تیل کی قیمت میں شدید کمی آئی تھی ، یہ تجزیہ درپیش تھا کہ امریکہ اب ماضی کی طرح مشرق وسطی میں سرمایہ گذاری کرنے اور مستقر ہونے پر تیار نہیں ہے ، بلکہ مشرق پر نظر رکھنے اور چین پر نظریں مرکوز رکھنے کی سیاست امریکہ کے دستور کار میں شامل ہے ، اور امریکہ کے سب سے سخت رقیب کو کنٹرول کرنا جو آنے والے برسوں میں امریکہ کے لیے ہر لحاظ سے اس کی حیثیت کے لیے خطرہ ہے اب اس کے دستور کار کا حصہ ہے ۔

اس کے باوجود امریکہ کی تازہ نقل و حرکت سے ایک اور پیغام بھی ملتا ہے کہ امریکہ کے اندر علاقائی محرکات کے ساتھ ساتھ مشرق وسطی پر قبضہ کرنے کے بیرونی محرکات بھی ہیں ، اور وہ محرکات مغرب کی بڑی بڑی کمپنیوں کو تیل فراہم کرنے سے بھی زیادہ بڑے ہیں ، ایک امریکی تجزیہ نگار اور قلمکار  جان پر کینز نے کہ جس کا دعوی ہے کہ وہ کئی سال پہلے امریکہ کی جاسوسی ایجینسی کے ساتھ کام کرتا تھا ، اس نے گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ اس کی سرگرمی  سے وہ پشیمان ہے کچھ رازوں سے پردہ اٹھایا ہے ۔

اس نے سال ۲۰۰۷ میں اپنی ایک تقریر کے دوران ایک راز سے پردہ اٹھایا کہ تازہ ترین حالات کے پیش نظر  اس تقریر پر نظر ثانی قابل غور ہے ۔ جان پر کینز  نے اپنی تقریر کے آغاز میں تاکید کی : ستر کی دہائی کے اوائل میں ، جو کچھ ہم اسرائیل میں کر رہے تھے  اوپیک والے  اس سے ناراض تھے ، لہذا انہوں نے ہمیں تیل بیچنا بند کر دیا ۔ تم میں سے بعض لوگوں کو پیٹرول پمپوں پر وہ لمبی لمبی لائنیں یاد ہوں گی ، ہمیں ایک اور اقتصادی انجماد کا خوف تھا جیسا کہ سال ۱۹۲۹ میں ہم نے ایک جمود کا سامنا کیا تھا ۔

اس امریکی قلمکار نے آگے بتایا : اسی وجہ سے امریکہ کی وزارت خزانہ داری سے کچھ لوگ ، میرے اور ایک اور اقتصاد دان کے پاس آئے اور بولے : ہم اس سے زیادہ اوپیک کو ہم پر دباو ڈالنے کی اجازت نہیں دے سکتے ، آپ ایک ایسا منصوبہ بنائیں کہ جس کے بعد ایسا حادثہ پیش نہ آئے ۔ ہم جانتے تھے کہ اس منصوبے میں سعودی عرب کو شامل ہونا چاہیے اس لیے کہ اس کے پاس سب ملکوں سے زیادہ تیل تھا اور آل سعود کا سلطنتی خاندان فاسد اور فساد پذیر تھا ۔

امریکہ کی قومی سلامتی کی تنظیم کے اس سابقہ تجزیہ نگار نے تاکید کی : سعودی خاندان نے بھی اس بات کو مان لیا کہ تیل کی قیمت کو اتنی رکھے گا کہ جو تیل کی کمپنیوں کے لیے قابل قبول ہو ۔ احتمالا میرے اور آپ کے لیے قابل قبول نہیں لیکن تیل کی کمپنیوں کے لیے قابل قبول ہے ۔ یہ چیز انتہائی اہم ہے کہ انہوں نے اس بات کو مان لیا کہ تیل کا سودا صرف امریکی ڈالر کے بدلے میں کریں گے یہ حادثہ ستر کی دہائی کے اوائل میں پیش آیا ۔

اس نے اس سمجھوتے کے بارے میں کہ جو ڈالر کی قیمت کی تعیین کےسونے کے پیمانے سے تبدیل ہو کر اعتباری ہو نے کے ساتھ ہوا تھا ، کہا :ہم سونے کی قیمت کی بنیاد پر یورپی ملکوں کے قرضے ان کو ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اسی لیے نیکسن نے سونے کے معیار ہونے کو ہی ختم کر دیا ، ہم ایسی مشکل میں پھنس گئے تھے کہ یہ کہا جا رہا تھا کہ آخر کیوں کوئی شخص کاروبار میں امریکی ڈالر کو استعمال کرے ، اسی لیے ہم نے فورا ایک منصوبہ بنایا جس میں تیل کے کاروبار کے لیے ڈالر کو معیار بنا دیا گیا ۔ یعنی اگر آپ کو دنیا میں کہیں بھی تیل خریدنا ہے تو اس کی قیمت آپ کو ڈالر میں ادا کرنا پڑے گی ، اور یہ چیز کارپروٹیکرسی کے لحاظ سے بہت اہمیت کی حامل ہے ۔

اس سمجھوتے میں امریکہ نے سعودی عرب سے جو وعدہ کیا تھا اس کے بارے میں پرکینز نے بتایا : ہم سے متعلق یہ چیز تھی کہ ہم نے یہ مان لیا تھا کہ خاندان آل سعود کو اقتدار کی کرسی پر باقی رکھیں گے ، پس یہ ایک عجیب سمجھوتہ تھا ، صڈی کا تاریخ ساز سمجھوتہ ، یہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارا سب سے زیادہ طاقتور سمجھوتہ تھا ، ایسی قرار داد تھی کہ جس سے سی آئی اے بقول انکار ممکن نہیں تھا اور جس کے نتائج نا مطلوب تھے ؛ مثلا ایک چیز کہ جس کو لے کر بن لادن بہت چراغ پا تھا  وہ مکے اور مدینے اور پیٹرو کیمیکل کارخانوں اور وٹر ریفا ئینریز کا میک ڈونالڈ کے ذریعے محاصرہ تھا اور اس چیز سے دنیا کے بہت سارے مسلمان غصے میں تھے اور یہ چیزیں اس قرارداد کے کچھ منفی پہلو تھے لیکن کلی طور پر کارپرو ٹیکریسی اس قرارداد کو ایک نا قابل یقین کامیابی قرر دے رہی تھی ۔

 اس نے مزید کہا میں نے اپنا کام کر دیا ہے ہم اقتصادی ماہرین نے بہت بڑا کام کیا تھا ہم نے یہ سوچا کہ صدام بھی اس طرح کی قرارداد کو تسلیم کرے ممکن ہے کہ آپ میں سے بہت ساروں کو یہ معلوم ہو کہ صدام کافی عرصے تک ہمارا آدمی تھا شاید آپ کو عبد الکریم قاسم نام کا شخص یاد ہو کہ جو ساٹھ کی دہائی کے اوائل میں را کا صدر تھا  قاسم ایک مخصوص عقیدہ رکھتا تھا وہ کہتا تھا کہ: عراق کے تیل کا فائیدہ عراق کے لوگوں کو ہونا چاہیئے کتنا ہی تازہ اور نیا آئیڈیہ تھا لیکن ہم اس کو زیادہ پسند نہیں کرتے تھے ۔

پرکینز آگے چل کر دعویٰ کیا اس نے تیل کی کمپنیوں سے ٹیکس لینا شروع کر دیا تھا  خاص کر برطانیہ اور امریکہ کی کچھ کمپنیوں سے اور ہماری تیل کی کمپنیوں کو قومی تحویل میں لینے کی دھمکی دی ہم نےطے کیا کہ اب اس کو چلا جانا چاہیئے چنانچہ سی آئی اے نے پیشہ ور قاتلوں کی ایک ٹیم عراق بھیجی اور اس ٹیم کی رہنمائی عراق کا ایک انٹر میڈیٹ کا طالب علم کر رہا تھا انہوں نے بغداد کی ایک سڑک پر قاسم کی گاڑی پر گولیوں کی پوچھاڑ کر دی لیکن قاسم کی جان بچ گئی ۔ قاتلوں کی ٹیم کا سرغنہ زخمی ہو گیا اور شام کی طرف بھاگ گیا اس کا نام صدام حسین تھا وہ سی آئی اے کا ایجنٹ تھا اس زمانے میں اور ہمارے کہنے پر لوگوں کو قتل کرتا تھا وہ اس کاروائی میں کامیاب نہیں ہو پایا ۔

اس نے اس دعوے کو اس طرح آگے بڑھایا کہ اس کے بعد سی آئی اے کی تنظیم براہ راست میدان میں کود پڑی اور قاسم کے مارے جانے کی تصویریں بغداد کی ٹی وی پر نشر ہو گئیں اس کے بعد سی آئی اے نے صدام کے ماموں کو اقتدار دیا اور صدام کو اس کا نائب بنایا اور ملک کی سلامتی کی وزارت کی سر براہی اس کو دی اور آخر کار صدام عراق کا صدر بن بیٹھا لیکن تھاوہ ہمارا ہی آدمی۔ ہم نے بہت سارے ٹینک اور کیمیاوی کارخانے اس کو دیئے ہم جانتے تھے کہ اس ساز و سامان کو زہریلی گیس اور دیگر کیمیاوی ہتھیار بنانے میں استعمال کیا جا سکتا ہے چنانچہ ایسا ہی ہوا اور ان عراقیوں نے ان ہتھیاروں کو کردوں اور ایرانیوں کے خلاف استعمال کیا ۔

پرکینز نے بتایا ہم اس مسئلے سے آگاہ تھےلیکن پھر بھی ہم یہ چیزیں ان کو بیچتے تھے۔ آخر کار سن اسی کی دہائی میں ہم نے یہ فیصلہ کیا کہپ صدام بھی اسی نوعیت کا ایک سمجھوتہ قبول کرے جیسا ہم نے سعودی عرب کے ساتھ کیا تھا اس لیئے کہ جس چیز کے پیچھے ہم ہیں وہ مشرق وسطیٰ کا کنٹرول ہے اور مشرق وسطیٰ کے تیل کو اپنے ہاتھ میں لینا ہے  آپ میں سے جو لوگ یہ سوچتے ہیں کہ  اسرائیل کی ایجاد کا مقصد یہودیوں کو ایک مادری سرزمین فراہم کرنا ہے وہ بھی انہی کے برابر دھوکے میں ہیں ۔

اس نے مزید کہا شاید اسرائیل کا مقصد کسی حد تک یہ بھی ہو لیکن اصلی مقصد مشرق وسطیٰ میں ایک مضبوط قلعہ اور مرکز تیار کرنا ہے اسرائیلیوں کو استعمال کیا جا رہا ہے زمانہ قدیم کے ان فوجیوں کی طرح کہ جو کشتیوں پر آگے بیٹھ کر اس کو محاذ جنگ کی طرف کھینچتے تھے ۔ اسرائیلیوں کے رہبر اس بات کو جانتے ہیں لیکن اکثر اسرائیلی اس چیز کو نہیں جانتے۔

پرکینز نے یاد دلایا وہ یہ سوچتے ہیں کہ مقصد ان کے لیئے مادری سرزمین فراہم کرنا ہے یہ حالت انتہائی غم انگیز ہے اور لبنانی اور فلسطینی اس مسئلے کے مرکز میں ہیں اور عراق بھی اس کا ایک حصہ ہے ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ مشرق وسطیٰ کے تیل سے یورپ چین اور جاپان والے فائیدہ اٹھا رہے ہیں اگر ہم مشرق وسطیٰ  اور تیل پر قابو پا لیں تو در حقیقت ہم اپنے بڑے رقیبوذں یعنی چین جاپان اور یورپ پر قابو پا لیں گے        ۔


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر