تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور:1932 ء میں سعودی عرب کے قیام کے بعد سے آل سعود نے بادشاہت کے متضاد سیاسی ،سماجی اورمذہبی ڈھانچے کے چلینجز سے نمٹنے کیلئے وہابیت کا استعمال کیا ہے اوروہابیت کے نظرئے نے مذہبی طورپر آل سعود خاندان کی طاقت تاج اورحکومت کو جائز ٹھہرایا ہے۔

نیوز نور : بولویا کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کو وینزوئلا میں مداخلت کا خیال ترک کرنا چاہئے کیونکہ دنیا بھر میں امریکی سامراجیت دم توڑ چکی ہے۔

نیوز نور:ایران کے ایک سینئر قانون ساز نے کہاہےکہ امریکہ کی طرف سے روس اورایران پر  بیک وقت پابندیوں کو عائد کئے جانے کا مقصد دوعلاقائی اتحادیوں کے درمیان تعلقات میں شگاف پیدا کرنا تھا۔

نیوز نور:لبنان کی اسلامی تحریک مقاومت حزب اللہ کی سیکورٹی کونسل کےچیئرمین نے کہاہے کہ شام میں سرگرم تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے خلاف جنگ آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

نیوز نور : لبنان کے پارلیمانی نمائندے نے کہا ہے کہ  شام فلسطین اور بیت المقدس کی حمایت کا علمبردار ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
لبنان کے النشرہ کی تحلیل؛
حزب اللہ کے خلاف لبنان کے نام کویت کا خط محض سعودیہ کی دل بہلائی

نیوزنور:ایک عربی تحلیلی ویبسایٹ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ کویت نے جو اعتراض آمیز خط حزب اللہ کے بارے میں لبنان کو لکھا ہے وہ صرف سعودی عرب کے دل کو راضی کرنے کے لیے ہے جو علاقے میں ایران کے اثر و رسوخ سے ڈر رہا ہے ۔

اسلامی بیداری صارفین۱۱۵۵ : // تفصیل

لبنان  کے النشرہ کی تحلیل؛

حزب اللہ کے خلاف لبنان کے نام کویت کا خط محض سعودیہ کی دل بہلائی

نیوزنور:ایک عربی تحلیلی ویبسایٹ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ کویت نے جو اعتراض آمیز خط حزب اللہ کے بارے میں لبنان کو لکھا ہے وہ صرف سعودی عرب کے دل کو راضی کرنے کے لیے ہے جو علاقے میں ایران کے اثر و رسوخ سے ڈر رہا ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق النشرہ خبری مرکز نے ایک مضمون میں ، کویت کے لبنان کو خط لکھے جانے کا ماجرا ، اور اس کا خلیج فارس تعاون کونسل سے تعلق ، کے موضوع کے تحت ، ان بد گمانیوں کی تردید کی کہ لبنان اور کویت میں حزب اللہ کو لے کر کشیدگی چل رہی ہے ۔

اس مضمون میں آیا ہے : لبنان کو دو ہفتے پہلے کویت کی وزارت خارجہ کی طرف سے ایک خط موصول ہو ا کہ جس میں کویت کے حکمرانوں نے حزب اللہ کی طرف سے کویت کے امن کو توڑنے اور اس کے ثبات کو خطرے میں ڈالنے کے لیے حزب اللہ کی کوششوں سے ناراضگی کا اظہار کیا ۔

کویت نے لبنان کی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ حزب اللہ کی غیر ذمہ دارانہ حرکتوں کے سلسلے میں اپنی ذمہ داری قبول کرے ۔

اس میں شک نہیں کہ خط کا مضمون غیر شناختہ شدہ تھا کویت ہمیشہ بہترین سیاست کا حامل ہونے کے سلسلے میں مشہور رہا ہے جس کی وجہ سے وہ عرب ملکوں کے درمیان ہمیشہ ثالثی کا کام کرتا رہا ہے چنانچہ قطر کا جو شیخ نشینوں کے ساتھ بحران ہے یہ اس بات کا بہترین گواہ ہے ۔

لبنان کو اس لحن کا جو خط کویت نے لکھا ہے اس سے اس کا کیا مقصد ہے  اور علاقے اور لبنان کے جو حالات ہیں ان کے پیش نظر اس کے بارے میں کئی سوال در پیش ہیں ۔

انتہائی باخبر ذرائع کے بقول یہ خط اس وقت پہنچا ہے کہ جب کویت پر شیخ نشینوں کی طرف سے دباو ہے کہ وہ ایران پر تنقید کرنے والوں کی حمایت کرے وہ تنقید کرنے والے جو علاقے میں اور بین الاقوامی سطح پر ایران کے کردار کو محدود  کرنا چاہتے ہیں اور اس کے  لیےچاہے ان  کو تہران کے اتحادی حزب اللہ پر حملہ ہی کیوںنہ کرنا پڑے ۔

ان ذرائع نے مزید کہا ہے کہ کویت سب کے ساتھ اپنے روابط کی حفاظت کی جانی پہچانی سیاست کی بنا پر جس مصیبت میں گرفتار ہوا ہے خود کو اس سے نکالنا چاہتا ہے ، اس لیے کہ اس سے کہا گیا ہے کہ ایران اور شیخ نشینوں میں سے کسی ایک کو چن لے وہ بھی ایسے دور میں کہ جب خلیج فارس تعاون کونسل کے حالات نا معلوم ہیں ۔

اس بنا پر کویت نے ایک ان چاہے جھگڑے سے بچنے کے لیے شیخ نشینوں کو راضی کرنے اور ایران اور لبنان کے ساتھ بھی اپنے روابط کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے جو خط لکھا ہے اس کے مضمون کو وہ مناسب اور کافی سمجھتا ہے ۔

ذرائع نے کہا ہے کہ کویت لبنان کے حالات اور حزب اللہ کی جو لبنان میں پوزیشن ہے اس سے اچھی طرح واقف ہے، اور حقیقت میں یہ نزاع کویت اور حزب اللہ کے درمیان  یا حزب اللہ اور شیخ نشینوں کے درمیان نہیں ہے بلکہ پہلی منزل میں یہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان نزاع ہے ۔

کویت والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ لبنان والے کسی کو بھی راضی کرنے کے لیے اندرونی جنگ نہیں چھیڑیں گے ، خاص کر اس حساس موقعے پر کہ جب وہ دہشت گرد گروہوں اور تنظیموں کو اپنے ملک سے باہر نکالنے کے لیے  کوشش کر رہے ہیں ۔

کویت کی حکومت بھی اس بات کی توقع نہیں رکھتی کہ لبنان حزب اللہ پر دباو ڈالے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ لبنان اپنے موقف کا اظہار کر کے اس کے ساتھ ہو جائے اور کویت کا اس طرح مان رکھے کہ شیخ نشینوں کے درمیان اس کی عزت محفوظ رہے ۔

اس کے مقابلے میں کویت بھی اپنی سیاسی حکمت عملی کو بدلنا نہیں چاہتا کہ جس کی  بنیاد اپنے فیصلے خود کرنے اور شیخ نشینوں اور خاص کر سعودی عرب کا دباو قبول نہ کرنے پر استوار ہے ۔ اسی بنا پر کویت ریاض کے دشمنوں کا دشمن اور سعودی عرب کے اتحادیوں کا اتحادی ہے  اور دوسرے شیخ نشینوں جیسے بحرین اور امارات کی طرح سعودی عرب کے پیچھے پھرنے پر اکتفا نہیں کرتا لیکن یہ نہیں چاہتا  کہ عراق کے چنگل سے آزادی کے بعد جو مقام اسے ملا ہے وہ ہاتھ سے چھوٹ جاے ۔

لیکن لبنانی افواج کی پارٹی کے سربراہ سمیر جعجع کے بیان کے بارے میں کہ  جواس بات پر مبنی ہے کہ کویت کے خط کے بارے میں وزراء کے درمیان بحث اور گفتگو ہو گی ، لبنانی ذرائع نے شک کا اظہار کیا ہے کہ وزراء کی کمیٹی اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کرے گی خاص  کر ایسے میں کہ جب حکومت اختلافی مسائل چھیڑنا ہی نہیں چاہتی ، اور اس چیز کا اعلان لبنان کے وزیر اعظم سعد الحریری نے بھی  واشنگٹن میں کیا ہے ۔

ان ذرائع نے مزید کہا ہے کہ آج لبنان میں کوئی شخص بھی ایسا نہیں ہے کہ جو سمجھوتوں پر عمل درآمد کا قائل نہ ہو یعنی بڑے سیاسی گروہ لبنان میں بد امنی پھیلانے کی  موجودہ حالات میں سازش سے چشم پوشی نہیں کریں گے ۔

ان سب کے باوجود کہ جو کہا گیا لبنان کے ذرائع توقع رکھتے ہیں کہ لبنان کی کوشش ہے کہ کسی سرکاری موقف کا اعلان کیے بغیر کویت کو اطمئنان دلادے اور تدریجا کویت کے ساتھ درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے کسی مشترکہ سمجھوتے تک پہنچے اس طرح کہ علاقائی اور بین الاقوامی خوشنودی بھی حاصل ہو جائے اور کویت کو اطمئنان دلادے کہ لبنان ہر گز اس کے خلاف کاروائی نہیں کرے گا اور اس کے امن و ثبات کے لیے خطرے کے سر ابھارنے کی جگہ میں تبدیل نہیں ہو گا ۔   


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر