تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور:1932 ء میں سعودی عرب کے قیام کے بعد سے آل سعود نے بادشاہت کے متضاد سیاسی ،سماجی اورمذہبی ڈھانچے کے چلینجز سے نمٹنے کیلئے وہابیت کا استعمال کیا ہے اوروہابیت کے نظرئے نے مذہبی طورپر آل سعود خاندان کی طاقت تاج اورحکومت کو جائز ٹھہرایا ہے۔

نیوز نور : بولویا کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کو وینزوئلا میں مداخلت کا خیال ترک کرنا چاہئے کیونکہ دنیا بھر میں امریکی سامراجیت دم توڑ چکی ہے۔

نیوز نور:ایران کے ایک سینئر قانون ساز نے کہاہےکہ امریکہ کی طرف سے روس اورایران پر  بیک وقت پابندیوں کو عائد کئے جانے کا مقصد دوعلاقائی اتحادیوں کے درمیان تعلقات میں شگاف پیدا کرنا تھا۔

نیوز نور:لبنان کی اسلامی تحریک مقاومت حزب اللہ کی سیکورٹی کونسل کےچیئرمین نے کہاہے کہ شام میں سرگرم تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے خلاف جنگ آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

نیوز نور : لبنان کے پارلیمانی نمائندے نے کہا ہے کہ  شام فلسطین اور بیت المقدس کی حمایت کا علمبردار ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
از قلم؛ ابو فاطمہ موسوی عبدالحسینی
تہران میں170 سے زائد ممالک کی شرکت کے ساتھ صدارتی حلف برداری تقریب سیکولرازم کے خلاف کھلا چلینج

نیوزنور: وہ دن دور نہیں جب سیکولرازم کا بوریا بستر پورے دنیا میں گول ہوکے رہے گا اور ہر جگہ ہردین و مذہب کا پیرو سیاست اور دیانت کو ایکدوسرے کا مکمل سمجھتے ہوئے دینی اور مذہبی حکومت قائم کریں گے اور آخر کار ایک ایسی عالمگیر حکومت قائم ہوگی جو پورے عالم میں عدل و انصاف کی حکومت قائم کریں گے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس حکومت میں سردی اور گرمی کی طرح عدل و انصاف ہر جگہ پہنچ جائے گا۔

اسلامی بیداری صارفین۱۷۴۸ : // تفصیل

تہران میں170 سے زائد ممالک کی شرکت کے ساتھ صدارتی حلف برداری تقریب سیکولرازم کے خلاف کھلا چلینج

نیوزنور: وہ دن دور نہیں جب سیکولرازم کا بوریا بستر پورے دنیا میں گول ہوکے رہے گا اور ہر جگہ ہردین و مذہب کا پیرو سیاست اور دیانت کو ایکدوسرے کا مکمل سمجھتے ہوئے دینی اور مذہبی حکومت قائم کریں گے اور آخر کار ایک ایسی عالمگیر حکومت قائم ہوگی جو پورے عالم میں عدل و انصاف کی حکومت قائم کریں گے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس حکومت میں سردی اور گرمی کی طرح عدل و انصاف ہر جگہ پہنچ جائے گا۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق کہنہ مشق بین الاقوامی تجزیہ نگار ابو فاطمہ موسوی عبدالحسینی نے  جمہوری اسلامی ایران کے بارہویں صدارتی حلف برداری تقریب  کے بارے میں لکھا ہے کہ ؛

سنیچروار 5اگست 2017کو مجلس شورای اسلامی (پارلمنٹ) ایران میں جمہوری اسلامی ایران کےبارہویں صدارتی حلف برداری تقریب میں 170 سے زائد ممالک کی شرکت سے معلوم ہوا کہ یہاں کے دیندار عوام نے نہ صرف حضرت امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ اور رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای کی رہنمائی میں استکباری اہم سازشوں کو بخوبی سمجھا ہے بلکہ پورے دنیا تک اس حقیقت کو عیاں کیا ہے اور اسطرح  آج ایران دنیا کے سفارتی مشاورتی مرکز کا منظر پیش کررہا ہے اور دین سے بیزاری اور سیکولرازم کی طرفداری پر تجدید نظر کی دعوت دیتانظر آیا ہے۔ ایسے میں امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کے وصیت نامے کے   مندرجہ ذیل اقتباس کو ہم غیر ایرانیوں کو پڑھنے سے نئے روشن افق نمایاں ہوتے نظر آتے ہیں۔

حضرت امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ نے اپنے وصیت نامے میں "صدی کی سب سے اہم سازش" کے عنوان کے تحت افکار عمومی کو دعوت فکر دیتے ہوئے لکھا ہے کہ:"حالیہ صدی میں رچی گئی سب سے اہم سازش، خاص کر گذشتہ چند دہائيوں میں اور بالخصوص انقلاب کی کامیابی کے بعد جو واضح طور پر نظر آرہی ہے وہ وسیع پیمانے پر تبلیغ و تشہیر کے ذریعہ مختلف پہلوؤں سے  ملت اسلامیہ کو بالعموم اور ایران کی جانثار قوم کو بالخصوص اسلام سے نا امید کرنا ہے۔کبھی دبے الفاظوں تو  کبھی واشگاف الفاظوں میں کہا جاتا ہے کہ اسلامی احکام1400 سال قبل بنائے گئے ہیں اور دور حاضر میں ملکوں  کا نظام نہیں چلا سکیں گے۔یا یہ کہ اسلام ایک رجعت پسند دین ہے اور نوآوری اور نئی تہذیب کا مخالف ہے، اور عصر حاضر میں ملکوں کو عالمی تہذیب اور اس کے نئے اندازوں سے دور نہیں رکھا جاسکتا، اور اس قسم کے احمقانہ پروپنگنڈے کرکے اسلام سے بدظن کیا جاتا ہے اور کبھی موذیانہ اور شیطنت آمیز انداز میں اسلام کے تقدس کے طرفدار کی شکل میں پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلام اور دوسرے الہی ادیان کا سروکار معنویات،تہذیب نفس ، دنیوی مقامات سےدورے اختیار کرنے اور ترک دنیا اورعبادات و اذکارو  ادعیہ کہ جو انسان کو خدا سے نزدیک اور دنیا سے دور کرتے ہیں میں مشغول رہنے کی دعوت دیتا ہے ،اور حکومت و سیاست اور سررشتہ داری سے دلچسپی اس عظیم معنوی مقصد و مقصود کے بر خلاف ہے ، کیونکہ یہ سب تعمیر دنیا کیلئے ہے اور انبیائے عظام علیہم السلام  کا یہ شیوہ نہیں رہا ہے!  افسوس کہ اس قسم کے پروپگنڈوں نے اسلام سے بے خبر بعض دینداروں اور علما کو اتنا متاثر کیا کہ وہ حکومت و سیاست میں حصہ لینے کو ایک گناہ وفسق سے تعبیر کرتے تھے شاید بعض لوگ آج بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں ۔ یہ ایک عظیم المیہ ہے جس میں اسلام مبتلا رہا ہے۔

پہلی جماعت ( کہ جو یہ کہتے ہیں کہ اسلام چودہ سو سال پرانا مذہب ہے)کے بارے میں کہنا پڑے گا کہ یا تو وہ حکومت ، قانون اور سیاست سے یا واقفیت نہیں رکھتے یا پھر جان بوجھ کر خود کو انجان ظاہر  کرتے ہیں ۔کیونکہ عدل و انصاف کے معیار پر قوانین کا نفاذ  اور ظالم و بے رحم حکومت کا روک تھام کرنا اور انفرادی اور اجتماعی انصاف کو رواج دینا اور  فساد و فحشا  اور مختلف غلط کاموں سے منع کرنا ،عقل و انصاف پر مبنی آزادی، اور استقلال اور خود کفیلی اور  استعمار و استثمار اور استبداد، اور ایک معاشرے سے فساد اور تباہی روکنے کیلئے میزان عدل و انصاف کے رو سے حدود و قصاص اور تعزیرات کا اجرا کرنا، اور سیاست اور معاشرے کو عقل اور عدل و انصاف کے معیار کے مطابق چلانا اور ایسی ہی اور بھی سیکڑوں چیزیں، یہ ایسے موضوعات نہیں ہیں کہ جو وقت کے گزرنے کے ساتھ تاریخ انسانی اور معاشرتی زندگی میں پرانی ہو جاتی ہیں۔یہ دعوی ایسا ہے جیسے کہا جائے کہ عصر حاضر میں عقلی اور ریاضی اصولوں کو بدلنا چاہئے اور ان کی جگہ نئے قوانین رائج ہونے چاہئيں ۔اگر ابتداء آفرینش میں ، اجتماعی عدل و انصاف کے نفاذ کا رواج تھا اورستمگری اور لوٹ کھسوٹ اور قتل  کی روک تھا م ہوتی تھی ،اور ہم چونکہ ہم ایٹمی صدی کے لوگ ہیں ہمارے لئے وہ طریقہ پرانا ہو چکا ہے!اور یہ دعوی کہ اسلام  نوآوری کا مخالف ہے ایک احمقانہ الزام ہے۔جسطرح کہ معزول محمد رضا پہلوی بھی یہی کہتا تھا کہ یہ لوگ اس دور میں بھی خچروں پر سفر کرنا چاہتے ہیں ، درحالیکہ یہ ایک احمقانہ الزام سے بڑھ کرنہیں ہے۔ ، کیونکہ اگر نوآوری اور نئی تہذیب سے مراد وہ اختراعات ، ایجادات اور ترقی یافتہ صنعتیں ہیں جو انسانی ترقی و تمدن میں دخل رکھتی ہیں تو اسلا م اور کسی بھی توحیدی مذہب نے کبھی اس کی مخالفت نہیں کی ہے اور نہ کرے گا، بلکہ اسلام اور قرآن کریم نے تو علم و صنعت پر زور دیا ہے ۔لیکن اگر نوآوری اور نئی تہذیب سے مراد تمام ممنوعہ چیزوں اور بدکاریوں حتی کہ ہم جنس بازی وغیرہ کی آزادی و استعمال ہے جیسا کہ بعض پیشہ ور اور روشن خیان کہتے ہیں تو اس کے تمام آسمانی مذاہب ، دانشور اور عاقل افراد مخالف ہیں ، اگرچہ مشرق و مغرب پرست افراد اندھی تقلید کرتے ہوئے اس کی ترویج کرتے ہیں۔

و اما دوسری جماعت جو موذیانہ منصوبے رکھتے ہیں اور اسلام کو حکومت و سیاست سے جدا  سمجھتے ہیں ۔تو ان نادانوں سے کہنا چاہئے کہ قرآن کریم اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حکومت و سیاست کے بارے میں جتنے احکام پائے جاتے ہیں اتنے باقی موضوعات کیلئے نہیں ملتے ہیں؛ ، بلکہ اسلام کے بہت سے عبادی احکامات ، عبادی اور سیاسی ہیں اور ان سے غفلت ہی ان تمام مصیبتوں کا سبب بنی ہے۔رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کی دیگر حکومتوں کی مانند حکومت تشکیل دی لیکن ان کا مقصد انصاف کو فروغ دینا تھا۔ اسلام کے ابتدائی خلفا بھی وسیع حکومتیں رکھتے تھے اور حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلا م کی حکومت  بھی  اسی طرح تھی کہ جس میں یہ جذبہ زیادہ وسیع اور جامع انداز میں نمایاں تھا، یہ باتیں تاریخ کے نمایاں حقائق میں ہیں اور اس کے بعد بھی حکومت بتدریج اسلام ہی کے نام سے منسوب رہی اور اس وقت بھی بہت سے اسلام اور رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی میں اسلامی حکومت کے دعویدار ہیں۔

میں اس وصیت نامے میں صرف اشارہ کرکے آگے بڑھتا ہوں اس امید کے ساتھ کہ مصنفین ، ماہرین سماجیات اور مورخین ، مسلمانوں کو اس غلطی سے نکال لیں گے۔ اور جو کچھ کہا جا چکا ہے اور کہا جاتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا کام معنویات سے سے ہے اور انہوں نے حکومت اور علائق دنیوی کو ٹھکرادیا ہےاور انبیاء و اولیاء، نیز بزرگ ہستیاں اس سے پرہیز کرتے تھے اور ہمیں بھی ایسا ہی کرنا چاہئے ،  یہ نہایت ہی افسوسناک غلطی ہے  کہ جس کا انجام امت اسلامیہ کو تباہ کرنا اور خونخوار سامراجیوں کیلئے راستہ کھولنا ہے ، کیونکہ جو کچھ ناقابل قبول اور مردود ہے وہ شیطانی، آمرانہ اور ظالمانہ حکومتیں ہیں کہ جو سلطہ جوئی اور منحرف منصوبوں اورایسی دنیا کہ جس سے دوری کی جائے؛مال و دولت جمع کرنا، اقتدار کی ہوس اور طاغوت کی پیروی ہے اورسر انجام ایسی دنیا ہے کہ جس میں انسان  حق تعالی سے غافل رہے۔لیکن حق کی حکومت مستضعفان کے فائدے کیلئے اور ظلم و جور کے روک تھام اور اجتماعی عدل و انصاف کو رواج دینے کیلئے کہ جس کے لئے سلیمان بن داوود علیہما السلام اور اسلام کے عظیم الشان پیغمبر  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور عظیم اوصیا علیہم السلام نےکوشش کرتے تھے؛ یہ اہم واجبات میں سے ہے اور ایسی حکومت کو برقرار کرنا اعلی ترین عبادت ہے ، چنانچہ صحیح و سالم سیاست ہی ان حکومتوں میں بنیادی اور لازمی امور  رہی ہے۔ایران کی بیدار اور ہوشیار قوم کو چاہئے کہ وہ اسلامی بصیرت کے ساتھ ان سازشوں کو ناکام بنائے۔ اور فریضہ شناس مقررین اور مصنفین قوم کی مدد کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں  اور فتنہ گر شیطانوں کے ہاتھ کاٹ پھینکیں۔"(اقتباس از؛وصیت نامه حضرت امام خمینی رہ)

جمہوری اسلامی ایران کے بارہویں صدارتی حلف برداری تقریب امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کی ان ہی تعلیمات  کا روشن باب ہے جو ہمیں یہ دعوت فکر دے رہی ہے کہ جس طرح ایرانی دیندار عوام نے اللہ کے وعدوں پر یقین کامل رکھتے ہوئے دوسروں پر انحصار کرنا چھوڑ کر اپنے پیروں پر کھڑے ہوکر اپنے مسائل خود  حل کرنا شروع کیا تو ان تقریبا چالیس سالوں میں انہوں جس طرح ترقی کی بلندیوں کو ایک ایک کرکے سر کرنے کی تاریخ رقم کی ہے ہر دوسری قوم ،مذہب و دین سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی  اس نقش راہ پر عمل کرکے اپنے مسائل کا حل خود تلاش کرکے  اپنے دین و دنیا و آخرت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

سیاست سے دین و مذہب کو جدا کرنے والے سیکولرازم کے داعیوں نے جس طرح انسانیت کا لبادہ اوڈ کر انسانوں سے انسانیت چھین کر ظلم و ناانصافی کا غیر محسوس رواج رائج کرنے میں میدان مار لیا ہے ایران میں قائم ولایت فقیہ نظام جو کہ ہر دین و مذہب کے لئے سیاست اور دیانت کی ہم اہنگی کا مظہر کا نام ہے  کا کامیاب نسخہ پیش کرکے ہر دین و مذہب کو اپنے دین و مذہب کی طرف لوٹنے کی دعوت دیتے ہوئے دنیا کو انبیاء الہی کے نقش قدم پر گامزن کرنے کی دعوت دیتا ہے۔جس سے امریکہ جیسی استکباری طاقتیں خائف ہیں اور اس حقیقت کو مسخ کرنے کی ہر ممکن کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ نظام ولایت فقیہ ایک وحشی نظریہ ہے جو پورے دنیا کے لئے خطرہ ہے اسلئے اس ولایت فقیہ نظریہ کو دنیا سے الگ تھلگ کرنا ہوگا،لیکن ایران کی دیندار قوم   چالیس سالوں سے جس استقامت کا مظاہرہ کرتےرہے ہیں اس سے ہمیں آج اسی امریکہ بہادر کو الگ تھلگ پڑتے دیکھا ہے۔اور وہ دن دور نہیں جب سیکولرازم کا بوریا بستر پورے دنیا میں گول ہوکے رہے گا اور ہر جگہ ہردین و مذہب کا پیرو سیاست اور دیانت کو ایکدوسرے کا مکمل سمجھتے ہوئے دینی اور مذہبی حکومت قائم کریں گے اور آخر کار ایک ایسی عالمگیر حکومت قائم ہوگی جو پورے عالم میں عدل و انصاف کی حکومت قائم کریں گے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس حکومت میں سردی اور گرمی کی طرح عدل و انصاف ہر جگہ پہنچ جائے گا۔

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر