تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور:1932 ء میں سعودی عرب کے قیام کے بعد سے آل سعود نے بادشاہت کے متضاد سیاسی ،سماجی اورمذہبی ڈھانچے کے چلینجز سے نمٹنے کیلئے وہابیت کا استعمال کیا ہے اوروہابیت کے نظرئے نے مذہبی طورپر آل سعود خاندان کی طاقت تاج اورحکومت کو جائز ٹھہرایا ہے۔

نیوز نور : بولویا کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کو وینزوئلا میں مداخلت کا خیال ترک کرنا چاہئے کیونکہ دنیا بھر میں امریکی سامراجیت دم توڑ چکی ہے۔

نیوز نور:ایران کے ایک سینئر قانون ساز نے کہاہےکہ امریکہ کی طرف سے روس اورایران پر  بیک وقت پابندیوں کو عائد کئے جانے کا مقصد دوعلاقائی اتحادیوں کے درمیان تعلقات میں شگاف پیدا کرنا تھا۔

نیوز نور:لبنان کی اسلامی تحریک مقاومت حزب اللہ کی سیکورٹی کونسل کےچیئرمین نے کہاہے کہ شام میں سرگرم تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے خلاف جنگ آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

نیوز نور : لبنان کے پارلیمانی نمائندے نے کہا ہے کہ  شام فلسطین اور بیت المقدس کی حمایت کا علمبردار ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
لندن سے چھپنے والے سعودی روزنامے کی رپورٹ ؛
عراقی سنی متحدہ محاذ اب دم توڑ چکا ہے اور دوبارہ زندہ کرنا محال

نیوزنور:روز نامہ العرب نے  عراق کی قومی افواج کے اتحاد کو کہ جو عراق کی اہلسنت کی پارٹیوں کا ایک گٹھ بندھن ہے عراق  کے اہل سنت کی مشکلات کو حل نہ کر پانے کی بنا پر ایک مردہ گٹھ بندھن قرار دیا۔

اسلامی بیداری صارفین۱۴۶۷ : // تفصیل

لندن سے چھپنے والے سعودی روزنامے کی رپورٹ ؛

عراقی سنی متحدہ محاذ اب دم توڑ چکا ہے اور دوبارہ زندہ کرنا محال

نیوزنور:روز نامہ العرب نے  عراق کی قومی افواج کے اتحاد کو کہ جو عراق کی اہلسنت کی پارٹیوں کا ایک گٹھ بندھن ہے عراق  کے اہل سنت کی مشکلات کو حل نہ کر پانے کی بنا پر ایک مردہ گٹھ بندھن قرار دیا۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنورکی رپورٹ کے مطابق لندن میں چھپنے والے روزنامے العرب نے ایک مضمون میں کہ جس کو ہارون محمد عراقی نے اس موضوع کے تحت کہ عراق کی سنی افواج کا اتحاد مر چکا ہے عراق کی سنی پارٹیوں کے گٹھ بندھن کو عراق کی شیعہ پارٹیوں کے گٹھ بندھن کے مقابلے میں ناکارہ قرار دیا ۔

اس مضمون میں جو کچھ آیا ہے وہ ایک عراقی تجزیہ نگار کی آراء ہیں اور عراق کی قومی افواج کے گٹھ بندھن کے بارے میں اس کا عقیدہ ہے اور اس کا مطلب صرف اطلاع فراہم کرنا ہے یہ  منتشر ہونے والے دوسرے مضامین کی طرح اسی قلم کار کی رائے ہے فارس کے بین الاقوامی گروہ کی رائے نہیں ہے۔

تنقید سے بھرے ہوئے اس مضمون میں ہارون محمد نے لکھا ہے : عراق کی پارلیمنٹ کے سربراہ سلیم الجبوری نے گذشتہ منگل کے دن عراق کی سنی افواج کے اتحاد کی شورائے رہبری کو دعوت دی کہ وہ سیاسی امور کی روش کو قومی نظریات کے مطابق اصلاح کے سانچے میں ڈھالے لیکن اس نے یہ نہیں بتایا کہ یہ روش کیسی ہونا چاہیئے اور قومی نظریہ  کیا ہے؟ البتہ یہ ایک اسلامی سیاست مدار کی زبان ہے نہ کسی شیعہ کی نہ سنی کی اور اس کا بیان ابہام کے ہمراہ ہے 

عراق کی پارلیمنٹ کے سربراہ کے بیان کی بنیاد پر اس نے سنی پارٹیوں کے  گٹھ بندھن کی شورائے رہبری کے ارکان کو اپنی ملاقات کے لئے بلایا اور ان کے ساتھ آئیندہ گٹھ بندھن تشکیل دینے کی رفتار جو سیاسی نقشے میں  تبدیلیوں کے بارے میں ہے اس کے بارے میں بحث اور گفتگو کی  ۔

اس بیان میں آیا ہے کہ الجبوری نے سنیوں کے ساتھ ماضی کے اشتباہات کو بر طرف کرنے کے لئے مختلف پارٹیوں اور گروہوں کے درمیان تبادلہ خیال اور گفتگو کی اہمیت اور اسی طرح قومی مطالبات کے تحقق کی ضمانت فراہم کرنے کے لئے سیاسی کام کی رفتار میں اصلاح کے سلسلے میں سمجھوتہ کیا ہے ۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ عراق کے عرب سنی  یعنی عراق کی قومی افواج کا اتحاد یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ان کا نمائیندہ ہے اس کو سازشوں میں اور مخاصمت پر مبنی منصوبوں کا سامنا ہے جن میں حالیہ دنوں میں اضافہ ہوا ہے  اور یہ چیز ان کے قومی اور ملی تشخص کے لئے خطرہ ہے  عراق کے سنیوں کو پہلے ہی  کنارے کر دیا گیا ہے اور وہ مصیبت میں مبتلا ہیں اور ان کو جلا وطن اور بے وطن افراد کی طرح خیموں میں رکھا گیا ہے اور ان کو اپنے گھروں کی طرف واپسی کی اجازت نہیں ہے کہ جن کو داعش کےء چنگل سے آزاد کروایا گیا ہے  عراق کے سنیوں کے اتحاد نے شیعوں کے قومی گٹھ بندھن کی مانند ایک اقدام کے تحت اگر چہ اپنے آپ کو قومی اتحاد قرار دیا ہے لیکن یہ ایک کمزور اور مجبور اتحاد ہے کہ جس میں صرف عراق کے عرب سنیوں کے نمائندے شامل ہیں جن میں سے بعض پر فساد میں  مبتلا ہونے کا الزام ہے اور بعض اپنی غلطیوں اور نا فرمانیوں پر پردہ ڈالتے ہوئے خاموشی اختیار کیئے ہوئے ہیں  ان میں سے بہت کم لوگ ایسے ہیں جو مختلف مواقع پر اپنی آواز بلند کرتے ہیں  لیکن جب ان پر شیعوں کی طرف سے تنقید کی بوچھار ہوتی ہے تو وہ میدان سے فرار کرتے ہیں اور چھپ جاتے ہیں

اس کے باوجود کہ سنی افواج کے گٹھ بندھن  کی تشکیل کا اعلان کیئے ہوئے تین سال ہو رہے ہیں  لیکن یہ اتحاد اب بھی کمزور اورغیر ضروری لگتا ہے ۔

یہ صحیح ہے کہ اسلامی پارٹی اور سلیم الجبوری نے سنی گٹھ بندھن سے ایک سیاسی گٹھ بندھن کے عنوان سے اپنے ذاتی اور پارٹی کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لئے استفادہ کیا ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ مذکورہ گٹھ بندھن نے عرب کے سنیوں کو توبھی اذیت دی ہے اور ان کو بھاری سیاسی اور اجتماعی نقصان سے دو چار کیا ہے ۔

سنی افواج کے گٹھ بندھن کا دعوہیٰ ہے کہ وہ عراق کی پارلیمنٹ کےچھت کے نیچے سنیوں کا نمائیندہ ہے جو ان کی مشکلات کو حل کرتا ہے اور ان کے درد اور رنج کو گھٹاتا ہے لیکن تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ یہ گٹھ بندھن براہ راست یا پس پردہ  سنیوں کی مشکلات میں اضافے اور ان کی صفوں میں اختلاف ڈالنے میں حصہ دار رہا ہے اس نے شیعہ نیم فوجیوں کو اپنا دشمن بنایا ہے اور ان کے علاقوں پر قبضہ کرتا رہا ہے  عراقی افواج کے گٹھ بندھن کے کچھ افراد جیسے مشعان الجبوری نے بھی اپنے چچا زاد بھائی احمد الجبوری کے ساتھ کہ جو صوبہ صلاح الدین کا صوبہ دار ہے ذاتی اختلافات ہونے کی بنا پر الحشد الشعبی کے میدانی کمانڈر ابو مھدی المھندس سے کہا کہ اس کو گرفتار کرنے میں اس کی مدد کرتے جس کے نتیجے میں احمد الجبوری کو اس کے گفتر تکریت سے گرفتار کر کے بغداد منتقل کیا گیا اور خضریٰ کے علاقے کی پولیس کے مرکز میں قید کر دیا ۔

موثقہ اطلاعات سے پتہ چلا ہے کہ احمد الجبوری کی آزادی کے لئے جبوریوں کے درمیان رابطوں کا سلسلہ جاری ہے بشرطہ کہ وہ رضاکارانہ طور پر صوبہ صلاح الدین کی صوبہ داری کی پوسٹ سے استعفیٰ دے دے اور صوبے کی شوریٰ کے ارکان سے بھی کہا گیا ہے کہ مشعان کے فرزند یذل الجبوری کو صوبے دار مقرر کریں ۔

 حالانکہ یذل الجبوری تیس سال سے کچھ اوپر کا جوان ہے جو اپنے خاندان کے اور رشتہ داروں کے افراد کے ایک گروہ کا کمانڈر ہے کہ یہ لوگ اپنی مھدی المھندس کی کمان میں ہیں وہ سال ۲۰۱۳ کے اواخر میں عراق واپس آیا تھا وہ بھی اس وقت کہ جب عراق کے سابق وزیر اعظم نوری  المالکی نے  اس کے اور اس کے باپ کے خلاف عدالت نے جو گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا اس پر روک لگا دی۔

مشعان الجبوری اور اس کے بیٹے پریہ الزام لگا تھا کہ انہوں نے سال ۲۰۰۵ میں  صلاح الدین کے صوبے میں تیل کی پائپ لائینوں کی حفاظت پر مامور  گارڈ کی تنخواہوں میں سے رشوت کے طور پر کچھ پیسا مانگا تھا لیکن مالکی نے نئے سرے سے  اس الزام پر  غور کرنے کا حکم صادر کر کے ان کو اس الزام سے بری کر دیا ۔

عراق کی قومی افواج کے گٹھ بندھن کے دوسرے تین نمائندوں یعنی عبد الرحمان اللغیذی ، احمد کیارے الجبوری اور عبد الرحیم الشمری نے بڑھ چڑھ کر یہ مطالبہ کیا ہے کہ حشد الشعبی کی فوجوں کو موصل کے جنوب اور مغرب میں کہ جن میں تل عبتا القیارہ اور ربیعہ کے اطراف شامل ہیں باقی رہنا چاہیئے  ان کا بہانہ یہ ہے  کہ وہاں کے حالات پریشان کن ہیں اور داعش کی طرف سے مزید حملوں کا خطرہ ہے ، حالانکہ یہ علاقے ۶ ماہ پہلے آزاد ہو چکے تھے ۔ عراق کی قومی افواج کے گٹھ بندھن کی سربراہی سلیم الجبوری کے پاس ہے یہ وہ شخص ہے کہ جو بدر نامی نیم فوجی شیعوذں کے گٹھ بندھن کے جشن میں شریک ہوا تھا اور اس نے ایک تقریر کے دوران ان شیعہ فوجیوں کی  تعریف کی تھی اور ان کو آزادی دلانے والی تحریک کے نام سے یاد کیا تھا اور ان کے سربراہ ہادی العامری کو بہادر اور مجاہد قرار دیا تھا اس بنا پر مناسب نہیں ہے کہ قومی اتحاد کے اس گٹھ بندھن کو سنی کہا جائے کیونکہ  یہ اصلا عرب سنیوں کا نمائندہ نہیں ہے ۔

سنی  افواج کے اتحاد نے یہ ثابت کیا ہے کہ ان کے پاس صرف ظاہری بناوٹ ہے اور شیعوں کے فریق اور گروہ اس سے اپنے مقاصد اور منصوبوں کی تکمیل کے لئے استفادہ کرتے ہیں۔

حال ہی میں احمدالمساری کو عراق کی قومی  افواج کی پارلیمانی کمیٹی کی سربراہی   سے ہتایا گیا ہے اس الزام کے تحت  کہ وہ شیعہ نمائیندوں کے ساتھ لڑتا جھگڑتا ہے  اور اس کی جگہ سابقہ وزیردفاع اور موجودہ نمائندے سعدون الدنیمی کو اس کا جانشین بنایا گیا ہے ۔

 ہمارا مقصد یہاں مساری کا دفاع کرنا نہیں ہے اور اس کے خلاف بہت سارے سیاسی اعتراضات پہلے سے موجود ہیں لیکن اگر انصاف کی نگاہ سے دیکھیں تو وہ کسی شیعہ ٹولے یا جماعت کے سامنے جھکا نہیں ہے جب کہ سعد الدنیمی  سنیوں کے پر امن مظاہروں کے انعقاد کے بھی خلاف ہیں عراق کے سنی افراد کا گٹھ بندھن مر چکا ہے اور اس کو کوئی بھی چیز یہاں تک کہ اسلامی پارٹی کی دعوتیں یا سلیم الجبوری کی بیٹھکیں اس کو زندہ نہیں کر سکتیں لہٰذا اس کے لئے فاتحہ خوانی ہو جانی چاہیئے۔

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر